بلوچستان میں اچھے دن آئیں گے کیونکہ اس سے زیادہ سیاہ دن کہیں نہیں: صدیق بلوچ

بلوچستان میں اچھے دن آئیں گے کیونکہ اس سے زیادہ سیاہ دن کہیں نہیں: صدیق بلوچ

ایوب ترین

بلوچستان کے سینئر صحافی صدیق بلوچ کوئٹہ سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار ڈیلی بلوچستان ایکسپریس اور اردو کے روزنامے آزادی کے مدیر اعلیٰ ہیں۔ وہ 1940 میں پیدا ہوئے اور1966 میں صحافت کے پیشے سے وابستہ ہوئے۔ بحیثیت صحافی پاکستان کے سب سے بڑے انگریزی اخبار روزنامہ ڈان کے ساتھ وہ 28 سال تک منسلک رہے۔ دو مرتبہ کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر اور کراچی پریس کلب کے نائب صدر بھی رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ صدیق بلوچ دو بار بلوچستان نیوز پیپر ایڈیٹر کونسل کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے سال 1972-73 تک گورنر بلوچستان میرغوث بخش بزنجو کے پریس سیکرٹری کے طور پر خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ بحیثیت صحافی وہ امریکہ، چین، برطانیہ اور روس سمیت کئی ممالک کے نہ صرف دورے کرچکے ہیں بلکہ وہاں عالمی کانفرنسز اور سمینارز میں بھی شر یک رہے ہیں۔

صدیق بلوچ کا کہنا ہے کہ اندرون بلوچستان باقاعدہ طور پر صحافی نہیں ہیں بلکہ اس شعبے سے وابستہ زیادہ تر افراد جز وقتی کام کرتے ہیں۔ ”وہ کوئی ایسی خبر نہیں دیتے جس سے ان کے لیے خطرات پیدا ہوں۔ ایک طرح سے اندرون بلوچستان میڈیا کا بلیک آوٹ ہے۔ صحافتی میدان میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ کوئٹہ شہر میں ہے۔ صحافیوں کی چھوٹی موٹی آزادی بھی کوئٹہ شہر تک ہی محدود ہے۔ دور دراز علاقوں میں ایسا بالکل بھی نہیں ہے کیونکہ وہاں پر زیادہ موثر دباؤ ہے۔ کوئٹہ میں یونین ہے اور ہماری صحافتی تنظیم بھی ہے لیکن اس کے باوجود دفتر میں گھس کر ارشاد مستوئی کو قتل کر دیاگیا۔ اس وقت صحافی بہت مشکل حالات میں کام کر رہے ہیں۔

فریڈم نیٹ ورک: صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے یہاں انتظامات ہیں یا کوئی کیے جا رہے ہیں؟
صدیق بلوچ: نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے اگر ہوتی تو چالیس سے زیادہ صحافی یہاں نہیں مارے جاتے۔ اگر تھوڑے بہت انتظامات ہوتے تو اتنی بڑی تعداد میں صحافی نہ مارے جاتے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ بلوچستان ایک سکیورٹی صوبہ ہے کوئی عام صوبہ نہیں ہے ۔ بلوچستان اس روز سے سکیورٹی صوبہ ہے جس دن یہاں انگریز آیا تھا یعنی برطانیہ نے جب قلات پر قبضہ کیا اس دن سے یہ سکیورٹی اسٹیٹ بنا ہے بلکہ اسی زمانے سے کوئی غیرملکی بلوچستان نہیں آسکتا ہے۔ اگر کوئی آئے گا تو اسے اجازت لینا ہوگی اور اسے اجازت شہر تک ہی محدود دی جاتی ہے۔ کوئٹہ سے باہر جانے کی کوشش کرنے والوں کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ پہلے ایران سے براستہ تفتان یورپی سیاح یہاں آتے تھے لیکن ان کو ادھر ادھر جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی وہ صرف کوئٹہ کے راستے ملک کے دوسرے حصوں کو جاسکتے تھے۔ حال ہی میں اغواء ہونے والی دو سوئس لڑکیوں کے اغواء کی وجہ تاوان نہیں بلکہ سکیورٹی تھی۔

فریڈم نیٹ ورک: کیا وجوہات ہیں کہ یہ گزشتہ ایک ڈیڑھ دہائی سے صوبے میں صحافیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ وہ مزید غیرمحفوظ بھی ہوئے ہیں؟
صدیق بلوچ: آپ کو پتہ ہے کہ بلوچستان شورش زدہ علاقہ ہے جہاں سیاسی قوت کی ریاست کے ساتھ لڑائی ہے۔ یہاں عرصے سے تنازعہ چل رہا ہے بلکہ کبھی کبھار اس کا ردعمل بھی آتا ہے۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے بھی کارروائیاں ہوتی رہتی ہیں۔ مذہبی انتہاء پسند، دہشت گرد، جرائم پیشہ افراد اور مافیا پریشر گروپس کی صورت میں کام کر رہے ہیں۔ یہی پریشرگروپس صحافیوں پر دباؤ ڈالتے اور رکھتے ہیں۔ یہ گروپس مختلف اشکال میں یہاں موجود ہیں بلکہ شورش کی وجہ سے صحافیوں پر ان کا دباؤ بھی زیادہ ہے۔

فریڈم نیٹ ورک: اس سلسلے میں پریس کلب، صحافتی تنظیمیں، میڈیا ہاؤسز اور ادارے کیا کردار ادا کر رہے ہیں؟
صدیق بلوچ: ہماری تنظیمیں بہت کمزور ہیں، ان کے پاس وسائل ہیں اور نا ہی کسی بڑی تنظیم کی ان کو حمایت حاصل ہے۔ یہاں کی مقامی تنظیمیں صرف ایک قرار داد منظور کرسکتی ہیں اس سے زیادہ ان کا کردار کچھ نہیں۔ وہ حکومت پر کام کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے دباؤ نہیں ڈال سکتیں ہیں۔ اس کی بہت سی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ سچ پوچھیے تو اس سلسلے میں یکطرفہ ٹریفک چل رہی ہے۔ اخبارات کو اٹھا کر دیکھیں تو سب سے سب کچھ اچھا ہے کا تاثر ملے گا۔ حکومت کے خلاف ایک ہی خبر چھپنے پر قیامت برپا ہوتی ہے کہ یہ کیا ہوگیا، یہ خبر کہاں سے آئی اس کے بعد وہ تلاش کرتے ہیں کہ اس کے خلاف یہ سازش کہاں سے ہوئی اس کی بہت سی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔

فریڈم نیٹ ورک: صحافیوں کے تحفظ کے لیے فریڈم نیٹ ورک کی جاری کوششوں کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
صدیق بلوچ: فریڈم نیٹ ورک اچھے انداز سے کام کر رہا ہے۔ اس کے باعث صحافیوں کو ایک سہارا مل جاتا ہے اسی لیے حکومتی اہلکار کئی معاملات میں صحافیوں کے خلاف حکومتی مشینری کے استعمال کی بجائے معاملات کا خود حل تلاش کرتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہیں کہ فریڈم نیٹ ورک صحافیوں کے لیے ایک ڈھال کی حیثیت رکھتی ہے اور کسی بھی صحافی کو تنگ اور ہراساں کرنے کے بعد اس کے خلاف فریڈم نیٹ ورک کے پلیٹ فارم سے قانونی کارروائی ہوسکتی ہے۔ 

فریڈم نیٹ ورک: آپ کی نظر میں بلوچستان میں صحافیوں کا مستقبل محفوظ ہوگا یا نہیں؟
صدیق بلوچ: آج کل کی صورتحال کو دیکھا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ بلوچستان میں صحافت کے حوالے سے بلیک آؤٹ ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کی خبر مقامی اخبارات میں تو چھپ جاتی ہے اس کے علاوہ دوسری اخبارات میں شائع نہیں ہوتی۔ گورنر، اسپیکر اسمبلی، حکومت میں شامل اور دیگر سیاسی جماعتیں قومی سطح کے اخبارات میں نظر نہیں آتیں ہیں۔ آپ کو بلوچستان کی خبریں صرف کوئٹہ کی اخبارات میں ہی نظر آئیں گی۔ ایک دفعہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے اسلام آباد میں چیمبر آف کامرس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کیا تو اگلے دن وہ خبر ملک کی بڑی اخبارات میں صفحہ سات پر اندر دو کالمی لگائی گئی یعنی کسی نے بھی اسے فرنٹ یا بیک پیج پر جگہ نہیں دی۔ اس کے مطلب یہ ہوا کہ بلوچستان کے حوالے سے میڈیا بلیک آؤٹ کئے ہوئے ہے۔ مستقبل کے حوالے سے دیکھیں گے اگر بلیک آؤٹ ختم ہوا اور بلوچستان کے خبروں کو مناسب کوریج ملنا شروع ہوئی تو یہ اچھا ہوگا۔ میں پراُمید ہوں کہ صحافت کے حوالے سے بلوچستان میں اچھے دن آئیں گے کیونکہ اس سے زیادہ سیاہ دن کہیں نہیں ہوں گے۔

ایوب ترین کویٹہ پریس کلب سیفٹی ہب کے منیجر ہیں

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -