“صحافیوں کے تحفظ اور لائف انشورنس کی ضرورت”

“صحافیوں کے تحفظ اور لائف انشورنس کی ضرورت”

سیف الاسلام سیف

ویسے تو پاکستان صحافت کے میدان میں مختلف خطرات سے کبھی بھی مکمل طور پر آزاد نہیں رہا۔ پاکستان کا بنیادی طور پر جاگیردارانہ نظام کے نرغے میں رہنا اور تعلیم کی کم شرح بڑی رکاوٹیں ثابت ہوئی ہیں۔ زر، زمین اور زن پاکستانی معاشرے میں تنازعات کا روایتی سبب چلا آ رہا ہے تاہم پاکستان میں بڑی طاقتوں کے سیاسی عزائم اورمفادات نے دوسرے شعبوں کی طرح یہاں کی صحافت پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ 1970 کے عشرے کے اواخرمیں جب سوویت یونین اورامریکہ کی سرد جنگ کوباقاعدہ جنگ کے لیے میدان کی ضرورت پڑی تو انہوں نے ہمسایہ ملک افغانستان کومنتخب کیا۔ تین عشروں تک افغانستان سے جڑے پاکستانی علاقے اس کشمکش کے اثرات سے متاثر ہوتے رہے۔ سوویت یونین کے افغانستان سے نکلنے کے بعد امریکہ کے لیے افغانستان میں اسلامی عسکریت پسندی نیا چیلنج بن کر سامنے آیا۔ اس عرصے کے دوران پاک افغان سرحدی علاقوں خصوصا پاکستان کے قبائلی علاقہ جات اورمتصل صوبہ خیبرپختونخوا پر ان حالات کا براہ راست اثر پڑا جس نے اس خطے میں آزادانہ اورغیرجانبدارانہ صحافت مشکل بنا دی اور درست معلومات تک رسائی ناممکن ہوگئی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر فریق اپنے مفاد اورمقصد کی صحافت کو ہی برداشت کرتا رہا اورصحافت کے اعلی معیار کو برقرار رکھنا ایک خیال بن گیا۔ قبائلی علاقہ جات اور خیبرپختونخوا میں اس عرصے میں تین درجن کے قریب صحافیوں کوجان کا نذرانہ پیش کرنا پڑا۔ ان صحافیوں کو براہ راست بم دھماکوں، خودکش حملوں اورفائرنگ کرکے نشانہ بنایاگیا۔ یہاں تک کہ قبائلی علاقہ جات سے صحافی دوسرے شہروں کو نقل مکانی کرنے اوراپنے پیشے کوخیرباد کہنے پرمجبور ہوئے۔ راہ صحافت میں شہید اورمتاثر ہونے والے ان صحافیوں کے لواحقین اورخاندانوں کی امداد کا کوئی خاطرخواہ انتظام موجود نہیں۔ وفاقی اور نہ ہی صوبائی حکومتوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کے نذرانے دینے والے صحافیوں کے خاندانوں کی داد رسی کی کوشش کی۔ کارکن صحافیوں کے حقوق کی جدوجہد کرنے والی تنظیمیں ایسے صحافیوں کے لیے بھی سرکاری شہید افسران جیسے پیکج کی منظوری کا مطالبہ کرتی ہیں جسے تاحال تسلیم نہیں کیاگیا ہے۔ ان علاقوں میں صحافیوں کے جان ومال کا تحفظ، معلومات تک رسائی، آزاد اورغیرجانبدار صحافتی اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں کو یقینی بنانا، وار زون میں صحافتی امور کی انجام دہی کے لیے مطلوبہ تربیت اور زندگی کے بچاو کی احتیاطی تدابیر اپنانے کے چیلنچز کا سامنا ہے۔ اس سلسلے میں ذرائع ابلاغ کے اداروں اورمیڈیا ہاوسز کی جانب سے اس خطے میں کام کرنے والے صحافیوں کے تحفظ اور لائف انشورنس کی فراہمی کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے لیکن ذرائع ابلاغ کے اداروں کے مالکان اورانتظامیہ اس اہم نوعیت کی ذمہ داری سے آنکھیں چرائے ہوئے ہیں بلکہ میڈیا ہاوسز کے مالکان کا کردار اس حوالے سے بھی مجرمانہ رہا ہے کہ فاٹا اور خیبرپختونخوا کے اضلاع میں اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کرصحافتی ذمہ داریاں انجام دینے والے اپنے نمائندوں کوملازمت کی ضمانت دیتے ہیں اور نہ ہی ویج بورڈ ایوارڈ کے مطابق اجرت دینے پر تیار ہیں۔ اپنے اثاثوں میں روز بروز مبینہ اضافہ کرنے والے یہ مالکان ان لیبرقوانین پر عمل کرنے سے بھی گریزاں ہیں جو محنت کرنے والے مزدورں کے حقوق کے حوالے سے ان پر لاگو ہیں۔ ویج بورڈ ایوارڈ کے عدم نفاذ کا مسئلہ صرف دوردراز علاقوں تک ہی محدود نہیں بلکہ ملازمتوں کے عدم تحفظ کے ساتھ اس مسئلے سے بڑے شہروں کے صحافی بھی دوچار ہیں۔ دوسری طرف ریاستی اورقانون نافذ کرنے والے ادارے صحافیوں کو تحفظ اور شہریوں کو معلومات حاصل ہونے کے حق فراہم کرنے کی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ تماشا یہ کہ صحافیوں کے جان ومال اور پیشہ ورانہ تحفظ کے حوالے سے ملک میں کوئی خصوصی قانون ہی موجود ہی نہیں اورصحافتی تنظیمیں غیرسرکاری اداروں کے تعاون سے ایک خصوصی اورجامع قانون سازی کی کوششوں میں سرگرم عمل ہیں۔

سیف الاسلام سیف خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر ہیں 

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -