“صوبہ سندھ میں دو صحافی ”لاپتہ

“صوبہ سندھ میں دو صحافی ”لاپتہ

پاکستان میں میڈیا پر حملوں پر نظر اور تجزیہ

اگست 2017 رپورٹ

پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک نے، جو اسلام آباد میں قائم فریڈم نیٹ ورک چلاتی ہے، اگست 2017 میں سندھ میں دو صحافیوں کے ”لاپتہ” ہونے، نو صحافیوں پر حملے اور انہوں زخمی کرنے، دو کے خلاف سوشل میڈیا میں رائے دینے پر مقدمات درج کرنے، پنجاب پولیس کی جانب سے اپنی تنصیبات کی تصویر بنانے پر پابندی، ایک صحافی کی بلوچستان میں متنازعہ سائبر کرائم کے قانون کے تحت گرفتاری اور ایک اور صحافی کے مکان پر حملہ ریکارڈ کیا۔ یہ خلاف ورزیاں سندھ، پنجاب اور بلوچستان صوبوں میں رونما ہوئیں جبکہ خیبر پختونوا میں ایسا کچھ بھی ریکارڈ نہیں کیا گیا۔

اغواء: غلام رسول برفات اور بادل نوہانی وہ دو صحافی ہیں جو دو مختلف تاریخوں پر لاپتہ ہوگئے۔ یہ گمشدگیاں ایک ایسے وقت ہوئیں جب سندھی قوم پرستوں اور حقوق انسانی کے کارکنوں کے خلاف کارروائی کا سندھ میں آغاز ہوا ہے۔

پانچ اگست 2017 کو سندھ ایکسپریس اخبار کے لیے کام کرنے والے غلام رسول برفات ”لاپتہ” ہوگئے جب انہیں ان کی جامشورو میں سندھ یونیوسٹی ہاؤسنگ سوسائٹی سے اٹھایا گیا۔ خیال ہے کہ وہ جئے سندھ متحدہ محاذ کے شفی محمد برفات کے رشتہ دار ہیں۔ مقامی صحافی کہتے ہیں کہ اکثر رشتہ داروں کو اٹھا لیا جاتا ہے تاکہ مطلوب شخص کو اپنے آپ کو حوالے کرنے پر مجبور کیا جاسکے۔

نو اگست 2017 کو جامشورو پریس کلب کے سیکرٹری جنرل بادل نوہانی کو غیر رجسٹرڈ گاڑیوں میں سوار نقاب پوش افراد ساتھ لے گئے۔ اس کے بعد سے ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ ان کے رشتہ داروں نے ان کی بازیابی کے لیے حیدر آباد پریس کلب کے باہر احتجاج بھی کیا ہے۔

سندھ حکومت کے کسی اہلکار نے ان صحافیوں کی نا تو گرفتاری کی تصدیق کی ہے اور نہ ہی ان کی گمشدگی کی کوئی وجہ بتائی ہے۔ ان کے خاندان اور صحافی ان کے لیے تشویش میں مبتلا ہیں تاہم خوف کی وجہ سے بات کرنے سے کترا رہے ہیں۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ ان صحافیوں کی گمشدگی کی وجہ کیا ہے۔ تاہم ان کا صحافتی پس منظر کافی ٹھوس ہے۔

قانونی مقدمات:  وفاقی تحقیقاتی ادارے نے متنازعہ سائبر کرائم ایکٹ (پی ای سی اے) کے تحت بلوچستان میں نصیر آباد ضلع کے صوبت پور کے صحافی جبار عمرانی پر پانچ اگست 2017 کو مقدمہ درج کیا۔ ایف آئی اے نے یہ قدم صوبت پور میں ایک پولیس افسر نے وقت نیوز کے لیے کام کرنے والے صحافی کے خلاف ”شکایت” کی۔ صحافی نے ایس ایچ او کے بارے میں سوشل میڈیا پر رائے دی تھی۔

جبار بلوچستان کے تیسرے صحافی ہیں جن کے خلاف اس قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اسلام آباد کے جریدے ڈیلی میٹرو گوجر خان تحصیل میں صحافی عبدالستار نیازی کو زبردستی ”حلفیہ بیان” پر دستخط کرنے پر مجبور کیا کہ ”وہ صحافی نہیں ہیں اور آئندہ پھر کبھی (وکلاء کے خلاف) رائے نہیں دیں گے”۔ پولیس نے انہیں اس کے لیے تھانے میں گھنٹوں بیٹھایا جب انہوں نے فیس بک پر ایک تصویر ڈالی جس میں چند وکلاء سرکاری اراضی پر قابض دیکھائے گئے۔

وکلاء نے اپنی درخواست صحافی کے اس بیان کے بعد واپس لے لی اور پولیس نے انہیں تھانے میں کئی گھنٹے رکھنے کے بعد جانے دیا۔ ان کے بقول انہیں زبردستی ”دباو” میں رکھا گیا اور ”بلیک میل” بھی کیا گیا۔

نیازی چوتھے صحافی ہیں سوشل میڈیا پر پوسٹ کی وجہ سے قانونی مقدمے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

حملے: نو صحافیوں پر اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران حملے کئے گئے۔ ان میں سے پانچ پنجاب جبکہ باقی ماندہ چار اسلام آباد میں رپورٹ ہوئے۔

پانچ اگست کو سینر صحافی بول نیوز کے صحافی سدھیر چوہدری پر لاہور میں لبرٹی مارکیٹ میں حملہ ہوا۔ ان پر یہ حملہ لائیو شو کے دوران کیا گیا۔ حملہ آور بعد میں فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ صحافی متنازعہ اینکرپرسن عامر لیاقت کے ساتھ شو کر رہے تھے اور حکمراں جماعت پر تنقید کر رہے تھے۔

10 اگست کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے راولپنڈی ضلع میں فیض آباد کے قریب بول نیوز چینل کے عملے پر حملہ کیا۔ رپورٹر صفدر کلاسر اور ان کی دو خاتون ساتھیوں – محترمہ نایلہ افسر اور محترمہ بینظیر مہدی نے کارکنوں کے غضب کا سامنا کیا۔ ان کے موبائل فون اور دوسرے آلات بھی چھین لیے گئے۔  کلاسرا کو ہسپتال لےجایا گیا۔ راولپنڈی-اسلام آباد صحافیوں کی یونین اور نیشنل پریس کلب سیفٹی ہب کے احتجاج کے بعد 15 اگست کو پولیس نے مسلم لیگ کے کارکنوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔

11 اگست کو مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے مارچ کے دوران گوجرانوالا ضلع، پنجاب میں اے آر وائی نیوز چینل کی ڈی ایس این جی وین پر حملہ کیا۔ وین ڈرائیور اور ڈی ایس این جی کے آپریٹر نے جان بچانے کی غرض سے بھاگ گئے۔ تاہم، پارٹی رہنماؤں نے عملے کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے مداخلت کی۔

11 اگست کو اسلام آباد میں کیمرہ مین شیراز گردیزی نے گجرات میں پولیس تشدد کا سامنا کیا جب وہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ریلی کی کوریج کر رہے تھے۔ پولیس نے فوٹو گرافر کو تصاویر لینے کی اجازت نہیں دی۔ اسی روز راولپنڈی ضلع کے ترنول پولیس سٹیشن کے دائرہ کار میں ایک صحافی کے گھر پر حملہ کیا گیا۔ کیپٹل نیوز چینل کے لیے کام کرنے والے نیر وحید راوت نے اپنے گھر پر حملے کی اطلاع دی۔  تاہم، وہ اور ان کا خاندان محفوظ رہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ ان کی جانب سے ترنول میں اغوا کاروں سے متعلق ایک رپورٹ کے بعد ہوا ہے۔ انہیں ان اغواکاروں کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔

18 اگست کو صحافی بابر انور اور روزنامہ مبلغ کے لیے کام کرنے والے حافظ حسیب نے اسلام آباد میں کشمیر ہاؤس میں “شراب کی بوتلیں اور دیگر قابل اعتراض اشیاء کی موجودگی”  پر رپورٹ شائع کی۔ پھر دونوں نے یہ سٹوری سوشل میڈیا پر شائع کر دی۔ انہوں نے کہا کہ “ہم پر رپورٹ کے بعد بدترین بدترین قسم کا تشدد کیا گیا۔”  کشمیر ہاؤس کی انتظامیہ کی جانب سے صحافیوں کے خلاف ایک رپورٹ بھی درج کی گئی۔

سینسرشپ: پنجاب پولیس کے سربراہ، کپٹن (ریٹائرڈ) عارف نواز نے 22 اگست، 2017 کو پولیس سٹیشنوں اور دیگر قانون نافذ کرنے والی تنصیبات کی فوٹیج بنانے پر پابندی کا حکم دیا۔ صحافی برادری نے اس پابندی کے خلاف احتجاج کیا جس پر پنجاب پولیس نے واضح کیا کہ ذرائع ابلاغ پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوگی۔ پابندی تاہم، کسی بھی صحافی کو پولیس سٹیشن یا کسی اور تنصیبات کے اندر موبائل کیمرے کے ساتھ جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

مختلف میڈیا کے خلاف دھمکی، حملے اور ہراسیت

سات صحافی کو یاتو لاپتہ ہوگئے، گرفتار یا حراست میں لئے گئے، جن پر حملے ہوئے یا زخمی ہوئے، قانونی مقدمات جن کے خلاف درج ہوئے، یا گھر پر حملے ہوئے سب پرنٹ صحافت سے منسلک تھے جبکہ چار کا تعلق الیکٹرانک میڈیا سے تھا۔

صحافیوں اور میڈیا کو دھمکی اور ہراساں کرنے والے

خطرناک فریقین میں پاکستان مسلم لیگ (نواز)، پنجاب پولیس، وفاقی تحقیقاتی ادارہ، وکلاء اور نامعلوم عناصر شامل تھے جنہوں نے سندھ میں دو صحافیوں کو غائب کردیا۔

کامیاب کہانیاں

  • بلوچستان کے خاران ضلع میں خاران پریس کلب اس وقت دوبارہ کھول دیا گیا جب کوئٹہ پریس کلب سیفٹی ہب مینیجر اور صحافیوں کی بلوچستان یونین، پریس کلب کے رہنماؤں نے پریس کلب کو تمام ممکنہ تعاون کی یقین دہانی کروائی اور پریس کلب کھلوانے کی مشترکہ کوشش کی۔ ممنوع بلوچ علیحدگی پسند گروہ “بلوچ لبریشن آرمی” کے دباؤ کے تحت کلب اس سال 27 جولائی کو بند کر دیا گیا تھا۔ مشترکہ کوششیں تیز تھیں جن کے نتیجے میں تین روز بعد پریس کلب دوبارہ کھول دیا گیا۔

 

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -