شدت پسند علیحدگی پسند گروپ نے بلوچستان میں پریس کلب بند کروا دیا

شدت پسند علیحدگی پسند گروپ نے بلوچستان میں پریس کلب بند کروا دیا

پاکستان میں میڈیا پر حملوں پر نظر اور تجزیہ

جولائی 2017 رپورٹ

پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک نے، جو اسلام آباد میں قائم فریڈم نیٹ ورک چلاتی ہے، جولائی 2017  میں خلاف ورزیوں کے ملک بھر میں چھ واقعات جن میں چوبیس پرنٹ اور ٹی وی صحافی ریکارڈ کئے۔ ان خلاف ورزیوں میں پرنٹ اور ٹی وی کے صحافیوں کو تحریری دھمکیاں، پرنٹ صحافی کا اغوا، توہین مذہب کے قانون کے تحت مدیر، پبلشر اور کالم نویس کے خلاف قانونی مقدمہ اور پریس کلب کی بندش شامل ہیں۔ یہ خلاف ورزیاں چاروں صوبوں میں ہوئیں۔ دھمکی دینے والوں میں ریاستی عناصر، کالعدم علحیدگی پسند ”بلوچ لیبریشن آرمی”، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اور محافظ شامل ہیں۔

پریس کلب کی بندش: سب سے سنگین خلاف ورزی کالعدم علحیدگی پسند ”بلوچ لیبریشن آرمی” کی جانب سے بلوچستان کے خاران ضلع میں سترہ صحافیوں کو سترہ جولائی، 2017  سے صحافتی سرگرمیاں بند کرنے اور پریس کلب کو بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ خاران پریس کلب کے صدر سفر خان نے بتایا کہ ”وہ نا تو رپورٹنگ کر رہے ہیں اور نہ پریس کلب جا رہے ہیں۔” اس دھمکی کی اطلاع حکومت کو دی گئی ہے لیکن ان صحافیوں کا کہنا ہے کہ انہیں پریس کلب دوبارہ فعال کرنے کے لیے ”کوئی مدد نہیں ملی ہے۔” تمام سترہ صحافیوں نے دھمکی کو سنجیدگی سے لیا ہے اور پیش روانہ فرائض سرانجام دینا بند کر دیا ہے۔

قانونی مقدمہ: توہین مذہب کے قانون کے تحت روزنامہ جہان پاکستان کے مدیر، پبلشر اور کالم نویس ڈاکٹر شیخ ولی کے خلاف قانونی مقدمہ گیارہ جولائی 2017 کو اسلام پورہ پولیس سٹیشن، لاہور میں درج کیا گیا ہے۔ یہ اقدام حضرت علی (رح) سے متعلق ایک مضمون شائع کیا گیا جس پر اہل تشیح ”ناراض” ہوئی اور اس کے خلاف لاہور میں احتجاج کیا۔ برادری نے ایک تنظیم کے ذریعے اسلام پورہ پولیس سٹیشن میں مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواست دی اور پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔ سولہ جولائی کو صحافیوں کے ایک وفد نے پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے صدر کی قیادت میں صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ سے ملاقات کی جنہوں نے لاہور کے پولیس سربراہ کی حکم دیا کہ وہ ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے بند کر دیں۔

اغواء: دی نیشن کے رپورٹر عبداللہ ظفر کراچی سے اپنی رہائش گاہ سے اغواء کے بیس گھنٹے بعد واپس گھر لوٹے۔ انہوں نے کراچی پریس کلب سیفٹی ہب کے مینیجر کو بتایا کہ انہیں پولیس کی بکتر بند گاڑی میں لیجایا گیا اور تشدد کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں یہ سب کچھ ان کے سوشل میڈیا پر ”لاپتہ افراد” کے بارے میں رائے دینے پر برداشت کرنا پڑا۔ وہ ظفر اللہ اچکزئی کے بعد دوسرے صحافی ہیں جنہیں متنازعہ الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے تحت فیس بک پر پوسٹس شیئر کرنے پر پکڑا گیا ہے۔

ہراسیت اور حملہ:وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے سینئر افسران نے بیس جولائی کو صحافیوں کے ایک گروپ کو جس میں خواتین بھی شامل تھیں ہراساں کیا اور انہیں پیشہ ورانہ ڈیوٹی کرنے سے روکا گیا۔ وہ پمز ہسپتال میں گرفتار سرکاری اہلکار ظفر حجازی کے صحت کے مسائل کی بنیاد پر داخلے پر پابندی کی کوریج کر رہے تھے۔

تحریک انصاف کے رہنما عمران خان کے ذاتی محافظوں نے فوٹو جرنلسٹس راجہ مدثر کی بنی گالہ میں بےعزتی کی۔ صحافی نے نیشنل پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک کے وہ عمران خان کی پریس کانفرنس کور کرنے بنی گالہ گئے اور ان کے محفظوں نے جسمانی تشدد کیا، ان کے کپڑے پھاڑ دیئے باوجود اس کے کہ انہوں نے انہیں اپنی شناخت دکھائی۔ پی ٹی آئی کے میڈیا سیل سے رابطہ کیا اور صحافی کی تسلی کے ساتھ معاملہ رفع دفع کروا دیا گیا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے داماد اور رکن قومی اسمبلی کیپٹن (ر) صفدر نے اے آر وائے کے سینئر صحافی شاہد متیلہ کی جوڈیشل اکیڈمی سے چھ جولائی کو لائیو نشریات کے دوران بے عزتی کی اور ان کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور نیشنل پریس کلب سیفٹی ہب نے منتخب رکن پارلیمان کے اس رویے پر کارروائی کی۔

ڈیجٹل خطرہ: روزنامہ اخبار خیبر بیور چیف ندیم تنولی اور ان کے رپورٹر شہزاد یوسفزئی کا کہنا ہے کہ آئی ای ایس سی او کے اہلکار علی ذوالقرنین کیانی نے ان کے سامنے ان کی موبائل کالز کا ڈیٹا رکھا اور کہا کہ وہ ان پر ڈیجٹلی نٌر رکھے ہوئے تھے اور اگر ان کی خبر ان کے خلاف کسی تحقیقات کا سبب بنی تو صحافیوں کو اس کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔ نیشنل پریس کلب سیفٹی ہب نے انہیں مکمل مدد فراہم کی۔ پاکستان ٹیلی کمینیکیشن سے رابطہ کیا گیا ہے کہ کیسے انفرادی کالز تک رسائی دی گئی ہے۔

صحافیوں اور میڈیا کو دھمکی اور ہراساں کرنے والے

دوسرے متواتر ماہ ریاستی اداروں اور غیرریاستی عناصر نے میڈیا کو ہدف بنایا ہے۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے دی نیشن کے رپورٹر عبداللہ ظفر کو اغوا کیا جبکہ پولیس نے پرنٹر/پبلشر اور مدیر اور کالم نویس کے خلاف توہین مذہب کے تحت مقدمہ درج کیا اور علحیدگی پسند بلوچ گروپ نے زبردستی خاران پریس کلب بند کروایا اور سترہ صحافیوں کو کام سے روک دیا۔

مختلف میڈیا کے خلاف دھمکی، حملے اور ہراسیت

جولائی میں اکیس پرنٹ اور چار ٹی وی صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایک سینئر سرکاری اہلکار نے دو صحافیوں کے فون ریکارڈ کو حاصل کیا اور انہیں کسی تحقیقاتی رپورٹ کی تیاری سے روکا۔

پریس کلب ہبس نیٹ ورک کی جانب سے صحافیوں کے تحفظ کا فروغ

پاکستان پریس کلب سیفٹی ہبز میڈیا سے جڑے سٹیک ہولڈرز کو صحافیوں اور میڈیا ہاوسز کے تحفظ پر کافی سرگرمیاں کرتے ہیں۔ جولائی 2017 کی چند سرگرمیاں مندرجہ ذیل ہیں۔

لاہور پریس کلب سیفٹی ہب

۔ صحافیوں کے تحفظ کا موجوزہ بل پنجاب اسمبلی کے تمام پارلیمانی رہنماؤں میں فریڈم نیٹ ورک نے تقسیم کیا۔ ان میں وزیر قانون رانا ثنا اللہ، پیپلز پارٹی کے خرم وٹو، حزب اختلاف کے رہنما محمود الرشید اور جماعت اسلامی کے ڈاکٹر وسیم اختر شامل تھے۔

کراچی پریس کلب سیفٹی ہب

 ۔ کراچی پریس کلب میں دی نیشن کے رپورٹر عبداللہ ظفر کے ساتھ ایک ملاقات ہوئی تاکہ ان سے ان کے اغوا کی تفصیلات اکٹھی کی جاسکیں۔

۔ کراچی پریس کلب کے صدر، سیکرٹری اور ارارکین گورننگ باڈی کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں پندرہ اور سولہ جولائی کو کیں تاکہ انہیں سیفٹی ہب کے طریقہ کار سے آگاہ کیا جاسکے۔

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -