پاکستان جرنلسٹ سیفٹی فنڈ (پی جے ایس ایف)

صحافیوں اور ان کے خاندانوں کو دھمکیوں اور نقصان سے بچانا

پاکستان میں صحافیوں کو کن خطرات اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے

2000 سے لے کر آج تک پاکستان میں 200 سے زیادہ صحافیوں کو کام کے دوران قتل اور 2000 سے زیادہ پر حملے اور انہیں زخمی کیا جا چکا ہے۔ پاکستان میں تنازعہ، تشدد اور دھمکیوں کی وجہ سے عالمی میڈیا کے اداروں نے صحافیوں اور میڈیا کے کارکنان کے لیے پاکستان کو صحافت کے لیے دنیا کے سب سے خطرناک اور مشکل ممالک میں سے ایک قرار دیا ہے۔

صحافیوں کی حفاظت کے لیے نا تو وفاقی اور نا ہی صوبائی سطح پر کوئی قانون موجود ہے۔ اس کے ساتھ میڈیا پر حملوں کے خلاف کوئی قانونی تاریخ بھی موجود نہیں اور ذرائع ابلاغ کے پریکٹیشنرز کے پاس کسی دھمکی سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے کوئی تیز رد عمل والا نظام بھی موجود نہیں۔ یہی بڑی وجوہات ہیں جن کی بدولت صحافی اور میڈیا کارکن کو دھمکیوں، حملوں، ہراساں ہونے اور ڈرائے دھمکانے جیسی صورتحاگل کا اکثر سامنا رہتا ہے۔ اکثر اوقات ہراساں کیے جانے والے صحافی اپنے شہر میں کام کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں اسے کسی دوسری جگہ منتقل کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود اسے کسی قسم کی مدد پھر بھی نہیں ملتی ہے۔

 اہداف اور مقاصد:

پاکستان جرنلسٹ سیفٹی فنڈ 2011 میں کچھ سینیئر صحافیوں، ذرائع ابلاغ کے پریکٹیشنرز اور سول سوسائٹی کے کارکنوں نے قائم کیا جس کا مقصد ایک ایسا نظام قائم کرنا تھا جس کے ذریعے ان صحافیوں اور میڈیا کارکنان کی مدد کی جائے جن کو دھمکیاں مل رہی ہیں اور انہیں فورا سکیورٹی فراہم کی جائے خاص طور پر وہ جو تنازعات میں گھرے ہوئے علاقوں میں مقیم ہیں۔

سیفٹی فنڈ کے اہداف:

ایک ایسا نظام بنایا جائے جو مختصر مدتی اقدامات ہوں جن کے ذریعے پاکستانی صحافی اور میڈیا کارکن کو سکیورٹی فراہم کی جاسکے۔ اقدامات:

  1. کسی دھمکی کے خلاف جلد مدد فراہم کرنا
  2. ملک بھر میں صحافیوں کے لیے حفاظتی اقدامات کرنا
  3. وہ صحافی جن کو جلد مدد کی ضرورت ہے ان کے لیے قلیل مدت میں مقامی اقدامات کا انتظام کرنا
  4. مقامی سطح پر لاجسٹکس سسٹم کے نیٹ ورک کا انتظام
  5. بین اقوامی ہم مرتبہ گروپوں کی طرف سے پاکستانی صحافیوں کے لیے حفاظتی وسائل کا بندوبست

نتائج:

  1. پاکستانی صحافی کی سکیورٹی میں اضافہ
  2. کام کرنے والے صحافیوں اور میڈیا کارکنان کی طرف سے پاکستانی میڈیا برادری میں تحفظ کے رجحان کی یقین دہانی
  3. سول سوسائٹی، حکومت اور میڈیا کی طرف سے صحافیوں کی حفاظت کے بارے میں شعور پیدا کرنا اور اس بات کو ترجیح دینا
  4.  ان صحافیوں اور کے خاندان کی مدد کرنا جن پر حملہ ہوا ہو یا وہ ہراساں کیے گئے ہوں

پچھلے چند سالوں میں پی جے ایس ایف ایک ایسا تیز رفتار اور مؤثر نظام ثابت ہوا ہے جو مشکلات میں مبتلا پاکستانی صحافیوں کی فورا مدد کرتا ہے۔

صحافیوں کی مدد کی مختلف اقسام ہیں جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں:

  1.  پاکستان کے اندر نقل مکانی تاکہ خطرناک اور تنازعات والے علاقوں سے صحافیوں کو بچایا جاسکے
  2. وہ صحافی جو کام کرتے ہوئے مارے گئے ہیں ان کے خاندان کو مالی امداد فراہم کی جائے
  3. کورٹ میں ہراساں اور نقصان پہنچانے کے خلاف کیس لڑنے کے لیے قانونی مالی مدد کی جائے
  4. وہ صحافی جو کام کے دوران زخمی ہوگئے ہیں ان کو طبی امداد فراہم کی جائے

پی جے ایس ایف کے آغاز سے اب تک اس نے 60 سے زائد صحافیوں کو نکل مکانی کروا کر، فوت ہو جانے والوں کے خاندان اور بچوں کی مدد کر کے اور زخمی اور ہراساں ہوئے صحافیوں کو طبی امداد فراہم کر کے مدد کی ہے۔ ان میں سے بیشتر کا تعلق بلوچستان، فاٹا، خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ سے ہے۔

 پاکستان جرنلسٹ سیفٹی فنڈ کام کیسے کرتا ہے؟

 پی جے سی ایف ایک آذاد سٹرینگ کمیٹی کے تحت کام کرتا ہے۔ یہ کمیٹی ان نامور لوگوں پر ہے جن کا تعلق صحافت اور میڈیا کے فروغ سے ہے۔ ان کے فیصلوں میں ساکھ، شفافیت اور تاثیر دکھائی دیتی ہے۔ سٹرینگ کمیٹی کے ممبر رضاکارانہ طور پر کام کرتے ہیں۔   پی جے سی ایف سٹرینگ کمیٹی کا مندرجہ ذیل مینڈیٹ ہے:

  1. پی جے سی ایف اور اس کے اقدامات کی مکمل طور پر ذمہ دار
  2. مشکل میں مبتلا صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کی مدد والی درخواستیں وصول کرنا، ان کا جائزہ لینا اور فیصلہ کرنا کے جلد از جلد ان کو مدد فراہم کی جائے
  3. صحافیوں اور میڈیا کارکنان کی حفاظت کو بہتر بنانے کے لیے تحقیق، وکالت اور نئے تربیتی طریقوں کی حمایت کرنا
  4. 4میڈیا پریکٹیشنرز کی حفاظت کے سلسلے میں پی جے سی ایف ایسی حکمت عملی کی حمایت کرے جو رابطہ اور مواصلات بن سکے تاکہ ان میڈیا پریکٹیشنرز کو حفاظت فراہم کی جائے-

موجودہ پی جے سی ایف سٹرینگ کمیٹی مندرجہ ذیل لوگوں پر مشتمل ہے:

  1.  عدنان رحمت – صحافی اور میڈیا کارکن
  2. آون ساہی – صحافی
  3. آسمہ شیرازی – سینر اینکرپرسن
  4. اقبال خٹک – صحافی اور میڈیا کارکن
  5. نجم الدین – حقوق انسانی کے کارکن

 صحافی اور میڈیا کارکن کس طرح مدد کے لیے درخواست دے سکتے ہیں:

 صحافی مدد کے لیے ایک فارم بھر کر درخواست دے سکتے ہیں۔ (اردو اور انگریزی کے فارم کے لنک نیچے موجود ہیں) درخواست موصول ہونے کے بعد فریڈم نیٹ ورک مختلف ذرائع کے ذریعے درخواست کی تصدیق کرتا ہے اور پھر اس درخواست کو سٹیرینگ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جاتا ہے جو درخواست کا جائزہ لینے کے بعد کثرت رائے سے اس بات کا تعین کرتی ہے کہ اس صحافی کی کتنی مدد کی جاسکتی ہے۔ پھر مدد درخواست گزار تک پہنچائی جاتی ہے۔

سکیورٹی، سالمیت اور حفاظتی طور پر پی جے ایس ایف اور فریڈم نیٹ ورک کسی صحافی، میڈیا کارکن یا ان کے خاندان کی معلومات کسی اور کے ساتھ نہیں بانٹتا۔

پی جے ایس ایف کے حامی:

پاکستان جرنلسٹ سیفٹی فنڈ فریڈم نیٹ ورک میں مقیم ایک ادارہ ہے جو پاکستانی میڈیا کے حقوق کے ساتھ سول آزادی کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔ اس مقصد کے لیے اسے کافی عرصے سے انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ ( آئی ایم ایس ) کے ساتھ یونیسکو اور ڈنمارک اور ناروے کی حکومتوں کی حمایت حاصل ہے۔ سٹرینگ کمیٹی کے ممبر رضاکارانہ طور پر پی جے ایس ایف کے لیے فنڈ اکٹھے بھی کرتے ہیں۔

( اردو اور انگریزی مدد کے فارم کے لنک یہاں موجود ہیں )

Form B – Urdu – PJSF Assistance Form

Form B – English – PJSF Assistance Form

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn