زرایع ابلاغ پر ايک نظر

میڈیا جائزہ اگست 2018

1 اگست: لاہور میں ایکسپریس نیوز کے اینکر عمران خان کی رہائش کے باہر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی۔ https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1105561454&Issue=NP_SUK&Date=20180801

2 اگست: جنوبی ایشیا کی آزاد میڈیا ایسوسی ایشن کے دفتر کو لاہور ڈیویلپمینٹ اتھارٹی نے سیل کر دیا – یہ ایک ایسا غیر منافع بخش ادارہ ہے جو جنوبی ایشیا میں علاقائی امن کا فروغ چاہتا ہے۔

https://www.dawn.com/news/1424397

4 اگست: عوام سے بدتمیزی کرتے ہوئے دکھائے جانے پر جیو نیوز کے سینئر کرائم رپورٹر احمد فراز کے آلات کو ٹریفک پولیس کے وارڈن نے چھین لیا اور بعد میں ان کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا۔

8 اگست: لاہور ڈیویلپمینٹ اتھارٹی کی طرف سے سیل کر دیئے جانے والے سیفما کے دفتر کو لاہور ہائی کورٹ کے احکامات پر دوبارہ کھول دیاگیا۔

https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=08_08_2018_002_006

9 اگست: ایک غریب مزدور کے بارے میں رپورٹ شائع کرنے پر کمب پریس کلب کے صدر اور ایکسپریس نیوز کے رپورٹر ہریش کمار کو بااثر لوگوں کی طرف سے دھمکیاں موصول ہونی شروع ہوگئیں۔

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1105586602&Issue=NP_SUK&Date=20180809

13 اگست: سابق وزیر اعظم کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کی کوریج کرنے کے لیے پہنچے ہوئے ہم نیوز کے رپورٹر فرید صابری کے پاس تصدیق ہونے کے باوجود پولیس اہلکاروں نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔

14 اگست: سچائی کی کھوج میں ایک جرم کے واقعے کی تحقیقات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے سلسلے میں ایک جونیئر پولیس اہلکار کو خیرپور، سندھ میں ایک میڈیا ٹیم پر ہاتھ اٹھانے کے سلسلے میں سزا دی گئی۔

https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=14_08_2018_119_002

15 اگست: مسلم لیگ (ن) کے قائد شہباز شریف سے اسلام آباد میں ایک سوال پوچھنے پر آن لائن نیوز ایجنسی کے رپورٹر عبدالوحید ڈوگر کو پارٹی کے کارکنان نے دھمکیاں دیں اور ان کو ہراساں کیا۔

21 اگست: پاکستان تحریک انصاف کے وفاقی وزیر اطلاعات چودھری فواد حسین نے اعلان کیا کہ پاکستان ٹیلی ویژن چینل پر سے تمام سیاسی سینسرشپ ہٹا دی جائے گی۔

https://www.dawn.com/news/1428399/

22 اگست: ایک عورت کو دھکا مارنے پر ویڈیو بنانے کی کوشش پر وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے مبینہ طور پر چینل 24 کے کیمرا مین کے موبائل فون کو نقصان پہنچا دیا۔

https://www.dawn.com/news/1428586/sheikh-rashid-accused-of-manhandling-elderly-woman-damaging-reporters-phone

23 اگست: دیوان صاحب کی تحصیل برے والا ڈسٹرکٹ وہاڑی میں حملہ آوروں کا نشانہ بننے والے جوان صحافی عابد حسین دو دن بعد اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ملتان کے نشتر ہسپتال میں دم توڑ گیا۔

27 اگست: راولپنڈی میں کام کے بعد واپس گھر جاتے ہوئے روزنامہ اوصاف کے کیمرا مین عادل گل سے نامعلوم افراد نے اس کا موبائل فون سمیت دیگر قیمتی آلات چھین لیے۔

28 اگست: سلیم صافی کے خلاف سوشل میڈیا پر چلائی گئی بدنامی کی مہم کے خلاف صحافیوں نے پشاور میں اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔

https://www.thenews.com.pk/print/360633-journalists-protest-smear-campaign-against-saleem-safi

29 اگست: اپنے پروگرام ”پاور پلے” میں عدلیہ سے متعلق گفتگو کروانے پر سپریم کورٹ نے اے آر وائے کے میزبان ارشد شریف کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔

https://www.dawn.com/news/1429692/sc-issues-show-cause-notice-to-arys-arshad-sharif-for-holding-media-trial

29 اگست: وفاقی وزیر معلومات فواد چوہدری نے اعلان کیا کہ پیمرا اور پریس کونسل آف پاکستان کے کردار کا جائزہ لینے کے بعد وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ دونوں تنظیموں کو اکٹھا کر کے ایک ہی تنظیم بنائی جائے گی جس کا نام پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ہوگا۔

https://www.dawn.com/news/1429696/all-media-regulatory-authorities-to-be-merged-into-one-top-body-information-minister

29 اگست: انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد میں اپنی رپورٹ ”پاکستان میں آزادی رائے میں رکاوٹیں” جاری کی۔ نامور صحافی آئی اے رحمان نے تقریب رونمائی کی صدارت کی۔ حقوق انسانی کے کارکنان سمیت دیگر میڈیا کی آزادی کے کارکنوں نے اس اجلاس میں شرکت کی۔

30 اگست: راولپنڈی میں گھر واپس جاتے ہوئے آج ٹی وی کے کیمرامین مزمل علی خان کو نامعلوم افراد نے لوٹ لیا۔

30 اگست: زیر سماعت مقدمے پر گفتگو کرنے پر پیمرا نے  پابندی لگا دی ہے۔ پیمرا نے تمام نیوز چینلز کو یہ ہدایت جاری کی ہے کہ وہ کسی بھی پروگرام میں قسم کی عدلیہ سے متعلق گفتگو کرنے سے گریز کریں۔

https://www.thenews.com.pk/print/361550-pemra-prohibits-discussion-on-cases-under-litigation

30 اگست: حقوق انسانی کمیشن آف پاکستان نے میڈیا کو مبینہ طور پر پیش آنے والی رکاوٹوں کا ذمہ دار حکومت اور خفیہ ایجنسیوں کو ٹھہرایا ہے۔

https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=30_08_2018_003_005

30 اگست: شیخ رشید احمد نے چینل 24 کے کیمرا مین عاقب جاوید سے معافی مانگ لی۔ عاقب علی نے ایک روز قبل شیخ رشید کی جانب سے ایک عورت کو دھکا دینے کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی تھی۔

https://e.jang.com.pk/08-30-2018/pindi/pic.asp?picname=548.png

 31 اگست: صادق آباد کے قبرستان میں لگائے جانے والے ناجائز گیٹ پر آواز اٹھانے کے نتیجے میں روزنامہ ایکسپریس کے سب ایڈیٹر فاروق شہزاد کو زمین مافیہ کی طرف سے دھمکی آمیز کالیں آنا شروع ہوگئیں۔

31 اگست: پاکستان کے اخبارات کے کونسل آف ایڈیٹرز نے حکومت پاکستان کو تنبیہ کی کہ وہ کوئی بھی نئے میڈیا کے قانون جاری نہ کرے کیونکہ اس طرح کے اقدامات کو کبھی بھی ملک میں حمایت نہیں مل سکتی۔

https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=31_08_2018_005_008

 31 اگست: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے مشترکہ طور پر فیصلہ کیا کہ میڈیا کو چلانے والے تمام اصولوں میں کسی بھی قسم کی تبدیلی لانے کے لیے پارلیمان سے مشاورت کی جائے گی۔

https://www.thenews.com.pk/print/362070-parliament-will-be-taken-on-board-in-changing-media-regulatory-mechanism

 

 

 جولائی 2018

1 جولائی: اسلام آباد کے کنوینشن سنٹر میں منعقد ہونے والے کارکنان کے کنونشن کے موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان نے نیو ٹی وی کے رپورٹر ذاکر عباسی پر حملہ کیا جس میں صحافی کو معمولی چوٹیں آئیں۔

3 جولائی:  تحریک انصاف پارٹی کے سربراہ عمران خان کی کراچی کے ہوائی اڈے  پر آمد کی رپورٹنگ کے دوران 92 نیوز کے رپورٹر چاند نواز کو پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان نے مارا۔

9 جولائی: راولپنڈی کی نیب کورٹ میں کیپٹن (ر) صفدر کی سماعت کی کوریج کے لیے میڈیا کی ٹیموں کو روکا گیا۔

9 جولائی:  قبل از انتخابات دھاندلی میں افسران کے مبینہ طور پر شامل ہونے کے الزام پر مبنی خبر شائع کرنے پر پولیس نے روزنامہ جہاں پاکستان کے اسٹاف رپورٹر محمد نجیب ملک کے خلاف تین ایف آئی آر درج کر دیں۔

13 جولائی: ڈان اخبار کی تقسیم میں رکاوٹیں پیدا کرنے اور میڈیا کی ناجائز سنسرشپ ککے خلاف صحافیوں نے سینٹ کی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا۔

https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=13_07_2018_003_006

13 جولائی: زائب دار مری کے قریبی ساتھیوں نے فریڈم نیٹ ورک کو تصدیق کی کہ کوہلو پریس کلب کے صدر اور اب تک چینل کے کوہلو (بلوچستان) میں نامہ نگار زائب دار مری کو اغوا کر لیا گیا ہے۔

17 جولائی: اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی کے خلاف درج کیس کی متوقع سماعت کو مدنظر رکھتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل نے میڈیا کو اس پر تبصرہ کرنے سے روک دیا۔ سپریم جوڈیشل کونسل وہ ادارہ ہے جو اعلی عدالتی ججوں کے خلاف شکایات سنتا ہے۔

https://epaper.tribune.com.pk/DisplayDetails.aspx?ENI_ID=11201807170025&EN_ID=11201807170010&EMID=11201807170006

21 جولائی: سوات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے جلسے کی کوریج کرتے ہوئے پارٹی کے کارکنان کے ایک گروہ نے دنیا ٹی وی کے کیمرا مین کامران پراچہ پر حملہ کر دیا۔

24 جولائی: پاکستان کی حقوق انسانی کے کمیشن نے رپورٹ کیا ہے کہ پچھلے چند ماہ سے کئی صحافیوں نے اپنے کام میں مداخلت کے بارے میں شکایات کی ہیں۔

https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=24_07_2018_016_005

25 جولائی: 13 جولائی کو اغوا ہونے والے کوہلو پریس کلب کے صدر اور اب تک نیوز کے صحافی زائب دار مری بحفاظت گھر واپس لوٹ آئے۔

 27 جولائی: پاکستان کی بیشتر میڈیا کی تنظیمیں اور صحافی ”آزادی رائے پر لگنے والی سخت پابندیوں”  کی بدولت  غیر معمولی طور پر از خود سنسرشپ کرنے پر مجبور ہیں۔

https://www.dawn.com/news/1423262

27 جولائی: اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی صحافی مہرین زہرہ ملک کو دھمکیاں موصول ہوئیں اور الیکشن والے دن جب وہ اپنی رہائش پر موجود نہیں تھیں تو ان کی رہائش پر نامعلوم افراد نے حملہ بھی کیا۔

https://www.washingtonpost.com/news/global-opinions/wp/2018/08/02/whos-afraid-of-imran-khans-pakistan-almost-everyone/?sw_bypass=true&utm_term=.c3fe57cf13b5

 31 جولائی: سول کورٹ کے احکامات جاری ہونے کے باوجود لاہور ڈیولپمینٹ اتھارٹی نے جنوبی ایشیا کی فری میڈیا اسوسیشن کے دفتر کو سیل کر دیا۔ میڈیا کی تعلیم کو ترجیح دینے والی یہ لاہور میں موجود اپنی نوعیت کی واحد جنوبی ایشیا میڈیا لائبریری تھی۔

https://www.thenews.com.pk/print/348953-lda-seals-safma-office

جون 2018

3 جون: لاہور گیریزن یونیورسٹی میں ایک تقریب کی میڈیا کوریج کے لیے جیو اور جنگ نیوز کی ٹیموں کو اجازت نہیں دی گئی۔

https://www.thenews.com.pk/print/324990-jang-geo-stopped-from-coverage-of-garrison-varsity-ceremony

5 جون: 12 اکتوبر 2017 کو صوابی سے تعلق رکھنے والے صحافی ہارون خان کے قتل میں ملوث دو افراد کو پشاور ہائی کورٹ نے ضمانت پر رہائی کا حکم سنایا۔

https://www.thenews.com.pk/print/325937-two-accused-in-journalist-murder-case-get-bail

6 جون: وقت اسٹوڈیو جاتے ہوئے صحافی اور اہلکار گل بخاری کو نامعلوم افراد نے لاہور میں اغوا کر لیا۔ تاہم وہ چند گھنٹوں بعد واپس لوٹ آئیں۔

https://www.dawn.com/news/1412220/journalist-gul-bukhari-home-after-hours-long-abduction-in-lahore

7 جون: صحافی اسد کھرل پر تشدد کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان نے پولیس کو ہدایت کی کہ وہ 24 گھنٹوں میں واقعے کی رپورٹ پیش کریں۔

https://tribune.com.pk/story/1729380/1-cjp-takes-notice-assault-journalist/

7 جون: لاہور ہائی کورٹ نے ساتھی طلبہ کی طرف سے لاہور میں تشدد کا نشانہ بننے والی لڑکی خدیجہ صدیقی سے میڈیا کو معافی مانگنے کا حکم جاری کیا۔

https://www.dawn.com/news/1412631/lahore-high-court-orders-media-to-apologise-for-airing-khadijas-claims-about-judges-bias

8 جون: نگران حکومت نے پیمرا کے قوانین میں ترمیم لاتے ہوئے وفاقی حکومت سے براہ راست احکامات جاری کر کے ٹی وی چینلز کی نشریات بند کرنے کا اختیار چھین لیا۔

https://www.thenews.com.pk/print/327214-caretaker-govt-makes-pemra-powerful-through-amendment

8 جون: ریاست کے خلاف بات کرنے پر آسانی سےٹارگٹ کیے جانے والوں کی تعداد میں اضافے کو مد نظر رکھتے ہوئے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔

https://www.dawn.com/news/1412741/hrcp-takes-exception-to-targeting-of-journalists

8 جون: صحافیوں کا یرغمال بنایے جانا – ان جرائم کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ تمام میڈیا گروپ یک جہتہ ہو کر اکٹھے کھڑے ہوں۔

https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=08_06_2018_008_002

8 جون: صحافی کو ریاست کے خلاف سوشل میڈیا پر بیان دینے کا الزام لگانے پر آئی ایس پی آر کے اس بیان کی صحافیوں کے تحفظ کے لیے بنائی گئی کمیٹی نے مذمت کی۔

https://www.thenews.com.pk/print/327284-cpj-slates-comments-against-journalists

20 جون: ڈان اخبار کی پاکستان کے مختلف شہروں اور قصبوں میں ہر روز تقسیم میں پیش آنے والی روکاوٹیں منظرعام پر آنے لگیں۔

https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=20_06_2018_003_004

20 جون: پاکستان میں پریس کی آزادی کو پیش آنے والی مشکلات پر بین لالقوامی پریس انسٹیٹیوٹ نے جو عالمی نیٹ ورک پر مبنی ایڈیٹر، میڈیا ایگزیکٹو اور صحافیوں پر مشتمل ہے تفتیش کا اظہار کیا ہے۔

https://www.thenews.com.pk/print/331496-ipi-condemns-intimidation-of-media-in-pakistan

21 جون: جسمانی تشدد، اغواکاری، صحافیوں پر حملے اور نیوز چینلز کی بندش کے ذریعے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی آزادی کو روکنے کی کوششوں کو مد نظر رکھتے ہوئے صحافیوں، سیاست دانوں اور کارکنان نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

https://www.dawn.com/news/1415079/disruption-in-distribution-of-dawn-termed-violation-of-article-19

21 جون: پچھلے کچھ ماہ سے پاکستان کے چھاونی کے علاقوں میں ڈان اخبار کی تقسیم میں بندش کی صورت میں اخبار کی انتظامیہ نے وزیر اعظم، فوج کے سربراہ اور چیف جسٹس سے نوٹس لینے کی درخواست کی ہے۔

https://www.thenews.com.pk/print/331918-disruption-to-dawn-s-distribution

22 جون: پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار محمد علی سہیتو کی طرف سے سیئنر صحافی ظفر ہکرو کو دھمکیاں ملنے پر صحافیوں نے احتجاج کیا۔

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1105432298&Issue=NP_SUK&Date=20180622

22 جون: سابق وزیر برائے معلومات اور نشریات مریم اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ میڈیا کی سنسر شپ آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی ہے جس میں آزادی رائے ایک بنیادی حق ہے۔

https://www.thenews.com.pk/print/332152-marriyum-condemns-media-censorship

22 جون: اسلام آباد کی رہائش گاہ سے صحافی اور اہلکار ماروی سرمد کے لیپ ٹیپ اور دیگر قیمتی اشیاء چوری ہوگئیں۔

https://www.dawn.com/news/1415427

23 جون: ڈان ڈاٹ کام کے بنائےگئے نقلی فیس بک پیج نے قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔

https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=23_06_2018_005_001

27 جون: سندھ کے ضلع خیرپور کے راضی دارو سے تعلق رکھنے والے علاقائی صحافی محمد علی شیخ پر حملے کے نتیجے میں صحافیوں نے احتجاج کیا۔

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1105450404&Issue=NP_SUK&Date=20180627

مئی 2018

3 مئی: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی پارٹی کے منشور میں صحافیوں کے خلاف کیے جانے والے جرائم پر سزا سے استثنی کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔

https://tribune.com.pk/story/1700991/1-media-persons-must-able-perform-duties-without-fear/

4 مئی: اسلام آباد پولیس نے بین اقوامی آزادی صحافت کے دن کے موقع پر اس کو منانے والے صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

https://e.jang.com.pk/05-04-2018/pindi/pic.asp?picname=540.png

4 مئی: پچھلے ماہ لاہور ہائی کورٹ کے غلط فیصلے کو براہ راست نشر کرنے کے نتیجے میں پیمرا نے 16 نیوز چینلز پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔

https://www.dawn.com/news/1405594/pemra-fines-17-channels-for-airing-incorrect-news-regarding-lhc-decision-on-anti-judiciary-speeches

6 مئی: کوئٹہ کے آن لائن اخبار ”حال احوال” کو پی ٹی اے نے بلاک کر دیا۔

http://www.journalismpakistan.com/online-newspaper-haalhawal-blocked

8 مئی: کراچی پریس کلب کے سامنے ڈھرکی کے ضلع گھوٹکی سے تعلق رکھنے والے صحافی رضوان بھٹو کے اہل خانہ نے احتجاج ریکارڈ کیا اور چیف منسٹر سے درخواست کی کہ رضوان کو جلد از جلد تلاش کیا جائے۔

https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=08_05_2018_005_004

8 مئی: کوٹ دجی کے صحافی علی مداد تمرانی پر نامعلوم افراد نے حملہ کر کے شدید زخمی کر دیا۔

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1105289922&Issue=NP_SUK&Date=20180508

9 مئی: رمضان میں نشر ہونے والے ”تماشا پروگرام” پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیمرا کو ہدایت کی کہ وہ ان کی نشریات پر پابندی لگائے۔

https://www.dawn.com/news/1406588/ihc-orders-halting-transmission-of-circus-shows-during-ramazan

10 مئی: اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیمرا کو ہدایت کی کہ تمام گیم شوز، فلموں اور اشتہارات پر پابندی لگائی جائے۔

https://epaper.tribune.com.pk/DisplayDetails.aspx?ENI_ID=11201805100247&EN_ID=11201805100085&EMID=11201805100042

11 مئئ: صحافی ذیشان اشرف بٹ کے مبینہ طور پر سمبریال کے ضلع سیالکوٹ میں قتل کے سلسلے میں ملوث پاکستان مسلم لیگ (ن) کے چئیرمین عمران چیمہ کو انٹرپول نے ریڈ نوٹس جاری کر دیا۔

https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=11_05_2018_005_001

14 مئی: اپنا اعتبار مزید بہتر کرنے کے لیے وزیر معلومات و نشریات مریم اورنگزیب نے تمام میڈیا گروپوں کو اپنے آپ کو خود جانچنے اور خود ساختہ احتساب کرنے پر زور دیا۔

https://www.thenews.com.pk/print/316658-marriyum-urges-media-outlets-for-self-accountability

15 مئی: مردان پریس کلب کے جنرل سیکرٹیری اور صحافی محمد ریاض میار نے دعوی کیا کہ انہیں مردان – ملا کنڈ روڈ پر مبینہ طور پر دو ”آئی ایس آئی کے حکام ” نے ہراساں کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔

https://www.thenews.com.pk/print/317046-mardan-journalist-complains-of-harassment

15 مئی:  رمضان میں کچھ ہدایات کے پیش نظر نشریات کی دی گئی ہدایات کے مدنظر اے آر وائے نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کر دیا۔

https://epaper.tribune.com.pk/DisplayDetails.aspx?ENI_ID=11201805150031&EN_ID=11201805150013&EMID=11201805150006

15 مئی:  ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے شیخ زاید ہسپتال کے عملے نے وائس آف امریکہ کے صحافی مرتضی زیب زہری کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

https://epaper.tribune.com.pk/DisplayDetails.aspx?ENI_ID=11201805150135&EN_ID=11201805150052&EMID=11201805150021

 15 مئی: وائس آف امریکہ کے صحافی مرتضی زیب زہری  کے تشدد والے واقعے کو مد نظر رکھتے ہوئے صحافیوں نے بلوچستان اسمبلی کے بجٹ سیشن کو بائیکاٹ کر دیا۔

https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=15_05_2018_005_009

16 مئئ: پی بی اے کی درخواست کے نتیجے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے رمضان میں گیم شوز کی نشریات پر نوٹس جاری کر دیا۔

https://www.thenews.com.pk/print/317470-ihc-issues-notices-on-pba-plea-against-order-on-airing-game-shows

17 مئی: فرنٹیئر کور نے قبائلی صحافی علی شنواری اور ان کے بھائی کو حراست میں لے لیا لیکن چند گھنٹوں بعد رہا کر دیا۔

https://www.thenews.com.pk/print/317854-journalist-arrested-freed

17 مئی: اپنے آئینی فرائض پر پورا اترنے کا احساس دلاتے ہوئے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے حکومت سے درخواست کی کہ ملک میں صحافیوں کے لیے حالات بہتر کیے جائیں۔

https://www.thenews.com.pk/print/317734-pfuj-seeks-probe-into-violence-on-journalist-in-balochistan

18 مئی: پرائیویٹ نیوز چینلز پر رمضان میں گیم شوز نشر کرنے کی اپیل کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے محفوظ کر لیا۔

https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=18_05_2018_005_006

19 مئی: پاکستان کے انسانی حقوق کی کمیشن نے پریس کونسل آف پاکستان کی طرف سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ڈان اخبار میں شائع ہونے والے انٹرویو پر نوٹس جاری ہونے کو مدنظر رکھتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا جس کی وجہ سے اظہار رائے کی آزادی میں کمی دیکھی گئی ہے۔

https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=19_05_2018_003_005

20 مئی: میڈیا میں سنسرشپ کو ختم نا کرنے پر وزیر معلومات و نشریات مریم اورنگزیب کو کافی افسوس ہے۔

https://www.thenews.com.pk/print/319156-minister-regrets-not-doing-away-with-media-censorship-completely

 20 مئئ: 45 چینلز کو پیمرا نے آخری تنبیہ کی کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے دن میں پانچ مرتبہ اذان نشر کریں۔

https://www.thenews.com.pk/print/319170-pemra-issues-final-warning-to-45-channels

21 مئی: رمضان میں پروگراموں کے حکم کی خلاف ورزی کرنے کی صورت میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے آٹھ چینلز کو نوٹس جاری کر دیئے۔

https://www.dawn.com/news/1409219/ihc-issues-notices-to-tv-channels-over-ramazan-programmes

 23 مئی: عدلیہ کے خلاف خلط بیانی کرنے پر لاہور ہائی کورٹ نے پیمرا کو نوٹس جاری کر دیا۔

https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=23_05_2018_002_007

 25 مئی: رمضان میں گیم شوز براہ راست نشر نہ کرنے والے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے معطل قرار دے دیا۔

https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=26_05_2018_005_001

27 مئی: مذہبی امور پر ڈرامہ رچانے کی وجہ سے پیمرا نے ڈاکٹر عامر لیاقت پر ایک ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی۔

 https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=27_05_2018_003_005

28 مئی: جماعت اسلامی (ف) کے خیبر پختونخوا کی اسمبلی کے باہر دھرنے کی کوریج کے دوران کافی صحافی زخمی ہوئے اور چند ڈی ایس این جی کو بھی نقصان پہنچا۔

https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=28_05_2018_007_005

31 مئی: وزیر ا عظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ان کی حکومت نے میڈیا کی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی کے لیے بھر پور کوشش کی۔

https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=31_05_2018_003_002

31 مئی: 25 مئی سے پیمرا کی احکامات کے بدولت پروگرام معطل ہونے کے باعث اسلام آباد ہائی کورٹ نے عامر لیاقت کو ٹی وی پر آنے کی اجازت دے دی۔

https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=31_05_2018_005_003

اپریل 2018

4 اپریل: 27 مارچ 2018 کو مارے جانے والے سیالکوٹ کے صحافی ذیشان بٹ کے قتل کیس میں بیگو والا پولیس نے انسداد دہشتگردی کا مقدمہ درج کر دیا۔

   https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=04_04_2018_178_005

4 اپریل: سیالکوٹ کے ضلع سمبریال میں صحافی ذیشان بٹ کے قتل ہونے پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے مناسب نوٹس لیا اور ضلع پولیس کو 24 گھنٹوں میں رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا۔

https://nation.com.pk/05-Apr-2018/reporter-s-killing-demos-draw-cj-s-attention?show=previewutm_medium?version=amp

4 اپریل: جیو نیوز کی نشریات بحال نہ کرنے پر پیمرا نے کیبل آپریٹرز کو خبردار کیا کہ ان کے لائیسنس منسوخ کر دے جائیں گے۔

https://www.thenews.com.pk/print/300269-cable-operators-defy-24-hour-notice-pemra-seeks-provinces-police-help-to-restore-all-geo-channels

4 اپریل: اسلام آباد میں نا معلوم افراد نے جیو نیوز کے سیئنر صحافی سلیم صافی کی رہائش گاہ پر حملہ کر دیا۔ نجی سیکورٹی نے حملے کو ناکام بنا دیا لیکن خود زخمی ہو گئے۔

https://www.thenews.com.pk/latest/300529-saleem-safis-guard-attacked-in-islamabad

6 اپریل: غیر قانونی قبضے اور جعلی زمین کے ریکارڈ پر مبنی رپورٹ شائع کرنے پر ٹیکسلا کے مقامی صحافی عاصم محمود پر جرمانہ عائد کیا گیا اور جیل کی سزا سنائی گئی۔

https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=06_04_2018_153_003

9 اپریل: سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ 30 اپریل تک تمام میڈیا کی تنظیمیں اپنے کارکنان کو ان کی تنخواہیں ادا کریں۔

https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=07_04_2018_005_005

9 اپریل: آٹھویں تنخواہ بورڈ اور تنخواہ کی قانون سازی کے تحت میڈیا کارکنان نے احتجاج شروع کر دیا۔

https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=09_04_2018_005_002

11 اپریل: پنجاب کے ضلع بہاولنگر میں صحافیوں نے ایک پولیس اہلکار کے خلاف احتجاج شروع کر دیا جس نے مبینہ طور پر کیمرامین ظفر عباس کا کیمرا چھین کر توڑ ڈالا۔

https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=11_04_2018_178_007

15 اپریل: سپریم کورٹ نے پنجاب پولیس کو حکم جاری کیا کہ زیشان بٹ کے قاتلوں کو جلد از جلد حراست میں لیا جائے اور دس دنوں میں رپورٹ پیش کی جائے۔

https://www.thenews.com.pk/print/304550-sc-orders-trial-court-to-hear-model-town-case-daily

16 اپریل: پاکستان کی انسانی حقوق کمیشن کے رپورٹ کارڈ نے یہ بات واضع کر دی کہ پاکستان نے پچھلے کچھ سالوں سے پاکستان نے انسانی حقوق کی پائداری نہیں کی۔ فوج کو تنقید کا نشانہ بنانا اور بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات پر بات کرنے  پر لوگ لا پتہ ہو جاتے ہیں۔

https://www.dawn.com/news/1401964

17 اپریل: 16 اپریل کو لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے جاری کر دئیے جانے والے حکم کے تحت پیمرا عدلیہ کے خلاف تقاریر کسی بھی نیوز چینل پر نشر نہیں کر سکتا۔

  https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=17_04_2018_001_004

19 اپریل: ملک میں میڈیا پر لگائی جانے والی پابندیوں کے خلاف میڈیا نمائندگان، میڈیا کی آزادی کے لیے کام کرنے  والی ملک میں اور ملک سے باہر تنظیموں نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے۔

https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=19_04_2018_002_002

 26 اپریل: عدلیہ کے خلاف بات کرنے اور بد عنوان زبان استعمال کرنے پر پیمرا نے تین نیوز چینلوں کو شو کاز نوٹس جاری کر دئیے۔

https://www.thenews.com.pk/print/309130-pemra-issues-notices-advice-to-three-news-channels

26 اپریل: فیس بک کی ٹیم کی پاکستان آمد متوقع ہے جہاں وہ ملک میں قائم بلاک شدہ مواد پر تبادلہ خیال کرے گی۔

https://www.thenews.com.pk/print/309357-fb-assisting-pakistan-in-blocking-content

مارچ 2018

 

مارچ 2: قومی پکار اخبار کے سب ایڈیٹر انجم منیر راجہ کو نامعلوم افراد نے راولپنڈی کے محفؤط سکیورٹی علاقے میں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

https://www.dawn.com/news/1392728/journalist-employed-by-local-daily-shot-dead-in-rawalpindis-high-security-zone

مارچ 04: میرپور خاص میں دو گروہوں کے درمیان جھڑپ کے بعد ایل ہجوم نے وہاں کے پریس کلب پر دھاوا بول دیا اور لوٹ مار کے علاوہ فرنیچر توڑ دیا۔

https://www.dawn.com/news/1393087

مارچ 07: ڈیلی میٹرو کے فوٹو صحافی پرویز اقبال پر راولپنڈی میں نامعلوم افراد حملہ کرتے ہیں اور انہیں زخمی کر دیا جاتا ہے۔

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1105088818&Issue=NP_ISB&Date=20180307

مارچ 08: اپنے لاپتہ ہونے کے ٹھیک چودہ ماہ بعد سوشل ایکٹوسٹ ثمر عباس نے خاندان سے رابطہ کیا ہےآ وہ 2017 میں لاپتہ ہوئے جب حکام نے چار دیگر بلاگرز اور حقوق انسانی کے کارکنوں کو گرفتار کیا۔

https://tribune.com.pk/story/1654420/1-missing-activist-samar-abbas-returns-home/

مارچ 08: وفاقی محتسب برائے تحفظ خواتین کے عملے نے وقت نیوز کے عملے بشمول سینئر صحافی متی اللہ جان کو اسلام آباد میں حراست میں لیا گیا اور غیراخلاقی رویہ اپنایا گیا۔

https://www.dawn.com/news/1393958/nawa-i-waqt-group-ceo-accuses-kashmala-tariq-of-detaining-attacking-tv-crew

مارچ 09: پاکستان تحریک انصاف کے میڈیا ڈپارٹمنٹ کے سربراہ افتخار دورانی نے پریس کونسل آف پاکستان اور پمرا میں روزنامہ جنگ اور جیو نیوز کے خلاف شکایت درج کروائی ہے۔

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1105096567&Issue=NP_ISB&Date=20180309

مارچ 12: خیرپور کے مقامی صحافی جان محمد مغل نے اپنے خاندان کے ساتھ سکھر پریس کلب کے سامنے بااثر سیاسی شخصیت کے خلاف احتجاج کیا۔  https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1105103492&Issue=NP_SUK&Date=20180312

مارچ 16: پولیس راولپنڈی کے صحافی انجم منیر راجہ کے قتل میں ملوث ملزم کی گرفتاری کا دعوی کرتی ہے۔  

https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=16_03_2018_004_004

مارچ 20: سپریم کورٹ اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود پر تین ماہ کے لیے ساک شو نہ کرنے کی پابندی عائد کرتی ہے۔ یہ فیصلہ تحقیقات میں ان کی رپورٹ کے غلط ثابت ہونے کے بعد کیا جاتا ہے۔  

https://www.dawn.com/news/1396458/will-not-forgive-without-punishment-sc-bans-shahid-masood-from-hosting-tv-show-for-3-months

مارچ 20: اسلام آباد ہائی کورٹ کا ڈویژن بنج اپنی ہی سنگل بنچ کے اس فیصلے کو معطل کر دیا جس میں اس نے اسلام آباد میں موبائل سورس کی بندش غیرقانونی قرار دی تھی۔ اس پابندی کے خلاف پی ٹی اے نے اپیل کی تھی۔  https://epaper.tribune.com.pk/DisplayDetails.aspx?ENI_ID=11201803210093&EN_ID=11201803210027&EMID=11201803210019

مارچ 20: فریڈم نیٹ ورک اورکزئی قبائلی ایجنسی میں صحافیوں پر پابندی کے خلاف الرٹ جاری کرتی ہے۔

https://tribune.com.pk/story/1664951/1-ban-media-reporting-orakzai-agency-continues/?amp=1&__twitter_impression=true

مارچ 26: قبائلی صحافی شاہ زمان محسود کو سادہ کپڑوں میں نامعلوم افراد ان کی ٹانک، خیبر پختونخوا میں رہائش گاہ سے اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ ان کی جبری گمشدگی کی وجہ ابھی واضح نہیں ہے۔

https://www.dawn.com/news/1397866/local-journalist-abducted-from-tank-family-claims

مارچ 27: ایک سابق شدت پسند کے والد ٹانک میں جرگے کے دوران جنوبی وزیرستان کے چار صحافیوں کو قتل کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔ 

https://www.thenews.com.pk/print/297322-father-of-former-militant-commander-threatens-to-kill-journalists

مارچ 28: نوائے وقت کے نامہ نگار ذیشان اشرف بٹ مقامی حکومت کے اہلکار سے سمبریال، سیالکوٹ، پنجاب میں دوکانداروں پر ٹیکس کی معلومات اکٹھی کرتے ہوئے قتل کر دیئے گئے۔

https://www.dawn.com/news/1397944

فروری 2018

 

 

4 فروری: پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سوال پوچھنے پر صحافیوں کو دھمکی دیتے ہیں۔

https://www.dawn.com/news/1387163/imrans-threatening-one-liner-startles-journalists

5 فروری: صحافی غلام اکبر ایک رپورٹ کے بعد خیبر پختونخوا کے لکی مروت ضلع میں جن لیوا حملے میں محفوظ رہتے ہیں۔

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1104991050&Issue=NP_PEW&Date=20180205

7 فروری: الیکٹرانک میڈیا کی نگرانی کے ادارہ پمرا کی جانب سے ویلینٹائن ڈے کی رپورٹنگ پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔ یہ فیصلہ ہائی کورٹ کے جج کے حکم کے بعد سامنے آیا۔

https://www.dawn.com/news/1387920/dont-promote-valentines-day-pemra-reminds-broadcasters

8 فروری: اعلی عدالت میں میڈیا سے متعلق مقدمات کی بھرمار

https://epaper.tribune.com.pk/DisplayDetails.aspx?ENI_ID=11201802080375&EN_ID=11201802080165&EMID=11201802080059

13 فروری: وقت ونیوز ٹی وی کے سی ای او کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی دھمکی:

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1105016866&Issue=NP_KHI&Date=20180213

15 فروری: بدین میں سادہ کپڑوں میں ملبوث افراد سندھی روزنامے کے سینر صحافی کو زبردستی سکتھ لے جاتے ہیں۔

https://www.dawn.com/news/1389596

20 فروری: اسلام آباد ہائی کورٹ میڈیا کو غیرمصدقہ مواد نشر کرنے کی منع کرتے ہے۔

https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=20_02_2018_005_001

21 فروری: اسلام آباد ہائی کورٹ ایک ٹی وی اینکر، تجزیہ نگار کو ”فیصلے کے مذاق” اڑانے پر نوٹس جاری کرتی ہے۔

https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=21_02_2018_005_001

https://www.thenews.com.pk/print/283876-ihc-summons-private-tv-ceo-anchor

21 فروری: میڈیا کو حکومتی انتظام میں حقوق انسانی کے ایک اجلاس کی کوریج سے منع کر دیا گیا۔

https://epaper.tribune.com.pk/DisplayDetails.aspx?ENI_ID=11201802210271&EN_ID=11201802210100&EMID=11201802210043

22 فروری: اسلام آباد ہائی کورٹ ایک ٹی وی چینل کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ ”ختم” کر دیتی ہے۔

https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=22_02_2018_005_003

26 فروری: سندھ کے علاقے شاہ جہانیاں میں چینی کت ملوں کی انتظامیہ کی جانب سے صحافیوں کے تشدد کے خلاف احتجاج:

https://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1105058038&Issue=NP_SUK&Date=20180226

27 فروری: اسلام آباد ہائی کورٹ وفاقی دارالحکومت میں موبائل فون کی حکومتی بندش کو ”غرقانونی” قرار دے دیا۔

https://epaper.tribune.com.pk/DisplayDetails.aspx?ENI_ID=11201802270294&EN_ID=11201802270110&EMID=11201802270048

27 فروری: خیبر پختونخوا حکومت رائٹ ٹو انفارمیشن قانون کو نرم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=27_02_2018_181_008

2018جنوری 

چار جنوری: وفاقی وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے سینٹ کی اطلاعات و نشریات سے متعلق کو بتایا کہ ان کی حکومت نے صحافیوں کے تحفظ اور فلاح کے پچھلے دو بل مسترد کر دییے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ نیا بل سکیورٹی سے متعلق ہوگا۔

چھ جنوری: 92 نیوز چینل کے رپورٹر شاہا خالد ہمدانی اسلام آباد کی زیرہ پوائنٹ پل سے موسم کی خبر بناتے ہوئے پولیس نے ایسا کرنے سے منع کر دیا۔ پولیس اہلکار نے ان کا مائیک چھین لیا لیکن بعد میں واپس کر دیا۔ یہ مسئلہ اسلام آباد کی پولیس کے اعلی اہلکار کے ساتھ اٹھایا گیا جنہوں نے اس پولیس اہلکار کو جنہوں نے کوریج سے روکا تھا معطل کر دیا۔

دس جنوری: صحافی طلحہ صدیقی اسلام آباد کے ہوائی اڈے جاتے ہوئے دس سے بارہ افراد نے گاڑی روک کر اغوا کرنے کی ناکام کوشش کی۔ اغوا کار ان کا لیپ ٹاپ، موبائل فون اور بیرونی ہارڈ ڈسک ساتھ لے گئے۔

سترہ جنوری: ڈیلی 92 نیوز کے سینئر فوٹو جرنلسٹ سہیل شہزاد سے نامعلوم افراد نے کیمرہ، موبائل فون اور باقی سامان چھین لیا۔ یہ واقع روالپنڈی کے شمس آباد کے علاقے میں پیش آیا جو وہ اپنے گھر میں داخل ہو رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ”صبح دو بجے جب میں نے اپنا بیگ موٹر سائیکل سے اٹھایا اور گھر کی گھنٹی بجانے لگا کہ تین چور موٹر سائیکل پر آ پہنچے۔ انہوں نے مجھ سے میرا بیگ جس میں کیمرہ سمیت تقریبا اڑھائی لاکھ روپے کا سامان اور موبائل فون تھا لے لیا۔” ایک وکیل کو ان کا خالی بیگ دوسرے روز سڑک کنارے سے مل گیا جنہوں نے فون کر کے انہیں واپس لوٹا دیا۔

اٹھارہ جنوری:  قبائلی صحافی علی شنواری کے جو دنیا نیوز کے لیے کام کرتے ہیں بھائی کو نامعلوم افراد نے خیبر ایجنسی کے لنڈی کوتل علاقے سے اغوا کر لیا گیا۔ https://www.thenews.com.pk/print/269920-journalist-s-brother-kidnapped

انیس جنوری: پاکستان نے ریڈیو مشال کے پاکستان میں دفاتر پر ملک مخالف سرگرمیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے بند کر دیئے۔

 https://www.dawn.com/news/1383957

انیس جنوری: غیرقانونی بلوچ شدت پسند گروپ بلوچ لیبریشن فرنٹ نے بلوچستان میں اکتوبر دو ہزار سترہ میں اعلان شدہ میڈیا بائیکاٹ کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ اس اعلان کی وجہ سے بلوچستان کے بلوچ علاقوں میں کئی پریس کلب بند ہوگئے جبکہ ان پر اور اخبارات کی تقسیم کے دفاتر پر چھوٹے حملے بھی کئے۔

انیس جنوری: ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سرحد پر عمر ایف ایم سٹیشن کو جو ”پاکستان مخالف پروپیگینڈا” تباہ کر دیا۔

 https://www.dawn.com/news/1383936/pak-security-forces-destroy-radio-tower-along-pak-afghan-border-to-stop-hostile-propaganda

بائیس جنوری: ایکسپریس ٹریبیون کے سابق رپورٹر فواد حسن کو ڈاکٹر حسن ظفر عارف سے متعلق ایک تیذیتی اجلاس میں شرکت کے بعد سادہ کپڑوں میں چند افراد نے حراست میں لیا۔

https://www.thenews.com.pk/amp/271738-journalist-detained-at-ku-for-an-hour?__twitter_impression=true

چوبیس جنوری: صحافی احمد نورانی اپنی چھ ماہ قبل ایک تحقیقاتی رپورٹ پر سپریم کورٹ میں ”مقافی” مانگنے سے انکار کردیا۔

 https://www.thenews.com.pk/print/272622-apologising-without-wrongdoing-to-set-negative-precedent-noorani

انتیس جنوری: سینٹ کی اطلاعات و نشریات کی قائمہ کمیٹی نے صحافیوں کے تحفظ کے بل کو حتمی شکل دے دی اور اسے وفاقی حکومت کو بھیج دیا۔

https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=30_01_2018_004_003

دسمبر 2017

چار دسمبر: متحدہ قومی مومنٹ کے رکن صوبائی اسمبلی انور رضا نے مبینہ طور پر کراچی میں ایک ”غیرقانونی” شادی ہال کث مسمار کرنے کی کوریج کرنے والی ٹی وی ٹیم پر حملہ کیا۔ دنیا نیوّ کے بیورو چیف نے اپنے رپورٹر کی شکایت پر مقدمہ درج کروایا ہے۔

نو دسمبر: صوبہ سندھ کے سکھر شہر میں ایک ”ٹن” پولیس اہلکار کی جو رقص میں مصروف تھا ویڈیو بنانے پر مختلف ٹی وی چینلز کے چار کیمرہ مینوں اور ایک اخبار کے فوٹوگرافر کو غصہ برداشت کرنا پڑا۔

سولہ دسمبر: اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو توہین مذہب پر مبنی مواد سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے سے متعلق اپنے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا ہے۔ https://www.dawn.com/news/1376877/govt-told-to-implement-anti-blasphemy-measures-online

سترہ دسمبر: ڈان نیوّ چینل کے کرائم رپورٹر حسن فرحان کو ”ٹیلیفون کال” کے ذریعے زبانی دھمکی پشاور کے کسی ”نامعلوم نمبر” سے موصول ہوئی۔ انہوں نے پولیس کو اس کی اطلاع دی جنہوں نے انہیں ”احتیاطی تدابیر” اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔

بائیس دسمبر: ملتان میں جیو نیوز کے کرائم رپورٹر عمران چوہدری کی رہائش گاہ پر نامعلوم افراد نے گولیاں برسائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی نا تو کوئی خاندانی اور نہ ہی ذاتی دشمنی ہے اور نہ ہی انہیں اس سے قبل کوئی دھمکیاں ملی تھیں۔

تئیس دسمبر: کوئٹہ پریس کلب، فریڈم نیٹ ورک، بلوچستان یونین آف جرنلسٹس نے بیس سے زائد پریس کلبوں کی انتظامیہ کے ساتھ ایک ملاقات کی جس میں ان پریس کلبوں کی بلوچ مزاحمت کاروں کی دھمکیوں کے بعد بندش پر بات کی۔ ملاقات میں پریس کلب دوبارہ کھولنے پر اتفاق ہوا۔

تئیس دسمبر: ایکسپریس نیوز چینل کے سینئر رپورٹر نعیم اصغر کو کالعدم حزب التحریر کی جانب سے اسلام آباد میں دھمکی آمیز خط ملا۔ پولیس نے ان سے ایف آئی آر درج کرنے کے لیے کہا لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔

چوبیس دسمبر: کراچی میں ایکسپریس نیوز کے ارشد بیگ پر حملہ ہوا جب وہ ایک ملزم کے مقامی کچہری سے فرار ہونے کی فلمبندی کر رہے تھے۔

انتیس دسمبر: مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے جاگ نیوز کے رپورٹر پر اس وقت حملہ کیا جب وزیر اعظم کے مشیر برائے اقصادی امور مفتاح اسماعیل کراچی میں نیوز کانفرنس کر رہے تھے۔

اکتیس دسمبر: فیس بک کی جانب سے پاکستانی مواد پر 600 فیصد پابندیوں میں اضافہ۔

https://www.thenews.com.pk/print/262671-600pc-hike-in-facebook-content-restriction-for-pakistan

نومبر 2017

1 نومبر: حکومت کی طرف سے ممنوعہ گروپوں کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کے نتیجے میں بلوچستان لبریشن فرنٹ سے ملنے والی دھمکیوں کی وجہ سے دالبندین پریس کلب کو بند کروا دیا گیا۔

2 نومبر: دو بلوچ عسکریت پسند گروپوں سے ملنے والی دھمکیوں کی وجہ سے پنجگور پریس کلب کو ”سکیورٹی وجوہات”  کی بنیاد پر بند کروا دیا گیا۔ ان گروپوں کا مطالبہ ہے کہ انہیں میڈیا کوریج دی جائے – جسے صوبائی حکومت نے سختی سے منع کیا ہے۔

3 نومبر: سکیورٹی کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے لسبیلہ، اتل، خاران اور ساراوان کے پریس کلبوں کو سکیورٹی والوں کی میٹنگ کے بعد بند کروا دیا گیا۔

4 نومبر: دو بلوچ عسکریت پسند گروپوں سے کوریج نا ملنے کی دھمکیاں وصول ہونے پر قلات پریس کلب کی کابینہ کے منتخب صدر میر احمد خان نے قلات کے پریس کلب کو بند کرنے اور صحافت سے منسلک تمام کاموں کو ”سکیورٹی کی بنیاد” پر روک دینے کا حکم جاری کیا۔

4 نومبر: آئی ایس آئی کے افسر خالد خواجہ کی بیوہ کی طرف سے دی گئی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیئنر ٹی وی صحافی حامد میر کے خلاف اغواء کاری کا کیس درج کر دیا۔

https://www.dawn.com/news/1368521/journalist-hamid-mir-booked-in-kidnapping-case

 7 نومبر: دو بلوچ عسکریت پسند گروپوں سے موصول ہونے والی دھمکیوں کی وجہ سے خضدار پریس کلب کو بند کروا دیا گیا۔ عسکریت پسندوں کا ماننا ہے کہ ان پریس کلبوں کی وجہ سے ان گروپوں کی سرگرمیاں منظرعام پر نہیں لائی جاتی ہیں۔

7 نومبر: پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے ضلع بنوں میں صحافی ایوب خٹک کے خاندان والوں کی اپیل کو مسترد کر کے ملزم کو بری کر دیا۔

13 نومبر: حقوق انسانی کے محافظ اور صحافیوں کے حقوق کی تحفظ کے لیے یو این نے اپنی تیسری کمیٹی کے اجلاس میں دو نئی قراردادوں کی منظوری دے دی اور ہر ملک پر ان قوانین کے سختی سے نافذ کرنے پر بھرپور زور دیا۔

      http://undocs.org/A/C.3/72/L.35/Rev.1

20 نومبر: کام کرنے کے دوران ہلاک ہو جانے والے پاکستانی صحافیوں کی یاد میں اسلام آباد میں سینٹ کے چیرمین رضا ربانی نے نیشنل پریس کلب میں ” یادگار شہدا” کی رونمائی کی۔ یہ یادگار شہید ہونے والے صحافیوں کے اعزاز میں تعمیر کی گئی ہے۔

21 نومبر: آئی ایس آئی کے افسر خالد خواجہ کی بیوہ کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درج کی گئی درخواست کے سلسلے میں حامد میر ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ حامد میر نے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

22 نومبر: فیض آباد میں بیٹھے مظاہرین نے ڈان نیوز کے محمد عاصم اور روزنامہ جنگ کے جہانگیر چودھری سے ان کے کیمرے چھیننے کی کوشش اس وقت کی جب مظاہرین پولیس پر حملہ کر رہے تھے اور اس کے ساتھ انہیں نے ان کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔

. https://www.dawn.com/news/1372331/photojournalists-attacked-by-faizabad-protesters

24 نومبر: پیراملٹری فرنٹئیر کور نے خیبر کے قبائلی علاقے لنڈیکوتل سے پانچ صحافیوں کو حراست میں لے لیا۔ حراست میں لینے کی وجہ ان کی گاڑی کے نیچے نصب بم تھا۔ 12 گھنٹوں کے بعد چار صحافیوں کو چھوڑ دیا گیا البتہ پانچویں صحافی ان کی حراست میں ہیں۔ فورسز لنڈیکوتل پریس کلب کے ایک ملازم کو بھی تحقیقات کے لیے ساتھ لے گئے۔ حراست میں لیے گئے صحافیوں میں خیبر نیوز کے خلیل آفریدی، مشعال ریڈیو کے فرہاد شنواری، قبائلی نیوز نیٹ ورک کے مہراب شاہ، پاکستان ریڈیو کے عمر شنواری اور خبریں اخبار کے عمران خٹک شامل ہیں۔

25 نومبر:  فیض آباد کے مظاہرین کے خلاف آپریشن شروع ہوتے ساتھ ہی پمرا نے پورے پاکستان میں تمام نیوز چینلز سمیت ٹویٹر، فیس بک اور یوٹیوب کو عوام کے لیے بند کر دیا۔ انٹرنیٹ صرف ای میل کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس کے علاوہ واٹس ایپ کام کر رہا تھا۔

25 نومبر: مذہبی کارکنان کے خلاف اسلام آباد آپریشن کے دوران تیرہ صحافی زخمی ہوئے جن میں سے کئی نے اپنے آلات بھی کھو دیئے۔ اس کے علاوہ سماء اور آج نیوز کی ڈی ایس این جی کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ اس کے ساتھ ڈان نیوز کے محمد عاصم اور روزنامہ جنگ کے جہانگیر چودھری کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

25 نومبر: دی مال میں حکومت کے خلاف مظاہروں کے دوران کچھ مذہبی کارکنان نے جیو نیوز کے رپورٹر احمد فراز کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

26 نومبر: سہراب گوٹھ فلائی اور پر جیو نیوز کے سیئنر صحافی طارق ابن حسن اور طلحہ ہاشمی کو زخمی کیا گیا جب وہ مظاہروں کی ویڈیو اپنے موبائل پر بنا رہے تھے۔

28 نومبر: 24 نومبر کو لنڈیکوتل سے اغواء ہونے کے بعد قبائلی صحافی خلیل آفریدی کو نیم فوجی ملیشیا کے حکام نے رہا کر دیا۔

28 نومبر: سچ ٹی وی کے علیم حیدر زیدی خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں اپنی جان پر حملے میں محفوظ رہے۔ ان پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی البتہ ابھی تک حملے کی وجوہات کا پتہ نہیں لگایا جاسکا ہے۔

اکتوبر 2017

1اکتوبر: پولیس نے جیو نیوز کے علاقائی کیمرا مین حسنین قریشی کو ڈیرہ اسمائیل خان میں شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ حسنین کو گھنٹوں تک حراست میں رکھا گیا جس کے بعد اسے ایک نامعلوم جگہ لا کر رہا کر دیا۔

3 اکتوبر: چینل سیون کے عثمان مغل تشدد کا اس وقت نشانہ بنے جب راولپنڈی میں منشیات کی ایک بیوپاری کی رپورٹ ٹی وی پر نشر کی گئی۔ حملہ آوروں کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے میں فریڈم نیٹ ورک عثمان کی مدد کر رہا ہے۔

4 اکتوبر: حکمران جماعت، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اعوان اقبال لاہور میں ہونے والے پارٹی پروگرام کی کوریج کے دوران ایسوسی ایٹ پریس کے صحافی توصیف خان کو جماعت کے حامیوں نے تشدد کا نشانہ بنایا۔

4 اکتوبر: لاہور کے نجی چینل اسٹار ایشیا کی میڈیا ٹیم کو ریلوے پولیس کے ایس ایس پی یامین کے گھر والوں نے ناصرف شدید تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ انہیں کچھ گھنٹوں کے لیے حراست میں بھی رکھا۔

7 اکتوبر: کوہلو میں پولیس نے صحافیوں کو تشدد کا نشانہ اس وقت بنایا جب وہ مظاہرین کی فوٹیج بنا رہے تھے۔ پولیس کے اس رویے کے نتیجے میں علاقائی صحافیوں نے احتجاج کے طور پر کوہلو کا پریس کلب بند کر دیا۔

8 اکتوبر: بلوچستان کے ضلع کوہلو میں صحافیوں نے ہڑتال کر کے پریس کلب بند رکھا۔ ہڑتال کی وجہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا صحافیوں کے ساتھ ناقابل برداشت رویہ تھا۔

9 اکتوبر:  کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضا الرحمان کو ممنوعہ باغی گروپ ”بلوچستان لیبریشن فرنٹ” نے کال کی اور میڈیا کا بلوچستان کو نظر انداز کرنے پر دھمکی دی کہ 24 اکتوبر سے صوبے بھر میں اخبارات اور رسالوں کی خرید و فروخت پر پابندی لگا دی جائے گی۔

12 اکتوبر: صحافی ہارون خان کو صوابی، خیبر پختونخوا میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ اس کے بھائی کا ماننا ہے کہ ہارون کا قتل زمین کے تنازعہ کی وجہ سے ہوا ہے۔ ہارون خان ”مشرق ٹی وی” کے لیے کام کرتا تھا۔

15 اکتوبر: ”مشال ریڈیو” کے صحافی شاہنواز ترکزئی کو خیبر پختونخوا میں چارسدہ کے علاقے شبقدر کے میڈیا سینٹر سے نقاب پوش اغوا کاروں نے اغوا کر لیا۔

15 اکتوبر: قبائلی صحافی اسلام گل آفریدی کو لاپتہ قرار دے دیا گیا جب انہوں نے آخری کال 14 اکتوبر کو اپنے ایڈیٹر کو کی تھی جس میں انہیں نامعلوم نمبر سے کال آتی ہے اور وہ نامعلوم فرد اسلام گل کے ساتھ ملاقات کرنا چاہتا ہے۔

16 اکتوبر: قبائلی صحافی شاہنواز ترکزئی اور اسلام گل آفریدی واپس گھر لوٹ آتے ہیں جب انہیں پشاور میں رہا کر دیا جاتا ہے۔

19 اکتوبر: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دو سوشل میڈیا کارکنان کے خلاف ایف آئی اے نے کیس درج کر دیا کیونکہ انہوں نے مبینہ طور پر عدلیہ اور فوج کے خلاف نا زیبا الفاظ استعمال کیے۔

http://www.bbc.com/urdu/pakistan-41702166

21 اکتوبر: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دو سوشل میڈیا کارکنان کے خلاف ایف آئی اے کی طرف سے کیس درج ہونے پر سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اس اقدام کو مسلم لیگ (ن) کو ہراساں کرنے کے مترادف سمجھا ہے۔

https://www.dawn.com/news/1365289/nawaz-sharif-demands-recovery-of-social-media-activists

 24 اکتوبر: وفاقی وزیر احسن اقبال کا اسلام آباد میں کہنا تھا کہ ان کی حکومت سوشل میڈیا کے استعمال پر ایک وسیع فریم ورک تیار کر رہی ہے جس کی بدولت اس پلیٹ فارم پر ہونے والی قومی سلامتی کے خلاف گفتگو کو روکا جا سکتا ہے تاکہ ملک میں انتشار نہ پھیلے۔

https://www.dawn.com/news/1366130/govt-to-monitor-social-media-says-interior-minister

24 اکتوبر:  ممنوعہ باغی گروپ ”بلوچستان لیبریشن فرنٹ” کی دی ہوئی ڈیڈلائن گزر جانے کے بعد اخبار تقسیم کرنے والوں نے بلوچستان کے بلوچ علاقوں میں اخبارات تقسیم کرنے سے گریز کیا۔

24 اکتوبر: بلوچستان میں پریس کی آزادی کے حالات دیکھ کر کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) نے شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ”اخباروں پر مختلف گروہوں کی طرف سے دی جانے والی دھمکیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔”

25 اکتوبر: بلوچستان کے ضلع حب کے پریس کلب پر ایک دستی بم داغا گیا جس کی ذمہ داری ممنوعہ باغی گروپ ”بلوچستان لیبریشن فرنٹ”  نے اپنی ویب سائٹ پر قبول کر لی۔ اس حملے کے نتیجے میں عمارت کو تھوڑا نقصان پہنچا البتہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

25 اکتوبر: دو ممنوعہ باغی گروپوں کی طرف سے دی جانے والی ڈیڈلائن گزر جانے کی وجہ سے اخبار ٹرانسپورٹرز نے کوئٹہ اور دیگر بلوچ علاقوں میں اخبارات تقسیم کرنے کا سلسلہ روک دیا جب تک اس مسئلے کا کوئی حل تلاش نہیں کیا جاتا۔

26 اکتوبر:  بلوچستان کے ضلع تربت میں پاک نیوز ایجنسی کے دفتر پر دستی بم داغے گئے جس کی وجہ سے آٹھ افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک کا تعلق اسی ایجنسی سے ہے۔

 26 اکتوبر: بلوچستان کے علاقے آواران میں اخبارات سے لدھی ہوئی گاڑی پر بلوچ مزاحمت کاروں نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ناصرف گاڑی کے چاروں ٹا‏ئر پھٹ گئے بلکہ گاڑی میں پڑے تمام اخبارات کو آگ لگا دی گئی۔

 27 اکتوبر: دی نیوز انٹرنیشنل کے تحقیقاتی صحافی احمد نورانی کو نامعلوم افراد نے اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ پر ہراساں کیا اور انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے ان کو سر میں دس ٹانکے لگائے گئے۔

ستمبر 2017

ستمبر8: اسلام آْباد میں اضافی ضلعی مجسٹریٹ نے تاس اخبار کی ڈیکلریشن مسترد کر دی۔ یہ اقدام اخبار میں کمشنر اسلام آباد کے دفتر میں ”من پسند” لوگوں کی تعیناتی کی خبر کی اشاعت کے بعد اٹھایا گیا۔

ستمبر12: مذہبی جماعت ”لبیک یا رسول اللہ” کے حامیوں نے نیو چینل کے عملے پر حملہ کیا۔ رپورٹر عثمان، کیمرہ مین علی رضا اور امیر حمزہ پر پی ٹی آئی کے اجلاس سے واپسی پر لاٹھیوں اور پتھروں سے حملے کیا گیا۔ حملہ آوروں نے چینل کی ڈی ایس این جی کو بھی نقصان پہنچایا۔ چینل کے بیورو چیف ایاز شجاع کے مطابق حملہ آور ”مناسب کوریج نہ ملنے” پر غصے میں تھے۔

ستمبر12: حیدر آباد، سندھ سے لاپتہ صحافی غلام رسول برفت پانچ اگست کو سندھ یونیورسٹی ہاوسنگ سوسائٹی سے غائب ہوجانے کے بعد گھر واپس پہنچ گئے۔ فریڈم نیٹ ورک نے اگست کے الرٹ میں یہ معملہ اٹھایا تھا اور ان کی بحفاظت واپسی کا خیرمقدم کرتی ہے۔

ستمبر12: اسلام آباد میں ایک انسداد دہشت گردی کی عدالت نے تین افراد پر توہین مذہب کے قانون کے تحت سوشل میڈیا پوسٹ کرنے کے الزام میں فرد جرم عائد کی۔

https://epaper.tribune.com.pk/DisplayDetails.aspx?ENI_ID=11201709130102&EN_ID=11201709130059&EMID=11201709130016

ستمبر17: لاہور کے حلقہ این اے 120 کے ضمنی انتخاب میں الیکشن کمیشن کی اجازت کے حامل صحافیوں کو پولنگ سٹیشن میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔

ستمبر17: فوجی اہلکاروں نے جیو نیوز کے ڈرون آپریٹر اور ڈی ایس این جی کو حراست میں لے لیا جو وہ صوبائی الیکشن کمیشن کے باہر این اے 120 کے نتائج کا انتظار کر رہے تھے۔ دونوں کو اس یقین دہانی کے بعد کہ وہاں کوئی ڈرون کوریج نہیں ہوگی چھوڑ دیا گیا۔

ستمبر21: ملتان پولیس نے شہر کے ممتاز آباد پولیس سٹیشن کے باہر کوریج کے دوران سماء ٹی وی کے رپورٹر وجیہ احسان اور کیمرہ مین اسلم بیگ پر حملہ کیا۔ ملتان یونین آف جرنلسٹس نے ملتان پولیس کے اس حملے کی مذمت کی اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

ستمبر24: اسلام آباد کے علاقے بارہ کہو میں موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم افراد نے سینیر صحافی اور وقت ٹی وی کے اینکر مطیع اللہ جان کی گاڑی پر اینٹ سے حملہ کیا۔ وہ اور ان کے بچے اس حملے میں محفوظ رہے۔ فریڈم نیٹ ورک کو انہوں نے بتایا کہ ان کی کسی سے نا تو کوئی خاندانی اور نہ ذاتی دشمنی ہے اور یہ حملہ ان کے لیے ایک اشارہ ہے۔

ستمبر26: سادہ کپڑوں میں ملبوث سکیورٹی اہلکاروں نے تین ٹی وی صحافیوں – دنیا نیوز کے امیر سعید عباسی، 92 نیوز چینل شاہ خالد ہمدانی اور نیو ٹی وی چینل کے سعد بن الطاف – پر اسلام آباد کی احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پیشی کے دوران حملہ کیا۔ عباسی حملے کے بعد بےہوش ہوگئے۔

ستمبر28: حکومت بلوچستان نے صحافی سلی رضا رند کا نام انسداد دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول سے ہٹا دیا۔ ان کا نام جنوری 2016 میں اس میں شامل کیا گیا تھا۔

ستمبر29: سہون پریس کلب کے صدر یاسین رند کو حیدرآباد کی جیل سے انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے ان کے خلاف ایف آئی آر سے دہشت گردی کے الزامات ہٹائے جانے کے بعد رہا کر دیا گیا۔

اگست 2017

دو اگست: اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن نے جنگ گروپ اور جیو نیوز پر اپنے احاطے میں ان الزامات کے بعد پابندی عائد کر دی کہ یہ گروپ اور چینل ”کشمیر کاز کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔”

چار اگست: تحریک انصاف کے حامی جنگ گروپ کے روزنامہ جنگ، دی نیوز اور جیو نیوز کے صدر دفاتر کے باہر احتجاج منعقد کرتے ہیں۔

پانچ اگست: وفاقی تحقیقاتی ادارے نے الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے تحت وقت نیوز کے نصیر آباد، بلوچستان میں صحافی جبار عمرانی کے خلاف مقدمہ درج کیا جب انہوں نے ایک پولیس افسر کے خلاف سوشل میڈیا پر بات کی۔ پولیس اہلکار نے ایف آئی اے میں ان کے خلاف سکایت کی تھی۔

پانچ اگست:  غلام رسول برفات، سندھ میں جامشورو ضلع میں سندھ ایکسپریس اخبار کے لیے کام کرتے ہیں۔ وہ سندھی قوم پرستوں کے خلاف جاری کارروائی میں لاپتہ ہوگئے ہیں۔

پانچ اگست: بول نیوز چینل کے ساتھ منسلک سینر صحافی سدھیر چوہدری پر لاہور کے لیبرٹی چوک میں لائیو شو کے دوران حملے ہوا۔ الزام ہے کہ حکمراں مسلم لیگ نواز کے کارکنوں نے ان پر یہ حملہ جماعت پر کڑی تنقید کے بعد کیا ہے۔

چھ اگست: پمرا نے اے آر وائے نیوز کو 24 نیوز چینل کے رپورٹر شاکر یونس عباسی کو اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس کے دوران دیکھا کر ان کی ”کردار کشی” کی شکایت پر نوٹس جاری کیا ہے۔

نو اگست: جامشورو پریس کلب کے سیکرٹری جنرل بادل نوہانی کو پریس کلب سے نقاب پوش نامعلوم افراد اٹھا کر بغیر رجسٹریشن کے گاڑی میں لے جاتے ہیں۔

دس اگست: بول نیوز کے صحافی صفدر کلاسرا اور ان کی دو خواتین ساتھوں پر فیض آباد، راولپنڈی میں نواز شریف کی اسلام آباد سے لاہور ریلی کے دوران حملہ اور ہراساں کیا جاتا ہے۔

گیارہ اگست: صوبہ پنجاب میں گجرات کی پولیس نے اسلام آباد کے فوٹو صحافی شیراز گردیزی کو نواز شریف کی اسلام آباد سے لاہور ریلی کے دوران روکا اور حملہ کیا۔

گیارہ اگست: ترنول پولیس سٹیشن کے علاقے میں نامعلوم افراد نے کیپٹل ٹی وی کے صحافی نیر وحید روات کے گھر میں گھس کر چوری کی۔ صحافی اور ان کے گھر کے مکین محفوظ رہے لیکن روات کو شک ہے کہ انہوں نے اغوا کاروں کے بارے میں ایک سٹوری کی تھی اور وہی اس چوری کی واردات میں شاید ملوث ہوں۔

گیارہ اگست: سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اسلام آباد سے لاہور احتجاجی ریلی کے دوران مسلم لیگ نواز کے کارکنوں نے مبینہ طور پر اے آر وائی چینل کی ڈی ایس این جی پر گوجرانوالا میں حملہ کیا۔

سولہ اگست: سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اسلام آباد سے لاہور احتجاجی ریلی کی کوریج کے دوران دو صحافیوں پر حملے کے الزام میں مسلم لیگ (ن) کے بیس کاکنوں کے خلاف رپورٹ درج کی گئی۔ https://www.dawn.com/news/1352037/20-pml-n-workers-booked-for-assaulting-journalists

سولہ اگست: ولی خان بابر قتل کیس میں اہم ملزم فیصل محمود عرف موٹا کی اپیل سندھ ہائی کورٹ دوبارہ سنے گی۔ انہیں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔ https://www.dawn.com/news/1351906/shc-overturns-death-sentence-of-faisal-mota-orders-retrial-in-wali-khan-babar-murder-case

بائیس اگست: پنجاب پولیس کے سربراہ کیپٹن (ر) عارف نواز نے صوبہ بھر میں تھانوں اور دیگر پولیس تنصابات کے اندر ویڈیو اور تصاویر بنانے پر پابندی عائد کر دی۔ صحافیوں نے اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔

تئیس اگست: صوبہ پنجاب میں گجر خان تحصیل کے مقامی صحافی عبدالستار نیازی کو جو اسلام آباد کے میٹرو واچ کے لیے کام کرتے ہیں کئی گھنٹوں تک پولیس سٹیشن میں ہراساں اور ”بلیک میلنگ” کا سامنا رہا۔ اس کا مقصد انہیں اس بات پر تحریری طور پر مجبور کرنا تھا کہ وہ وکلاء کے خلاف ”پھر کبھی بھی نہ لکھیں گے اور نہ پوسٹ کریں گے۔” وکلاء نے ان کے خلاف پولیس میں اس وقت شکایت کی جب انہوں نے ایک ایسی تصویر پوسٹ کی جس میں یہ وکلا سرکاری اراضی پر قابض دکھائے گئے تھے۔

جولائی 2017

تین جولائی: وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلکام ڈویژن نے سینٹ کی کمیٹی کو بتایا کہ ٹیلیفون کالز سننا قانونی ہے اور اسے سنجیدگی سے نہ لیا جائے کیونکہ یہ تمام دنیا میں ہوتا ہے۔

 https://www.dawn.com/news/1343089/intercepting-phone-calls-is-legal-senate-body-told

چھ جولائی: وفاقی تحقیقاتی ادارے نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا کہ صحافی طاحہ صدیقی کے خلاف تحقیقات کو انسداد دہشت گردی شاخ سح سائبر کرائم بل منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام صحافی کی جانب سے ملک کے طاقتور فوجی اسٹبلشمنٹ کے خلاف سوشل میڈیا پر رائے دینے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

https://tribune.com.pk/story/1451057/journalist-harassed-case-transferred-cyber-crime-wing/

سات جولائی: فیس بک کے نائب صدر گلوبل پبلک پالیسی جول کپلان نے پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علمی خان سے ملاقات کی اور شوسل میڈیا سے توہین مذہب پر مبنی مواد ہٹائے جانے پر گفتگو کی۔

https://www.dawn.com/news/1343822/facebook-vp-nisar-discuss-removal-of-blasphemous-content

نو جولائی: دی نیشن کے رپورٹر عبداللہ ظفر کو سفید کپڑوں میں لوگوں نے کراچی میں ان کی رہائش گاہ سے اٹھایا۔

دس جولائی: دی نیشن کے رپورٹر عبداللہ ظفر بیس گھنٹوں بعد اپنے گھر واپس پہنچ گئے۔ انہوں نے ڈان اخبار کو بتایا کہ انہیں پولیس بکتر بند گاڑی میں ساتھ لے گئی تھی اور ان پر تشدد کیا گیا۔ ان کے خیال میں ان کے خلاف یہ کارروائی سوشل میڈیا پر رائے دینے پر کی گئی۔

 https://www.dawn.com/news/1344495

گیارہ جولائی: پولیس نے سیکشن 295 اے کے تحت توہین مذہب کے قانون کے تحت کالم نویس ڈاکٹر شیخ ولی کے خلاف روزنامہ جہان پاکستان میں حضرت علی سے متعلق مضمون لکھنے پر مقدمہ درا کیا۔ اس مضمون کے خلاف اہل تشیح نے احتجاج کیا تھا۔

تیرہ جولائی: سرگودھا کی ایک عدالت نے سائبر قانون کے تحت ”فیس بک پر ”ورغلانے والا فرقہ ورانہ مواد” شائع کرنے پر تیرہ سال قید بامشقت سنائی۔

http://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=14_07_2017_002_001

انیس جولائی: سینٹرز نے انسداد الیکٹرانک جرائم ایکٹ 2016 کی نظر ثانی کی کال کی ہے۔ انہوں نے اسے ”خطرناک” اور ”سیاہ قانون” قرار دیا۔

 https://www.dawn.com/news/1346310/senators-term-prevention-of-electronic-crimes-act-2016-a-black-law

بیس جولائی: وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اہلکاروں نے مس صابر بجہیر اور نیوز 24 کے ملک عرفان کے علاوہ ڈان نیوز کے اعتزاز حسین کو گرفتار سرکاری اہلکار ظفر حجازی کی ہسپتال میں داخلے کی کوریج سے روک دیا۔ ایف آئی اے اور خاندان کے لوگوں نے ان صحافیوں کو یرغمال بنا دیا اور بدلسوکی کی۔ ان کے کیمرے اور دیگر سامان چھین لیا گیا۔

ستائیس جولائی:کالعدم بلوچ شدت پسند گروپ نے بلوچستان میں خاران ضلع کے پریس کلب کو بند کروا دیا اور سترہ صحافیوں کو کام سے روک دیا۔

تیس جولائی: بلوچستان میں خاران پریس کلب کے صحافیوں نے دوبارہ اپنی سرگرمیاں شروع کر دیں اور پریس کلب کھول دیا گیا جو کالعدم شدت پسند گروپ بلوچ لیبریشن آرمی کی دھمکیوں کے بعد ستائیس جولائی کو بند کر دیا گیا تھا۔ خاران کے صحافیوں نے دوبارہ فعال ہونے کا فیصلہ بلوچستان یونین آف جرنلسٹس اور فریڈم نیٹ ورک کے زیر انتظام کوئٹہ پریس کلب سیفٹی ہب کی جانب سے مکمل حمایت کے اعلان کے بعد اٹھایا۔

زرایع ابلاغ پر ايک نظر- جون 2017

جون 2017

جون 2: اسلام آباد میں ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے لیے بطور فوٹو صحافی کام کرنے والے ذیشان علی پر دو ناعمول افراد نے حملہ کیا۔ وہ جی ایٹ سیکٹر میں رمضان سے متعلق فلم بندی کر رہے تھے جب ان پر حملہ کیا گیا اور ان سے زبردستی ان کے کیمرہ ساتھ لے گئے۔ وہ زخمی بھی ہوئے۔

جون 2: جیو کے تحقیقاتی رپورٹر اعزاز سید کا کہنا ہے کہ ان پر اسلام آباد میں رات ساڑھے نو بجے شہزاد ٹاون کے علاقے میں بعض موٹر سائیکل اور گاڑی میں سوار افراد نے اغوا کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔

جون 6: وکلاء نے ایک نجی ٹی وی نیوز چینل سے منسلک جنید شاہ اور وقاص اورنگزیب کو آدھ گھنٹے تک عدالتی احاطے میں زدوکوب کیا جب انہوں نے ان وکلاء کی جانب سے ایک خاتون کی ”نامناسب” طریقے سے تلاشی لنے کی فلمبندی کی۔

جون 7: انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبون کے لاہور میں سینیر صحافی رانا تنویر نے انہیں ”قتل کرنے” کی دھمکیاں ملنے کی اطلاع دی جب نامعلوم افراد نے ان کے مکان کے صدر دروازے پر تیس مئی کو دھمکی آمیز جملہ لکھا۔

جون 9: انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبون کے لاہور میں سینیر صحافی رانا تنویر ان پر قاتلانہ حملے میں بال بال بچ جاتے ہیں جب نامعلوم گاڑی سواروں نے انہیں ٹکر ماری۔ یہ حملہ انہیں تیس مئی کو ملنے والی دھمکیوں کے بعد ہوا۔

جون 9: فیصل آباد یونیورسٹی نے تین طلبہ کو یونیوسٹی انتظامیہ پر فیس بک پر تنقید کے بعد نکال دیا۔  https://tribune.com.pk/story/1432127/faisalabad-university-expels-3-students-criticism-facebook/

 جون 10: لاہور میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو سوشل میڈیا پر ”گستاخانہ مواد” ڈالنے کے جرم میں سزا سنائی۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی کو سوشل میڈیا پر مواد کی وجہ سے سزائے موت سنائی گئی۔ https://www.dawn.com/news/1338684/first-death-sentence-handed-to-lahore-man-for-blasphemy-on-social-media

جون 11: ایکسپریس ٹریببون کے کراچی میں نامہ نگار زبیر اشرف کو مسلم لیگ (فنکشنل) کے رہنما پیر یاسر شاہ کے نجی محافظوں نے حملہ کیا۔

جون 11: ہری پور، خیبرپختونخوا میں نامعلوم افراد نے دن دھاڑے روزنامہ کے ٹو کے بیورو چیف بخشیش الہی کو نشانہ بنا کر گولی ماری جس سے وہ موقع پر ہلاک ہوگئے۔

جون 19: سما ٹی وی کے ڈی ایس این جی آپریٹر شارق اشتیاق کپتان سرفراز احمد کی کراچی میں رہائش گاہ پر چیمپین ٹرافی میں کامیابی کی خوشی میں جمع لوگوں کی کوریج کے دوران گولی لگنے سے زخمی ہوگئے۔

جون 20: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے معلومات، نشریات اور قومی ورثے نے حکومت کو صحافیوں کے تحفظ کے مجوزہ بل پر تمام فریقین سے جلد مشاورت مکمل کرنے کی ہدایات دی۔

جون 27: آج نیوز چینل کے کھیلوں کے نامہ نگار جاوید اقبل کراچی میں موبائل چھینے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے زخمی ہوگئے۔ وہ خطرے سے باہر ہیں۔

زرایع ابلاغ پر ايک نظر- مئی 2017

مئی 2017 

مئی 02: لاہور ہائی کورٹ نے حکومت سے کہا کہ وہ سائبر کرائم کے قانون میں توہین مذہب کو بھی شامل کرے۔ https://www.dawn.com/news/1330486/govt-told-to-add-punishment-for-blasphemy-to-cyber-crime-law

مئی 03: کالعدم شدت پسند تنظیم ”بلوچستان لیبریشن فرنٹ (بی ایل ایف)” نے کوئٹہ کے مقامی میڈیا کو ان کا بیان شائع اور نشر نہ کرنے پر دھمکی دی۔ حکومت بلوچستان نے کالعدم تنظیموں جیسے کہ بی ایل اے، بلوچ ریپبلیکن آرمی (بی آر اے) اور دیگر علیحدگی پسند گروپوں کے بیانات کی کوئٹہ کے اخبارات میں اشاعت پر اور نجی خبر رساں ایجنسیوں جیسے کہ آن لائن، این این آئی اور آئی این پی جاری رکنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

مئی 03: پمرا نے بول نیٹ ورک کے ڈائریکٹرز کی وزارت داخلہ سے سکیورٹی کلیرنس حاصل کرنے میں ناکامی پر نیٹ ورک کے لائسنس کو منسوخ کر دیا۔

مئی 04: سندھ ہائی کورٹ بول نیٹ ورک کا لائسنس بحال کر دیا۔

مئی 08: پمرا چیرمین ابصار عالم کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کے ملازمین ”خطرے” میں ہیں اور وزیر اعظم نواز شریف اور فوجی سربراہ جنرل قمر باجوہ سے اپیل کی کہ اس دھمکی کا نوٹس لیں۔ https://www.dawn.com/news/1331837/pemra-chairman-claims-employees-under-threat-appeals-for-govts-help

مئی 10: پمرا جیو نیوز پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کرتا ہے ان کے ٹاک شوز میں سیاستدانوں کے خلاف ”نازیبہ بیانات” کے الزام میں۔ https://tribune.com.pk/story/1406371/pemra-slaps-rs100000-fine-geo-news-airing-derogatory-remarks/

مئی 11: وفاقی حکومت آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) کو ہدایت دیتی ہے کہ وہ ڈان اخبار کے مدیر ظفر عباس اور اسٹنٹ ایڈیٹر سیرل المائدا کے خلاف ڈان لیکس کیس میں ”کارروائی” کریں۔

مئی 11: وزیر اعظم نواز شریف اور بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی پمرا کے سربراہ ابصار عالم اور ملازمین کو دھمکیوں کا ”نوٹس” لیتے ہیں۔https://www.dawn.com/news/1332457/pm-coas-take-notice-of-threats-to-pemra-employees

مئی 12: پمرا ٹی وی چینلز کو تنبیہ کی کہ وہ ”فوج کی شبہہ کو متاثر” کرنے والا مواد نشر نہ کریں۔https://www.dawn.com/news/1332680/pemra-warns-tv-channels-not-to-air-content-jeopardising-militarys-image

مئی 17: اے آر وائے نیوز چینل کے پنجاب کے ضلع قصور میں نامہ نگار عبدالرزاق کو چوروں نے ہلاک کر دیا جبکہ اے آر وائے کے ایک اور نامہ نگار زخمی ہوئے جب وہ چوروں کی ایک ڈاکٹر کو لوٹتے ہوئے فلم بنا ررہے تھے۔

مئی 19: جیو نیوز کے سپورٹس رپورٹر اکبر یوسفزئی پر حملہ کیا گیا جو ایف سیون کرکٹ گراونڈ پر سی ڈی اے حکام کی جانب سے مبینہ طور پر غیرقانونی قبضے کی خبر بنا رہے تھے۔ سی ڈی اے اسٹنٹ ڈائریکٹر سی ڈی اے چیرمین کے کاروباری ساتھی کے بیٹے نے رپورٹر پر حملہ کیا۔

مئی 24: وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پاکستان ٹیلیکمیونیکیشن اتھارٹی کو ہدایات دیں کہ وہ ایک ایسا فریم ورک تیار کریں جو اس بات کو یقینی بنائیں کہ ”سوشل میڈیا کو بطور مثبت، تعمیری اور صحت مندانہ رابطوں” کے لیے استعمال ہو۔https://www.dawn.com/news/1335143/nisar-directs-pta-to-prepare-mechanism-for-regulating-social-media

مئی 30: وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے آن لائن کارکن عدنان افضل قریشی کو لاہور سے ملک کی فوج پر آن لائن پوسٹس میں ”تنقید” کے الزام میں گرفتار کیا۔ ان پر متنازعہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔https://www.dawn.com/news/1336440/activist-held-in-first-case-about-maligning-forces-on-social-media

 

اپریل 2017 

اپریل 13: پمرا کا دو ٹی وی چینلز کو سندھ پولیس کے سربراہ کے خلاف ”بےبنیاد خبر” نشر کرنے پر جرمانہ

https://tribune.com.pk/story/1382834/pemra-fines-private-channels-baseless-news-sindh-ig/

اپریل 13: مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں شعبہ صحافت کا ایک طالب علم مشال خان کو توہین مذہب کے مبینہ الزام کے تحت ہلاک کر دیا گیا۔

اپریل 17: پاک سرزمین پارٹی کے حامیوں کی جانب سے سکھر پریس کلب پر حملے کے نتیجے میں پانچ صحافی زخمی ہوگئے۔

 https://tribune.com.pk/story/1385833/five-journalists-injured-psp-workers-attack-sukkur-press-club/

اپریل 17: پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان لیاقت مہمند عرف احسان اللہ احسان نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ احسان نے ماضی میں آذاد میڈیا اور صحافیوں کو بحثیت ترجمان دھمکیاں دی تھیں۔

 https://www.dawn.com/news/1327567

 

زرایع ابلاغ پر ايک نظر – مارچ 2017

مارچ 2017

مارچ چھ: سپریم کورٹ نے اینکر پرسن عامر لیاقت حسین کو اپنے متنازعہ شو ”ایسے نہیں چلے گا” بعض پابندیوں کے ساتھ جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔

 https://www.dawn.com/news/1318935/sc-conditionally-allows-airing-of-tv-show

مارچ سات: اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ تمام سوشل میڈیا بند کر دے اگر یہ ضروری ہے۔ عدالت انٹرنٹ پر توہن مذہب کے مقدمے کی سماعت کر رہی تھی۔  https://tribune.com.pk/story/1348784/ihc-directs-authorities-block-social-media-necessary/

مارچ نو: وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ”توہین مذہب کے مواد” کی موجودگی کی وجہ سے سوشل میڈیا بند کرنے کی دھمکی دی۔

 https://www.dawn.com/news/1319431

مارچ تیرہ: سندھ اسمبلی معلومات تک رسائی کے قانون کی منظوری دی اور اس طرح سندھ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے بعد تیسرا صوبہ بن گیا جہاں یہ قانون موجود ہے۔ بلوچستان میں ابھی یہ قانون بننا باقی ہے۔

 https://www.dawn.com/news/1320231/sindh-assembly-unanimously-approves-right-to-information-bill-2016

مارچ سولہ: حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ فیس بک پاکستان ایک وفد بھیجنے کے لیے تیار ہوگئی ہے جو ”توہین مذہب” والے مواد پر گفتگو کرے گی۔ یہ اعلان اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے متازعہ مواد ہٹانے کے حکم کے بعد سامنے آیا ہے۔

 http://www.bbc.com/urdu/pakistan-39300821

مارچ سترہ: حکومت پاکستان نے پرنٹ میڈیا میں اشتہارات کے ذریعے عوام کو متنبہ کیا کہ وہ آذادی اظہار کے حق کا استعمال کرتے ہوئے بعض قوانین کی پامالی سے اپنے آپ کو بچائیں۔ http://epaper.dawn.com/Advt.php?StoryImage=17_03_2017_002_004

مارچ سترہ: اسلام آباد ہائی کورٹ نے پمرا کو حکم دیا کہ وہ میڈیا موااد کی نگرانی کرے۔ یہ حکم عدالت نے سوشل میڈیا پر ”توہین مذہب مواد” سے متعلق ایک پٹیشن کی سماعت کے دوران دیا۔. https://www.dawn.com/news/1321057/ihc-orders-pemra-chairman-to-monitor-tv-channels-for-obscene-content

مارچ انیس: حکومت تین سالوں میں اشتہارات پر گیارہ ارب روپے خرچ کر دیئے۔

http://nation.com.pk/national/18-Mar-2017/govt-spent-rs11b-on-ads-in-three-years-na-told

مارچ انیس: وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے توہین مذہب اور انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمات درج کر لیے۔

https://twitter.com/omar_quraishi/status/845315908830609409/photo/1

مارچ بیس: پمرا نے ڈان نیوز کے پروگرام ”زرا ہٹ کے” پر سپریم جوڈیشل کونسل کے زیر غور ایک ریفرنس پر گفتگو کرنے کی وجہ سے تین روز کی پابندی عائد کر دی۔

مارچ بیس: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اٹھارتی نے قومی ایکشن پلان کے تحت کالعدم تنظیموں کی نو سو ویب سائٹس کو بلاک کر دیا ہے۔

https://www.dawn.com/news/1321734/pta-blocks-over-900-web-addresses-linked-to-banned-organisations-under-nap

مارچ اکیس: وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف آئی اے کہتا ہے کہ اس نے تین ایسے افراد کو گرفتار کر لیا ہے جن کا فیس بک پر توہین مذہب کے مواد سے تعلق تھا۔

 https://www.dawn.com/news/1322531/fia-arrests-three-in-social-media-blasphemy-case 

مارچ تیس: وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار یوسف کا کہنا ہے کہ پانچ سو سے زائد ویب سائٹس گستاخانہ مواد کی وجہ سے بن کی گئی ہیں۔

http://www.bbc.com/urdu/pakistan-39451826

مارچ اکتیس: پمرا نے جیو نیوز کے صبح کے پروگرام ”جیو پاکستان” پر ”قابل اعتراض” مواد نشر کرنے پر پانچ روز کی پابندی عائد کر دی

https://tribune.com.pk/story/1370380/pemra-slaps-5-day-ban-geo-pakistan-airing-objectionable-content/

زرایع ابلاغ پر ايک نظر – فروری 2017

فروری 2017

02 فروری : پیسوں کی عدم ادائگی  کی بنا پر اے آر واے نیوز چینل کا لائیسنس عدالت کے فیصلے کے بعد برطانیہ میں منسوخ کر دیا گیا۔

http://www.dawn.com/news/1312448/uk-watchdog-revokes-arys-licences

06 فروری: نفرت انگیز تقریر کرنے کی بنا پرسپریم کورٹ نے ڈاکٹر عامر لیاقت پر پیمرا کی طرف سے لگائی ہوئی پابندی کو برقرار رکھا اور انہیں تا حکم ثانی کسی بھی نیوز چینل پر آنے سے منع کر دیا گیا ہے۔

 12 فروری: کراچی میں نامعلوم افراد کی سماء ٹی وی کی ڈی ایسس این جی پر فائرنگ سے 22 سالہ کیمرامین تیمور عباس ہلاک ہو گیا۔

https://tribune.com.pk/story/1324721/cameraman-killed-samaa-tvs-van-attacked-karachi/

13 فروری: لاہور پریس کلب کے سیفٹی ہب مینجیرکے مطابق لاہور خود کش دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں 2 کیمرا مین، ایک ڈرائیور اور ڈی ایس  این جی وین کے انجنیئر بھی شامل ہیں۔

14 فروری: اخلاقیات کے اصولوں کی خلاف ورزی پر پیمرا نے بول نیوز کے ڈاکٹر شاہد مسعود کے پروگرام پر پابندی لگا دی۔

17 فروری: اخلاقیات کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے پر پیمرا نے جیو نیوز چینل کو نوٹس جاری کر دیا۔

19 فروری: طالبان گروپ کی میڈیا کو دھمکی دینے کے بعد پاکستان میں دشت گردی کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔

. https://twitter.com/tanvirarain/status/833243002885791744/photo/1

زرایع ابلاغ پر ايک نظر – جنوری 2017

جنوری04: بلاگرز وقاس گوریہ اور عاصم سعید لاہور سے لاپتہ ہوگئے۔

جنوری06 : اسلام آباد کی فاطمہ جناح یونیورسٹی میں تعینات پروفیسر اور سوشل میڈیا کے سماجی کارکن سلمان حیدر بنی گالا سے لاپتہ ہوگئے۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر داخلہ، چودھری نثار علی خان نے انکوائری کا حکم دیا ہے۔

 جنوری 07: سول پروگریس اتحاد آف پاکستان کے صدر اور سماجی کارکن، ثمر عباس اسلام آباد سے لاپتہ ہوگئے۔

 جنوری 08: خاندان والوں کے بقول، بلاگر احمد رضا نصیر لاپتہ ہوگئے ہیں۔

جنوری10 : وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے سینیٹ کو اس بات سے بخوبی طور پر واقف کر دیا کہ گزشتہ دنوں میں بلاگرز کے لا پتہ ہونے میں حکومت کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ وہ ملک میں 4 جنوری سے ہونے والے لا پتہ بلاگرز کے متعلقہ خاندان والوں سے مخاطب تھے۔

 جنوری 13: نامعلوم حملہ آوروں نے سینتیس سالہ جز وقتی صحافی محمد جان سلیمانی کو قلات میں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ محمد جان سلیمانی روزنامہ قدرت اور روزنامہ تلار، کوئٹہ کے لیے کام کر رہے تھے تاہم جان کی ہلاکت کے محرک کا تاحال پتہ نہیں لگایا جاسکا ہے۔

 جنوری 22: سوشل میڈیا کے عملہ کے اکائونٹ میں ناجائز رسائی حاصل کرنے کی کوشش کے بعد، ڈان میڈیا گروپ نے اپنے کارکنان پر سائبر حملے کا دعوی کیا۔

 جنوری 26: اپنے پروگرام میں نفرت انگیز تقریر کرنے پر پیمرا نے بول ٹی وی کے میزبان عامر لیاقت پر پابندی لگا دی۔

 جنوری 26: سیئنر کرائم رپورٹر مظہر شیخ کے راولپنڈی سے لاپتہ ہونے پر راولپنڈی یونین آف جرنلسٹ نے حکومت پنجاب پر زور لگایا کہ وہ مظہر کو جلد از جلد بازیاب کروائے۔

جنوری 27 : عامر لیاقت پر لگائی گئی پابندی کی خلاف ورزی کرنے اور عامر لیاقت کی طرف سے اخلاقیات کی خلاف ورزی کرنے اور لوگوں کو تشدد پر اکسانے پر پیمرا نے بول ٹی وی کو نوٹس جاری کر دیا۔

 جنوری 27: قبائلی پولیس افسر ان نے قبائلی صحافی ساجد علی کاکاخیل کے ساتھ بد تمیزی کی۔

 جنوری 27: مہینے کے آغاز میں لاپتہ ہونے والے بلاگر اور سماجی کارکن سلمان حیدر، بقول ان کے اہل خانہ، گھر واپس لوٹ آئے ہیں۔

 جنوری 28: انسداد دہشت گردی کی کراچی کی عدالت کے حکم پر پولیس نے جنگ میڈیا گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان،  پیمرا کے چیف ابصار عالم اور جیو نیوز کے دو میزبان نجم سیٹھی اور منیب فاروق کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی۔ ایف آئی آر دائر کرنے والے گل خان کا کہنا تھا کہ نجم سیٹھی اور منیب فاروق فوج، حکومت اور عدلیہ کے خلاف بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں۔

 جنوری 29: عاصم سعید اور وقار گوریہ – دو سماجی کارکن 4 جنوری سے لاپتہ رہنے کے بعد، بقول ان کے گھر والوں کے، گھر واپس لوٹ آئے ہیں۔

جنوری 29 : گلگت – بلتستان کی حکومت نے تین ضلعی اخبارات: کے ٹو، اوصاف اور مہینے میں ایک مرتبہ شائع ہونے والے رسالے کارگل کو نوٹس جاری کر دیا کیونکہ وہ حکومت گلگت – بلتستان کے خلاف خبریں شائع کر رہے تھے۔

جنوری 30 : طنز نگار اخبار، ”خبرستان ٹائم” نے اعلان کیا کہ ان کی ویب سائٹ کو پاکستان میں بلاک کر دیا ہے۔ http://www.dawn.com/news/1311656/satire-website-khabaristan-times-blocked-in-pakistan

 جنوری 31: ڈاکٹر شاہد مسعود کے پروگرام کے مواد سے متعلق، پیمرا نے بول نیوز کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ http://www.dawn.com/news/1311836/pemra-issues-notice-to-bol-television-over-dr-shahid-masoods-show

 

 

زرایع ابلاغ پر ايک نظر – دسمبر 2016

 

 دسمبر 02: وقت ٹی وی اور جہان پاکستان اخبار کے ڈیرہ اسماعیل خان میں نامہ نگار محمد عثمان کو فوجی حکام نے کئی گھنٹوں تک حراست میں رکھا اور ان کے لیپ ٹاپ کمپوٹر اور بیرونی ڈرائیو سے ڈیٹا کاپی کیا۔ انہیں لیپ ٹاپ سے ”خفیہ فولڈرز” بھی ملے۔

 دسمبر 02: لندن میں ہائی کورٹ آف جسٹس نے اے آر وائی نیوز چینل کے براڈکاسٹر کو جیو/جنگ گروپ کے ایڈیٹر ان چیف میر شکیل الرحمان کو 185000 پاونڈ ادا کرنے کا حکم دیا۔ یہ حکم جج کے مطابق ہتک عزت کے ایسے 24 پروگرام نشر کرنے پر کیا جن کی کوئی بنیاد نہیں تھی۔

 دسمبر 08: پمرا نے چینل 24 کو اسس الزام کی بنیاد پر نوٹس جاری کیا کہ اس نے پی آئی اے کی پرواز پی کے 661 کی اسلام آباد کے قریب گرنے کی ”جعلی آڈیو” نشر کی۔

 http://tribune.com.pk/story/1257457/pemra-issues-notice-channel-24-airing-fake-audio-clip-crashed-pia-flight/

 دسمبر 10: طالبان نے جننوبی وزیرستان کے رستم بازار، وانا میں دستی پیغامات تقسیم کیے جن میں قبائلی صحافیوں پر جانبدارانہ رپورٹنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کو خطرناک نتائج کی دھمکی دی۔ فریڈم نیٹ ورک نے بھی اس پیغام کی پشتو زبان میں کاپی حاصل کی ہے۔

 دسمبر 21: لندن یں ایک قاننونی سماعت کے دوران ججج سر ڈیویڈ ایڈی نے فیصلہ سنایا کہ اے آر وائی نیوز چینل اس کے فیصلے کا خلاصہ 23 دسمبر کو شام چھ بجے،  رات دس بجے اور 3 بجے صبح ہر گھنٹے کے پہلے پانچ منٹ میں نشر کرے۔

 دسمبر 27: صحافتی برادری نے حکومت سے ”صحافیوں کے تحفظ اور فلاح کے بل” کا مسودہ شئیر کریں اس کی منظوری سے قبل۔

http://www.dawn.com/news/1304894

دسمبر 28: پاکستان کے اٹارنی جنرل نے وزارت داخلہ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈویژن کو تجویز دی کہ وہ اعلی عدلیہ کے خلاف سوشل میڈیا پر ہتک آمیز کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے جس میں دو سے پانچ سال قید کی سزا بھی دی جاسکے۔

http://www.dawn.com/news/1305117

زرایع ابلاغ پر ايک نظر – نومبر 2016

نومبر 1: پاکستان تحریک انصاف کے مشتعل کارکنوں نے صوابی کے قریب اسلام آباد کی جانب مارچ کے لیے کوشش کے دوران نجی چینل جیو کی سیٹلائٹ وین پر حملہ کیا۔

http://www.dawn.com/news/1293594/infuriated-pti-workers-attack-geo-news-van-in-swabi

نومبر 1: وزیر اعظم نواز شریف سیرل المائڈا کی ڈان میں خبر کی تحقیقات کے لیے اعلی اختیاراتی کمیٹی تشکیل دیں گے۔ .

http://www.dawn.com/news/1293337/pm-to-finalise-high-powered-body-to-investigate-leak-nisar

نومبر 2: معروف صحافی حامد میر کو دی ہیگ میں ”موسٹ رزیلینٹ جرنلسٹ” کا ایوارڈ دیا گیا۔ وہ 2014 میں کراچی میں ایک جان لیوا حملے میں شدید زخمی ہوئے لیکن بچ گئے تھے۔

نومبر 7: وفاقی حکومت نے سابق جج جسٹس عامر رضا خان کو سیرل المائڈا کی روزنامہ ڈان کی خبر کی تحقیقات کے لیے کمیٹی کا سربراہ مقرر کر دیا۔

http://tribune.com.pk/story/1223374/govt-forms-inquiry-committee-probe-dawn-leaks/

نومبر 7: پمرا نے اے آر وائی نیوز چینل پر پانامہ لیکس پر انتہائی تنقیدی پروگرام کرنے پر ”غیر پیشہ ورانہ اور سنسنی خیز تجزیوں” کا الزام عائد کرتے ہوئے نوٹس جاری کیا۔ چینل کو 14 نومبر تک جواب دینے کی مہلت دی گئی ہے۔

نومبر 12: رینجرز حب پریس کلب کے صدر مور الیاس کمبوہ کی حب میں رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور تلاشی لی۔ صحافی کو رینجرز حکام نے تحقیقات کا کوئی وارنٹ نہیں دیکھایا۔ انہیں صحافی کے بقول تلاشی کے دوران کچھ نہیں ملا۔

نومبر 17: ایک تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان انٹرنٹ آذادی کے اعتبار سے دنیا کے دس بدترین ممالک میں سے ایک ہے۔

http://www.dawn.com/news/1296904/pakistan-ranked-among-worst-10-countries-for-internet-freedom-report

نومبر 21: کرم قبائلی ایجنسی کی پولیٹکل انتظامیہ نے قبائلی صحافی انور شاہ اورکزئی کو ساڑھے تین گھنٹوں حراست میں رکھا۔ ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں ان کی بدعنوانی سے متعلق رپورٹنگ کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

نومبر 21: کیبل آپریٹرز پاکستان میں ڈی ٹی ایچ سروس کی نیلامی کے خلاف بطور احتجاج ہڑتال پر چلے جاتے ہیں۔

http://www.dawn.com/news/1297734/cable-services-remain-suspended-for-indefinite-period-across-country

نومبر 24: پاکستان میں پہلی مرتبہ ڈی ٹی ایچ لائسنس کی چودہ ارب روپے سے زائد میں کامیاب نیلامی ہوئی۔

http://tribune.com.pk/story/1242918/pakistans-first-dth-licences-auctioned-rs-14-69-billion/

نومبر 26: سپریم کورٹ کے ایک جج کے خلاف خبر چلانے پر پمرا نے دو ٹی وی چینلز کے لائسنس معطل کر دیئے۔

http://tribune.com.pk/story/1245715/irresponsible-analysis-pemra-suspends-licences-three-channels/

نومبر 26: صحافی خالد محمود بٹ اور ان کے بیٹے کو ساہیوال ضلع میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ہلاکت کی وجہ واضح نہیں۔ صحافی کا تعلق اہل تشیح سے تھا۔

نومبر 29: لاہور میں ایک استاد سائبر کرائم کے قانون کے تحت ملزم کو سزا دلوانے میں کامیاب۔

http://www.dawn.com/news/1299522/undeterred-by-blackmail-teacher-gets-cyber-crime-accused-convicted


زرایع ابلاغ پر ايک نظر – اکتوبر 2016

چار اکتوبر: الیکٹرانک میڈیا ریگولٹری اتھارٹی پمرا کا اعلان کہ بھارتی مواد نشر کرنے پر لائسنس منسوخ کرنے کی دھمکی دی۔ یہ اعلان پاکستان اور انڈیا کے درمیان بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اوڑی حملے کے بعد کشیدہ صورتحال کے تناظر میں کیا گیا۔

سات اکتوبر: صوبہ بلوچستان کے پشین ضلع میں آج ٹی وی کے رپوٹر پر تین افراد نے گاڑیوں کے غیرقانونی کاروبار سے متعلق رپورٹ کے بعد حملہ کیا۔ صحافی کو چوٹیں آئیں اور انہیں علاج کے لیے ہسپتال لیجایا گیا۔ پولیس نے تین افراد جن میں سے ایک حملہ آور بھی تھا گرفتار کر لیا ہے۔

دس اکتوبر: ایف آئی اے نے ایک شخص کو ایک عورت کو آن لائن ہراساں کرنے کے الزام میں سائبر کرائم ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا۔

http://www.dawn.com/news/1289272/fia-arrests-man-for-harassing-woman-online

گیارہ اکتوبر: چھ اکتوبر کو روزنامہ ڈان میں ایک تحقیقاتی رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد نامہ نگار سرل المائڈا کو حکومت نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا۔

چودہ اکتوبر: حکومت ڈان کے نامہ نگار سرل المائڈا کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرنے کا اعلان کرتی ہے۔

بائیس اکتوبر: کے ٹو چینل کی رپورٹر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا جب ایک حکومتی اہلکار نے انہیں دھپڑ مارا۔

http://www.dawn.com/news/1291551/case-against-manhandled-reporter-amid-media-debate

چوبیس اکتوبر: سندھ رینجرز سما ٹی وی کے رپورٹر خرم گلزار کو کئی گھنٹوں تک گھر سے لیجانے کے بعد زدوکوب کرتی ہے۔ انہیں کئی گھنٹوں بعد رہا کیا گیا اور ان کے جسم پر تشدد کے نشانات واضح تھے۔

http://www.fnpk.org/sindh-rangers-tortures-samaa-tv-reporter-in-karachi/

انتیس اکتوبر: روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے تنازع پر وفاقی حکومت پرویز رشید سے ان کا اطلاعات کا قلمدان واپس لے لیتی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا کہ خفیہ ادارے کے اہلکار اس رپورٹ کی مزید تحقیقات کریں گے۔ یہ خبر ریاستی اداروں کے درمیان اختلافات پر مبنی تھی۔

اکتیس اکتوبر: پمرا بچوں کے چینل نیکلڈن ٹی وی کے لینڈنگ رائٹس منسوخ کر دیے۔ اس پر الزام تھا کہ وہ بھارتی مواد نشر کر رہا تھا۔


زرایع ابلاغ پر ايک نظر- ستمبر 2016

یکم ستمبر: اے آر وائے نیوز چینل کے مطابق بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں مقامی رپورٹر کو وزیر اعظم نواز شریف کی ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح کی تقریب میں شرکت سے منع کر دیا گیا۔

دو ستمبر: لاہور ہائی کورٹ نے بھارتی میگزین ”انڈیا ٹوڈے” کی ویب سائٹ پاکستان میں بلاک کرنے کی اجازت نہیں دی جن اس رسالے نے بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی فوٹوشاپ جعلی تصویر پہلے صفحے پر شائع کی تھی۔

http://tribune.com.pk/story/1175357/lhc-rules-blocking-india-today-website/

تین ستمبر: 92 نیوز چینل کی اینکر آیزا حزب اختلاف کے رہنما عمران خان کی لاہور میں ایک احتجاجی ریلی میں ایک کرین سے گرنے کے باوجود محفوظ رہیں۔

چھ ستمبر: الیکٹرانک میڈیا کے نگران ادارے پمرا نے جیو نیوز چینل کو امریکہ میں پاکستان کے سفیر سے متعلق ”غلط” حبر نشر کرنے پر اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا۔

https://twitter.com/pressfreedompk

آٹھ ستمبر: وزراء کے ایک بین الصوبائی اجلاس میں ایف آئی اے کو سائبر کرائم کی تجویز دی۔

http://tribune.com.pk/story/1178998/panel-wants-federal-investigation-agency-probe-cybercrimes/

سولہ ستمبر: ایک اقلیتی گروپ کے خلاف مواد نشر کرنے پر پمرا نے نیو نیوز اور 92 چینل کے خلاف نوٹس لینا۔

http://tribune.com.pk/story/1182405/pemra-takes-notice-tv-programmes-targeting-minority/

سولہ ستمبر: مہمند ایجنسی حکام نے کئی ٹی وی صحافیوں کو یکاغونڈ کے مقام پر داخلے سے روک دیا جہاں وہ انبار کے علاقے مییں ایک مسجد میں خودکش حملے کی کوریج کے لیے جانا چا رہے تھے۔ اس دھماکے میں چھتیس افراد نے جان کھوئی تھی۔

سترہ ستمبر: حکام نے غلنئی کے قبائلی صحافیوں کو انبار میں مسجد میں ہوئے خودکش حملے کی جا کر کوریج کرنے سے یہ کہتے ہوئے روک دیا کہ انہیں ”سکیورٹی خدشات” ہیں۔

انیس ستمبر: خیبر پختونخوا اسمبلی ویسل بلور پروٹیکشن اینڈ ویجلنس بل کی منظوری دیے دیتی ہہے۔

انیس ستمبر: حکمراں مسلم لیگ نون کے ایک کارکن نے صحافی نواز طاہر پر لاہور پریس کلب میں حملہ کیا۔ کلب انتظامیہ نے حملہ آور کو گرفتار کروانے کے لیے پولیس طلب کر لی۔

چوبیس ستمبر: گاڑی میں سوار دو مسلح افراد نے آج ٹی وی کے اینکر رانا مبشر کی گاڑی جو اس وقت ان کا بیٹا چلا رہا تھا زبردستی روکا۔ رانا گاڑی میں اس وقت موجود نہیں تھے۔ رانا کے مطابق وہ یہ بعد میں کہتے ہوئے چلے گئے کہ ”پھر کبھی سہی”۔ کوہسار پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔

انتیس ستمبر: پولیس کے مطابق جنگ گروپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد عبداللہ کو پشاور میں پرنٹنگ پریس کے دورے سے واپسی پر نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا۔

تیس ستمبر: پولیس کے مطابق جنگ گروپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد عبداللہ خیریت سے اسلام آباد میں اپنے دفتر پہنچ گئے۔ انہیں گزشتہ روز پشاور میں پرنٹنگ پریس کے دورے سے واپسی پر نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا تھا۔

ISLAMABAD – Two unidentified gunmen Thursday forcefully intercepted a car belonging to prominent Aaj TV anchor Rana Mubashir which was being driven by his son. They did no physical harm.

Mubashir was not in the vehicle at the time of the incident that occurred near D-Square on Jinnah Avenue. He told JournalismPakistan.com the gunmen had come looking for him. “They were in a silver-colored Honda Civic bearing registration No. SC 16 and hit the side mirror of my car before intercepting it,” Mubashir said. “One of them was carrying a Kalashnikov while the other had a small weapon.”

He said “they were probably disappointed not to find me in the car and left saying some other time perhaps.” Mubashir said he had no enmity with anyone.

Kohsar Police Station are investigating the incident.


زرایع ابلاغ پر ايک نظر – جولائی 2016

4 جولائی: سپریم کورٹ نے پیمرا کو ہدایت کی کے تمام نجی چینلجز کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔

http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/07/160704_supreme_court_pemra_inam_ghar_ban_sh

5 جولائی: آج کے دن پریس کی آزادی کو جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاء کی بدولت شدید جھٹکا لگا۔

15 جولائی: قبائلی صحافی خان زمان کو ضلع ہنگو سے پولیس اور سادہ لباس پہنے ہوئے لوگ اغوا کر کے لے گئے۔

17 جولائی: قبائلی صحافی خان زمان ہنگو سے اغوا ہونے کے بعد گھر واپس پہنچ گئے اور یہ اعتراف کیا کہ اغوا کاروں نے اس پر تشدد کیا اور ان سے پوچھا کہ ” وہ کیوں تنقیدی رپورٹیں فائل کر رہے ہیں۔”

18 جولائی: ایک مذہبی گروہ نے جو سزا یافتہ قاتل ممتاز قادری کی حمایت کرتا ہے لاہور پریس کلب کے باہر احتجاج کیا اور میڈیا کو ”یہودی میڈیا” قرار دینے کے ساتھ ساتھ میڈیا پر یہ الزام لگایا کہ وہ انہیں کوریج فراہم نہیں کرتا۔

19 جولائی: خواتین صحافیوں کو دھمکیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں صحافیوں کے خلاف آن لائن بےعزتی کا سلسلہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

. http://www.bbc.com/news/world-asia-36824514

21 جولائی: سپریم کورٹ نے پیمرا کو ہدایت کی کہ عدلیہ کے خلاف مہم چلانے والے چینلز کے خلاف ایکشن لیا جائے۔

http://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=22_07_2016_005_004

25 جولائی: اسلام آباد میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے دفتر کے باہر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے صحافیوں پر تشدد کیا۔ پارٹی رہنما عمران خان نے واقعے پر معافی مانگی۔

27 جولائی: فیس بک پر نفرت انگیز مواد ڈالنے پر ٹوبا ٹیک سنگھ میں پولیس نے دو افراد کے خلاف کیس درج کر لیا۔

http://www.dawn.com/news/1274364/terror-case-against-two-for-hate-posts-on-facebook

28 جولائی: شوکت ننوری کے والد کو قتل کر دیا گیا۔ شوکت ننوری کا، جو خیر پور میں سندھ نیوز کے لیے کام کرتے ہیں، ماننا ہے کہ ان کے والد کا قتل ان کی رپورٹنگ کی وجہ سے ہوا۔

http://www.fnpk.org/journalists-father-murdered-in-sindh-province

29 جولائی: مختلف گروپ، جو انٹرنیٹ آزادی کے حامی ہیں، کی طرف سے احتجاج کے باوجود سینیٹ نے ”الیکٹرانک جرائم کی روک تھام2015 “  کا بل منظور کر لیا۔ ان گروپوں کا ماننا ہے کہ یہ بل ملک میں آن لائن آزادی کے لیے ایک دھچکا ہے۔

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn