زرایع ابلاغ پر ايک نظر-نومبر 2017

نومبر 2017

1 نومبر: حکومت کی طرف سے ممنوعہ گروپوں کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کے نتیجے میں بلوچستان لبریشن فرنٹ سے ملنے والی دھمکیوں کی وجہ سے دالبندین پریس کلب کو بند کروا دیا گیا۔

2 نومبر: دو بلوچ عسکریت پسند گروپوں سے ملنے والی دھمکیوں کی وجہ سے پنجگور پریس کلب کو ”سکیورٹی وجوہات”  کی بنیاد پر بند کروا دیا گیا۔ ان گروپوں کا مطالبہ ہے کہ انہیں میڈیا کوریج دی جائے – جسے صوبائی حکومت نے سختی سے منع کیا ہے۔

3 نومبر: سکیورٹی کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے لسبیلہ، اتل، خاران اور ساراوان کے پریس کلبوں کو سکیورٹی والوں کی میٹنگ کے بعد بند کروا دیا گیا۔

4 نومبر: دو بلوچ عسکریت پسند گروپوں سے کوریج نا ملنے کی دھمکیاں وصول ہونے پر قلات پریس کلب کی کابینہ کے منتخب صدر میر احمد خان نے قلات کے پریس کلب کو بند کرنے اور صحافت سے منسلک تمام کاموں کو ”سکیورٹی کی بنیاد” پر روک دینے کا حکم جاری کیا۔

4 نومبر: آئی ایس آئی کے افسر خالد خواجہ کی بیوہ کی طرف سے دی گئی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیئنر ٹی وی صحافی حامد میر کے خلاف اغواء کاری کا کیس درج کر دیا۔

https://www.dawn.com/news/1368521/journalist-hamid-mir-booked-in-kidnapping-case

 7 نومبر: دو بلوچ عسکریت پسند گروپوں سے موصول ہونے والی دھمکیوں کی وجہ سے خضدار پریس کلب کو بند کروا دیا گیا۔ عسکریت پسندوں کا ماننا ہے کہ ان پریس کلبوں کی وجہ سے ان گروپوں کی سرگرمیاں منظرعام پر نہیں لائی جاتی ہیں۔

7 نومبر: پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے ضلع بنوں میں صحافی ایوب خٹک کے خاندان والوں کی اپیل کو مسترد کر کے ملزم کو بری کر دیا۔

13 نومبر: حقوق انسانی کے محافظ اور صحافیوں کے حقوق کی تحفظ کے لیے یو این نے اپنی تیسری کمیٹی کے اجلاس میں دو نئی قراردادوں کی منظوری دے دی اور ہر ملک پر ان قوانین کے سختی سے نافذ کرنے پر بھرپور زور دیا۔

      http://undocs.org/A/C.3/72/L.35/Rev.1

20 نومبر: کام کرنے کے دوران ہلاک ہو جانے والے پاکستانی صحافیوں کی یاد میں اسلام آباد میں سینٹ کے چیرمین رضا ربانی نے نیشنل پریس کلب میں ” یادگار شہدا” کی رونمائی کی۔ یہ یادگار شہید ہونے والے صحافیوں کے اعزاز میں تعمیر کی گئی ہے۔

21 نومبر: آئی ایس آئی کے افسر خالد خواجہ کی بیوہ کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درج کی گئی درخواست کے سلسلے میں حامد میر ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ حامد میر نے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

22 نومبر: فیض آباد میں بیٹھے مظاہرین نے ڈان نیوز کے محمد عاصم اور روزنامہ جنگ کے جہانگیر چودھری سے ان کے کیمرے چھیننے کی کوشش اس وقت کی جب مظاہرین پولیس پر حملہ کر رہے تھے اور اس کے ساتھ انہیں نے ان کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔

. https://www.dawn.com/news/1372331/photojournalists-attacked-by-faizabad-protesters

24 نومبر: پیراملٹری فرنٹئیر کور نے خیبر کے قبائلی علاقے لنڈیکوتل سے پانچ صحافیوں کو حراست میں لے لیا۔ حراست میں لینے کی وجہ ان کی گاڑی کے نیچے نصب بم تھا۔ 12 گھنٹوں کے بعد چار صحافیوں کو چھوڑ دیا گیا البتہ پانچویں صحافی ان کی حراست میں ہیں۔ فورسز لنڈیکوتل پریس کلب کے ایک ملازم کو بھی تحقیقات کے لیے ساتھ لے گئے۔ حراست میں لیے گئے صحافیوں میں خیبر نیوز کے خلیل آفریدی، مشعال ریڈیو کے فرہاد شنواری، قبائلی نیوز نیٹ ورک کے مہراب شاہ، پاکستان ریڈیو کے عمر شنواری اور خبریں اخبار کے عمران خٹک شامل ہیں۔

25 نومبر:  فیض آباد کے مظاہرین کے خلاف آپریشن شروع ہوتے ساتھ ہی پمرا نے پورے پاکستان میں تمام نیوز چینلز سمیت ٹویٹر، فیس بک اور یوٹیوب کو عوام کے لیے بند کر دیا۔ انٹرنیٹ صرف ای میل کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس کے علاوہ واٹس ایپ کام کر رہا تھا۔

25 نومبر: مذہبی کارکنان کے خلاف اسلام آباد آپریشن کے دوران تیرہ صحافی زخمی ہوئے جن میں سے کئی نے اپنے آلات بھی کھو دیئے۔ اس کے علاوہ سماء اور آج نیوز کی ڈی ایس این جی کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ اس کے ساتھ ڈان نیوز کے محمد عاصم اور روزنامہ جنگ کے جہانگیر چودھری کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

25 نومبر: دی مال میں حکومت کے خلاف مظاہروں کے دوران کچھ مذہبی کارکنان نے جیو نیوز کے رپورٹر احمد فراز کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

26 نومبر: سہراب گوٹھ فلائی اور پر جیو نیوز کے سیئنر صحافی طارق ابن حسن اور طلحہ ہاشمی کو زخمی کیا گیا جب وہ مظاہروں کی ویڈیو اپنے موبائل پر بنا رہے تھے۔

28 نومبر: 24 نومبر کو لنڈیکوتل سے اغواء ہونے کے بعد قبائلی صحافی خلیل آفریدی کو نیم فوجی ملیشیا کے حکام نے رہا کر دیا۔

28 نومبر: سچ ٹی وی کے علیم حیدر زیدی خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں اپنی جان پر حملے میں محفوظ رہے۔ ان پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی البتہ ابھی تک حملے کی وجوہات کا پتہ نہیں لگایا جاسکا ہے۔

اکتوبر 2017

1اکتوبر: پولیس نے جیو نیوز کے علاقائی کیمرا مین حسنین قریشی کو ڈیرہ اسمائیل خان میں شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ حسنین کو گھنٹوں تک حراست میں رکھا گیا جس کے بعد اسے ایک نامعلوم جگہ لا کر رہا کر دیا۔

3 اکتوبر: چینل سیون کے عثمان مغل تشدد کا اس وقت نشانہ بنے جب راولپنڈی میں منشیات کی ایک بیوپاری کی رپورٹ ٹی وی پر نشر کی گئی۔ حملہ آوروں کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے میں فریڈم نیٹ ورک عثمان کی مدد کر رہا ہے۔

4 اکتوبر: حکمران جماعت، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اعوان اقبال لاہور میں ہونے والے پارٹی پروگرام کی کوریج کے دوران ایسوسی ایٹ پریس کے صحافی توصیف خان کو جماعت کے حامیوں نے تشدد کا نشانہ بنایا۔

4 اکتوبر: لاہور کے نجی چینل اسٹار ایشیا کی میڈیا ٹیم کو ریلوے پولیس کے ایس ایس پی یامین کے گھر والوں نے ناصرف شدید تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ انہیں کچھ گھنٹوں کے لیے حراست میں بھی رکھا۔

7 اکتوبر: کوہلو میں پولیس نے صحافیوں کو تشدد کا نشانہ اس وقت بنایا جب وہ مظاہرین کی فوٹیج بنا رہے تھے۔ پولیس کے اس رویے کے نتیجے میں علاقائی صحافیوں نے احتجاج کے طور پر کوہلو کا پریس کلب بند کر دیا۔

8 اکتوبر: بلوچستان کے ضلع کوہلو میں صحافیوں نے ہڑتال کر کے پریس کلب بند رکھا۔ ہڑتال کی وجہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا صحافیوں کے ساتھ ناقابل برداشت رویہ تھا۔

9 اکتوبر:  کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضا الرحمان کو ممنوعہ باغی گروپ ”بلوچستان لیبریشن فرنٹ” نے کال کی اور میڈیا کا بلوچستان کو نظر انداز کرنے پر دھمکی دی کہ 24 اکتوبر سے صوبے بھر میں اخبارات اور رسالوں کی خرید و فروخت پر پابندی لگا دی جائے گی۔

12 اکتوبر: صحافی ہارون خان کو صوابی، خیبر پختونخوا میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ اس کے بھائی کا ماننا ہے کہ ہارون کا قتل زمین کے تنازعہ کی وجہ سے ہوا ہے۔ ہارون خان ”مشرق ٹی وی” کے لیے کام کرتا تھا۔

15 اکتوبر: ”مشال ریڈیو” کے صحافی شاہنواز ترکزئی کو خیبر پختونخوا میں چارسدہ کے علاقے شبقدر کے میڈیا سینٹر سے نقاب پوش اغوا کاروں نے اغوا کر لیا۔

15 اکتوبر: قبائلی صحافی اسلام گل آفریدی کو لاپتہ قرار دے دیا گیا جب انہوں نے آخری کال 14 اکتوبر کو اپنے ایڈیٹر کو کی تھی جس میں انہیں نامعلوم نمبر سے کال آتی ہے اور وہ نامعلوم فرد اسلام گل کے ساتھ ملاقات کرنا چاہتا ہے۔

16 اکتوبر: قبائلی صحافی شاہنواز ترکزئی اور اسلام گل آفریدی واپس گھر لوٹ آتے ہیں جب انہیں پشاور میں رہا کر دیا جاتا ہے۔

19 اکتوبر: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دو سوشل میڈیا کارکنان کے خلاف ایف آئی اے نے کیس درج کر دیا کیونکہ انہوں نے مبینہ طور پر عدلیہ اور فوج کے خلاف نا زیبا الفاظ استعمال کیے۔

http://www.bbc.com/urdu/pakistan-41702166

21 اکتوبر: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دو سوشل میڈیا کارکنان کے خلاف ایف آئی اے کی طرف سے کیس درج ہونے پر سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اس اقدام کو مسلم لیگ (ن) کو ہراساں کرنے کے مترادف سمجھا ہے۔

https://www.dawn.com/news/1365289/nawaz-sharif-demands-recovery-of-social-media-activists

 24 اکتوبر: وفاقی وزیر احسن اقبال کا اسلام آباد میں کہنا تھا کہ ان کی حکومت سوشل میڈیا کے استعمال پر ایک وسیع فریم ورک تیار کر رہی ہے جس کی بدولت اس پلیٹ فارم پر ہونے والی قومی سلامتی کے خلاف گفتگو کو روکا جا سکتا ہے تاکہ ملک میں انتشار نہ پھیلے۔

https://www.dawn.com/news/1366130/govt-to-monitor-social-media-says-interior-minister

24 اکتوبر:  ممنوعہ باغی گروپ ”بلوچستان لیبریشن فرنٹ” کی دی ہوئی ڈیڈلائن گزر جانے کے بعد اخبار تقسیم کرنے والوں نے بلوچستان کے بلوچ علاقوں میں اخبارات تقسیم کرنے سے گریز کیا۔

24 اکتوبر: بلوچستان میں پریس کی آزادی کے حالات دیکھ کر کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) نے شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ”اخباروں پر مختلف گروہوں کی طرف سے دی جانے والی دھمکیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔”

25 اکتوبر: بلوچستان کے ضلع حب کے پریس کلب پر ایک دستی بم داغا گیا جس کی ذمہ داری ممنوعہ باغی گروپ ”بلوچستان لیبریشن فرنٹ”  نے اپنی ویب سائٹ پر قبول کر لی۔ اس حملے کے نتیجے میں عمارت کو تھوڑا نقصان پہنچا البتہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

25 اکتوبر: دو ممنوعہ باغی گروپوں کی طرف سے دی جانے والی ڈیڈلائن گزر جانے کی وجہ سے اخبار ٹرانسپورٹرز نے کوئٹہ اور دیگر بلوچ علاقوں میں اخبارات تقسیم کرنے کا سلسلہ روک دیا جب تک اس مسئلے کا کوئی حل تلاش نہیں کیا جاتا۔

26 اکتوبر:  بلوچستان کے ضلع تربت میں پاک نیوز ایجنسی کے دفتر پر دستی بم داغے گئے جس کی وجہ سے آٹھ افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک کا تعلق اسی ایجنسی سے ہے۔

 26 اکتوبر: بلوچستان کے علاقے آواران میں اخبارات سے لدھی ہوئی گاڑی پر بلوچ مزاحمت کاروں نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ناصرف گاڑی کے چاروں ٹا‏ئر پھٹ گئے بلکہ گاڑی میں پڑے تمام اخبارات کو آگ لگا دی گئی۔

 27 اکتوبر: دی نیوز انٹرنیشنل کے تحقیقاتی صحافی احمد نورانی کو نامعلوم افراد نے اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ پر ہراساں کیا اور انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے ان کو سر میں دس ٹانکے لگائے گئے۔

ستمبر 2017

ستمبر8: اسلام آْباد میں اضافی ضلعی مجسٹریٹ نے تاس اخبار کی ڈیکلریشن مسترد کر دی۔ یہ اقدام اخبار میں کمشنر اسلام آباد کے دفتر میں ”من پسند” لوگوں کی تعیناتی کی خبر کی اشاعت کے بعد اٹھایا گیا۔

ستمبر12: مذہبی جماعت ”لبیک یا رسول اللہ” کے حامیوں نے نیو چینل کے عملے پر حملہ کیا۔ رپورٹر عثمان، کیمرہ مین علی رضا اور امیر حمزہ پر پی ٹی آئی کے اجلاس سے واپسی پر لاٹھیوں اور پتھروں سے حملے کیا گیا۔ حملہ آوروں نے چینل کی ڈی ایس این جی کو بھی نقصان پہنچایا۔ چینل کے بیورو چیف ایاز شجاع کے مطابق حملہ آور ”مناسب کوریج نہ ملنے” پر غصے میں تھے۔

ستمبر12: حیدر آباد، سندھ سے لاپتہ صحافی غلام رسول برفت پانچ اگست کو سندھ یونیورسٹی ہاوسنگ سوسائٹی سے غائب ہوجانے کے بعد گھر واپس پہنچ گئے۔ فریڈم نیٹ ورک نے اگست کے الرٹ میں یہ معملہ اٹھایا تھا اور ان کی بحفاظت واپسی کا خیرمقدم کرتی ہے۔

ستمبر12: اسلام آباد میں ایک انسداد دہشت گردی کی عدالت نے تین افراد پر توہین مذہب کے قانون کے تحت سوشل میڈیا پوسٹ کرنے کے الزام میں فرد جرم عائد کی۔

https://epaper.tribune.com.pk/DisplayDetails.aspx?ENI_ID=11201709130102&EN_ID=11201709130059&EMID=11201709130016

ستمبر17: لاہور کے حلقہ این اے 120 کے ضمنی انتخاب میں الیکشن کمیشن کی اجازت کے حامل صحافیوں کو پولنگ سٹیشن میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔

ستمبر17: فوجی اہلکاروں نے جیو نیوز کے ڈرون آپریٹر اور ڈی ایس این جی کو حراست میں لے لیا جو وہ صوبائی الیکشن کمیشن کے باہر این اے 120 کے نتائج کا انتظار کر رہے تھے۔ دونوں کو اس یقین دہانی کے بعد کہ وہاں کوئی ڈرون کوریج نہیں ہوگی چھوڑ دیا گیا۔

ستمبر21: ملتان پولیس نے شہر کے ممتاز آباد پولیس سٹیشن کے باہر کوریج کے دوران سماء ٹی وی کے رپورٹر وجیہ احسان اور کیمرہ مین اسلم بیگ پر حملہ کیا۔ ملتان یونین آف جرنلسٹس نے ملتان پولیس کے اس حملے کی مذمت کی اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

ستمبر24: اسلام آباد کے علاقے بارہ کہو میں موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم افراد نے سینیر صحافی اور وقت ٹی وی کے اینکر مطیع اللہ جان کی گاڑی پر اینٹ سے حملہ کیا۔ وہ اور ان کے بچے اس حملے میں محفوظ رہے۔ فریڈم نیٹ ورک کو انہوں نے بتایا کہ ان کی کسی سے نا تو کوئی خاندانی اور نہ ذاتی دشمنی ہے اور یہ حملہ ان کے لیے ایک اشارہ ہے۔

ستمبر26: سادہ کپڑوں میں ملبوث سکیورٹی اہلکاروں نے تین ٹی وی صحافیوں – دنیا نیوز کے امیر سعید عباسی، 92 نیوز چینل شاہ خالد ہمدانی اور نیو ٹی وی چینل کے سعد بن الطاف – پر اسلام آباد کی احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پیشی کے دوران حملہ کیا۔ عباسی حملے کے بعد بےہوش ہوگئے۔

ستمبر28: حکومت بلوچستان نے صحافی سلی رضا رند کا نام انسداد دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول سے ہٹا دیا۔ ان کا نام جنوری 2016 میں اس میں شامل کیا گیا تھا۔

ستمبر29: سہون پریس کلب کے صدر یاسین رند کو حیدرآباد کی جیل سے انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے ان کے خلاف ایف آئی آر سے دہشت گردی کے الزامات ہٹائے جانے کے بعد رہا کر دیا گیا۔

اگست 2017

دو اگست: اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن نے جنگ گروپ اور جیو نیوز پر اپنے احاطے میں ان الزامات کے بعد پابندی عائد کر دی کہ یہ گروپ اور چینل ”کشمیر کاز کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔”

چار اگست: تحریک انصاف کے حامی جنگ گروپ کے روزنامہ جنگ، دی نیوز اور جیو نیوز کے صدر دفاتر کے باہر احتجاج منعقد کرتے ہیں۔

پانچ اگست: وفاقی تحقیقاتی ادارے نے الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے تحت وقت نیوز کے نصیر آباد، بلوچستان میں صحافی جبار عمرانی کے خلاف مقدمہ درج کیا جب انہوں نے ایک پولیس افسر کے خلاف سوشل میڈیا پر بات کی۔ پولیس اہلکار نے ایف آئی اے میں ان کے خلاف سکایت کی تھی۔

پانچ اگست:  غلام رسول برفات، سندھ میں جامشورو ضلع میں سندھ ایکسپریس اخبار کے لیے کام کرتے ہیں۔ وہ سندھی قوم پرستوں کے خلاف جاری کارروائی میں لاپتہ ہوگئے ہیں۔

پانچ اگست: بول نیوز چینل کے ساتھ منسلک سینر صحافی سدھیر چوہدری پر لاہور کے لیبرٹی چوک میں لائیو شو کے دوران حملے ہوا۔ الزام ہے کہ حکمراں مسلم لیگ نواز کے کارکنوں نے ان پر یہ حملہ جماعت پر کڑی تنقید کے بعد کیا ہے۔

چھ اگست: پمرا نے اے آر وائے نیوز کو 24 نیوز چینل کے رپورٹر شاکر یونس عباسی کو اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس کے دوران دیکھا کر ان کی ”کردار کشی” کی شکایت پر نوٹس جاری کیا ہے۔

نو اگست: جامشورو پریس کلب کے سیکرٹری جنرل بادل نوہانی کو پریس کلب سے نقاب پوش نامعلوم افراد اٹھا کر بغیر رجسٹریشن کے گاڑی میں لے جاتے ہیں۔

دس اگست: بول نیوز کے صحافی صفدر کلاسرا اور ان کی دو خواتین ساتھوں پر فیض آباد، راولپنڈی میں نواز شریف کی اسلام آباد سے لاہور ریلی کے دوران حملہ اور ہراساں کیا جاتا ہے۔

گیارہ اگست: صوبہ پنجاب میں گجرات کی پولیس نے اسلام آباد کے فوٹو صحافی شیراز گردیزی کو نواز شریف کی اسلام آباد سے لاہور ریلی کے دوران روکا اور حملہ کیا۔

گیارہ اگست: ترنول پولیس سٹیشن کے علاقے میں نامعلوم افراد نے کیپٹل ٹی وی کے صحافی نیر وحید روات کے گھر میں گھس کر چوری کی۔ صحافی اور ان کے گھر کے مکین محفوظ رہے لیکن روات کو شک ہے کہ انہوں نے اغوا کاروں کے بارے میں ایک سٹوری کی تھی اور وہی اس چوری کی واردات میں شاید ملوث ہوں۔

گیارہ اگست: سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اسلام آباد سے لاہور احتجاجی ریلی کے دوران مسلم لیگ نواز کے کارکنوں نے مبینہ طور پر اے آر وائی چینل کی ڈی ایس این جی پر گوجرانوالا میں حملہ کیا۔

سولہ اگست: سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اسلام آباد سے لاہور احتجاجی ریلی کی کوریج کے دوران دو صحافیوں پر حملے کے الزام میں مسلم لیگ (ن) کے بیس کاکنوں کے خلاف رپورٹ درج کی گئی۔ https://www.dawn.com/news/1352037/20-pml-n-workers-booked-for-assaulting-journalists

سولہ اگست: ولی خان بابر قتل کیس میں اہم ملزم فیصل محمود عرف موٹا کی اپیل سندھ ہائی کورٹ دوبارہ سنے گی۔ انہیں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔ https://www.dawn.com/news/1351906/shc-overturns-death-sentence-of-faisal-mota-orders-retrial-in-wali-khan-babar-murder-case

بائیس اگست: پنجاب پولیس کے سربراہ کیپٹن (ر) عارف نواز نے صوبہ بھر میں تھانوں اور دیگر پولیس تنصابات کے اندر ویڈیو اور تصاویر بنانے پر پابندی عائد کر دی۔ صحافیوں نے اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔

تئیس اگست: صوبہ پنجاب میں گجر خان تحصیل کے مقامی صحافی عبدالستار نیازی کو جو اسلام آباد کے میٹرو واچ کے لیے کام کرتے ہیں کئی گھنٹوں تک پولیس سٹیشن میں ہراساں اور ”بلیک میلنگ” کا سامنا رہا۔ اس کا مقصد انہیں اس بات پر تحریری طور پر مجبور کرنا تھا کہ وہ وکلاء کے خلاف ”پھر کبھی بھی نہ لکھیں گے اور نہ پوسٹ کریں گے۔” وکلاء نے ان کے خلاف پولیس میں اس وقت شکایت کی جب انہوں نے ایک ایسی تصویر پوسٹ کی جس میں یہ وکلا سرکاری اراضی پر قابض دکھائے گئے تھے۔

جولائی 2017

تین جولائی: وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلکام ڈویژن نے سینٹ کی کمیٹی کو بتایا کہ ٹیلیفون کالز سننا قانونی ہے اور اسے سنجیدگی سے نہ لیا جائے کیونکہ یہ تمام دنیا میں ہوتا ہے۔

 https://www.dawn.com/news/1343089/intercepting-phone-calls-is-legal-senate-body-told

چھ جولائی: وفاقی تحقیقاتی ادارے نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا کہ صحافی طاحہ صدیقی کے خلاف تحقیقات کو انسداد دہشت گردی شاخ سح سائبر کرائم بل منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام صحافی کی جانب سے ملک کے طاقتور فوجی اسٹبلشمنٹ کے خلاف سوشل میڈیا پر رائے دینے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

https://tribune.com.pk/story/1451057/journalist-harassed-case-transferred-cyber-crime-wing/

سات جولائی: فیس بک کے نائب صدر گلوبل پبلک پالیسی جول کپلان نے پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علمی خان سے ملاقات کی اور شوسل میڈیا سے توہین مذہب پر مبنی مواد ہٹائے جانے پر گفتگو کی۔

https://www.dawn.com/news/1343822/facebook-vp-nisar-discuss-removal-of-blasphemous-content

نو جولائی: دی نیشن کے رپورٹر عبداللہ ظفر کو سفید کپڑوں میں لوگوں نے کراچی میں ان کی رہائش گاہ سے اٹھایا۔

دس جولائی: دی نیشن کے رپورٹر عبداللہ ظفر بیس گھنٹوں بعد اپنے گھر واپس پہنچ گئے۔ انہوں نے ڈان اخبار کو بتایا کہ انہیں پولیس بکتر بند گاڑی میں ساتھ لے گئی تھی اور ان پر تشدد کیا گیا۔ ان کے خیال میں ان کے خلاف یہ کارروائی سوشل میڈیا پر رائے دینے پر کی گئی۔

 https://www.dawn.com/news/1344495

گیارہ جولائی: پولیس نے سیکشن 295 اے کے تحت توہین مذہب کے قانون کے تحت کالم نویس ڈاکٹر شیخ ولی کے خلاف روزنامہ جہان پاکستان میں حضرت علی سے متعلق مضمون لکھنے پر مقدمہ درا کیا۔ اس مضمون کے خلاف اہل تشیح نے احتجاج کیا تھا۔

تیرہ جولائی: سرگودھا کی ایک عدالت نے سائبر قانون کے تحت ”فیس بک پر ”ورغلانے والا فرقہ ورانہ مواد” شائع کرنے پر تیرہ سال قید بامشقت سنائی۔

http://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=14_07_2017_002_001

انیس جولائی: سینٹرز نے انسداد الیکٹرانک جرائم ایکٹ 2016 کی نظر ثانی کی کال کی ہے۔ انہوں نے اسے ”خطرناک” اور ”سیاہ قانون” قرار دیا۔

 https://www.dawn.com/news/1346310/senators-term-prevention-of-electronic-crimes-act-2016-a-black-law

بیس جولائی: وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اہلکاروں نے مس صابر بجہیر اور نیوز 24 کے ملک عرفان کے علاوہ ڈان نیوز کے اعتزاز حسین کو گرفتار سرکاری اہلکار ظفر حجازی کی ہسپتال میں داخلے کی کوریج سے روک دیا۔ ایف آئی اے اور خاندان کے لوگوں نے ان صحافیوں کو یرغمال بنا دیا اور بدلسوکی کی۔ ان کے کیمرے اور دیگر سامان چھین لیا گیا۔

ستائیس جولائی:کالعدم بلوچ شدت پسند گروپ نے بلوچستان میں خاران ضلع کے پریس کلب کو بند کروا دیا اور سترہ صحافیوں کو کام سے روک دیا۔

تیس جولائی: بلوچستان میں خاران پریس کلب کے صحافیوں نے دوبارہ اپنی سرگرمیاں شروع کر دیں اور پریس کلب کھول دیا گیا جو کالعدم شدت پسند گروپ بلوچ لیبریشن آرمی کی دھمکیوں کے بعد ستائیس جولائی کو بند کر دیا گیا تھا۔ خاران کے صحافیوں نے دوبارہ فعال ہونے کا فیصلہ بلوچستان یونین آف جرنلسٹس اور فریڈم نیٹ ورک کے زیر انتظام کوئٹہ پریس کلب سیفٹی ہب کی جانب سے مکمل حمایت کے اعلان کے بعد اٹھایا۔

زرایع ابلاغ پر ايک نظر- جون 2017

جون 2017

جون 2: اسلام آباد میں ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے لیے بطور فوٹو صحافی کام کرنے والے ذیشان علی پر دو ناعمول افراد نے حملہ کیا۔ وہ جی ایٹ سیکٹر میں رمضان سے متعلق فلم بندی کر رہے تھے جب ان پر حملہ کیا گیا اور ان سے زبردستی ان کے کیمرہ ساتھ لے گئے۔ وہ زخمی بھی ہوئے۔

جون 2: جیو کے تحقیقاتی رپورٹر اعزاز سید کا کہنا ہے کہ ان پر اسلام آباد میں رات ساڑھے نو بجے شہزاد ٹاون کے علاقے میں بعض موٹر سائیکل اور گاڑی میں سوار افراد نے اغوا کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔

جون 6: وکلاء نے ایک نجی ٹی وی نیوز چینل سے منسلک جنید شاہ اور وقاص اورنگزیب کو آدھ گھنٹے تک عدالتی احاطے میں زدوکوب کیا جب انہوں نے ان وکلاء کی جانب سے ایک خاتون کی ”نامناسب” طریقے سے تلاشی لنے کی فلمبندی کی۔

جون 7: انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبون کے لاہور میں سینیر صحافی رانا تنویر نے انہیں ”قتل کرنے” کی دھمکیاں ملنے کی اطلاع دی جب نامعلوم افراد نے ان کے مکان کے صدر دروازے پر تیس مئی کو دھمکی آمیز جملہ لکھا۔

جون 9: انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبون کے لاہور میں سینیر صحافی رانا تنویر ان پر قاتلانہ حملے میں بال بال بچ جاتے ہیں جب نامعلوم گاڑی سواروں نے انہیں ٹکر ماری۔ یہ حملہ انہیں تیس مئی کو ملنے والی دھمکیوں کے بعد ہوا۔

جون 9: فیصل آباد یونیورسٹی نے تین طلبہ کو یونیوسٹی انتظامیہ پر فیس بک پر تنقید کے بعد نکال دیا۔  https://tribune.com.pk/story/1432127/faisalabad-university-expels-3-students-criticism-facebook/

 جون 10: لاہور میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو سوشل میڈیا پر ”گستاخانہ مواد” ڈالنے کے جرم میں سزا سنائی۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی کو سوشل میڈیا پر مواد کی وجہ سے سزائے موت سنائی گئی۔ https://www.dawn.com/news/1338684/first-death-sentence-handed-to-lahore-man-for-blasphemy-on-social-media

جون 11: ایکسپریس ٹریببون کے کراچی میں نامہ نگار زبیر اشرف کو مسلم لیگ (فنکشنل) کے رہنما پیر یاسر شاہ کے نجی محافظوں نے حملہ کیا۔

جون 11: ہری پور، خیبرپختونخوا میں نامعلوم افراد نے دن دھاڑے روزنامہ کے ٹو کے بیورو چیف بخشیش الہی کو نشانہ بنا کر گولی ماری جس سے وہ موقع پر ہلاک ہوگئے۔

جون 19: سما ٹی وی کے ڈی ایس این جی آپریٹر شارق اشتیاق کپتان سرفراز احمد کی کراچی میں رہائش گاہ پر چیمپین ٹرافی میں کامیابی کی خوشی میں جمع لوگوں کی کوریج کے دوران گولی لگنے سے زخمی ہوگئے۔

جون 20: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے معلومات، نشریات اور قومی ورثے نے حکومت کو صحافیوں کے تحفظ کے مجوزہ بل پر تمام فریقین سے جلد مشاورت مکمل کرنے کی ہدایات دی۔

جون 27: آج نیوز چینل کے کھیلوں کے نامہ نگار جاوید اقبل کراچی میں موبائل چھینے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے زخمی ہوگئے۔ وہ خطرے سے باہر ہیں۔

زرایع ابلاغ پر ايک نظر- مئی 2017

مئی 2017 

مئی 02: لاہور ہائی کورٹ نے حکومت سے کہا کہ وہ سائبر کرائم کے قانون میں توہین مذہب کو بھی شامل کرے۔ https://www.dawn.com/news/1330486/govt-told-to-add-punishment-for-blasphemy-to-cyber-crime-law

مئی 03: کالعدم شدت پسند تنظیم ”بلوچستان لیبریشن فرنٹ (بی ایل ایف)” نے کوئٹہ کے مقامی میڈیا کو ان کا بیان شائع اور نشر نہ کرنے پر دھمکی دی۔ حکومت بلوچستان نے کالعدم تنظیموں جیسے کہ بی ایل اے، بلوچ ریپبلیکن آرمی (بی آر اے) اور دیگر علیحدگی پسند گروپوں کے بیانات کی کوئٹہ کے اخبارات میں اشاعت پر اور نجی خبر رساں ایجنسیوں جیسے کہ آن لائن، این این آئی اور آئی این پی جاری رکنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

مئی 03: پمرا نے بول نیٹ ورک کے ڈائریکٹرز کی وزارت داخلہ سے سکیورٹی کلیرنس حاصل کرنے میں ناکامی پر نیٹ ورک کے لائسنس کو منسوخ کر دیا۔

مئی 04: سندھ ہائی کورٹ بول نیٹ ورک کا لائسنس بحال کر دیا۔

مئی 08: پمرا چیرمین ابصار عالم کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کے ملازمین ”خطرے” میں ہیں اور وزیر اعظم نواز شریف اور فوجی سربراہ جنرل قمر باجوہ سے اپیل کی کہ اس دھمکی کا نوٹس لیں۔ https://www.dawn.com/news/1331837/pemra-chairman-claims-employees-under-threat-appeals-for-govts-help

مئی 10: پمرا جیو نیوز پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کرتا ہے ان کے ٹاک شوز میں سیاستدانوں کے خلاف ”نازیبہ بیانات” کے الزام میں۔ https://tribune.com.pk/story/1406371/pemra-slaps-rs100000-fine-geo-news-airing-derogatory-remarks/

مئی 11: وفاقی حکومت آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) کو ہدایت دیتی ہے کہ وہ ڈان اخبار کے مدیر ظفر عباس اور اسٹنٹ ایڈیٹر سیرل المائدا کے خلاف ڈان لیکس کیس میں ”کارروائی” کریں۔

مئی 11: وزیر اعظم نواز شریف اور بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی پمرا کے سربراہ ابصار عالم اور ملازمین کو دھمکیوں کا ”نوٹس” لیتے ہیں۔https://www.dawn.com/news/1332457/pm-coas-take-notice-of-threats-to-pemra-employees

مئی 12: پمرا ٹی وی چینلز کو تنبیہ کی کہ وہ ”فوج کی شبہہ کو متاثر” کرنے والا مواد نشر نہ کریں۔https://www.dawn.com/news/1332680/pemra-warns-tv-channels-not-to-air-content-jeopardising-militarys-image

مئی 17: اے آر وائے نیوز چینل کے پنجاب کے ضلع قصور میں نامہ نگار عبدالرزاق کو چوروں نے ہلاک کر دیا جبکہ اے آر وائے کے ایک اور نامہ نگار زخمی ہوئے جب وہ چوروں کی ایک ڈاکٹر کو لوٹتے ہوئے فلم بنا ررہے تھے۔

مئی 19: جیو نیوز کے سپورٹس رپورٹر اکبر یوسفزئی پر حملہ کیا گیا جو ایف سیون کرکٹ گراونڈ پر سی ڈی اے حکام کی جانب سے مبینہ طور پر غیرقانونی قبضے کی خبر بنا رہے تھے۔ سی ڈی اے اسٹنٹ ڈائریکٹر سی ڈی اے چیرمین کے کاروباری ساتھی کے بیٹے نے رپورٹر پر حملہ کیا۔

مئی 24: وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پاکستان ٹیلیکمیونیکیشن اتھارٹی کو ہدایات دیں کہ وہ ایک ایسا فریم ورک تیار کریں جو اس بات کو یقینی بنائیں کہ ”سوشل میڈیا کو بطور مثبت، تعمیری اور صحت مندانہ رابطوں” کے لیے استعمال ہو۔https://www.dawn.com/news/1335143/nisar-directs-pta-to-prepare-mechanism-for-regulating-social-media

مئی 30: وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے آن لائن کارکن عدنان افضل قریشی کو لاہور سے ملک کی فوج پر آن لائن پوسٹس میں ”تنقید” کے الزام میں گرفتار کیا۔ ان پر متنازعہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔https://www.dawn.com/news/1336440/activist-held-in-first-case-about-maligning-forces-on-social-media

 

اپریل 2017 

اپریل 13: پمرا کا دو ٹی وی چینلز کو سندھ پولیس کے سربراہ کے خلاف ”بےبنیاد خبر” نشر کرنے پر جرمانہ

https://tribune.com.pk/story/1382834/pemra-fines-private-channels-baseless-news-sindh-ig/

اپریل 13: مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں شعبہ صحافت کا ایک طالب علم مشال خان کو توہین مذہب کے مبینہ الزام کے تحت ہلاک کر دیا گیا۔

اپریل 17: پاک سرزمین پارٹی کے حامیوں کی جانب سے سکھر پریس کلب پر حملے کے نتیجے میں پانچ صحافی زخمی ہوگئے۔

 https://tribune.com.pk/story/1385833/five-journalists-injured-psp-workers-attack-sukkur-press-club/

اپریل 17: پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان لیاقت مہمند عرف احسان اللہ احسان نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ احسان نے ماضی میں آذاد میڈیا اور صحافیوں کو بحثیت ترجمان دھمکیاں دی تھیں۔

 https://www.dawn.com/news/1327567

 

زرایع ابلاغ پر ايک نظر – مارچ 2017

مارچ 2017

مارچ چھ: سپریم کورٹ نے اینکر پرسن عامر لیاقت حسین کو اپنے متنازعہ شو ”ایسے نہیں چلے گا” بعض پابندیوں کے ساتھ جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔

 https://www.dawn.com/news/1318935/sc-conditionally-allows-airing-of-tv-show

مارچ سات: اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ تمام سوشل میڈیا بند کر دے اگر یہ ضروری ہے۔ عدالت انٹرنٹ پر توہن مذہب کے مقدمے کی سماعت کر رہی تھی۔  https://tribune.com.pk/story/1348784/ihc-directs-authorities-block-social-media-necessary/

مارچ نو: وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ”توہین مذہب کے مواد” کی موجودگی کی وجہ سے سوشل میڈیا بند کرنے کی دھمکی دی۔

 https://www.dawn.com/news/1319431

مارچ تیرہ: سندھ اسمبلی معلومات تک رسائی کے قانون کی منظوری دی اور اس طرح سندھ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے بعد تیسرا صوبہ بن گیا جہاں یہ قانون موجود ہے۔ بلوچستان میں ابھی یہ قانون بننا باقی ہے۔

 https://www.dawn.com/news/1320231/sindh-assembly-unanimously-approves-right-to-information-bill-2016

مارچ سولہ: حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ فیس بک پاکستان ایک وفد بھیجنے کے لیے تیار ہوگئی ہے جو ”توہین مذہب” والے مواد پر گفتگو کرے گی۔ یہ اعلان اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے متازعہ مواد ہٹانے کے حکم کے بعد سامنے آیا ہے۔

 http://www.bbc.com/urdu/pakistan-39300821

مارچ سترہ: حکومت پاکستان نے پرنٹ میڈیا میں اشتہارات کے ذریعے عوام کو متنبہ کیا کہ وہ آذادی اظہار کے حق کا استعمال کرتے ہوئے بعض قوانین کی پامالی سے اپنے آپ کو بچائیں۔ http://epaper.dawn.com/Advt.php?StoryImage=17_03_2017_002_004

مارچ سترہ: اسلام آباد ہائی کورٹ نے پمرا کو حکم دیا کہ وہ میڈیا موااد کی نگرانی کرے۔ یہ حکم عدالت نے سوشل میڈیا پر ”توہین مذہب مواد” سے متعلق ایک پٹیشن کی سماعت کے دوران دیا۔. https://www.dawn.com/news/1321057/ihc-orders-pemra-chairman-to-monitor-tv-channels-for-obscene-content

مارچ انیس: حکومت تین سالوں میں اشتہارات پر گیارہ ارب روپے خرچ کر دیئے۔

http://nation.com.pk/national/18-Mar-2017/govt-spent-rs11b-on-ads-in-three-years-na-told

مارچ انیس: وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے توہین مذہب اور انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمات درج کر لیے۔

https://twitter.com/omar_quraishi/status/845315908830609409/photo/1

مارچ بیس: پمرا نے ڈان نیوز کے پروگرام ”زرا ہٹ کے” پر سپریم جوڈیشل کونسل کے زیر غور ایک ریفرنس پر گفتگو کرنے کی وجہ سے تین روز کی پابندی عائد کر دی۔

مارچ بیس: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اٹھارتی نے قومی ایکشن پلان کے تحت کالعدم تنظیموں کی نو سو ویب سائٹس کو بلاک کر دیا ہے۔

https://www.dawn.com/news/1321734/pta-blocks-over-900-web-addresses-linked-to-banned-organisations-under-nap

مارچ اکیس: وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف آئی اے کہتا ہے کہ اس نے تین ایسے افراد کو گرفتار کر لیا ہے جن کا فیس بک پر توہین مذہب کے مواد سے تعلق تھا۔

 https://www.dawn.com/news/1322531/fia-arrests-three-in-social-media-blasphemy-case 

مارچ تیس: وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار یوسف کا کہنا ہے کہ پانچ سو سے زائد ویب سائٹس گستاخانہ مواد کی وجہ سے بن کی گئی ہیں۔

http://www.bbc.com/urdu/pakistan-39451826

مارچ اکتیس: پمرا نے جیو نیوز کے صبح کے پروگرام ”جیو پاکستان” پر ”قابل اعتراض” مواد نشر کرنے پر پانچ روز کی پابندی عائد کر دی

https://tribune.com.pk/story/1370380/pemra-slaps-5-day-ban-geo-pakistan-airing-objectionable-content/

زرایع ابلاغ پر ايک نظر – فروری 2017

فروری 2017

02 فروری : پیسوں کی عدم ادائگی  کی بنا پر اے آر واے نیوز چینل کا لائیسنس عدالت کے فیصلے کے بعد برطانیہ میں منسوخ کر دیا گیا۔

http://www.dawn.com/news/1312448/uk-watchdog-revokes-arys-licences

06 فروری: نفرت انگیز تقریر کرنے کی بنا پرسپریم کورٹ نے ڈاکٹر عامر لیاقت پر پیمرا کی طرف سے لگائی ہوئی پابندی کو برقرار رکھا اور انہیں تا حکم ثانی کسی بھی نیوز چینل پر آنے سے منع کر دیا گیا ہے۔

 12 فروری: کراچی میں نامعلوم افراد کی سماء ٹی وی کی ڈی ایسس این جی پر فائرنگ سے 22 سالہ کیمرامین تیمور عباس ہلاک ہو گیا۔

https://tribune.com.pk/story/1324721/cameraman-killed-samaa-tvs-van-attacked-karachi/

13 فروری: لاہور پریس کلب کے سیفٹی ہب مینجیرکے مطابق لاہور خود کش دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں 2 کیمرا مین، ایک ڈرائیور اور ڈی ایس  این جی وین کے انجنیئر بھی شامل ہیں۔

14 فروری: اخلاقیات کے اصولوں کی خلاف ورزی پر پیمرا نے بول نیوز کے ڈاکٹر شاہد مسعود کے پروگرام پر پابندی لگا دی۔

17 فروری: اخلاقیات کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے پر پیمرا نے جیو نیوز چینل کو نوٹس جاری کر دیا۔

19 فروری: طالبان گروپ کی میڈیا کو دھمکی دینے کے بعد پاکستان میں دشت گردی کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔

. https://twitter.com/tanvirarain/status/833243002885791744/photo/1

زرایع ابلاغ پر ايک نظر – جنوری 2017

جنوری04: بلاگرز وقاس گوریہ اور عاصم سعید لاہور سے لاپتہ ہوگئے۔

جنوری06 : اسلام آباد کی فاطمہ جناح یونیورسٹی میں تعینات پروفیسر اور سوشل میڈیا کے سماجی کارکن سلمان حیدر بنی گالا سے لاپتہ ہوگئے۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر داخلہ، چودھری نثار علی خان نے انکوائری کا حکم دیا ہے۔

 جنوری 07: سول پروگریس اتحاد آف پاکستان کے صدر اور سماجی کارکن، ثمر عباس اسلام آباد سے لاپتہ ہوگئے۔

 جنوری 08: خاندان والوں کے بقول، بلاگر احمد رضا نصیر لاپتہ ہوگئے ہیں۔

جنوری10 : وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے سینیٹ کو اس بات سے بخوبی طور پر واقف کر دیا کہ گزشتہ دنوں میں بلاگرز کے لا پتہ ہونے میں حکومت کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ وہ ملک میں 4 جنوری سے ہونے والے لا پتہ بلاگرز کے متعلقہ خاندان والوں سے مخاطب تھے۔

 جنوری 13: نامعلوم حملہ آوروں نے سینتیس سالہ جز وقتی صحافی محمد جان سلیمانی کو قلات میں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ محمد جان سلیمانی روزنامہ قدرت اور روزنامہ تلار، کوئٹہ کے لیے کام کر رہے تھے تاہم جان کی ہلاکت کے محرک کا تاحال پتہ نہیں لگایا جاسکا ہے۔

 جنوری 22: سوشل میڈیا کے عملہ کے اکائونٹ میں ناجائز رسائی حاصل کرنے کی کوشش کے بعد، ڈان میڈیا گروپ نے اپنے کارکنان پر سائبر حملے کا دعوی کیا۔

 جنوری 26: اپنے پروگرام میں نفرت انگیز تقریر کرنے پر پیمرا نے بول ٹی وی کے میزبان عامر لیاقت پر پابندی لگا دی۔

 جنوری 26: سیئنر کرائم رپورٹر مظہر شیخ کے راولپنڈی سے لاپتہ ہونے پر راولپنڈی یونین آف جرنلسٹ نے حکومت پنجاب پر زور لگایا کہ وہ مظہر کو جلد از جلد بازیاب کروائے۔

جنوری 27 : عامر لیاقت پر لگائی گئی پابندی کی خلاف ورزی کرنے اور عامر لیاقت کی طرف سے اخلاقیات کی خلاف ورزی کرنے اور لوگوں کو تشدد پر اکسانے پر پیمرا نے بول ٹی وی کو نوٹس جاری کر دیا۔

 جنوری 27: قبائلی پولیس افسر ان نے قبائلی صحافی ساجد علی کاکاخیل کے ساتھ بد تمیزی کی۔

 جنوری 27: مہینے کے آغاز میں لاپتہ ہونے والے بلاگر اور سماجی کارکن سلمان حیدر، بقول ان کے اہل خانہ، گھر واپس لوٹ آئے ہیں۔

 جنوری 28: انسداد دہشت گردی کی کراچی کی عدالت کے حکم پر پولیس نے جنگ میڈیا گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان،  پیمرا کے چیف ابصار عالم اور جیو نیوز کے دو میزبان نجم سیٹھی اور منیب فاروق کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی۔ ایف آئی آر دائر کرنے والے گل خان کا کہنا تھا کہ نجم سیٹھی اور منیب فاروق فوج، حکومت اور عدلیہ کے خلاف بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں۔

 جنوری 29: عاصم سعید اور وقار گوریہ – دو سماجی کارکن 4 جنوری سے لاپتہ رہنے کے بعد، بقول ان کے گھر والوں کے، گھر واپس لوٹ آئے ہیں۔

جنوری 29 : گلگت – بلتستان کی حکومت نے تین ضلعی اخبارات: کے ٹو، اوصاف اور مہینے میں ایک مرتبہ شائع ہونے والے رسالے کارگل کو نوٹس جاری کر دیا کیونکہ وہ حکومت گلگت – بلتستان کے خلاف خبریں شائع کر رہے تھے۔

جنوری 30 : طنز نگار اخبار، ”خبرستان ٹائم” نے اعلان کیا کہ ان کی ویب سائٹ کو پاکستان میں بلاک کر دیا ہے۔ http://www.dawn.com/news/1311656/satire-website-khabaristan-times-blocked-in-pakistan

 جنوری 31: ڈاکٹر شاہد مسعود کے پروگرام کے مواد سے متعلق، پیمرا نے بول نیوز کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ http://www.dawn.com/news/1311836/pemra-issues-notice-to-bol-television-over-dr-shahid-masoods-show

 

 

زرایع ابلاغ پر ايک نظر – دسمبر 2016

 

 دسمبر 02: وقت ٹی وی اور جہان پاکستان اخبار کے ڈیرہ اسماعیل خان میں نامہ نگار محمد عثمان کو فوجی حکام نے کئی گھنٹوں تک حراست میں رکھا اور ان کے لیپ ٹاپ کمپوٹر اور بیرونی ڈرائیو سے ڈیٹا کاپی کیا۔ انہیں لیپ ٹاپ سے ”خفیہ فولڈرز” بھی ملے۔

 دسمبر 02: لندن میں ہائی کورٹ آف جسٹس نے اے آر وائی نیوز چینل کے براڈکاسٹر کو جیو/جنگ گروپ کے ایڈیٹر ان چیف میر شکیل الرحمان کو 185000 پاونڈ ادا کرنے کا حکم دیا۔ یہ حکم جج کے مطابق ہتک عزت کے ایسے 24 پروگرام نشر کرنے پر کیا جن کی کوئی بنیاد نہیں تھی۔

 دسمبر 08: پمرا نے چینل 24 کو اسس الزام کی بنیاد پر نوٹس جاری کیا کہ اس نے پی آئی اے کی پرواز پی کے 661 کی اسلام آباد کے قریب گرنے کی ”جعلی آڈیو” نشر کی۔

 http://tribune.com.pk/story/1257457/pemra-issues-notice-channel-24-airing-fake-audio-clip-crashed-pia-flight/

 دسمبر 10: طالبان نے جننوبی وزیرستان کے رستم بازار، وانا میں دستی پیغامات تقسیم کیے جن میں قبائلی صحافیوں پر جانبدارانہ رپورٹنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کو خطرناک نتائج کی دھمکی دی۔ فریڈم نیٹ ورک نے بھی اس پیغام کی پشتو زبان میں کاپی حاصل کی ہے۔

 دسمبر 21: لندن یں ایک قاننونی سماعت کے دوران ججج سر ڈیویڈ ایڈی نے فیصلہ سنایا کہ اے آر وائی نیوز چینل اس کے فیصلے کا خلاصہ 23 دسمبر کو شام چھ بجے،  رات دس بجے اور 3 بجے صبح ہر گھنٹے کے پہلے پانچ منٹ میں نشر کرے۔

 دسمبر 27: صحافتی برادری نے حکومت سے ”صحافیوں کے تحفظ اور فلاح کے بل” کا مسودہ شئیر کریں اس کی منظوری سے قبل۔

http://www.dawn.com/news/1304894

دسمبر 28: پاکستان کے اٹارنی جنرل نے وزارت داخلہ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈویژن کو تجویز دی کہ وہ اعلی عدلیہ کے خلاف سوشل میڈیا پر ہتک آمیز کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے جس میں دو سے پانچ سال قید کی سزا بھی دی جاسکے۔

http://www.dawn.com/news/1305117

زرایع ابلاغ پر ايک نظر – نومبر 2016

نومبر 1: پاکستان تحریک انصاف کے مشتعل کارکنوں نے صوابی کے قریب اسلام آباد کی جانب مارچ کے لیے کوشش کے دوران نجی چینل جیو کی سیٹلائٹ وین پر حملہ کیا۔

http://www.dawn.com/news/1293594/infuriated-pti-workers-attack-geo-news-van-in-swabi

نومبر 1: وزیر اعظم نواز شریف سیرل المائڈا کی ڈان میں خبر کی تحقیقات کے لیے اعلی اختیاراتی کمیٹی تشکیل دیں گے۔ .

http://www.dawn.com/news/1293337/pm-to-finalise-high-powered-body-to-investigate-leak-nisar

نومبر 2: معروف صحافی حامد میر کو دی ہیگ میں ”موسٹ رزیلینٹ جرنلسٹ” کا ایوارڈ دیا گیا۔ وہ 2014 میں کراچی میں ایک جان لیوا حملے میں شدید زخمی ہوئے لیکن بچ گئے تھے۔

نومبر 7: وفاقی حکومت نے سابق جج جسٹس عامر رضا خان کو سیرل المائڈا کی روزنامہ ڈان کی خبر کی تحقیقات کے لیے کمیٹی کا سربراہ مقرر کر دیا۔

http://tribune.com.pk/story/1223374/govt-forms-inquiry-committee-probe-dawn-leaks/

نومبر 7: پمرا نے اے آر وائی نیوز چینل پر پانامہ لیکس پر انتہائی تنقیدی پروگرام کرنے پر ”غیر پیشہ ورانہ اور سنسنی خیز تجزیوں” کا الزام عائد کرتے ہوئے نوٹس جاری کیا۔ چینل کو 14 نومبر تک جواب دینے کی مہلت دی گئی ہے۔

نومبر 12: رینجرز حب پریس کلب کے صدر مور الیاس کمبوہ کی حب میں رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور تلاشی لی۔ صحافی کو رینجرز حکام نے تحقیقات کا کوئی وارنٹ نہیں دیکھایا۔ انہیں صحافی کے بقول تلاشی کے دوران کچھ نہیں ملا۔

نومبر 17: ایک تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان انٹرنٹ آذادی کے اعتبار سے دنیا کے دس بدترین ممالک میں سے ایک ہے۔

http://www.dawn.com/news/1296904/pakistan-ranked-among-worst-10-countries-for-internet-freedom-report

نومبر 21: کرم قبائلی ایجنسی کی پولیٹکل انتظامیہ نے قبائلی صحافی انور شاہ اورکزئی کو ساڑھے تین گھنٹوں حراست میں رکھا۔ ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں ان کی بدعنوانی سے متعلق رپورٹنگ کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

نومبر 21: کیبل آپریٹرز پاکستان میں ڈی ٹی ایچ سروس کی نیلامی کے خلاف بطور احتجاج ہڑتال پر چلے جاتے ہیں۔

http://www.dawn.com/news/1297734/cable-services-remain-suspended-for-indefinite-period-across-country

نومبر 24: پاکستان میں پہلی مرتبہ ڈی ٹی ایچ لائسنس کی چودہ ارب روپے سے زائد میں کامیاب نیلامی ہوئی۔

http://tribune.com.pk/story/1242918/pakistans-first-dth-licences-auctioned-rs-14-69-billion/

نومبر 26: سپریم کورٹ کے ایک جج کے خلاف خبر چلانے پر پمرا نے دو ٹی وی چینلز کے لائسنس معطل کر دیئے۔

http://tribune.com.pk/story/1245715/irresponsible-analysis-pemra-suspends-licences-three-channels/

نومبر 26: صحافی خالد محمود بٹ اور ان کے بیٹے کو ساہیوال ضلع میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ہلاکت کی وجہ واضح نہیں۔ صحافی کا تعلق اہل تشیح سے تھا۔

نومبر 29: لاہور میں ایک استاد سائبر کرائم کے قانون کے تحت ملزم کو سزا دلوانے میں کامیاب۔

http://www.dawn.com/news/1299522/undeterred-by-blackmail-teacher-gets-cyber-crime-accused-convicted


زرایع ابلاغ پر ايک نظر – اکتوبر 2016

چار اکتوبر: الیکٹرانک میڈیا ریگولٹری اتھارٹی پمرا کا اعلان کہ بھارتی مواد نشر کرنے پر لائسنس منسوخ کرنے کی دھمکی دی۔ یہ اعلان پاکستان اور انڈیا کے درمیان بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اوڑی حملے کے بعد کشیدہ صورتحال کے تناظر میں کیا گیا۔

سات اکتوبر: صوبہ بلوچستان کے پشین ضلع میں آج ٹی وی کے رپوٹر پر تین افراد نے گاڑیوں کے غیرقانونی کاروبار سے متعلق رپورٹ کے بعد حملہ کیا۔ صحافی کو چوٹیں آئیں اور انہیں علاج کے لیے ہسپتال لیجایا گیا۔ پولیس نے تین افراد جن میں سے ایک حملہ آور بھی تھا گرفتار کر لیا ہے۔

دس اکتوبر: ایف آئی اے نے ایک شخص کو ایک عورت کو آن لائن ہراساں کرنے کے الزام میں سائبر کرائم ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا۔

http://www.dawn.com/news/1289272/fia-arrests-man-for-harassing-woman-online

گیارہ اکتوبر: چھ اکتوبر کو روزنامہ ڈان میں ایک تحقیقاتی رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد نامہ نگار سرل المائڈا کو حکومت نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا۔

چودہ اکتوبر: حکومت ڈان کے نامہ نگار سرل المائڈا کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرنے کا اعلان کرتی ہے۔

بائیس اکتوبر: کے ٹو چینل کی رپورٹر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا جب ایک حکومتی اہلکار نے انہیں دھپڑ مارا۔

http://www.dawn.com/news/1291551/case-against-manhandled-reporter-amid-media-debate

چوبیس اکتوبر: سندھ رینجرز سما ٹی وی کے رپورٹر خرم گلزار کو کئی گھنٹوں تک گھر سے لیجانے کے بعد زدوکوب کرتی ہے۔ انہیں کئی گھنٹوں بعد رہا کیا گیا اور ان کے جسم پر تشدد کے نشانات واضح تھے۔

http://www.fnpk.org/sindh-rangers-tortures-samaa-tv-reporter-in-karachi/

انتیس اکتوبر: روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے تنازع پر وفاقی حکومت پرویز رشید سے ان کا اطلاعات کا قلمدان واپس لے لیتی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا کہ خفیہ ادارے کے اہلکار اس رپورٹ کی مزید تحقیقات کریں گے۔ یہ خبر ریاستی اداروں کے درمیان اختلافات پر مبنی تھی۔

اکتیس اکتوبر: پمرا بچوں کے چینل نیکلڈن ٹی وی کے لینڈنگ رائٹس منسوخ کر دیے۔ اس پر الزام تھا کہ وہ بھارتی مواد نشر کر رہا تھا۔


زرایع ابلاغ پر ايک نظر- ستمبر 2016

یکم ستمبر: اے آر وائے نیوز چینل کے مطابق بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں مقامی رپورٹر کو وزیر اعظم نواز شریف کی ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح کی تقریب میں شرکت سے منع کر دیا گیا۔

دو ستمبر: لاہور ہائی کورٹ نے بھارتی میگزین ”انڈیا ٹوڈے” کی ویب سائٹ پاکستان میں بلاک کرنے کی اجازت نہیں دی جن اس رسالے نے بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی فوٹوشاپ جعلی تصویر پہلے صفحے پر شائع کی تھی۔

http://tribune.com.pk/story/1175357/lhc-rules-blocking-india-today-website/

تین ستمبر: 92 نیوز چینل کی اینکر آیزا حزب اختلاف کے رہنما عمران خان کی لاہور میں ایک احتجاجی ریلی میں ایک کرین سے گرنے کے باوجود محفوظ رہیں۔

چھ ستمبر: الیکٹرانک میڈیا کے نگران ادارے پمرا نے جیو نیوز چینل کو امریکہ میں پاکستان کے سفیر سے متعلق ”غلط” حبر نشر کرنے پر اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا۔

https://twitter.com/pressfreedompk

آٹھ ستمبر: وزراء کے ایک بین الصوبائی اجلاس میں ایف آئی اے کو سائبر کرائم کی تجویز دی۔

http://tribune.com.pk/story/1178998/panel-wants-federal-investigation-agency-probe-cybercrimes/

سولہ ستمبر: ایک اقلیتی گروپ کے خلاف مواد نشر کرنے پر پمرا نے نیو نیوز اور 92 چینل کے خلاف نوٹس لینا۔

http://tribune.com.pk/story/1182405/pemra-takes-notice-tv-programmes-targeting-minority/

سولہ ستمبر: مہمند ایجنسی حکام نے کئی ٹی وی صحافیوں کو یکاغونڈ کے مقام پر داخلے سے روک دیا جہاں وہ انبار کے علاقے مییں ایک مسجد میں خودکش حملے کی کوریج کے لیے جانا چا رہے تھے۔ اس دھماکے میں چھتیس افراد نے جان کھوئی تھی۔

سترہ ستمبر: حکام نے غلنئی کے قبائلی صحافیوں کو انبار میں مسجد میں ہوئے خودکش حملے کی جا کر کوریج کرنے سے یہ کہتے ہوئے روک دیا کہ انہیں ”سکیورٹی خدشات” ہیں۔

انیس ستمبر: خیبر پختونخوا اسمبلی ویسل بلور پروٹیکشن اینڈ ویجلنس بل کی منظوری دیے دیتی ہہے۔

انیس ستمبر: حکمراں مسلم لیگ نون کے ایک کارکن نے صحافی نواز طاہر پر لاہور پریس کلب میں حملہ کیا۔ کلب انتظامیہ نے حملہ آور کو گرفتار کروانے کے لیے پولیس طلب کر لی۔

چوبیس ستمبر: گاڑی میں سوار دو مسلح افراد نے آج ٹی وی کے اینکر رانا مبشر کی گاڑی جو اس وقت ان کا بیٹا چلا رہا تھا زبردستی روکا۔ رانا گاڑی میں اس وقت موجود نہیں تھے۔ رانا کے مطابق وہ یہ بعد میں کہتے ہوئے چلے گئے کہ ”پھر کبھی سہی”۔ کوہسار پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔

انتیس ستمبر: پولیس کے مطابق جنگ گروپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد عبداللہ کو پشاور میں پرنٹنگ پریس کے دورے سے واپسی پر نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا۔

تیس ستمبر: پولیس کے مطابق جنگ گروپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد عبداللہ خیریت سے اسلام آباد میں اپنے دفتر پہنچ گئے۔ انہیں گزشتہ روز پشاور میں پرنٹنگ پریس کے دورے سے واپسی پر نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا تھا۔

ISLAMABAD – Two unidentified gunmen Thursday forcefully intercepted a car belonging to prominent Aaj TV anchor Rana Mubashir which was being driven by his son. They did no physical harm.

Mubashir was not in the vehicle at the time of the incident that occurred near D-Square on Jinnah Avenue. He told JournalismPakistan.com the gunmen had come looking for him. “They were in a silver-colored Honda Civic bearing registration No. SC 16 and hit the side mirror of my car before intercepting it,” Mubashir said. “One of them was carrying a Kalashnikov while the other had a small weapon.”

He said “they were probably disappointed not to find me in the car and left saying some other time perhaps.” Mubashir said he had no enmity with anyone.

Kohsar Police Station are investigating the incident.


زرایع ابلاغ پر ايک نظر – جولائی 2016

4 جولائی: سپریم کورٹ نے پیمرا کو ہدایت کی کے تمام نجی چینلجز کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔

http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/07/160704_supreme_court_pemra_inam_ghar_ban_sh

5 جولائی: آج کے دن پریس کی آزادی کو جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاء کی بدولت شدید جھٹکا لگا۔

15 جولائی: قبائلی صحافی خان زمان کو ضلع ہنگو سے پولیس اور سادہ لباس پہنے ہوئے لوگ اغوا کر کے لے گئے۔

17 جولائی: قبائلی صحافی خان زمان ہنگو سے اغوا ہونے کے بعد گھر واپس پہنچ گئے اور یہ اعتراف کیا کہ اغوا کاروں نے اس پر تشدد کیا اور ان سے پوچھا کہ ” وہ کیوں تنقیدی رپورٹیں فائل کر رہے ہیں۔”

18 جولائی: ایک مذہبی گروہ نے جو سزا یافتہ قاتل ممتاز قادری کی حمایت کرتا ہے لاہور پریس کلب کے باہر احتجاج کیا اور میڈیا کو ”یہودی میڈیا” قرار دینے کے ساتھ ساتھ میڈیا پر یہ الزام لگایا کہ وہ انہیں کوریج فراہم نہیں کرتا۔

19 جولائی: خواتین صحافیوں کو دھمکیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں صحافیوں کے خلاف آن لائن بےعزتی کا سلسلہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

. http://www.bbc.com/news/world-asia-36824514

21 جولائی: سپریم کورٹ نے پیمرا کو ہدایت کی کہ عدلیہ کے خلاف مہم چلانے والے چینلز کے خلاف ایکشن لیا جائے۔

http://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=22_07_2016_005_004

25 جولائی: اسلام آباد میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے دفتر کے باہر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے صحافیوں پر تشدد کیا۔ پارٹی رہنما عمران خان نے واقعے پر معافی مانگی۔

27 جولائی: فیس بک پر نفرت انگیز مواد ڈالنے پر ٹوبا ٹیک سنگھ میں پولیس نے دو افراد کے خلاف کیس درج کر لیا۔

http://www.dawn.com/news/1274364/terror-case-against-two-for-hate-posts-on-facebook

28 جولائی: شوکت ننوری کے والد کو قتل کر دیا گیا۔ شوکت ننوری کا، جو خیر پور میں سندھ نیوز کے لیے کام کرتے ہیں، ماننا ہے کہ ان کے والد کا قتل ان کی رپورٹنگ کی وجہ سے ہوا۔

http://www.fnpk.org/journalists-father-murdered-in-sindh-province

29 جولائی: مختلف گروپ، جو انٹرنیٹ آزادی کے حامی ہیں، کی طرف سے احتجاج کے باوجود سینیٹ نے ”الیکٹرانک جرائم کی روک تھام2015 “  کا بل منظور کر لیا۔ ان گروپوں کا ماننا ہے کہ یہ بل ملک میں آن لائن آزادی کے لیے ایک دھچکا ہے۔

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn