“بدقسمتی سے ایڈیٹر کا ادارہ کمزور ہے”

“بدقسمتی سے ایڈیٹر کا ادارہ کمزور ہے”

غلام مصطفی

ڈاکٹر جبار خٹک کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز کے سابق جنرل سیکریٹری اور روزنامہ عوامی آواز کے مدیر ہیں۔ ان سے صحافیوں کے تحفظ کے حوالےسے فریڑم نیٹ ورک  کے ساتھ انٹرویو پیش خدمت ہے۔

سوال: صحافیوں کی سیفٹی اور سیکیورٹی یقینی  بنانے کے لیے مدیروں کا کوئی کردار ہے؟

جواب: اس وقت ہمارے ملک میں صحافیوں کو جو خطرات درپیش ہیں یہ صورتحال کچھ سالوں سے ہے۔ سے سے قبل یہ صورتحال کبھی نہیں رہی۔ مدیر سے متعلق یہ تصور کیا جاتا تھا کہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کریں گے جو ظاہر ہے کہ خبر کے معاملات سے متعلق ہوتے ہیں۔ باقی معملات اخبار انتظامیہ کے سپرد ہوتے ہیں۔ لیکن اب اس صورتحال میں مدیر ہی کی نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کی ذمے داری ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کی کوشش کرے اور اس میں اپنا حصہ ڈالے۔ خاص طور پر صحافیوں پر تشدد کا خاتمہ ہو۔

یہ جو آفریت آئی ہوئی ہے اس کے پس منظر میں  کافی چیزیں ہیں۔ جس میں ریاست کی پالیسیاں بھی ہیں۔ اور اب وہ اتنی بڑے خطرے کی شکل میں موجود ہے۔ کہ یہاں اب جی ایچ کیو پر بھی حملہ ہو جاتا ہے۔ تو ان کے مقابلے میں میڈیا ہاؤسز تو بہت زیادہ خطرے سے دوچار  ہیں۔ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ مسلح دہشت گرد پولیس اہلکاروں اور حساس اداروں کے اہلکاروں پر بھی حملہ کرتے ہیں، انہیں اغوا تک کیا جاتا ہے، تو اس تمام ترصورتحال اور ان تمام تناظر کو دیکھے بغیر اگر آپ  صحافیوں پرتشدد یا دہشت گردی یا ان کے قتل کی صورتحال کو دیکھیں گےتو میں سمجھ  رہا ہوں کہ وہ صحیح نہیں کر رہے۔ مجموعی طور پر اس پر توجہ دینی چاہیے اور ریاست پر ایک دباؤ ہونا چاہیے کہ وہ اپنا بیانیہ تبدیل کرے۔ اس کے ساتھ ریاست کی اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ شہری کو سکیورٹی فراہم کرے۔ صحافیوں کو بھی دی جائے۔ لیکن صحافی خطرے سے دوچار ہیں۔ لیکن اس میں آپ ایڈیٹر کی ذمے داری کی بات کر رہے ہیں تو بدقسمتی سے ہمارے ملک میں بہت سے ادارے تباہ ہوئے ہیں۔ ہمارے ملک میں ایڈیٹر کا ادارہ بھی تباہ ہوا ہے اور بدقسمتی سے میڈیا میں کارپوریٹ کلچر کا عمل دخل آگیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پروفیشنل ایڈیٹر کا نام اخبار میں ایڈیٹر کے طور نہیں آتا جو مالک ہوتا ہے وہ ادارت جانتا ہو یا نہیں جانتا ہو تو وہ ایڈیٹر بن جاتا ہے۔ تو اس کے نزدیک کارپوریٹ مفادات زیادہ ہوتے ہیں۔

سوال: اگر صحافیوں کی سکیورٹی کے لیے ایڈیٹرز کا کوئی کردار ہے تو انہوں نے اب تک کیا کردار ادا کیا ہے؟

جواب: سب کو معلوم ہے کہ اخبارات کے دفاتر پر حملے ہوتے تھے تو نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج ہوتا تھا حالانکہ  سب کو پتا ہوتا تھا کہ یہ کون افراد ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی وقت آیا ہے کراچی میں کہ شہ سرخیاں تک جو مختلف گروپ اپنی پسند کی لگاتے تھے تو اس میں ایڈیٹر کی پروفشنل ذمے داریاں کہاں جاتی ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ سماج کے اندر جو غیرریاستی عناصر اور ریاست کے درمیان جب ٹکراؤ ہو تو اور ریاست جو اس قسم کی صورتحال کو دہشت گردی کے مکمل بچاؤ کے قابل نہ ہو تو صحافی اور میڈیا ہاؤس بھی ایک سینڈوچ بن جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر بلوچستان میں ہائیکورٹ کا حکم تھا کہ دہشتگردوں کی خبر نہ چھاپی جائیں۔ لیکن مسلح گروہ دھمکیاں دیتے ہیں کہ اگر خبر نہیں چھاپی تو آپ کی زندگی خطرے میں ہے۔ تو ایسی صورتحال میں مدیر کے پاس کیا آپشن رہ جاتا ہے؟ یا تو توہین عدالت کا مرتکب  ہو کر چھ ماہ کی سزا بھگتے یا تو وہ دہشت گرد کی گولی کا نشانہ بن جائے۔

سوال: اگر ہم اعدادو شمار پر جائیں تو اب تک 110 صحافی قتل ہو چکے ہیں۔ سی پی این ای نے اس سلسلے میں کیا کاوشیں کی ہیں کہ میڈیا سے جڑے افراد کو مزید خطرات سے بچا سکیں؟

جواب: بدقسمتی سے ایڈیٹر کا ہمارا ادارہ کمزور ہے۔ مدیروں کی  نمائندہ تنظیم سی پی این ای ہے۔ ان کی اپنی ایک سکیورٹی کمیٹی ہے جس کے اکرام سہگل چیرمین ہیں۔ انہوں نے ایسے بہت سے کام کیے ہیں۔ جیسا کہ مختلف میڈیا ہاؤسز کی سکیورٹی کی ایک خواہش ہوتی ہے۔ تو وہ ان کو اس کا کنسلٹننٹ مہیا کر رہے ہیں۔ کراچی کے کافی میڈیا ہاؤسز کو سکیورٹی تربیت دی گئی ہے۔ اسلام آباد میں میڈیا ہاؤسز کی سکیورٹی کے لیے ریاستی بنیادوں پر بہت اچھا کام ہوا ہے۔

تو سی پی این ای کی اس  کمیٹی نے مدیروں کے لیے بھی تربیت منعقد کی ہے اور صحافیوں کیلئے بھی۔ آگے مزید ہم  صحافیوں کیلئے بھی کرینگے۔ تو سی پی این ای یہ سمجھتی ہے کہ صحافیوں کی اعلیٰ سطح پر جو سکیورٹی کے لیے کام ہو رہا ہے۔ تاہم اسے مزید بہتر کیا جائے۔

 سوال: یہ بتایئے کہ صحافیوں اور دوسرے میڈیا تنصیبات  کی حفاظت  کے لیے جو حفاظتی پروٹوکول ہیں انہیں یقینی بنانے  کے لیے میڈیا ہاوسز نے اب تک کیا کیا ہے؟

جواب: ہر میڈیا ہاؤس کی کہانی الگ ہے۔ بہت سے میڈیا ہاؤسز سمجھتے ہیں کہ وہ محفوظ جگہ پر ہیں۔ کچھ نے سی پی ین ای  سے مشاورت کی ہے اور بڑے پیشہ ورانہ انداز سے ماہرانہ انداز سے تجاویز دی گئی ہیں۔ جس کی تکمیل بھی ہوئی ہے لیکن اکثر میڈیا ہاؤسز میں ان کے اپنے سکیورٹی گارڈ بھی ہیں اور کچھ حکومت کی جانب سے سکیورٹی گارڈ ہیں۔ لیکن حکومت کی طرف سے پولیس واپس لے لی جاتی ہے تو انحصار نجی سکیورٹی محافظوں پر ہوتا ہے۔ اب ظاہر سی بات ہے میڈیا ہاؤسز خود تو مسلح فورس تیار کرنے سے رہے۔ یہ ریاستی اداروں کا کام ہے کہ اس طرح کی صورتحال پیدا کریں لیکن ایک پرخطر اور غیریقینی ماحول میں یہ کام مدیر بھی کر رہے ہیں اور میڈیا کے کارکن بھی کام کر رہے ہیں۔

میڈیا ہاؤسز پرحملے کی مثالیں بہت کم ہیں، زیادہ تر فیلڈ میں مارے گئے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے علاقوں میں کام کرتے ہوئے میڈیا والے مارے گئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ میڈیا ہاؤسز میں نشانہ نہیں بنے تو یہ ایک ایسی بات ہے جس کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔

جہاں تک اس معاملے میں اخبارات اورٹیلی وژن ہیں یہ دونوں مختلف راستوں پر ہیں۔ اخبارات کے اندر بریکنگ نیوز کی دوڑ اگر نہ لگے تو ان کے صحافی نسبتا ایک محفوظ ماحول میں اپنی رپورٹنگ کرتے ہیں۔

الیکٹرانک چینل پر بریکننگ نیوز کی ایک دوڑ لگی رہتی ہے۔ کسی نے تین منٹ پہلے دے دی تو کسی نے تین منٹ بعد۔ ان کی پوری ٹیم کو رپورٹرز اور کیمرامینز کو کہا جاتا ہے کہ آپ کو سب سے پہلے بریک کرنا ہے۔ وہ ایکسیڈنٹ کا شکار ہو جاتے ہیں یا پھر جس جگہ وہ پہنچتے تو وہ ہاں دہشت گردی کا نشانہ بھی بن جاتے ہیں۔ کیونکہ ٹیلی وژن چینل سے میرا کوئی واسطہ نہیں ہے لیکن میں کہنا چاہتا ہوں کہ ان کی طرف سے ایسے اقدامات نہیں کیے جاتے۔ انکی طرف سے یہ اقدامات کیے جانے چاہییں اور پیمرا کو بھی اس کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔

غلام مصطفی  کراچی پریس کلب سیفٹی ہب کے منیجر ہیں

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -