ظفر اچکزئی: سوشل میڈیا کے استعمال پر مقدمہ

ظفر اچکزئی: سوشل میڈیا کے استعمال پر مقدمہ

ایوب ترین

بلوچستان کے 28 سالہ نوجوان صحافی ظفر اللہ اچکزئی کا تعلق کوئٹہ سے شائع ہونے والے اردو اخبار روزنامہ قدرت سے ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کوئٹہ سے حاصل کرنے کے بعد بلوچستان یونیورسٹی سے صحافت میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور 12 سال قبل روزنامہ دنیا سے بحیثیت مضمون نویس وابستہ ہوگئے۔ انہیں سال 2008 میں نوجوان صحافی کا صوبائی یوتھ ایوارڈ ملا جبکہ سال 2010 میں صدر مملکت کی جانب سے نیشنل یوتھ صحافی کاایوارڈ کے حق دار قرار پائے۔ یہ ایوارڈ انہوں نے سابق گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار علی مگسی سے 23 مارچ 2011 کو کوئٹہ کے گورنر ہاوس میں میں وصول کیا۔

ظفراللہ اچکزئی کو 25 جون کی صبح نامعلوم مسلح افراد کوئٹہ میں ان کی رہائش گاہ سے اٹھا کر لے گئے۔ تین روز بعد 28 جون کو ان کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے ) نے سائبر کرائم کے قانون کے تحت مقدمہ درج کرکے انہیں عدالت میں پیش کر دیا۔ بعد ازاں انہیں 4 جولائی کو 80 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے پر رہا کر دیاگیا۔ رہائی کے بعد فریڈم نیٹ ورک نے ظفر اچکزئی سے چند سوالات کیے جن کے جوابات پیش خدمت ہیں۔

فریڈم نیٹ ورک:  آپ یہ بتایں کہ آپ گرفتار ہوئے اور ایف آئی اے نے آپ کے خلاف سوشل میڈیا پر لکھنے کے باعث مقدمہ درج کیا لیکن گرفتاری سے پہلے آپ سوشل میڈیا پر ایسا کیا کر رہے تھے؟

ظفراچکزئی: میں ایک معمول کے انسان کی طرح اپنے ذاتی آئی ڈی سے سوشل میڈیا کا استعمال کرتا تھا۔

میرے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کیاگیا کہ خدانخواستہ میں نے ریاستی اداروں کے خلاف بہت کچھ کر ڈالا ہے لیکن ایسی کوئی بات نہیں۔ میں نے سوشل میڈیا پر جو کچھ لکھا وہ آج تک موجود ہے۔ اسے ہر کوئی دیکھ سکتا ہے۔ البتہ میں نے چند سوالات ضرور اٹھائے اور ان کے جوابات طلب کیے۔ ریاست یا اس کے اداروں کے خلاف کچھ نہیں لکھا لیکن اس کے باوجود میرے خلاف اتنی بڑی کارروائی کی گئی۔ جس انداز سے مجھے حراست میں لیا گیا اس سے یہ تاثر عام ہوا کہ جیسے شاید میں بہت بڑا دہشت گرد ہوں۔ ماہ رمضان کے آخری دن صبح پانچ بجے میرے گھر پر چھاپہ مار کارروائی کی گئی۔ اس کے بعد میں تین دن تک لاپتہ رہا۔ حیرت مجھے اس بات کی ہے کہ میری گرفتاری 25 جون کی صبح عمل میں لائی گئی۔ لیکن وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے میرے خلاف  28 جون کو شام 6 بجے سائبر کرائم کے قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ یہ ظاہر کیاگیا کہ جیسے مجھے اسی روز شام کو حراست میں لیاگیا ہے حالانکہ میری گرفتاری اور گھر پر چھاپے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے۔ اس حوالے سے کوئی تحقیق نہیں کی گئی کہ آخر مجھے تین دن تک کیوں غائب کیا گیا اور مجھے کہاں رکھاگیا۔ اس سلسلے میں ایف آئی اے سے جواب طلب کیاجانا چاہئے۔

فریڈم نیٹ ورک: آپ کو گھر سے گرفتار کیا گیا۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ کو کس نے گرفتار کیا اور گرفتاری کے بعد آپ کے ساتھ کیا ہوا؟

ظفراچکزئی: جب مجھے میرے گھر سے اٹھایاگیا تو گھر سے چند قدم کے فاصلے پر ہی میرے آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئی اور اس کے اوپر ایک کالی ٹوپی پہنائی گئی۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ مجھے کہاں اور کس لیے ان لوگوں نے اپنے پاس رکھا۔ مجھ سے پوچھ گچھ کی جاتی تو اس وقت میری آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر وہی ٹوپی پہنائی جاتی تاکہ میں دیکھ نہ سکوں کہ کون مجھ سے سوالات پوچھ رہے ہیں۔ مجھ سے مختلف سوالات کے جوابات مانگے جاتے۔

فریڈم نیٹ ورک: آپ سے کس قسم کے سوالات کئے جاتے رہے؟

 ظفراچکزئی: مجھ سے صحافت میں آنے، اخبار میں کام کرنے سمیت مختلف طرح کے سوالات پوچھے جاتے رہے۔ بعض اوقات یہ دباو بھی ڈالا جاتا کہ آپ کو فنڈنگ کہاں سے ہوتی ہے۔ مجھ سے کوئٹہ میں صحافیوں کے کام، اخبارات کی فنڈنگ اوردیگر حوالوں سے بھی پوچھا جاتا رہا۔ سوشل میڈیا پر میرے پوسٹس محض ایک بہانہ تھا۔ مجھ سے دوران تفتیش ایسے سوالات کئے گئے کہ جن کو یہاں بیان کرنا شاید درست اور آسان نہیں۔

فریڈم نیت ورک: آپ نے جو پوسٹس کئے کیا آپ کو اندازہ تھا کہ ان کے بعد آپ کو گرفتار کیا جائے گا یا پھر آپ کے خلاف مقدمہ درج ہوگا؟

 ظفراچکزئی: میں نے جو سوالات کیے ان کے ریکارڈ پیپرز موجود ہیں۔ کیس ایف آئی اے چلائے گی۔ میں کئی سال پرانے ریکارڈز عدالت میں پیش کروں گا۔ مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ  24 جون کو میں ایک پوسٹ کروں گا اور 25 کی صبح میرے گھر پر اس انداز سے چھاپہ پڑے گا اور میرے گھر کے دروازے توڑ کر چادر اور چاردیواری کے تقدس کی پامالی کی جائے گی۔ مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ پاکستان سائبر کرائم ایکٹ کے تحت میرے خلاف جومقدمہ درج کیاگیا ہے۔ اس کے متعلق ماہرین قانون کہتے ہیں کہ اگر آپ کوکسی سے کوئی شکایت ہے تو آپ سب سے پہلے ایف آئی اے کو تحریری طور پر شکایت کریں گے بعد میں ایف آئی اے اپنے مرکزی دفتر سے تحقیقات کے لیے اجازت لے گی۔ پھر متعلقہ مجسٹریٹ سے کارروائی کے لیے اجازت لی جائے گی، پھر فیس بک سے تمام ثبوت اکھٹے کیے جائیں گے۔ ثبوت ملنے کے بعد دوبارہ مذکورہ مجسٹریٹ سے گرفتاری کے لیے تحریری طور پر اجازت لینی پڑے گی، اجازت ملنے کے بعد ہی کسی کی گرفتاری عمل میں لائی جاتی ہے۔ عموماَ اس عمل کے مکمل ہونے میں دو سے تین ماہ لگ سکتے ہیں جبکہ میرے کیس میں مجھے پوسٹ کے 12گھنٹے کے اندر اٹھایاگیا جس پر میں آج تک حیران ہوں۔

فریڈم نیٹ ورک: ابھی آپ نے ذکر کیا سائبر کرائم کا اس سے پہلے آپ کو سائبر کرائم ایکٹ کے بارے میں علم تھا یا نہیں؟

 ظفر اچکزئی: بحیثیت صحافی میں نے سائبر کرائم کا ایکٹ نہیں پڑھا تھا لیکن اتنا علم رکھتا تھا کہ گزشتہ سال یہ ایکٹ پاس ہوا تھا۔ میرے خیال میں جو کچھ میں نے لکھا ہے وہ آذادی اظہار سے باہر نہیں ہے۔ آذادی اظہار کا جو دائرہ کار ہے اس کے اندر رہ کر میں نے لکھا اور چند سوالات کیے۔ یہ وہ سوالات تھے کہ جو آج سے چند سال پہلے پاکستان کے بڑے صحافیوں نے سوشل میڈیا پر پہلے ہی اٹھائے اور بڑے اخبارات میں مین سٹوری کے طور پر نمایاں انداز میں چھپ چکے ہیں۔ میں نے صرف اس کا فالو اپ مانگا تھا کہ چند سال پہلے جو قصہ ہوا یا بدعنوانی کا سکینڈل سامنے آیا تھا اس کے ملزمان کہاں بند ہیں۔ میں نے ریاست یا ریاستی اداروں کو ہدف بنایا ہے اور نہ ہی کبھی ایسا سوچ سکتا ہوں۔

فریدم نیٹ ورک: آپ کے خلاف سائبر کرائم کے تحت ایف آئی اے نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ آپ کے خیال میں اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟

ظفراچکزئی: میرے خلاف سائبر کرائم کے تحت جو مقدمہ درج ہوا ہے مجھے امید ہے کہ عدالت مجھے اس مقدمے میں باعزت بری کر دے گی کیونکہ مجھ پر جو الزامات عائد کئے گئے ہیں اس سے زیادہ سنگین مواد سوشل میڈیا پر اب بھی موجود ہے۔ میرے خیال سے یہ مقدمہ سوشل میڈیا کا نہیں بلکہ اس کا مقصد مجھے اور بلوچستان میں دیگرصحافیوں کو دباؤ میں لانے اور پیغام دینے کے لیے درج کیاگیا ہے۔

فریڈم نیٹ ورک: آپ ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں لیکن کیس اب بھی چل رہا ہے۔ بتایں کہ کیس کس نہج پر ہے؟

ظفراچکزئی: کیس جوڈیشل مجسٹریٹ کوئٹہ کی عدالت میں زیر سماعت ہے جس کی اب تک پیشی نہیں ہوئی ہے کیونکہ ایک تو عدالت میں کیسز چل رہے ہیں دوسرا یہ کہ عید کی چھٹیاں بھی تھیں۔ امید ہے کہ جلد ہی باقاعدہ طور پر اس کی سماعت شروع ہوگی۔

فریڈم نیٹ ورک: جب آپ ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں تو کیا اب بھی آپ سوشل میڈیاکو استعمال کرتے ہیں؟ اگر کرتے ہیں تو اسی طرح کرتے ہیں جوگرفتاری سے قبل تھی یا اب اس میں کوئی تبدیلی آچکی ہے؟

ظفراچکزئی: اتنے بڑے واقعے کے بعد میرے سوشل میڈیا کے استعمال میں تبدیلی تو ضرور آئی ہے مگر میں پہلے بھی بتاچکا ہوں کہ سوشل میڈیا پر میں نے اس سے قبل بھی ایسی کوئی بات ہی نہیں کی۔ اب سوشل میڈیا کو استعمال تو کر رہا ہوں لیکن ایک مخصوص دائرے کے اندر اور دباؤ میں رہ کر اگرچہ اب بھی مجھ میں ہمت ختم نہیں ہوئی البتہ سوشل میڈیا کا استعمال اس انداز میں نہیں ہے جو پہلے تھا کیونکہ مجھے ایف آئی اے کی جانب سے بھی کہاگیا ہے کہ سوشل میڈیا پر آپ کی جو آئی ڈی یا اکاونٹس ہیں فی الحال ان کا استعمال نہ کریں جب تک کہ کیس کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ اب مجھے مقدمے کے فیصلے کا انتظار ہے۔

فریڈم نیٹ ورک: آپ نے کہا کہ میں سوشل میڈیا کو اس طرح استعمال نہیں کرتا جس طرح پہلے کیا کرتا تھا تو کیا اس وقت سوشل میڈیا پر کوئی چیز اپ لوڈ کرتے ہوئے کوئی خوف محسوس کرتے ہیں؟

ظفراچکزئی: جی خوف تو ہے اتنے بڑے واقعے کے بعد۔ صرف مجھ پر خوف طاری نہیں بلکہ مجھے ٹارگٹ بنا کر اوروں کو بھی خوفزدہ کر دیاگیا ہے جس کے نتیجے میں اب کوئٹہ میں اس انداز سے سوشل میڈیا کا استعمال نہیں ہو رہا ہے جو اس سے قبل تھا۔ جو لوگ میرے ساتھ فرینڈز ہیں یا جن لوگوں کو میں جانتا ہوں میرے واقعے کے بعد انہوں نے بھی سوشل میڈیا کا استعمال کم کردیا ہے۔

فریڈم نیٹ ورک: آپ نے کہا کہ جو لوگ پہلے سوشل میڈیا پر زیادہ متحرک تھے وہ اب اتنے  نہیں رہے۔ بحثیت صحافی آپ ان کو کیا پیغام دینا چاہتے ہے کہ کس طرح سوشل میڈیا کا استعمال کیا جانا چاہیے؟

ظفراچکزئی: میڈیا کا اچھا یا برا استعمال لوگوں کے اپنے ہاتھ میں ہے مگر بیان کی آزادی کا جو دائرہ ہے اس سے لوگوں کو باہر نہیں نکلنا چاہیے۔ جہاں تک ہوسکے انہیں اپنی آواز کواٹھانا چاہیے کیونکہ کہتے ہیں کہ جب تک تنقید نہیں ہوگی اس وقت تک معاشرہ کی اصلاح ممکن نہیں ہوگی۔ ہمیں اور اس ملک کے تمام نوجوانوں کو تنقید کا پورا حق ملناچاہیے چاہے وہ سوشل میڈیا، پرنٹ ہو یا پھر الیکٹرونک میڈیا پر تنقید ضرور ہونی چاہیے۔ میری  نوجوانوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ سوشل میڈیا کو ریاست یا ریاستی اداروں کے خلاف استعمال کرنے سے گریز کریں البتہ تنقید ضرور کریں لیکن ایک مخصوص دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے۔

 

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

One Comment

  1. انتہاہی اہم معلومات حاصل ہوئیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ دیہی علاقوں کے صحافیوں کو سائبر کرائم کے قانون کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگہی دی جائے ۔

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -