سندھ کے صحافی اور مسائل

سندھ کے صحافی اور مسائل

  ہدیٰ علی                         

پاکستان کی تعیر و ترقی میں  ذرئع ابلاغ کے کردار سے کسی طور انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اقوام عالم میں پاکستان کے تشخص اور مثبت کردار کو بہتر انداز میں پیش کرنے کا سہرا بھی میڈیا کے سر ہے۔ دنیائے جدید میں آج ایک شخص ہاتھ میں ریموٹ لیے دنیا بھر کے چینلز دیکھ سکتا ہے۔ پاکستان میں ایسے چینلز کی تعداد 50 سے زائد ہے جو  صرف خبریں ہی نشر کرتے ہیں۔ خبر کو نشر کرنا ایک غیر معمولی کام ہے۔ صحافی سب سے پہلے رونما ہونے والے واقعے کی تمام تر تفصیل حاصل کرتا ہے اور ذمہ داران یا فریق  کے موقف لیتا ہے۔ تب جا کر ایک خبر وجود میں آتی ہے۔

خبر کے حصول کے لیے اندرون سندھ کے دور افتادہ علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کو بےحد مسائل کا سامنا ہے۔ اندرون سندھ کے صحافیوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ  نقل و حرکت کا ہے۔ اداروں کی  جانب سے  انہیں آمدو رفت اور خبر کے حصول کے لیے وسائل مہیا نہیں کیے جاتے۔ دنیا بھر میں یہ اصول  ہے کہ ہارڈ پوسٹنگ  پر کام کرنے والے صحافیوں کی مراعات ایک پرامن شہر میں کام کرنے والے صحافیوں سے زیادہ ہوتی ہیں۔ لیکن پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ خطرناک علاقوں  میں کام کرنے والے صحافیوں  کے اعزازیہ اور مراعات  نہ ہونے کے برابر  ہیں۔ اندرون سندھ تو بہت ہی برا حال ہے۔ جاگیردارانہ کلچر اور وڈیرہ شاہی ماحول میں کام کرنے والے صحافیوں کو نہ تو تنخواہ ادا کی جاتی ہے اور نہ ہی دیگر مراعات، بلکہ خبر کے لیے ان کی نقل و حرکت  ہی ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہوتی ہے۔ اندرون سندھ دور دراز کچے کے علاقے کے صحافی جب ڈاکوں کے حوالے سے خبریں فائل کرتے ہیں تو ان کے لیے  کئی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ایک طرف تو دریا ہے۔ دریائی علاقوں میں خبر کے حصول کے لیے جانا بےحد مشکل کام ہے۔ جبکہ دوسرا حصہ صحرائے تھر ہے جہاں سے خبر کا حصول تقریباََ ناممکن ہے۔ مگر صحافی اس مخدوش صورتحال میں بھی اپنے ادارے کو خبر دیتے ہیں۔

پاکستان کے بیشتر  بڑے صحافتی ادارے اندرون سندھ کے اضلاع میں اپنا اچھا نیٹ ورک رکھتے ہیں۔ ماہانہ بنیادوں پر معاوضہ یا اعزازیہ دیا جا تا ہے لیکن اب یہ عام روش ہو چلی ہے کہ بغیر معاوضے کے کام کرایا جاتا ہے۔ ضلع بدین میں ایک تربیت کے دوران جہاں کم از کم 30 صحافی موجود تھے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ان میں سے صرف تین کو ان کے اداروں کی جانب سے باقائدہ معاوضہ دیا جاتا ہے۔ باقی  سب مفت میں کام کرتے ہیں۔ میڈیا ہاوسز کی یہ روش صحافیوں کی سماجی اور معاشی زندگی پر انتہائی منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ اکثر اوقات کام کے عوض ملنے والی تنخواہ تین، تین مہینے تک نہیں ملتی۔

مٹھی سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر صحافی نند لال لوہانو کا کہنا ہے کہ شہر میں تو کسی طرح گزارا ہو جاتا ہے۔ مگرصحرائے تھر میں خبر کی کھوج مشکل ہوتی ہے بسا اوقات رسائی بھی ممکن نہیں ہو پاتی۔ صحافتی ادارے ورکنگ جرنلسٹ کی وجہ سے ہی کروڑوں کماتے ہیں۔ جو گوٹھ گلیوں سے خبریں دیتے ہیں مگر ان پر کوئی توجہ نہیں ہے۔

اندرون سندھ میں صحافیوں کو آئے روز مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ ان مقدمات میں زیادہ تر ذاتی نوعیت کے ہوتے ہیں جو اس بناء پر  قائم کیے جاتے ہیں کہ  علاقے کے کسی وڈیرے یا با اثر شخص کے خلاف خبر  کیو ں رپورٹ کی گئی۔ آیسے تنازعات صحافیوں کے قتل و غارت تک جا پہنچتےہیں۔ ایسے صحافیوں پر انسداد دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات  قائم کرکے انہیں جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ اس کی زندہ مثال نوشہرہ فیروز کا صحافی اخلاق جوکھیو ہے جسے ایسے ہی جعلی مقدمات میں پھنسا کر  سینٹرل جیل سکھر  بھیج دیا گیا۔ 10 جنوری کو جیل کی یاترا کرنے والے صحافی کو چار ماہ بعد 10 مئی کو ضمانت پر رہائی نصیب ہوئی ہے جو اب بھی پانچ مقدمات میں عدالتوں کے چکر کاٹ رہا ہے۔

ادارے بھی ایسے معاملات میں صحافیوں کا ساتھ نہیں دیتے۔ صحافیوں کی آواز بلند کرنے کے لیے کئی  صحافتی تنظیمیں بھی کام کر رہی ہیں لیکن ان کا احتجاج بھی صرف کراچی پریس کلب کے سامنے مظاہرے کرنے تک ہی محدود  رہتا ہے۔

سندھ کے دور افتادہ علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کے پاس جدید تکنیکی سہولیات کا بھی فقدان ہے۔ جبکہ ادارے کی جانب سے ان صحافیوں کی تربیت کا بھی کوئی خاص اہتمام نہیں کیا جاتا۔ یہ وہ    چیدہ چیدہ مسائل ہیں جن کا اندرون سندھ کے صحافیوں کو روز سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -