خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ مقامی صحافیوں کے بدستور غیر محفوظ

خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ مقامی صحافیوں کے بدستور غیر محفوظ

گوہر علی خان

قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں دہشت گردوں، انتہاپسندوں اور عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی نے جہاں لاکھوں قبائلیوں کو بے گھر کر دیا وہاں اس علاقے میں میڈیا کے نمائندے کیسے متاثر ہوئے بغیر رہ سکتے تھے۔ ان کی اکثریت آج بھی باڑہ سے باہر رہنے پر مجبور ہیں۔ تحصیل باڑہ جو کبھی خیبر ایجنسی کا سب سے بڑا کاروباری مرکز مانا جاتا تھا۔ پورے پاکستان سے تاجر یہاں آ کر روزانہ کروڑں روپیے کی خریداری کیا کرتے تھے۔ زوال اس وقت  شروع ہوا جب کئی جنگجو اور عسکریت پسندوں نے اس علاقے کا رخ کرتے ہوئے اپنے ٹھکانے بنائے اور تشدد کاسلسلہ شروع کیا۔ باڑہ میں 2008 میں دہشت گردی نے زور پکڑا جب کئی مسلح تنظیموں نے جس میں لشکر السلام، توحیدالاسلام، تحریک طالبان پاکستان اور دیگر گروپوں نے اپنی پناہ گاہیں بنائیں۔ علاقے کے صحافیوں نے جب اپنا پیشہ ورانہ کردار ادا کرنے کی کوشش کی تو انہیں بھی مختلف طریقوں سے ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا۔ 2009 کے اواخر میں حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ لاکھوں افراد نے باڑا سے نکل مکانی کی اور پشاور کے علاوہ دیگر شہروں اور قصبوں میں پناہ لے لی۔ ایک بڑی تعداد حکومت کے قائم کردہ کیمپوں میں مقیم ہوگئی۔ اہل قلم اور صحافیوں نے بھی اپنی اور اپنے خاندان کی زندگیاں بچانے کے لیے باڑہ سے نکل مکانی کی۔ اس وقت باڑہ میں کل 18 صحافی تھے جو علاقے کی ترقی اور حقوق کے لیے آواز اٹھاتے تھے۔ کئی صحافیوں کو فون اور کئی کو خطوں کے ذریعے اور کچھ کو ایف ایم چینلز پر دھمکیاں ملنے لگیں۔ اس صورت حال اور غربت کی وجہ سے متعدد صحافیوں نے اپنے پیشے کو خیرباد کہہ دیا اور حصول رزق کے لیے  پنجاب کا رخ کرکے وہا ں ملازمتیں کرنے لگے۔ ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہنے والے باڑہ کے صحافی نور حلیم کا کہنا ہے کہ سچ لکھنے کی پاداش میں ان کا مکان تباہ ہوا۔ انہوں نے پنجاب میں ماربل کا کاروبار شروع کیا جس سے وہ کافی مطمئن ہیں۔ اب انہیں نامعلوم افراد کی طرف سے نہ تو دھمکیاں ملتی ہیں نہ وہ تنگ کرتے ہیں۔ 2010 میں لشکر اسلام نامی تنظیم کے سربراہ منگل باغ نے اپنے ایک ریڈیو پیغام میں باڑہ کے صحافی نصراللہ آفریدی کو دھمکی دی اور اس کے چند دنوں بعد پشاور صدر میں ان کی گاڑی میں بم رکھ کر انہیں شہید کر دیا۔ اس واقع کے بعد نہ صرف تحصیل باڑہ بلکہ پورے خیبر ایجنسی کے صحافیوں نے بھی خطرہ محسوس کیا تاہم زیادہ تر نے کسی خوف کی پرواہ کیے بغیر اپنا کام جاری رکھا۔ چند تو یہ بھی کہتے تھے کہ جان ہے تو جہان ہے۔ ان میں ایک نام قادر خان آفریدی کا بھی ہے جو اپنے خاندان کے ہمراہ باڑہ سے پنجاب منتقل ہو چکے ہیں۔ ناصرف باڑہ کے صحافی بکھر گئے بلکہ باڑہ میں پریس کلب پر سکیورٹی فورسز نے قبضہ کرکے وہاں اپنا مورچہ بنا لیا۔ نہ تو صحافیوں کی زندگی محفوظ تھی، نہ ان کا گھر بار اور نہ ہی ان کا پریس کلب بچا تھا۔ تو اب بھی نہ صرف طالبان، لشکر السلام وقفے وقفے سے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں بلکہ ان میں داعش کے نام سے ایک اور تنظیم کا اضافہ بھی ہوچکا ہے۔ دو سال قبل ہی پشاور اور خیبر ایجنسی کی سرحد پر ایک خودکش حملے میں باڑہ کے ایک صحافی اور ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس خیبر ایجنسی کے صدر محبوب شاہ آفریدی کو شہید کیا گیا۔ اسی طرح گزشتہ ایک سال سے پورے خیبر ایجنسی کے صحافیوں کو لشکر اسلام، داعش اور جماعت الاحرار نامی تنظیموں کی جانب سے اپنے خلاف خبروں کو روکنے کے لیے صحافیوں کو مختلف طریقوں سے مسلسل ڈرایا دھمکایا جاتا رہا ہے۔ بڑی تعداد میں آئی ڈی پی باڑہ واپس جانے کے باوجود کئی صحافی اپنے علاقوں کو جانے کے لیے تیار نہیں۔ کیوں کہ ہفتے میں ایک بار باڑہ اور تیراہ میں کوئی نہ کوئی واقعہ ضرور ہوتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں دھشت گرد اب بھی موجود ہیں اور اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہوئے ہیں۔ اس وقت بھی باڑہ میں عملداری صرف سکیورٹی فورسز کی ہے۔ آئے دن کرفیو نافذ ہوتا ہے اور تمام راستے بند ہو جاتے ہیں۔ اگر باڑہ کا صحافی اپنے علاقے جانا چاہتا ہے تو ان کو سکیورٹی فورسز سے این او سی  لینا پڑتی ہے۔ ان حالات میں باڑہ میں رہ کر رپورٹنگ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سال  2015-16 میں جب حالات میں کسی حد تک تبدیلی آئی تو ایک دو صحافی باڑہ واپس گئے تھے مگر 2017 شروع ہوتے ہی وہ خاموشی کے ساتھ واپس نکل گئے کیونکہ دھشت گردوں نے اپنے پنجے دوبارہ گاڑھ دئیے ہیں۔ انہوں نے بعض صحافٰیوں کے مکانات پر حملے کئے ہیں اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ تحصیل باڑہ پریس کلب کے صدر حسین آفریدی نے اس حوالے سے کہا کہ تحصیل باڑہ کا 70 فیصد علاقہ اب بھی مقامی صحافیوں کے لیے غیر محفوظ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باڑہ پریس کلب کے زیادہ تر ممبران اس وقت اپنے علاقوں سے باہر رہائش اختیار کرنے اور وہیں سے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ انہیں ریاستی اور غیرریاستی عناصر دونوں سے خطرات لاحق ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ باڑہ پریس 2002 کے بعد سے عملاً بند ہو چکا ہے اس کا بنیادی ڈھانچہ بھی تباہ ہو چکا ہے۔ اسے بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن پولٹیکل انتظامیہ ان کے ساتھ قطعی طور پر تعاون نہیں کر رہی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ باڑہ پریس کلب کے 30کے قریب ممبران ہیں مگر ان میں زیادہ ممبران باڑہ میں مقیم نہیں ہیں۔ حال ہی میں باڑہ پریس کلب کے سابق صدر خیال مت شاہ کو بھی دھمکیاں ملی ہیں لہٰذا ایسے حالات میں باڑہ کے صحافی کیسے خود کو محفوظ سمجھ سکتے ہیں یا وہ باڑہ میں پریس کلب میں بیٹھ سکتے ہیں۔

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -