جون 2017 میں صحافیوں پر حملوں میں 110 فیصد اضافہ

جون 2017 میں صحافیوں پر حملوں میں 110 فیصد اضافہ

پاکستانی میڈیا کو ملنے والی دھمکیوں اور حملوں پر تجزیہ

فریڈم نیٹ ورک کی جون 2017 رپورٹ

جون 2017 میں اسلام آباد میں قائم فریڈم نیٹ ورک کے زیر انتظام پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک نے میڈیا اور ان کے نمائندگان کے ساتھ ملک بھر میں پیش آنے والے اکیس سنگین خلاف ورزیاں ریکارڈ کی ہیں۔ یہ اس سال مئی سے 110 فیصد زیادہ واقعات ہیں۔ اس میں ایک پرنٹ صحافی کا قتل، چودہ ٹی وی اور اخباری صحافیوں پر حملے، دو صحافیوں کو اغوا کرنے کی کوشش، سوشل میڈیا پر رائے دینے کی وجہ سے ایک اخباری صحافی کی گرفتاری اور دو صحافیوں کے خلاف قانونی مقدمات درج کروائے جانا شامل ہیں۔ یہ خلاف ورزیاں تمام چار صوبوں میں پیش آئی ہیں۔

قتل: اس ماہ کا سب سے تشویشناک واقع گیارہ جون، 2017 کو صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور میں نامعلوم افراد کی جانب سے نوجوان صحافی بخشیش الہی جو کے ٹو اخبار کے بیورو چیف تھے گولی مار کر قتل کر دیا جانا تھا۔ ہری پور سے ایک رکن اسمبلی نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ ہلک کئے جانے والے صحافی کو ”دھمکیوں” کا سامنا تھا اور یہ بات ضلعی پولیس افسر کے علم میں لائی گئی تھی۔ کے ٹو کے مدیر حسن خان نے فریڈم نیٹ ورک کو بتایا کہ مقتول نے دھمکیوں کے بارے میں انہیں آگاہ نہیں کیا تھا۔ ہری پور پریس کلب کے صدر ذاکر تنولی نے کہا ”اس قتل کا کسی خاندانی یا ذاتی تنازع سے تعلق نہیں تھا۔ انہیں سوشل میڈیا پر دھمکیاں مل رہی تھیں۔” پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

بزرگ صحافی زیبا برنی کو کراچی میں پولیس کے مطابق ان کے گھر پر بجلی ٹھیک کرنے کے لیے آنے والے ایک الیکٹریشن نے قتل کر دیا۔ وہ کراچی پریس کلب کی رکن تھیں لیکن متحرک نہیں تھیں۔ ان کا قتل ان کی صحافت کا نتیجہ نہیں تھا۔ اس کی مذمت کی گئی ہے تاہم اسے شمار نہیں کیا گیا ہے۔

حملے اور زخمی کئے جانے کے واقعات: بلوچستان، پنجاب، سندھ اور اسلام آباد کے چودہ صحافیوں پر جن کی اکثریت الیکٹرانک میڈیا سے تھا حملے ہوئے اور انہیں زخمی کیا گیا۔ سب سے زیادہ واقعات یعنی چودہ میں سے دس پنجاب میں رونما ہوئے۔ ایکسپریس ٹریبیون اخبار کے صحافی رانا تنویر کو جو اکثر اپنے اخبار کے لیے اقلیتوں کی کوریج کرتے ہیں قتل کرنے کی کوشش میں بچ گئے جب انہیں ایک گاڑی نے نو جون کو ٹکر ماری۔ انہیں ٹانگوں پر چوٹیں آئیں اور کئی روز تک ہسپتال میں زیر علاج رہے۔ یہ حملہ ان کے مکان کے صدر دروازے پر تیس مئی کو اس تحریر کے بعد ہوا جس میں کہا گیا: ”قادیانی نواز رانا تنویر، واجب القتل۔”

انیس جون کو فیصل آباد زرعی یونیورسٹی کے محافظوں نے چھ طلبہ کے انٹرویو کے دوران ٹی وی چینلوں کے عملے کے نو افراد پر حملہ کیا۔ ان طلبہ کو درس گاہ کی انتظامیہ نے سوشل میڈیا پر رائے زنی کی پاداش میں نکل دیا تھا۔ فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی کال پر صحافیوں نے اس رویے کے خلاف احتجاج کیا۔

بیس جون 2017 کو پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول زرداری کی کوئٹہ آمد پر جماعت کے کارکنوں نے دنیا نیوز چینل کے کیمرہ مین شہباز احمد کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ ”میں آمد کی ویڈیو بنا رہا تھا جب انہوں نے حملہ کر دیا۔” بلوچستان یونین آف جرنلسٹ نے اس واقع کی شدید مذمت کی ہے۔

کراچی میں گیارہ جون کو مسلم لیگ فنکشنل کے نجی محافظوں نے ایکسپریس ٹریبیون کے زبیر اشرف حملہ کیا۔ اشرف کے مطابق وہ اپنے ساتھی فوٹو صحافی اطہر خان موٹر سائیکل پر دفتر جا رہے تھے جب تیزی سے ملم لیگ (ف) کا گاڑیوں کا ایک قافلے نے تمام موٹر سائیکلوں کو نیشنل میڈیکل سینٹر کے سامنے اورٹیک کرنے کی کوشش کی۔ کئی موٹر سائیکل سوار ٹکر لگنے سے بال بال بچے۔ جب انہیں روکا گیا تو محافظوں نے لوگوں سے لڑنا شروع کر دیا۔ ایک محافظ نے اپنی بندوق اشرف پر تان لی جبکہ ایک اور نے اسے ڈنڈوں سے پیٹنا شروع کر دیا۔

چینل 24 کے ڈی ایس این جی آپریٹر کو پاکستان کرکٹ ٹیم کی چیمپین ٹرافی میں فتح کے اٹھارہ جون کو کراچی میں کپتان شرفراز احمد کے مکان کے جشن کے دوران باہر گولی لگی۔ خوشی کے اظہار کے لیے لوگوں نے ہوائی گولیاں چلائیں جن میں سے ایک شارچ اشتیاق کو سر میں لگی۔ ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

گرفتاری: نیم فوجی ملیشیا فرنٹئر کور نے نوجوان صحافی ظفر اللہ اچکزئی کو کوئٹہ میں ان کی رہائیش گاہ سے حراست میں پچیس جون کو لیا۔ یہ اقدام بظاہر ان کی جانب سے سوشل میڈیا پر پولیس سربراہ اور سکیورٹی اداروں کی خراب کارکردگی پر سوال اٹھانے کے بعد اٹھایا گیا۔ انہیں متنازعہ سائبر کرائم ایکٹ کے تحت وفاقی تحقیقاتی ادارے کے حوالے کر دیا گیا۔ پاکستان نے سوشل میڈیا کی نگرانی اس سال کے اوائل میں چند بلاگرز کی گرفتاری کے بعد بڑھا دی ہے۔

اسلام آباد کی انتظامیہ نے چینل 24 کے پروڈیوسر سید طلحہ کو پندرہ جون کو کمزور بنیادوں پر گرفتار کر لیا۔ وہ اپنی ٹیم کی وزیر اعظم نواز شریف کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیشی کی کوریج میں تیاری کر رہے تھے۔ جب نیشنل پریس کلب سیفٹی ہب مینجر اور فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے اس مسئلہ کو اٹھایا تو اعلی حکام نے انہیں رہا کر دیا۔

اغوا کی کوشش: جیو نیوز کے سینیر رپورٹر اعزاز سید چھ جون کو دفتر سے گھر جاتے ہوئے راستے میں اغوا کرنے کی کوشش ناکام ہوگئی۔ راست نو بجے کے قریب چار نامعلوم افراد نے جو موٹر سائیکل اور گاڑیوں میں سوار تھے ان کی گاڑی کا راستہ روک لیا۔ صحافی کا کہنا تھا کہ ”اغوا کاروں نے انہیں روکنے کی کوشش کی لیکن میں تیزی سے گاڑی بھگا کر شہزاد پولیس سٹیشن لے گیا۔” مئی دو ہزار گیارہ میں بھی اسلام آباد سے صحافی سلیم شہزاد کو اغوا کیا گیا تھا جن کی لاش چند روز بعد پنجاب سے ملی تھی۔

قانونی مقدمات: وفاقی تحقیقاتی ادارے نے اخبار ”قدرت” کے نوجوان صحافی ظفر اللہ اچکزئی کے خلاف متنازعہ سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر دیا۔ یہ اقدام بظاہر ان کی جانب سے سوشل میڈیا پر پولیس سربراہ اور سکیورٹی اداروں کی خراب کارکردگی پر سوال اٹھانے کے بعد اٹھایا گیا۔

میڈیا کے اداروں کو ملنے والی دھمکیاں، ان پر ہونے والے حملے اور ان کو ہراساں کرنے کے واقعات:

گرفتاری، قانونی چارہ جوئی اور جرمانے کے تین واقعات میں سرکاری ایک جبکہ دو میں غیرسرکاری عناصر ملوث تھے۔ دو واقعات میں سیاسی جماعتیں ملوث تھیں جبکہ ایک واقع میں فیصل آباد یونیورسٹی کے نجی محافظ جبکہ پانچ واقعات میں یہ کہنا مشکل ہے کہ ریاستی یا غیرریاستی عناصر قتل، اغوا کی کوشش یا حملے میں ملوث تھے۔ بلوچستان میں فرنٹئر کور دو ماہ سے حملوں میں ملوث پائی جا رہی ہے۔

مختلف قسم کے میڈیا اداروں کو ملنے والی دھمکیاں، ان پر ہونے والے حملے اور ان کو ہراساں کرنے کے واقعات:

جون 2017 میں پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک اور میڈیا نے میڈیا کے لیے کام کرنے والوں کے خلاف پانچ حملے اور دھمکیوں کے واقعات ریکارڈ کیے۔ ان واقعات میں سے پرنٹ میڈیا کے خلاف پانچ اور الیکٹرانک میڈیا کے خلاف چودہ واقعات ہیں۔ ان اکیس واقعات مختلف میڈیا کے خلاف، گیارہ ٹی وی سے منسلک افراد زخمی ہوئے، تین میڈیا صحافیوں پر حملے ہوئے، دو گرفتار ہوئے اور ایک قتل ہوا۔

صحافیوں کی حفاظت کے لیے فریڈم کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک کی طرف سے وکالت:

پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک میڈیا سے منسلک افراد کوتحفظ سے متعلق کافی متحرک رہتی ہے۔ جون 2017 میں صحافیوں کی حفاظت کے متعلق کچھ اقدامات جو اٹھائے گئے ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:

نیشنل پریس کلب، اسلام آباد سیفٹی ہب:

۔ 21 جون کو کے ٹو اخبار کے بیورو چیف بخشیش الہی کی ہری پور میں ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا جس میں قاتلوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کی آئینی کمیٹی کے نیشنل پریس کلب میں منعقد اجلاس میں شرکت کی جس میں صحافیوں کے تحفظ کے مجوزہ بل پر غور ہوا۔ نیشنل پریس کلب کے سیفٹی ہب مینجر نے فریڈم نیٹ ورک کی گزارشات پیش کیں۔ اجلاس نے موجدہ بل کو مسترد کرنے کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا کہ حکومت نے پی ایف یو جے اور سول سوسائٹی کی سفارشات اس میں شامل نہیں کیں۔

پریس کلب سیفٹی ہب، پشاور:

۔ شمالی وزیرستان میں قبائلی صحافیوں کی تنظیم کے صدر نور بہرام سے رابطہ کیا تاکہ انہیں پشاور سیفٹی ہب کے بارے میں آگہی دی جائے کہ وہ کس طرح صحافیوں کی مدد کرسکتی۔ رابطے کا مقصد فریڈم نیٹ ورک کے تحت پاکستان سیفٹی ہب نیٹ ورک کے توسیع مقاصد کے بارے میں بتانا تھا۔

۔ جنوبی وزیرستان میں قبائلی صحافیوں کی تنظیم کے صدر عدنان بھٹنی سے رابطہ کیا تاکہ انہیں پشاور سیفٹی ہب کے بارے میں آگہی دی جائے کہ وہ کس طرح صحافیوں کی مدد کرسکتی۔ رابطے کا مقصد فریڈم نیٹ ورک کے تحت پاکستان سیفٹی ہب نیٹ ورک کے توسیع مقاصد کے بارے میں بتانا تھا۔

پریس کلب سیفٹی ہب، کوئٹہ:

۔ بلوچستان یونین آف جرنلسٹ، فریڈم نیٹ ورک اور کوئٹہ پریس کلب کے عہدیداران کا ایک وفد عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اصغر اچکزئی سے ملا تاکہ چمن کے صحافی مطی اللہ اچکزئی کے مسئلے کے سلسلے میں بات کی جو انہوں نے فریڈم نیٹ ورک کے ساتھ اٹھایا تھا۔ اصغر اچکزئی نے وفد کو مطیی اللہ کی مدد کی یقین دہانی کروائی۔

مئی 2017 کے ماہانہ جآئزہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -