خبر کا حصول کا بعض اوقات مطلب ہے آہستہ ہونا

خبر کا حصول کا بعض اوقات مطلب ہے آہستہ ہونا

جب مرکزی کابل میں رش کے اوقات میں ایک بڑا ٹرک بم پھٹا، تو رائٹرز کے صحافی جائے حادثہ کی جانب لپکے جہاں انہیں خون سے لت پت افراد اور دھواں اٹھتا ملا۔ ان کا مشن واضح تھا کہ انہیں تصاویر، ویڈیوز اور حادثے کی تفصیلات دنیا کو جلد از جلد فراہم کرنا تھیں۔

اس کا مطلب تھا انتظار۔

فوٹو جرنلسٹ عمر سبحان نے کہا: ”پہلے مجھے اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ کوئی دوسرا دھماکے کا امکان تو نہیں، جو اکثر ماضی میں ہوا ہے۔” ان کی ایک زخمی شخص کی اپنے آپ کو گھسیٹنے والی تصویر یادگار ثابت ہوئی۔ اس حملے میں ڈیڑھ سو افراد ہلاک جبکہ چار سو زخمی ہوئے تھے۔

”جب سب واضح دکھائی دیا تو میں دھماکے کے مقام کی جانب آگے بڑھا۔”

اس تجربہ کار فوٹو صحافی کی ہچکچاہٹ اسے رائٹرز کی تربیت میں سیکھائی گئی جو دنیا بھر میں پرتشدد علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کو دی جاتی ہے۔  سال دو ہزار آٹھ سے تقریبا اڑھائی ہزار صحافیوں کو ہاسٹائل انوارنمٹنٹ کی تربیت دی گئی ہے جس میں انہوں نے سیکھا کہ شدت پسند اکثر دوسرا بم نصب کرتے ہیں تاکہ ہنگامی امداد سے جڑے کارکنوں، سکیورٹی فورسز اور صحافیوں کو نشانہ بنا سکیں۔

اس قسم کے پرخطر ماحول سے متعلق کورس، جہاں صحافیوں کو بہتے خون کو روکنے، ہجوم کی نفسیات اور کئی اوقات اغوا کے جعلی عمل سے گزرتے ہیں وہ اہم تربیت ہے جس سے تقریبا دو سو ممالک میں با اعتماد خبر اور معلومات فراہم کرنا ممکن بنتا ہے۔

مائک کرسٹی، رائٹرز کے جنرل مینجر گلوبل لاجسٹکس اور سکیورٹی،  ہیں کہتے ہیں کہ ”ہم لوگوں کو سیکھا رہے ہیں کہ وہ کیسے جان لیوا صورتحال میں اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں اور کیسے اس مقام سے دور رہ سکتے ہیں۔”

صحافیوں کو محفوظ رکھنا اہم ہے کسی بھی خبر تک پہنچنے کے لیے۔ صحافیوں کو یہ آگہی دینا ضروری ہے کہ کوئی بھی خبر بھی زندگی سے بہتر نہیں۔

موگادیشو میں حالیہ دنوں میں ویڈیوگرافر عبدالرحمان حسین اور فوٹوگرافر فیصل عمر نے دایا ہوٹل سے جہاں ایک شدت پسند نے دھماکہ خیز بارود سے بھری گاڑی گیٹ سے ٹکرا دی تھی۔ اس حملے میں اٹھائیس افراد  ہلاک ہوئے تھے۔

حسین اور عمر نے اپنی تربیت کو عمل میں لاتے ہوئے، دھماکے کے فورا بعد روانہ نہیں ہوئے۔ جب پندرہ منٹ بعد دوسرا بم دھماکہ ہوا تب وہ جائے وقوع پر پہنچے اور دنیا اور صورتحال سے آگاہ کیا۔

۔ بشکریہ رائٹرز      

 

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -