زرایع ابلاغ پر ايک نظر- مئی 2017

مئی 2017 

مئی 02: لاہور ہائی کورٹ نے حکومت سے کہا کہ وہ سائبر کرائم کے قانون میں توہین مذہب کو بھی شامل کرے۔ https://www.dawn.com/news/1330486/govt-told-to-add-punishment-for-blasphemy-to-cyber-crime-law

مئی 03: کالعدم شدت پسند تنظیم ”بلوچستان لیبریشن فرنٹ (بی ایل ایف)” نے کوئٹہ کے مقامی میڈیا کو ان کا بیان شائع اور نشر نہ کرنے پر دھمکی دی۔ حکومت بلوچستان نے کالعدم تنظیموں جیسے کہ بی ایل اے، بلوچ ریپبلیکن آرمی (بی آر اے) اور دیگر علیحدگی پسند گروپوں کے بیانات کی کوئٹہ کے اخبارات میں اشاعت پر اور نجی خبر رساں ایجنسیوں جیسے کہ آن لائن، این این آئی اور آئی این پی جاری رکنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

مئی 03: پمرا نے بول نیٹ ورک کے ڈائریکٹرز کی وزارت داخلہ سے سکیورٹی کلیرنس حاصل کرنے میں ناکامی پر نیٹ ورک کے لائسنس کو منسوخ کر دیا۔

مئی 04: سندھ ہائی کورٹ بول نیٹ ورک کا لائسنس بحال کر دیا۔

مئی 08: پمرا چیرمین ابصار عالم کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کے ملازمین ”خطرے” میں ہیں اور وزیر اعظم نواز شریف اور فوجی سربراہ جنرل قمر باجوہ سے اپیل کی کہ اس دھمکی کا نوٹس لیں۔ https://www.dawn.com/news/1331837/pemra-chairman-claims-employees-under-threat-appeals-for-govts-help

مئی 10: پمرا جیو نیوز پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کرتا ہے ان کے ٹاک شوز میں سیاستدانوں کے خلاف ”نازیبہ بیانات” کے الزام میں۔ https://tribune.com.pk/story/1406371/pemra-slaps-rs100000-fine-geo-news-airing-derogatory-remarks/

مئی 11: وفاقی حکومت آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) کو ہدایت دیتی ہے کہ وہ ڈان اخبار کے مدیر ظفر عباس اور اسٹنٹ ایڈیٹر سیرل المائدا کے خلاف ڈان لیکس کیس میں ”کارروائی” کریں۔

مئی 11: وزیر اعظم نواز شریف اور بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی پمرا کے سربراہ ابصار عالم اور ملازمین کو دھمکیوں کا ”نوٹس” لیتے ہیں۔https://www.dawn.com/news/1332457/pm-coas-take-notice-of-threats-to-pemra-employees

مئی 12: پمرا ٹی وی چینلز کو تنبیہ کی کہ وہ ”فوج کی شبہہ کو متاثر” کرنے والا مواد نشر نہ کریں۔https://www.dawn.com/news/1332680/pemra-warns-tv-channels-not-to-air-content-jeopardising-militarys-image

مئی 17: اے آر وائے نیوز چینل کے پنجاب کے ضلع قصور میں نامہ نگار عبدالرزاق کو چوروں نے ہلاک کر دیا جبکہ اے آر وائے کے ایک اور نامہ نگار زخمی ہوئے جب وہ چوروں کی ایک ڈاکٹر کو لوٹتے ہوئے فلم بنا ررہے تھے۔

مئی 19: جیو نیوز کے سپورٹس رپورٹر اکبر یوسفزئی پر حملہ کیا گیا جو ایف سیون کرکٹ گراونڈ پر سی ڈی اے حکام کی جانب سے مبینہ طور پر غیرقانونی قبضے کی خبر بنا رہے تھے۔ سی ڈی اے اسٹنٹ ڈائریکٹر سی ڈی اے چیرمین کے کاروباری ساتھی کے بیٹے نے رپورٹر پر حملہ کیا۔

مئی 24: وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پاکستان ٹیلیکمیونیکیشن اتھارٹی کو ہدایات دیں کہ وہ ایک ایسا فریم ورک تیار کریں جو اس بات کو یقینی بنائیں کہ ”سوشل میڈیا کو بطور مثبت، تعمیری اور صحت مندانہ رابطوں” کے لیے استعمال ہو۔https://www.dawn.com/news/1335143/nisar-directs-pta-to-prepare-mechanism-for-regulating-social-media

مئی 30: وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے آن لائن کارکن عدنان افضل قریشی کو لاہور سے ملک کی فوج پر آن لائن پوسٹس میں ”تنقید” کے الزام میں گرفتار کیا۔ ان پر متنازعہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔https://www.dawn.com/news/1336440/activist-held-in-first-case-about-maligning-forces-on-social-media

 

اپریل 2017 

اپریل 13: پمرا کا دو ٹی وی چینلز کو سندھ پولیس کے سربراہ کے خلاف ”بےبنیاد خبر” نشر کرنے پر جرمانہ

https://tribune.com.pk/story/1382834/pemra-fines-private-channels-baseless-news-sindh-ig/

اپریل 13: مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں شعبہ صحافت کا ایک طالب علم مشال خان کو توہین مذہب کے مبینہ الزام کے تحت ہلاک کر دیا گیا۔

اپریل 17: پاک سرزمین پارٹی کے حامیوں کی جانب سے سکھر پریس کلب پر حملے کے نتیجے میں پانچ صحافی زخمی ہوگئے۔

 https://tribune.com.pk/story/1385833/five-journalists-injured-psp-workers-attack-sukkur-press-club/

اپریل 17: پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان لیاقت مہمند عرف احسان اللہ احسان نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ احسان نے ماضی میں آذاد میڈیا اور صحافیوں کو بحثیت ترجمان دھمکیاں دی تھیں۔

 https://www.dawn.com/news/1327567

 

زرایع ابلاغ پر ايک نظر – مارچ 2017

مارچ 2017

مارچ چھ: سپریم کورٹ نے اینکر پرسن عامر لیاقت حسین کو اپنے متنازعہ شو ”ایسے نہیں چلے گا” بعض پابندیوں کے ساتھ جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔

 https://www.dawn.com/news/1318935/sc-conditionally-allows-airing-of-tv-show

مارچ سات: اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ تمام سوشل میڈیا بند کر دے اگر یہ ضروری ہے۔ عدالت انٹرنٹ پر توہن مذہب کے مقدمے کی سماعت کر رہی تھی۔  https://tribune.com.pk/story/1348784/ihc-directs-authorities-block-social-media-necessary/

مارچ نو: وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ”توہین مذہب کے مواد” کی موجودگی کی وجہ سے سوشل میڈیا بند کرنے کی دھمکی دی۔

 https://www.dawn.com/news/1319431

مارچ تیرہ: سندھ اسمبلی معلومات تک رسائی کے قانون کی منظوری دی اور اس طرح سندھ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے بعد تیسرا صوبہ بن گیا جہاں یہ قانون موجود ہے۔ بلوچستان میں ابھی یہ قانون بننا باقی ہے۔

 https://www.dawn.com/news/1320231/sindh-assembly-unanimously-approves-right-to-information-bill-2016

مارچ سولہ: حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ فیس بک پاکستان ایک وفد بھیجنے کے لیے تیار ہوگئی ہے جو ”توہین مذہب” والے مواد پر گفتگو کرے گی۔ یہ اعلان اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے متازعہ مواد ہٹانے کے حکم کے بعد سامنے آیا ہے۔

 http://www.bbc.com/urdu/pakistan-39300821

مارچ سترہ: حکومت پاکستان نے پرنٹ میڈیا میں اشتہارات کے ذریعے عوام کو متنبہ کیا کہ وہ آذادی اظہار کے حق کا استعمال کرتے ہوئے بعض قوانین کی پامالی سے اپنے آپ کو بچائیں۔ http://epaper.dawn.com/Advt.php?StoryImage=17_03_2017_002_004

مارچ سترہ: اسلام آباد ہائی کورٹ نے پمرا کو حکم دیا کہ وہ میڈیا موااد کی نگرانی کرے۔ یہ حکم عدالت نے سوشل میڈیا پر ”توہین مذہب مواد” سے متعلق ایک پٹیشن کی سماعت کے دوران دیا۔. https://www.dawn.com/news/1321057/ihc-orders-pemra-chairman-to-monitor-tv-channels-for-obscene-content

مارچ انیس: حکومت تین سالوں میں اشتہارات پر گیارہ ارب روپے خرچ کر دیئے۔

http://nation.com.pk/national/18-Mar-2017/govt-spent-rs11b-on-ads-in-three-years-na-told

مارچ انیس: وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے توہین مذہب اور انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمات درج کر لیے۔

https://twitter.com/omar_quraishi/status/845315908830609409/photo/1

مارچ بیس: پمرا نے ڈان نیوز کے پروگرام ”زرا ہٹ کے” پر سپریم جوڈیشل کونسل کے زیر غور ایک ریفرنس پر گفتگو کرنے کی وجہ سے تین روز کی پابندی عائد کر دی۔

مارچ بیس: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اٹھارتی نے قومی ایکشن پلان کے تحت کالعدم تنظیموں کی نو سو ویب سائٹس کو بلاک کر دیا ہے۔

https://www.dawn.com/news/1321734/pta-blocks-over-900-web-addresses-linked-to-banned-organisations-under-nap

مارچ اکیس: وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف آئی اے کہتا ہے کہ اس نے تین ایسے افراد کو گرفتار کر لیا ہے جن کا فیس بک پر توہین مذہب کے مواد سے تعلق تھا۔

 https://www.dawn.com/news/1322531/fia-arrests-three-in-social-media-blasphemy-case 

مارچ تیس: وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار یوسف کا کہنا ہے کہ پانچ سو سے زائد ویب سائٹس گستاخانہ مواد کی وجہ سے بن کی گئی ہیں۔

http://www.bbc.com/urdu/pakistan-39451826

مارچ اکتیس: پمرا نے جیو نیوز کے صبح کے پروگرام ”جیو پاکستان” پر ”قابل اعتراض” مواد نشر کرنے پر پانچ روز کی پابندی عائد کر دی

https://tribune.com.pk/story/1370380/pemra-slaps-5-day-ban-geo-pakistan-airing-objectionable-content/

زرایع ابلاغ پر ايک نظر – فروری 2017

فروری 2017

02 فروری : پیسوں کی عدم ادائگی  کی بنا پر اے آر واے نیوز چینل کا لائیسنس عدالت کے فیصلے کے بعد برطانیہ میں منسوخ کر دیا گیا۔

http://www.dawn.com/news/1312448/uk-watchdog-revokes-arys-licences

06 فروری: نفرت انگیز تقریر کرنے کی بنا پرسپریم کورٹ نے ڈاکٹر عامر لیاقت پر پیمرا کی طرف سے لگائی ہوئی پابندی کو برقرار رکھا اور انہیں تا حکم ثانی کسی بھی نیوز چینل پر آنے سے منع کر دیا گیا ہے۔

 12 فروری: کراچی میں نامعلوم افراد کی سماء ٹی وی کی ڈی ایسس این جی پر فائرنگ سے 22 سالہ کیمرامین تیمور عباس ہلاک ہو گیا۔

https://tribune.com.pk/story/1324721/cameraman-killed-samaa-tvs-van-attacked-karachi/

13 فروری: لاہور پریس کلب کے سیفٹی ہب مینجیرکے مطابق لاہور خود کش دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں 2 کیمرا مین، ایک ڈرائیور اور ڈی ایس  این جی وین کے انجنیئر بھی شامل ہیں۔

14 فروری: اخلاقیات کے اصولوں کی خلاف ورزی پر پیمرا نے بول نیوز کے ڈاکٹر شاہد مسعود کے پروگرام پر پابندی لگا دی۔

17 فروری: اخلاقیات کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے پر پیمرا نے جیو نیوز چینل کو نوٹس جاری کر دیا۔

19 فروری: طالبان گروپ کی میڈیا کو دھمکی دینے کے بعد پاکستان میں دشت گردی کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔

. https://twitter.com/tanvirarain/status/833243002885791744/photo/1

زرایع ابلاغ پر ايک نظر – جنوری 2017

جنوری04: بلاگرز وقاس گوریہ اور عاصم سعید لاہور سے لاپتہ ہوگئے۔

جنوری06 : اسلام آباد کی فاطمہ جناح یونیورسٹی میں تعینات پروفیسر اور سوشل میڈیا کے سماجی کارکن سلمان حیدر بنی گالا سے لاپتہ ہوگئے۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر داخلہ، چودھری نثار علی خان نے انکوائری کا حکم دیا ہے۔

 جنوری 07: سول پروگریس اتحاد آف پاکستان کے صدر اور سماجی کارکن، ثمر عباس اسلام آباد سے لاپتہ ہوگئے۔

 جنوری 08: خاندان والوں کے بقول، بلاگر احمد رضا نصیر لاپتہ ہوگئے ہیں۔

جنوری10 : وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے سینیٹ کو اس بات سے بخوبی طور پر واقف کر دیا کہ گزشتہ دنوں میں بلاگرز کے لا پتہ ہونے میں حکومت کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ وہ ملک میں 4 جنوری سے ہونے والے لا پتہ بلاگرز کے متعلقہ خاندان والوں سے مخاطب تھے۔

 جنوری 13: نامعلوم حملہ آوروں نے سینتیس سالہ جز وقتی صحافی محمد جان سلیمانی کو قلات میں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ محمد جان سلیمانی روزنامہ قدرت اور روزنامہ تلار، کوئٹہ کے لیے کام کر رہے تھے تاہم جان کی ہلاکت کے محرک کا تاحال پتہ نہیں لگایا جاسکا ہے۔

 جنوری 22: سوشل میڈیا کے عملہ کے اکائونٹ میں ناجائز رسائی حاصل کرنے کی کوشش کے بعد، ڈان میڈیا گروپ نے اپنے کارکنان پر سائبر حملے کا دعوی کیا۔

 جنوری 26: اپنے پروگرام میں نفرت انگیز تقریر کرنے پر پیمرا نے بول ٹی وی کے میزبان عامر لیاقت پر پابندی لگا دی۔

 جنوری 26: سیئنر کرائم رپورٹر مظہر شیخ کے راولپنڈی سے لاپتہ ہونے پر راولپنڈی یونین آف جرنلسٹ نے حکومت پنجاب پر زور لگایا کہ وہ مظہر کو جلد از جلد بازیاب کروائے۔

جنوری 27 : عامر لیاقت پر لگائی گئی پابندی کی خلاف ورزی کرنے اور عامر لیاقت کی طرف سے اخلاقیات کی خلاف ورزی کرنے اور لوگوں کو تشدد پر اکسانے پر پیمرا نے بول ٹی وی کو نوٹس جاری کر دیا۔

 جنوری 27: قبائلی پولیس افسر ان نے قبائلی صحافی ساجد علی کاکاخیل کے ساتھ بد تمیزی کی۔

 جنوری 27: مہینے کے آغاز میں لاپتہ ہونے والے بلاگر اور سماجی کارکن سلمان حیدر، بقول ان کے اہل خانہ، گھر واپس لوٹ آئے ہیں۔

 جنوری 28: انسداد دہشت گردی کی کراچی کی عدالت کے حکم پر پولیس نے جنگ میڈیا گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان،  پیمرا کے چیف ابصار عالم اور جیو نیوز کے دو میزبان نجم سیٹھی اور منیب فاروق کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی۔ ایف آئی آر دائر کرنے والے گل خان کا کہنا تھا کہ نجم سیٹھی اور منیب فاروق فوج، حکومت اور عدلیہ کے خلاف بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں۔

 جنوری 29: عاصم سعید اور وقار گوریہ – دو سماجی کارکن 4 جنوری سے لاپتہ رہنے کے بعد، بقول ان کے گھر والوں کے، گھر واپس لوٹ آئے ہیں۔

جنوری 29 : گلگت – بلتستان کی حکومت نے تین ضلعی اخبارات: کے ٹو، اوصاف اور مہینے میں ایک مرتبہ شائع ہونے والے رسالے کارگل کو نوٹس جاری کر دیا کیونکہ وہ حکومت گلگت – بلتستان کے خلاف خبریں شائع کر رہے تھے۔

جنوری 30 : طنز نگار اخبار، ”خبرستان ٹائم” نے اعلان کیا کہ ان کی ویب سائٹ کو پاکستان میں بلاک کر دیا ہے۔ http://www.dawn.com/news/1311656/satire-website-khabaristan-times-blocked-in-pakistan

 جنوری 31: ڈاکٹر شاہد مسعود کے پروگرام کے مواد سے متعلق، پیمرا نے بول نیوز کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ http://www.dawn.com/news/1311836/pemra-issues-notice-to-bol-television-over-dr-shahid-masoods-show

 

 

زرایع ابلاغ پر ايک نظر – دسمبر 2016

 

 دسمبر 02: وقت ٹی وی اور جہان پاکستان اخبار کے ڈیرہ اسماعیل خان میں نامہ نگار محمد عثمان کو فوجی حکام نے کئی گھنٹوں تک حراست میں رکھا اور ان کے لیپ ٹاپ کمپوٹر اور بیرونی ڈرائیو سے ڈیٹا کاپی کیا۔ انہیں لیپ ٹاپ سے ”خفیہ فولڈرز” بھی ملے۔

 دسمبر 02: لندن میں ہائی کورٹ آف جسٹس نے اے آر وائی نیوز چینل کے براڈکاسٹر کو جیو/جنگ گروپ کے ایڈیٹر ان چیف میر شکیل الرحمان کو 185000 پاونڈ ادا کرنے کا حکم دیا۔ یہ حکم جج کے مطابق ہتک عزت کے ایسے 24 پروگرام نشر کرنے پر کیا جن کی کوئی بنیاد نہیں تھی۔

 دسمبر 08: پمرا نے چینل 24 کو اسس الزام کی بنیاد پر نوٹس جاری کیا کہ اس نے پی آئی اے کی پرواز پی کے 661 کی اسلام آباد کے قریب گرنے کی ”جعلی آڈیو” نشر کی۔

 http://tribune.com.pk/story/1257457/pemra-issues-notice-channel-24-airing-fake-audio-clip-crashed-pia-flight/

 دسمبر 10: طالبان نے جننوبی وزیرستان کے رستم بازار، وانا میں دستی پیغامات تقسیم کیے جن میں قبائلی صحافیوں پر جانبدارانہ رپورٹنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کو خطرناک نتائج کی دھمکی دی۔ فریڈم نیٹ ورک نے بھی اس پیغام کی پشتو زبان میں کاپی حاصل کی ہے۔

 دسمبر 21: لندن یں ایک قاننونی سماعت کے دوران ججج سر ڈیویڈ ایڈی نے فیصلہ سنایا کہ اے آر وائی نیوز چینل اس کے فیصلے کا خلاصہ 23 دسمبر کو شام چھ بجے،  رات دس بجے اور 3 بجے صبح ہر گھنٹے کے پہلے پانچ منٹ میں نشر کرے۔

 دسمبر 27: صحافتی برادری نے حکومت سے ”صحافیوں کے تحفظ اور فلاح کے بل” کا مسودہ شئیر کریں اس کی منظوری سے قبل۔

http://www.dawn.com/news/1304894

دسمبر 28: پاکستان کے اٹارنی جنرل نے وزارت داخلہ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈویژن کو تجویز دی کہ وہ اعلی عدلیہ کے خلاف سوشل میڈیا پر ہتک آمیز کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے جس میں دو سے پانچ سال قید کی سزا بھی دی جاسکے۔

http://www.dawn.com/news/1305117

زرایع ابلاغ پر ايک نظر – نومبر 2016

نومبر 1: پاکستان تحریک انصاف کے مشتعل کارکنوں نے صوابی کے قریب اسلام آباد کی جانب مارچ کے لیے کوشش کے دوران نجی چینل جیو کی سیٹلائٹ وین پر حملہ کیا۔

http://www.dawn.com/news/1293594/infuriated-pti-workers-attack-geo-news-van-in-swabi

نومبر 1: وزیر اعظم نواز شریف سیرل المائڈا کی ڈان میں خبر کی تحقیقات کے لیے اعلی اختیاراتی کمیٹی تشکیل دیں گے۔ .

http://www.dawn.com/news/1293337/pm-to-finalise-high-powered-body-to-investigate-leak-nisar

نومبر 2: معروف صحافی حامد میر کو دی ہیگ میں ”موسٹ رزیلینٹ جرنلسٹ” کا ایوارڈ دیا گیا۔ وہ 2014 میں کراچی میں ایک جان لیوا حملے میں شدید زخمی ہوئے لیکن بچ گئے تھے۔

نومبر 7: وفاقی حکومت نے سابق جج جسٹس عامر رضا خان کو سیرل المائڈا کی روزنامہ ڈان کی خبر کی تحقیقات کے لیے کمیٹی کا سربراہ مقرر کر دیا۔

http://tribune.com.pk/story/1223374/govt-forms-inquiry-committee-probe-dawn-leaks/

نومبر 7: پمرا نے اے آر وائی نیوز چینل پر پانامہ لیکس پر انتہائی تنقیدی پروگرام کرنے پر ”غیر پیشہ ورانہ اور سنسنی خیز تجزیوں” کا الزام عائد کرتے ہوئے نوٹس جاری کیا۔ چینل کو 14 نومبر تک جواب دینے کی مہلت دی گئی ہے۔

نومبر 12: رینجرز حب پریس کلب کے صدر مور الیاس کمبوہ کی حب میں رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور تلاشی لی۔ صحافی کو رینجرز حکام نے تحقیقات کا کوئی وارنٹ نہیں دیکھایا۔ انہیں صحافی کے بقول تلاشی کے دوران کچھ نہیں ملا۔

نومبر 17: ایک تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان انٹرنٹ آذادی کے اعتبار سے دنیا کے دس بدترین ممالک میں سے ایک ہے۔

http://www.dawn.com/news/1296904/pakistan-ranked-among-worst-10-countries-for-internet-freedom-report

نومبر 21: کرم قبائلی ایجنسی کی پولیٹکل انتظامیہ نے قبائلی صحافی انور شاہ اورکزئی کو ساڑھے تین گھنٹوں حراست میں رکھا۔ ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں ان کی بدعنوانی سے متعلق رپورٹنگ کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

نومبر 21: کیبل آپریٹرز پاکستان میں ڈی ٹی ایچ سروس کی نیلامی کے خلاف بطور احتجاج ہڑتال پر چلے جاتے ہیں۔

http://www.dawn.com/news/1297734/cable-services-remain-suspended-for-indefinite-period-across-country

نومبر 24: پاکستان میں پہلی مرتبہ ڈی ٹی ایچ لائسنس کی چودہ ارب روپے سے زائد میں کامیاب نیلامی ہوئی۔

http://tribune.com.pk/story/1242918/pakistans-first-dth-licences-auctioned-rs-14-69-billion/

نومبر 26: سپریم کورٹ کے ایک جج کے خلاف خبر چلانے پر پمرا نے دو ٹی وی چینلز کے لائسنس معطل کر دیئے۔

http://tribune.com.pk/story/1245715/irresponsible-analysis-pemra-suspends-licences-three-channels/

نومبر 26: صحافی خالد محمود بٹ اور ان کے بیٹے کو ساہیوال ضلع میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ہلاکت کی وجہ واضح نہیں۔ صحافی کا تعلق اہل تشیح سے تھا۔

نومبر 29: لاہور میں ایک استاد سائبر کرائم کے قانون کے تحت ملزم کو سزا دلوانے میں کامیاب۔

http://www.dawn.com/news/1299522/undeterred-by-blackmail-teacher-gets-cyber-crime-accused-convicted


زرایع ابلاغ پر ايک نظر – اکتوبر 2016

چار اکتوبر: الیکٹرانک میڈیا ریگولٹری اتھارٹی پمرا کا اعلان کہ بھارتی مواد نشر کرنے پر لائسنس منسوخ کرنے کی دھمکی دی۔ یہ اعلان پاکستان اور انڈیا کے درمیان بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اوڑی حملے کے بعد کشیدہ صورتحال کے تناظر میں کیا گیا۔

سات اکتوبر: صوبہ بلوچستان کے پشین ضلع میں آج ٹی وی کے رپوٹر پر تین افراد نے گاڑیوں کے غیرقانونی کاروبار سے متعلق رپورٹ کے بعد حملہ کیا۔ صحافی کو چوٹیں آئیں اور انہیں علاج کے لیے ہسپتال لیجایا گیا۔ پولیس نے تین افراد جن میں سے ایک حملہ آور بھی تھا گرفتار کر لیا ہے۔

دس اکتوبر: ایف آئی اے نے ایک شخص کو ایک عورت کو آن لائن ہراساں کرنے کے الزام میں سائبر کرائم ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا۔

http://www.dawn.com/news/1289272/fia-arrests-man-for-harassing-woman-online

گیارہ اکتوبر: چھ اکتوبر کو روزنامہ ڈان میں ایک تحقیقاتی رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد نامہ نگار سرل المائڈا کو حکومت نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا۔

چودہ اکتوبر: حکومت ڈان کے نامہ نگار سرل المائڈا کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرنے کا اعلان کرتی ہے۔

بائیس اکتوبر: کے ٹو چینل کی رپورٹر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا جب ایک حکومتی اہلکار نے انہیں دھپڑ مارا۔

http://www.dawn.com/news/1291551/case-against-manhandled-reporter-amid-media-debate

چوبیس اکتوبر: سندھ رینجرز سما ٹی وی کے رپورٹر خرم گلزار کو کئی گھنٹوں تک گھر سے لیجانے کے بعد زدوکوب کرتی ہے۔ انہیں کئی گھنٹوں بعد رہا کیا گیا اور ان کے جسم پر تشدد کے نشانات واضح تھے۔

http://www.fnpk.org/sindh-rangers-tortures-samaa-tv-reporter-in-karachi/

انتیس اکتوبر: روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے تنازع پر وفاقی حکومت پرویز رشید سے ان کا اطلاعات کا قلمدان واپس لے لیتی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا کہ خفیہ ادارے کے اہلکار اس رپورٹ کی مزید تحقیقات کریں گے۔ یہ خبر ریاستی اداروں کے درمیان اختلافات پر مبنی تھی۔

اکتیس اکتوبر: پمرا بچوں کے چینل نیکلڈن ٹی وی کے لینڈنگ رائٹس منسوخ کر دیے۔ اس پر الزام تھا کہ وہ بھارتی مواد نشر کر رہا تھا۔


زرایع ابلاغ پر ايک نظر- ستمبر 2016

یکم ستمبر: اے آر وائے نیوز چینل کے مطابق بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں مقامی رپورٹر کو وزیر اعظم نواز شریف کی ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح کی تقریب میں شرکت سے منع کر دیا گیا۔

دو ستمبر: لاہور ہائی کورٹ نے بھارتی میگزین ”انڈیا ٹوڈے” کی ویب سائٹ پاکستان میں بلاک کرنے کی اجازت نہیں دی جن اس رسالے نے بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی فوٹوشاپ جعلی تصویر پہلے صفحے پر شائع کی تھی۔

http://tribune.com.pk/story/1175357/lhc-rules-blocking-india-today-website/

تین ستمبر: 92 نیوز چینل کی اینکر آیزا حزب اختلاف کے رہنما عمران خان کی لاہور میں ایک احتجاجی ریلی میں ایک کرین سے گرنے کے باوجود محفوظ رہیں۔

چھ ستمبر: الیکٹرانک میڈیا کے نگران ادارے پمرا نے جیو نیوز چینل کو امریکہ میں پاکستان کے سفیر سے متعلق ”غلط” حبر نشر کرنے پر اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا۔

https://twitter.com/pressfreedompk

آٹھ ستمبر: وزراء کے ایک بین الصوبائی اجلاس میں ایف آئی اے کو سائبر کرائم کی تجویز دی۔

http://tribune.com.pk/story/1178998/panel-wants-federal-investigation-agency-probe-cybercrimes/

سولہ ستمبر: ایک اقلیتی گروپ کے خلاف مواد نشر کرنے پر پمرا نے نیو نیوز اور 92 چینل کے خلاف نوٹس لینا۔

http://tribune.com.pk/story/1182405/pemra-takes-notice-tv-programmes-targeting-minority/

سولہ ستمبر: مہمند ایجنسی حکام نے کئی ٹی وی صحافیوں کو یکاغونڈ کے مقام پر داخلے سے روک دیا جہاں وہ انبار کے علاقے مییں ایک مسجد میں خودکش حملے کی کوریج کے لیے جانا چا رہے تھے۔ اس دھماکے میں چھتیس افراد نے جان کھوئی تھی۔

سترہ ستمبر: حکام نے غلنئی کے قبائلی صحافیوں کو انبار میں مسجد میں ہوئے خودکش حملے کی جا کر کوریج کرنے سے یہ کہتے ہوئے روک دیا کہ انہیں ”سکیورٹی خدشات” ہیں۔

انیس ستمبر: خیبر پختونخوا اسمبلی ویسل بلور پروٹیکشن اینڈ ویجلنس بل کی منظوری دیے دیتی ہہے۔

انیس ستمبر: حکمراں مسلم لیگ نون کے ایک کارکن نے صحافی نواز طاہر پر لاہور پریس کلب میں حملہ کیا۔ کلب انتظامیہ نے حملہ آور کو گرفتار کروانے کے لیے پولیس طلب کر لی۔

چوبیس ستمبر: گاڑی میں سوار دو مسلح افراد نے آج ٹی وی کے اینکر رانا مبشر کی گاڑی جو اس وقت ان کا بیٹا چلا رہا تھا زبردستی روکا۔ رانا گاڑی میں اس وقت موجود نہیں تھے۔ رانا کے مطابق وہ یہ بعد میں کہتے ہوئے چلے گئے کہ ”پھر کبھی سہی”۔ کوہسار پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔

انتیس ستمبر: پولیس کے مطابق جنگ گروپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد عبداللہ کو پشاور میں پرنٹنگ پریس کے دورے سے واپسی پر نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا۔

تیس ستمبر: پولیس کے مطابق جنگ گروپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد عبداللہ خیریت سے اسلام آباد میں اپنے دفتر پہنچ گئے۔ انہیں گزشتہ روز پشاور میں پرنٹنگ پریس کے دورے سے واپسی پر نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا تھا۔

ISLAMABAD – Two unidentified gunmen Thursday forcefully intercepted a car belonging to prominent Aaj TV anchor Rana Mubashir which was being driven by his son. They did no physical harm.

Mubashir was not in the vehicle at the time of the incident that occurred near D-Square on Jinnah Avenue. He told JournalismPakistan.com the gunmen had come looking for him. “They were in a silver-colored Honda Civic bearing registration No. SC 16 and hit the side mirror of my car before intercepting it,” Mubashir said. “One of them was carrying a Kalashnikov while the other had a small weapon.”

He said “they were probably disappointed not to find me in the car and left saying some other time perhaps.” Mubashir said he had no enmity with anyone.

Kohsar Police Station are investigating the incident.


زرایع ابلاغ پر ايک نظر – جولائی 2016

4 جولائی: سپریم کورٹ نے پیمرا کو ہدایت کی کے تمام نجی چینلجز کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔

http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/07/160704_supreme_court_pemra_inam_ghar_ban_sh

5 جولائی: آج کے دن پریس کی آزادی کو جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاء کی بدولت شدید جھٹکا لگا۔

15 جولائی: قبائلی صحافی خان زمان کو ضلع ہنگو سے پولیس اور سادہ لباس پہنے ہوئے لوگ اغوا کر کے لے گئے۔

17 جولائی: قبائلی صحافی خان زمان ہنگو سے اغوا ہونے کے بعد گھر واپس پہنچ گئے اور یہ اعتراف کیا کہ اغوا کاروں نے اس پر تشدد کیا اور ان سے پوچھا کہ ” وہ کیوں تنقیدی رپورٹیں فائل کر رہے ہیں۔”

18 جولائی: ایک مذہبی گروہ نے جو سزا یافتہ قاتل ممتاز قادری کی حمایت کرتا ہے لاہور پریس کلب کے باہر احتجاج کیا اور میڈیا کو ”یہودی میڈیا” قرار دینے کے ساتھ ساتھ میڈیا پر یہ الزام لگایا کہ وہ انہیں کوریج فراہم نہیں کرتا۔

19 جولائی: خواتین صحافیوں کو دھمکیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں صحافیوں کے خلاف آن لائن بےعزتی کا سلسلہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

. http://www.bbc.com/news/world-asia-36824514

21 جولائی: سپریم کورٹ نے پیمرا کو ہدایت کی کہ عدلیہ کے خلاف مہم چلانے والے چینلز کے خلاف ایکشن لیا جائے۔

http://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=22_07_2016_005_004

25 جولائی: اسلام آباد میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے دفتر کے باہر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے صحافیوں پر تشدد کیا۔ پارٹی رہنما عمران خان نے واقعے پر معافی مانگی۔

27 جولائی: فیس بک پر نفرت انگیز مواد ڈالنے پر ٹوبا ٹیک سنگھ میں پولیس نے دو افراد کے خلاف کیس درج کر لیا۔

http://www.dawn.com/news/1274364/terror-case-against-two-for-hate-posts-on-facebook

28 جولائی: شوکت ننوری کے والد کو قتل کر دیا گیا۔ شوکت ننوری کا، جو خیر پور میں سندھ نیوز کے لیے کام کرتے ہیں، ماننا ہے کہ ان کے والد کا قتل ان کی رپورٹنگ کی وجہ سے ہوا۔

http://www.fnpk.org/journalists-father-murdered-in-sindh-province

29 جولائی: مختلف گروپ، جو انٹرنیٹ آزادی کے حامی ہیں، کی طرف سے احتجاج کے باوجود سینیٹ نے ”الیکٹرانک جرائم کی روک تھام2015 “  کا بل منظور کر لیا۔ ان گروپوں کا ماننا ہے کہ یہ بل ملک میں آن لائن آزادی کے لیے ایک دھچکا ہے۔

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn