کسی صحافی کے اغوا کی صورت میں ردعمل

صحافیوں کا اغوا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہم نے یہ اسی اور نوئے کی دہائی میں اے پی کے ٹیری اینڈرسن، گارڈین کے ڈیوڈ ہرسٹ اور اے بی سی کے چارلس گلاس کے ساتھ ہوتے دیکھا گیا۔

اس کے بعد پاکستان میں وال سٹریٹ جرنل کے ڈینیل پرل کا اغوا ہوا اور ان کا سر تن سے جدا کیا گیا اور عراق میں کرسچن سائنس مانیٹر کی جِل کیرول کو اغوا کیا۔

لیکن صحافیوں کے اغوا کے واقعات میں تیزی سے اضافے، صحافیوں کا ایک دوسرے گروپس کے درمیان تجارت اور ان کے ساتھ جو رویہ اپنایا گیا اس نے اسے مشرق وسطی میں حالیہ برسوں میں ایک قابل ذکر رجحان بنا دیا ہے۔

نیوز اداروں کے لیے اغوا سب سے بڑی مشکل ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ ان کے حق میں کم ہی اہم پہلو ہوتے ہیں۔ جب کوئی ادارہ اس کے لیے تیار نہ ہو تو خصوصا یہ اس وقت مزید مشکل بن جاتی ہے کیونکہ یہ اس ادارے کے ابتدائی چند گھنٹوں میں سست ردعمل کا سبب بن سکتے ہیں۔

ہنگامی صورتحال کے لیے منصوبہ بندی

ابتدائی طبی امداد اور تحفظ سے متعلق تربیت کے علاوہ، اداروں کو جو صحافیوں کو کسی لڑائی والے علاقے میں بھیجنے سے قبل پہلے سے ہنگامی صورتحال کی متفقہ منصوبہ بندی طے ہونی چاہیے۔

یہ ضروری نہیں کہ اس تمام منصوبے کی ہر تفصیل سے سب واقف ہوں، لیکن یہ ضروری ہے کہ تمام میڈیا اداروں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایسی ایک منصوبہ بندی موجود ہے۔ یہ اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ کوئی ایسی معلومات تقسیم نہ کی جائیں جو یرغمال صحافی کو نقصان کا سبب بنیں۔ یہ خطرہ جونئیر ٹیم یا ان افراد کے جو بحران سے نمٹنے والی ٹیم کا حصہ نہیں کو اگر اغوا کے بارے میں پہلے معلوم ہونے سے بڑھ جاتا ہے۔

خطرات کا جائزہ اور معلومات کی تقسیم کا منصوبہ پہلے سے طے ہو جیسے کہ صحافی کے قریبی اہل خانہ اور وہ معلومات جو زندہ ہونے میں مدد دی سکتی ہیں۔

ہنگامی پلان میں:

۔ ادارہ کیسے اس صورتحال سے نمٹے گا اس کا خاکہ مہیا کرے۔

۔ اس میں یہ شامل ہو کہ اس بحران سے کون نمٹے گا، کون سے وسائل دستیاب ہوں گے اور حکمت عملی کیا ہوگی۔

۔ اگر کوئی ایسا واقع ہوتا ہے تو اس میں معمول کی سرگرمیاں جاری رکھنے کی تفصیل شامل ہو۔

اغوا اور انشورنس برائے تاوان

یہ خصوصی انشورنس خفیہ، سیاسی طور پر حساس اور عموما بیرون ملک کی جاتی ہے۔ جب کسی کمپنی کو یہ حاصل ہو تو کس قسم کی یہ انشورنس ہے، اور یہ کیسے حاصل کی جاسکتی ہے یہ ہنگامی منصوبہ بندی کا حصہ بن جاتی ہے۔

اغوا اور انشورنس برائے تاوان عموما دو قسم کی ہوتی ہیں جو ایک ساتھ لی جاتی ہیں۔ پہلی انشورنس اغوا سے جڑے اخراجات جیسے کہ لامحدود مشاورت (کنسلٹنسی) پر آتے ہیں جو کسی طویل اغوا کی صورت میں اہم ہوتی ہے۔ دوسری انشورنس تاوان کی ادائیگی سے متعلق ہوتی ہے۔ اسے عام طور پر غلط سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ اگرچہ یہ آپ کو حاصل ہے آپ کو پھر بھی تاوان کی رقم کا پہلے بندوبست کرنا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے یہ پالیسیاں انتہائی خفیہ ہوتی ہیں۔ جن افراد پر ان کا اطلاق ہوتا ہے انہیں بھی یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کورڈ ہیں اور کمپنیاں اسے مشتہر نہیں کرتی ہیں کہ انہوں نے اسے حاصل کیا ہوا ہے۔

کوئی بھی یہ پالیسی لے سکتا ہے، لیکن اس کی قیمت افراد، ان کے پروفائل، خطرات اور علاقے کی وجہ سے مختلف ہوں گی۔ منصوبہ بندی اور تربیت کے ذریعے افراد اس کی قیمت کو کم کرسکتے ہیں اگر وہ اس ثابت کریں کہ انہیں خطرات کا کتنا ادراک ہے۔ چند معروف ادارے جیسے کہ مارشا، آون، ویلس، جے ایل ٹی اور لوکٹن کو معلوم ہے کہ وہ ایسی انشورنس کہاں سے حاصل کرسکتے ہیں۔

خاندان کے ساتھ رویہ

جب کوئی صحافی اغوا ہو تو مختلف متعلقہ لوگ ملوث کیے جاسکتے ہیں ۔ خاندان، ملازمت دینے والے، حکومت، انشورنس کمپنیاں اور ریکوری ٹیمز ۔ اور ان مختلف گروپوں کے مفادات میں توازن رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔

خاندان اور نیوز ادارے کو حکومت کے ساتھ رابطے میں رہنا چاہیے۔ تاہم تناو اکثر پیدا ہوتا ہے جب یہ دو گروپ ایک دوسرے کو سمجھ نہیں پاتے ہیں۔ حکومتیں اپنے ردعمل کی وجہ سے مختلف طریقے سے کام کرتی ہیں، جن میں بعض جیسے کہ برطانیہ اور امریکہ ہیں جو مذاکرات نہیں کرتیں اور نہ تاوان پر غور کرتی ہیں۔

اغوا شدہ صحافی کا خاندان شدید تناؤ اور بےیقینی کی صورتحال سے گزرتے ہیں اور ان کی جذباتی قربت کی وجہ سے ان سے مذاکرات یا تحقیقات میں کلیدی کردار ادا کرنے کے لیے نہیں کہا جاتا ہے۔ بعض اوقات ایسے فیصلے کیے جاتے ہیں کہ ان سے بعض معلومات دور رکھی جاتی ہے تاکہ وہ مزید جذباتی دباؤ میں نہ آئیں۔ البتہ وہ عمومی طور پر آگاہ ساتھی رہتے ہیں اور جو رہائی کی کوشش کے دوران پرخطر فیصلے انہیں پر چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔

ایک بات واضح ہے، تاہم کہ اغوا شدہ صحافی کے خاندان پر دباؤ اور ذمہ داری نیوز ادارے سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ تاوان کی ادائیگی کے بعد یا مذاکرات کے ذریعے رہائی کے بعد بھی ادارے پر لازم ہوگا کہ وہ اس فرد اور اس کے خاندان کی کئی طریقوں سے طویل عرصے تک مدد جاری رکھیں گے۔

اغوا کی کوریج

جب امریکی صحافیوں سٹیون سوٹلوف اور جیمز فولی کا اغوا ان کے قتل پر ختم ہوا تو نیوز اداروں کو اغوا کاروں کی جانب سے آن لائن پر جاری کی گئی ویڈیوز کو نشر یا شئیر کرنے جیسے کئی اخلاقی تحفظات کا سامنا تھا۔ نیوز اداروں نے اس پر تفصیلی بحث کی اور ان کے فیصلے کا بنیادی محور اداراتی اقدار جیسے کہ شرافت اور نجی معلومات کا تحفظ موت کے وقت، اس کے خاندان، دوستوں اور عوام پر اثرات شامل تھا۔

اغوا کی کسی بھی موقع پر کوریج کیسے کی جائے، اس بارے میں کئی سوالات ہیں جن کا مدیروں اور نیوز مینجرز کو خیال رکھنا چاہیے۔

۔ کیا کسی صحافی کے اغوا کو کسی دوسرے شخص کے اغوا سے زیادہ کوریج دینی چاہیے؟

۔ کیا آپ کے اپنے سٹاف یا فری لانسر ساتھی کے اغوا کی کوریج کسی دوسرے نیوز ادارے کے صحافی کی کوریج سے مختلف ہونی چاہیے؟

۔ کسی اغوا کی رپورٹنگ کے بلیک آوٹ عوامی آگہی اور صحافیوں کے خطرات کے بارے میں تاثر پر اثرا انداز ہوسکتی ہے؟

۔ اگر کوریج محدود ہے تو اس کی آپ بعد میں وضاحت کیسے کریں گے؟

ان تمام سوالات پر اخلاقیات، تحفظ اور انصاف کے جڑے پہلوں کے تناظر میں انتہائی احتیاط کے ساتھ غور کی ضرورت ہے۔ یہ اچھا ہے کہ ان کے جوابات ضرورت پڑنے سے قبل معلوم ہوں کیونکہ اغوا کے بعد اس کے تناؤ کی وجہ سے ایسے اہم فیصلوں کے لیے وقت کم ہوگا۔

صحافیوں کو تیار ہونا چاہیے

ملازمت دینے والے اداروں کی ذمہ داری اپنے ملازمین اور فری لانسرز کے تحفظ کی۔ لیکن افرادی صحافیوں، جو دونوں مستقل اور فری لانسر ہیں، کے لیے بھی لازم ہے کہ وہ مناسب طریقے سے تیار ہوں، وہ احتیاط سے کام لیں اور اپنے آپ کو اور اپنے ادارے کو اپنے فیصلوں کی وجہ سے مشکل میں نہ ڈالیں۔

ڈیجٹل میڈیا کی موجودگی کی وجہ سے کسی کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ آگاہ ہوں اپنے ڈیجٹل فٹ پرنٹ سے اور کوشش کریں کہ وہ اپنے بارے میں آن لائن معلومات کم سے کم دیں جو ان کے یا ان کے ساتھیوں کو مشکل میں ڈال سکتی ہیں۔

مناسب تربیت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ، رسک اسسمنٹ یا خطرات کا جائزہ مکمل کرنا اور اس کام کے لیے مناسب آلات کا ہونا، خطرناک مقامات پر سرگرم صحافیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے کمپوٹر کو صاف رکھیں، ایک اضافی فون ساتھ رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ جیو لوکیٹر بند یا ہٹا دیئے گئے ہیں۔

کوئی بھی صحافی یا نیوز ادارہ اغوا سے ہونے والے ذاتی، مالی اور اداراتی تقصان سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہوسکتے ہیں لیکن اس مسئلہ کو سمجھنا اور اس کے امکانات کے لیے تیار ہونا خطرات کو کم کرسکتا ہے اور ادارے کے ردعمل کو آسان بنا سکتا ہے۔

بشکریہ: ہنہ سٹرام آئی این ایس آئی کی ڈائریکٹر ہیں اور ”صحافیوں کے اغوا: انتہائی خطرناک علاقوں سے رپورٹنگ” کی مصنفہ بھی۔ یہ ہدایات اسی کتاب سے لی گئی ہیں۔

تصویر: بشکریہ اے ایف پی


کسی بھی احتجا ج کی رپورٹنگ کرنے سے پہلے مندرجہ ذیل چیزوں کا خیال رکھیں

معزز صحافی حظرات،

مندرجہ زیل سفارشات پر عمل کرنے سے ہم اپنے اپ کو کی مشکلات سے بچا سکتے ہيں۔

کیا آپ نے کبھی کسی کشیدہ صورتحال سے نمٹنے کا کورس کیا ہے اور کیا آپ کی طبی تربیت معیار کے مطابق ہے؟ کیا آپ کے پاس کوئی مقامی رابطہ کار یا فکسر موجود ہے؟ کیا آپ کو معلوم ہے کہ مظاہرے کس طرح منعقد ہوتے ہیں اور سکیورٹی فورسز کس قسم کے ہتھیاروں کا استعمال کرتی ہیں اور کیوں؟ آپ کو خود فیصلہ کرنا ہوگا کہ آپ کی کہانی کیا ہوگی۔ کیا آپ کا وہاں جانا ضروری ہے یا پھر آپ کسی اور طریقے سے بھی وہ کہانی حاصل کر سکتے ہیں؟ آپ کو وہاں پہنچنے میں کتنی دیر لگے گی؟

ہنگامی صورتحال میں آپ کے پاس ایک منصوبہ موجود ہونا چاہیے اور آپ کو احتجاج کے روٹ کے ساتھ ساتھ انخلا کے راستوں کا بخوبی طور پر پتہ ہونا چاہیے۔

حفاظت تعداد سے ہے۔ نشریاتی صحافیوں کو چاہیے کے وہ اپنے ساتھ ساتھ تین افراد لے کر چلیں۔ افراد کو چاہیے کہ وہ اپنے ساتھ ایسا شخص لے کر چلیں جو اس جگہ سے بخوبی واقف ہو۔ صبح سویرے جا کر جگہ کے حالات کا پتہ لگائیں۔ وہاں کون کون موجود ہے اور لوگوں کی مصروفیات کیا ہیں؟

آپ اپنی قیمتی اشیاء کہاں رکھیں گے؟

اپنی پریس ایکریڈیشن کی کاپی کے ساتھ اپنے مدیر اور وکیل کے فون نمبر بھی لے کر جائیں۔

اس بات کو پکا کریں کے آپ کے ایڈیٹر کو پتہ ہو کے وہ آپ کے گھروالوں سے رابطہ کس طرح کریں ایسی صورت میں بلفرض جب آپ زخمی یا گرفتار ہوجائیں۔ اس بات کو بھی پکا کریں کے انہیں معلوم ہے کے اس ملک کا قانونی نظام کس طرح کام کرتا ہے تاکہ وہ آپ کو آپ کی گرفتاری کی صورت میں جلد از جلد بازیاب کرا سکیں۔

آپ چاہیں تو حکام کو اس بات سے آگاہ کر سکتے ہیں کہ آپ کا ادارہ اس احتجاج کی کوریج کرنا چاہتا ہے۔ ہوسکے تو سب سے سیئنرافسر کا موبائل نمبر اپنے پاس رکھیں۔ اپنے موبائل کو سپیڈ ڈائل پر رکھیں تاکہ وہ فورا ایمرجنسی نمبر ڈائل کر سکے۔ کوشش کریں کے کسی اونچے مقام سے رپوٹنگ کریں۔

صورتحال کشیدہ ہونے کی صورت میں اپنی ٹیم سے مشورہ کریں کے وہ آپ سے کس محفوظ مقام پر ملیں گے۔

سامان

یقینی بنائیے کے آپ ساتھ مندرجہ ذیل چیزیں لے کر جائیں:

ایک بیگ جس میں قیمتی دستاویزات کی فوٹو کاپیاں موجود ہوں۔ اپنا پاسپورٹ ساتھ نا لے کر جائیں۔

پیسے

جو ادویات ڈاکٹر نے لکھ کر دی ہوں۔

کھانے اور پینے کی اشیاء تاکہ آنسو گیس سے بچا جا سکے۔

ٹارچ اور بیٹریاں۔

چشمے اور ماسک لے کر جائیں۔

سر پر اینٹ لگنے سے بچنے کے لئے حفاظتی ٹوپی لے کر جائیں۔

ایک آگ بجھانے والا آلہ۔

آنکھوں کے لیے قطرے۔

طبی پیک جس میں جلن یا گولیوں کے زخم کے علاج کی چیزیں موجود ہوں۔

ایک نقشہ اور کمپس جو ہنگامی صورتحال میں سمت کے تعین میں مدد کر سکے۔

بہتر ہوگا کے آپ کے پاس ایک گاڑی کشیدہ صورتحال میں پاس کھڑی ہو تاکہ ایمرجنسی کی صورت میں جگہ سے جلد از جلد نکلا جا سکے۔ ڈرائیور تمام وقت گاڑی کے پاس کھڑا ہونا چاہیے۔

فیلڈ میں

جیسے ہی آپ پہنچیں تو باہر نکلنے کے راستے تلاش کریں تاکہ حالت خراب ہونے کی صورت میں آپ وہاں سے باآسانی نکل سکیں۔

کوشش کریں کہ بھیڑ کے گردونواہ میں رہیں اور پولیس اور مظاہرین کے درمیان آنے سے بچنے کی کوشش کریں۔

اپنے ایڈیٹر کو ہجوم کے حال کے بارے میں بتاتے رہیں کیونکہ بھیڑ کا اپنا ہی مزاج اور رویہ ہوتا ہے۔

اگر آپ سمت تبدیل کرنا چاہتے تو ان لوگوں سے مشورہ لیں جنہوں نے حال ہی میں سمت تبدیل کی ہے۔

ٹی وی عملے کو کم سے کم سامان ساتھ لے جانا چاہیے اور جارحیت کی صورت میں ان کے پاس بیگ اتنا بڑا ہونا چاہیے جس میں ان کا ٹرائی پوڈ آسانی سے آ سکے۔

گھوڑوں سے بچنے کی کوشش کریں کیونکہ وہ لات مارتے ہیں۔

INSI بشکريہ

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn