مئی 2017 تجزیہ: صحافیوں کو دھمکیاں، ان پر حملے اور ان کے قتل

مئی 2017 تجزیہ: صحافیوں کو دھمکیاں، ان پر حملے اور ان کے قتل

پاکستان میں میڈیا پر حملوں پر نظر اور تجزیہ

مئی دو ہزار سترہ رپورٹ از فریڈم نیٹ ورک

مئی دو ہزار سترہ میں پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک نے مجموعی طور پر میڈیا اور اس سے جڑے پریکٹیشنرز سے جڑی خلاف ورزیوں کے ملک بھر سے دس واقعات ریکارڈ کیے۔ ان میں ایک ٹی وی کے صحافی کو قتل کیا گیا، ٹی وی اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ افراد پر حملے ہوئے، صحافیوں کے داخلے پر پابندی اور ایک کو ریاست نے تحریری دھمکی دی اور مقدمہ درج کیا۔ ان میں سے چھ پنجاب میں، تین اسلام آباد میں اور دو بلوچستان میں رونما ہوئیں۔

قتل: مئی دو ہزار سترہ کا سب سے سنگین واقعہ پنجاب میں الیکٹرانک میڈیا کے صحافی کا قتل تھا۔ اے آر وائے نیوز چینل کے قصور ضلع کے خودیاں خاں قصبے کے نامہ نگار میاں عبدالرزاق کو سترہ مئی دو ہزار سترہ میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا جب ڈاکوں نے ان پر فائرنگ کی۔ یہ صحافی قصور جا رہا تھا کہ راستے میں ان ڈاکوں کو لوگوں کو لوٹتے ہوئے دیکھ لیا۔ انہوں نے کیمرے سے اس واقعے کو فلمبند کرنا شروع کر دیا۔ ڈاکوں نے انہیں ایسا کرتے دیکھ لیا اور ان پر گولی چلا دی جس سے وہ موقع پر ہلاک ہوگئے۔ واقعے کے پانچ روز بعد پولیس نے مبینہ ڈاکوں کو گرفتار کیا جبکہ رفعت بابا نامی ڈاکو کو ”مقابلے” میں ہلاک کر دیا۔

حملہ اور زخمی: مئی دو ہزار سترہ میں پانچ صحافیوں پر حملے ہوئے اور انہیں زخمی کیا گیا۔ ان میں سے ایک واقعہ پنجاب، دو اسلام آباد اور اتنے ہی بلوچستان سے رپورٹ ہوئے۔

مئی سترہ، دو ہزار سترہ کو قصور ضلع کے پٹوکی قصبے میں اے آر وائی کے نامہ نگار مقدر حسین اس وقت زخمی ہوگئے جب ڈاکوں نے ان اور ان کے ساتھی میاں عبدالرزاق پر گولی چلا دی۔ وہ موبائل کیمرے سے ان کی چوری کی دن دھاڑے واردات کی ویڈیو بنانے کی کوشش کر رہے تھے کہ ان پر حملہ ہوا۔ مقدر کو بازو میں گولی لگی۔ ان کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ اسلام آباد میں وزارت ماحولیات کے محمد ادریس نے ریاستی پی ٹی وی نیوز چینل کے رپورٹر ارسلان اسد پر حملہ کیا۔ پولیس کے پاس مقدمے درج کیا گیا لیکن اس معملے کو عدالت سے باہر باہمی رضامندی سے حل کر لیا گیا۔ حملہ آور نے معافی مانگ لی جس کے بعد پولیس رپورٹ واپس لے لی گئی۔

انیس مئی کو جیو نیوز چینل کے سپورٹس رپورٹر اکبر یوسفزئی پر کیپٹل ڈولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) حکام نے سیکٹر ایف سیون میں عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مبینہ طور پر سرکاری اراضی پر ”غیرقانونی قبضہ” کر رہے تھے۔ سی ڈی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے دیگر افراد کے ساتھ رپورٹر پر حملہ کر دیا۔ سی ڈی اے افسران کی جانب سے معافی کے بعد معملہ ختم کر دیا گیا۔

بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں نیم فوجی ملیشیا فرنٹئر کور کے سپاہیوں نے آٹھ مئی دو ہزار سترہ اے آر وائی نیوز چینل کے رپورٹر اختر گلفام اور کیمرہ مین حبیب خان کو مارا پیٹا اور حراست میں کو لے لیا۔ ٹی وی کا یہ عملہ پانچ مئی کے پاک افغان سرحد پر ہونے والی جھڑپوں کی کوریج کر رہا تھا۔ اختر گلفام نے کوئٹہ پریس کلب سیفٹی ہب مینجر کو بتایا کہ سپاہیوں نے ان سے ان کا کیمرہ بھی ”چھین” لیا۔ فوجیوں نے تاہم کیمرہ چیک کرنے کے بعد واپس لوٹا دیا۔

تحریری دھمکی:  کالعدم شدت پسند تنظیم ”بلوچستان لیبریشن فرنٹ (بی ایل ایف)” نے کوئٹہ کے مقامی میڈیا کو ان کا بیان شائع اور نشر نہ کرنے پر دھمکی دی۔ حکومت بلوچستان نے کالعدم تنظیموں جیسے کہ بی ایل اے، بلوچ ریپبلیکن آرمی (بی آر اے) اور دیگر علیحدگی پسند گروپوں کے بیانات کی کوئٹہ کے اخبارات میں اشاعت پر اور نجی خبر رساں ایجنسیوں جیسے کہ آن لائن، این این آئی اور آئی این پی جاری رکنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اس پابندی نے مقامی صحافیوں کی سکیورٹی اور تحفظ کو خطرے میں ڈالا ہے کیونکہ صوبائی حکومت میڈیا ہاوسز اور صحافیوں کو ان شدت پسند گروپوں سے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

قانونی مقدمہ: فرانس 24 چینل کے اسلام آباد کے نامہ نگار اور سینیر صحافی طاحہ صدیقی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں انہیں وفاقی حکومت کے تحقیقاتی ادارے ایف ائی اے کے ذریعے ان کی آن لائن سرگرمیوں کی بنیاد پر ”ہراساں” کرنے کے خلاف درخواست دی۔ ”یہ ہراسیت ہے اور میری پٹیشن کا مقصد اعلی عدلیہ کے ذریعے حکومت کو مجھے ہراساں کرنے سے منع کرنا ہے”، ان کا کہنا ہے۔ حکومت الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کے ذریعے حکومت، سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اور دوستانہ ممالک کے تنقید روکنا چاہ رہی ہے۔

مختلف قسم کے میڈیا اداروں کو ملنے والی دھمکیاں، ان پر ہونے والے حملے اور ان کو ہراساں کرنے کے واقعات:

مئی دو ہزار سترہ میں چھ قسم کے حملے اور دھمکیاں مختلف اقسام کے میڈیا کے خلاف ریکارڈ کیے گیے۔ ان میں سات الیکٹرانک میڈیا اور چار پرنٹ میڈیا کے خلاف تھے۔

مختلف میڈیا کے خلاف ان گیارہ واقعات میں چار ٹی وی کے لوگوں پر حملے ہوئے اور انہیں زخمی کیا گیا، ایک جسمانی طور پر ختم کرنے، چار حملوں اور زخمیوں اور دو حکام کی جانب سے پابندی کے تھے۔ پرنٹ میڈیا کے خلاف چار واقعات میں سے ایک تحریری دھمکی، ایک زبانی دھمکی، ایک حکام کی جانب سے پابندی اور ریاستی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے قانونی مقدمہ ہے۔

صحافیوں اور میڈیا کو دھمکی دینے اور ہراساں کرنے والے عناصر:

مئی 2017 میں میڈیا کارکنان کے خلاف عناصر جو حملے، دھمکی دینے اور نقصان پہنچانے والوں میں بلوچستان میں نیم فوجی فرنٹئر کور ملیشیا، بلوچستان میں کالعدم شدت پسند تنظیم بی ایل ایف، سی ڈی اے اور وزارت ماحولیات کے سرکاری اہلکار اور پنجاب کا ایک جرائم پیشہ گروپ شامل تھے۔

یہاں پر بتائی گئی معلومات متاثرہ شخص یا اس کے خاندان سے بات چیت کی بنیاد پر اکٹھی کی گئی ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ معلومات توثیق شدہ ہیں مگر جہاش اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہاں پر معلومات کو بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ایسی حکمت عملی تجویز کی جائے تاکہ میڈیا اور صحافیوں کے خلاف خطرات میں کمی لائی جا سکے۔

صحافیوں کی حفاظت کے لیے فریڈم کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک کی طرف سے وکالت:

مئی 2017 پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک کے لیے کافی مصروف ماہ ثابت ہوا۔ انہوں نے میڈیا سے جڑے فریقین کو صحافیوں، میڈیا اداروں اور ہاوسز کے تحفظ سے متعلق آگاہ کیا۔ صحافیوں کی حفاظت کے متعلق کچھ اقدامات جو اٹھائے گئے ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:

پریس کلب سیفٹی ہب، کوئٹہ:

۔ فریڈم نیٹ ورک اور بلوچستان یونین آف جرنلسٹس نے کوئٹہ میں عالمی یوم آذادی پریس منایا۔ صحافیوں نے کوئٹہ پریس کلب سے بلوچستان اسمبلی تک مارچ کیا۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے نائب صدر سلیم شاہد، بی یو جے کے صدر خلیل احمد اور کوئٹہ پریس کلب کے رضا الرحمان نے تقریریں کیں اور عالمی دن کی اہمیت اجاگر کی۔ اس موقع پر صحافیوں نے ڈان اخبار کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور پمرا کی جانب سے بول کے لائسنس کی منسوخی کی مذمت کی۔

نیشنل پریس کلب، اسلام آباد سیفٹی ہب: 

۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ڈان لیکس کا کیس آل پاکستان نیوز پیپر سوسائٹی کے حوالے کرنے کے فیصلے کے تناظر میں پی ایف یو جے، نیشنل پریس کلب اور سیفٹی ہب مینجر نے ڈان اخبار کا دورہ کیا اور آذادی صحافت کے لیے مکمل حمایت کی یقین دہانی کروائی۔

۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے صحافیوں نے پی ایف یو جے، این پی سی اور سول سوسائٹی اور مزدور یونین کے کارکنوں کے ساتھ مل کر ڈان اخبار کے باہر عالمی یوم آذادی صحافت کے دن اظہار یکجہتی کے لیے اجتماع منعقد کیا۔

۔ این پی سی نے پی ایف یو جے کی آئینی کمیٹی کو جس کی سربراہی صحافی ناصر ملک کر رہے ہیں حکومت کی جانب سے صحافیوں کے تحفظ کے مجوزہ بل میں ترامیم کی توثیق کی۔ این پی سی – جے ایس ایچ ایم کو بھی کمیٹی میں شامل کیا گیا۔ پہلے اجلاس میں تمام سٹیک ہورلڈرز سے سفارشات طلب کرنے کا فیصلہ ہوا۔

۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور این پی سی نے تیرہ مئی کو کلب میں ”یوم عزم” منایا تاکہ جمہوریت اور آذادی صحافت کے لیے صحافیوں کی قربانیوں کو یاد کیا جاسکے۔ چار صحافیوں کو – ناصر زیدی، اقبال جعفری اور خاور نعیم ہاشمی _ ضیا الحق کے دور میں آذادی اظہار پر پابندی کے خلاف احتجاج کرنے پر کوڑے مارے گئے تھے۔

۔ تمام فریق سے شفارشات حاصل کرنے کے بعد تین رکنی کمیٹی نے تجویز دی کہ مجوزہ حکومتی بل کو ”جرنلسٹس سیفٹی، پروٹیکشن اینڈ ویلفر بل” کا نام دیا جائے۔ معاوضے کی شقیں بھی شامل کی گئی ہیں۔

پریس کلب سیفٹی ہب، کراچی:

۔ اخلاق احمد جوکھیو کو، جنہیں 10 جنوری 2017 کو سینٹرل جیل سکھر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت بھیجا گیا، چار ماہ کی اسیری کے بعد ضمانت پر دس مئی کو رہا کر دیا گیا۔ انہوں نے کراچی سیفٹی ہب مینجر کو بتایا کہ ان کی رپورٹنگ کی بنیاد پر ان کے خلاف پانچ غیرقانونی مقدمات قائم کئے گئے ہیں۔

۔ دنیا نیوز چینل کے کراچی بیورو کے سربراہ اسلم خان کے ساتھ ایک ملاقات ان کے دفتر پر ہوئی جس میں صحافیوں کے تحفظ کے امور زیر غور آئے۔

۔ صحافیوں کے تحفظ کے مجوزہ قانون پر سندھ کے وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ پر ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کراچی پریس کلب سیفٹی ہب اور فریڈم نیٹ ورک کے ساتھ مل کر صحافیوں کے سندھ میں تحفظ کے لیے قانون سازی کی یقین دہانی کروائی۔

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -