صحافیوں کے تحفظ کیلئے حفاظتی مراکزپروگرام

پاکستانی صحافت کاپس منظر

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں صحافیوں کیلئے خطرات بہت زیادہ ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی سے پاکستان بھر میں صحافیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کئی ایک دشواریاں درپیش ہیں۔ آئے روز صحافت سے وابستہ افراد کودھمکیوں،ذہنی دباوٗ، جسمانی تشدد، اغواء اور ٹارگٹ کلنگ جیسے واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ صحافیوں کے تحفظ اور حقوق کیلئے کام کرنے والی عالمی تنظیموں کے مطابق پاکستان صحافت اورعامل صحافیوں کے کام کے حوالے سے دنیا کے چار خطرناک ممالک میں شامل ہیں جہاں 2000ء سے اب تک ایک سو سے زيادہ صحافی قتل کئے جاچکے ہیں۔ ملک میں صحافیوں، کیمرہ مین اور میڈیا کے دیگر کارکنوں کے قتل، اغواء اورشدید جسمانی تشدد کے بڑھتے واقعات سے صحافی برادری میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

صحافیوں کا قتل، اعدادوشمار کی روشنی میں

مندرجہ بالا اعداد و شمار سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ کئی سالوں سے پاکستانی صحافیوں کو شدید سیکیورٹی خطرات لاحق رہے ہیں اور وہ اپنی حفاظت کے مسائل سے دوچار ہیں تاہم ان خطرات کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ صحافت کے پیشے کو ترک کیا جائے یا دوران ڈیوٹی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے روگردانی کی جائے بلکہ ایسی صورتحال میں صحافیوں کی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں۔ صحافیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ، اپنا اور اپنے خاندان کے تحفظ کے بارے میں بھی غور وفکر کرنی چاہیے۔ ممکنہ خطرات کو مکمل طور پر روکا تو نہیں جاسکتا لیکن بہتر حکمت عملی، خطرات سے آگاہی اور ان سے نمٹنے کی مناسب تربیت، حساس موضوعات پر غیر جانبدارانہ رپورٹنگ اور بہتر انداز صحافت اپنا کر ان خطرات میں کافی حد تک کمی لائی جاسکتی ہے۔ بدقسمتی سے اکثر صحافی اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات اور دھمکیوں کو معمولی نوعیت کا سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں اور انہیں رپورٹ نہیں کرتے جو آگے چل کر خطرناک صورت اختیار کر جاتے ہیں۔

حفاظتی مراکز

صحافیوں کی ان مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے صحافیوں کے تحفظ اور پاکستانی میڈیا پر گہری نظر رکھنے والے ادارے فریڈم نیٹ ورک نے انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ کے تعاون سے ملک کے چھ بڑے پریس کلبوں میں حفاظتی مراکز قائم کئے ہیں جن کے اہم مقاصددرجہ ذیل ہیں۔
صحافتی خطرات کی نشاندہی ، ہر واقعہ، دھمکی اور خطرے کی الگ الگ،درست اور مکمل تفصیل مرتب کرنا
خطرات سے دوچار صحافیوں کو حکومتی اور غیرحکومتی ذرائع سے فوری مدد کیلئے منسلک کرنا
صحافیوں میں خطرات سے آگاہی اور حفاظتی تدابیر کی تیاری کی صلاحیت پیدا کرنا
خطرات سے نمٹنے کیلئے ایک جامع نظام کو پروان چڑھانا
خطرات سے دوچار صحافیوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنا

پاکستان جرنلسٹ سیفٹی فنڈکے ذریعے شدید خطرات سے دوچار صحافیوں کی بروقت امداد کرنا


حفاظتی مراکز سے مدد کا طریقہ کار

پہلے مرحلے میں ملک کے چھ بڑے پریس کلب (پشاورپریس کلب،نیشنل پریس کلب اسلام آباد، لاہورپریس کلب، کوئٹہ پریس کلب، کراچی پریس کلب اور ڈیرہ اسماعیل خان پریس کلب) میں یہ مراکز قائم کئے جاچکے ہیں۔ متاثرہ صحافی ان مراکز میں اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات، خطرات اور دھمکیوں کو من و عن رپورٹ کرتے ہیں۔ مرتب کردہ معلومات کی روشنی میں صحافیوں اور دیگر صحافتی کارکنان کو ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا جاتا ہے اور انہیں حکومتی اور غیرحکومتی مدد کے نظام کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے۔ اگر کسی صحافی کی زندگی شدید خطرے میں ہیں تو انہیں فوری طور پر ملک کے اندر ہی محدود مدت کیلئے کسی محفوظ جگہ پر منتقل کردیا جاتا ہے۔

خواتین صحافیوں کا بھی پاکستانی صحافت میں ایک کلیدی کرداررہاہے۔ انہیں فیلڈ میں درپیش خطرات کے علاوہ دفاتر میں بھی ہراساں کرنے کے واقعات رپورٹ ہوتے آرہے ہیں۔خواتین کوہراساں کرنا بھی ایک سیفٹی مسٗلہ ہے جس کے حل کیلئے خواتین صحافی ہر معمولی واقعے یا ممکنہ خطرے کوان حٖفاظتی مراکز میں رپورٹ کرسکتی ہیں تاکہ ان کی فوری طور پر مدد کی جاسکے۔

 

حفاظتی مراکز کے فوائد

ان مراکز میں صحافیوں کو درپیش خطرات اور دھمکیوں کی مکمل تفصیل مرتب کرنے سے نہ صرف صحافت اور صحافیوں کو لاحق خطرات سے بہتر طور پرنمٹا جاتا ہے بلکہ مسٗلے کی نوعیت اور حساسیت کے مطابق صحافیوں کو امداد بھی فراہم کی جاتی ہے۔

یاد رکھیئے! آپ کا تحفظ آپ کی اپنی ذمہ داری ہے۔ خبر سے زیادہ آپ کی زندگی اہم ہے،اسلیئے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران ہر ممکن احتیاطی اور حفاظتی تدابیر اپنائیں اور درپیش خطرات سے متعلقہ تفصیلات کو فوری محفوظ کریں۔

خطرے کی بروقت نشا ندہی آپ کے تحفظ کی ضمانت ہے

کسی بھی دھمکی ، خطرے یا حادثے کی فوری رپورٹ اورممکنہ امداد کیلئے درجہ ذیل پریس کلب میں حفاظتی مراکز سے رابطہ کریں۔

نام سيفٹی ہب  فون
ای ميل
غلام مصطفی کراچی پريس کلب سيفٹی ہب (سندہ) 03343998485 geomustafa@gmail.com
علی گوھر بٹ لاھور پريس کلب سيفٹی ہب (پنجاب) 03214431826 aligoharbutt@gmail.com
ايوب ترين کويٹہ پريس کلب سيفٹی ہب (بلوچستان) 03337813435  ayubtareenbbc@yahoo.com
سعيد احمد نيشنل پريس کلب سيفٹی ہب (اسلامآباد، گلگت-بلتستان اور آزاد کشمير) 03335111640  saeed.media@gmail.com
گوھر علی پشاور پريس کلب سيفٹی ہب (خيبر پختونخواہ اور فاٹا) 03459054540 aligoh@gmail.com
فضل الرحمان ڈيرہ پريس کلب سيفٹی ہب (خيبر پختونخواہ اور فاٹا) 03355170783  fazaldik@gmail.com
اقبال خٹک قومی کوارڑينيٹر براے جرنلسٹس سيفٹی 03339109144  khattak63@gmail.com

کسی واقعہ کو رپورٹ کرنے کيلے فارم اے (انگريزی اور اردو زبانوں ميں) حاصل کرنے کيلے نیچے لنک پر کلک کريں

Form A – Urdu Version – Threat Monitoring & Documentation

Form A – English Version – Threat Monitoring & Documentation

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn