جنوبی وزیر ستان: سات برس بعد بھی آزاد صحافت نہیں

جنوبی وزیر ستان: سات برس بعد بھی آزاد صحافت نہیں

فاروق محسود

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن راہ نجات کے متاثرین کی واپسی رواں سال مکمل کر لی جائے گی لیکن متاثرین نے گزشتہ سات سال کشمکش میں گزارے ہیں۔ نقل مکانی کے بعد انہیں کسمپرسی کی زندگی بسر کرتے وقت صرف یہ امید تھی کہ آپریشن جب ختم ہوگا اور وہ واپس لوٹیں گے تو وہاں امن وسکون کے ساتھ ساتھ دور جدید یعنی 2017  کا وزیر ستان انہیں ملے گا۔ لیکن یہ اُمیدیں اس وقت ٹوٹ گئیں، جب لوگوں نے اپنے ملیامیٹ مکانات کو دیکھا، بجلی، پانی اور ٹیلیفون نام کی کوئی چیز نہیں۔ اشیاء ضرورت کی چیزیں ناپید ہیں۔ اسی لیے متاثرین پھر انہیں علاقوں کو واپس جانے لگے ہیں جہاں انہوں نے بےکسی کے سات سال گزارے تھے۔

جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے میں، جس میں چھ تحصیلیں شامل ہیں،  حکومت نے اکتوبر 2009 میں عسکری آپریشن شروع کیا جس کی وجہ سے حکومتی اعداد شمار کے مطابق ایک لاکھ  بیس ہزار سے زائد خاندانوں نے نقل مکانی کی۔ اب حالات حکومت کے کنڑول میں ہیں لیکن ان علاقوں میں اب بھی صحافتی سرگرمیوں پر غیراعلانیہ پابندی  عائد ہے۔ ایسے میں واپس جانے والوں کی مشکلات کو سامنے لانے کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے۔

صحافیوں کو انتظامیہ اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ وہاں جانے اور کام کی اجازت ہے لیکن صحافیوں کا رپورٹنگ کے لیے جانا ممنوع ہے اور اگر کوئی چلا بھی جائے تو اس کا کیمرہ کارڈ اس کے لیے کسی عذاب سے کم ثابت نہیں ہوتا۔ اس حوالے سے صدر محسود پریس کلب حیات اللہ محسود کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں لوگ نہیں چاہتے کہ وہاں کے مسائل لوگوں کے سامنے آئیں اور وہاں انتظامیہ نے جو ترقیاتی کاموں کے دعوے کیے ہیں اس حوالے سے لوگوں کو حقیقت معلوم ہو۔

حیات کا مزید کہنا ہے کہ جب ہم وہاں جاتے ہیں تو وہاں ہمیں یہ کہہ کر منع کیا جاتا ہے کہ آپ لوگوں کو خطرہ ہے، تب ہم یہ نہیں سمجھتے کہ جب اتنے عرصے تک کارروائی ہوئی اور عام لوگ بھی اب وہاں کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے، تو ایسے میں صحافیوں کو کس سے خطرہ دوچار ہے۔

اس حوالے سے سابق صدر ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس شاکر محسود نے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں کو علاقے میں بغیر کسی روک ٹوک کے صحافتی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے۔ ”یہ مطالبہ ہم نے گورنر تک پہنچایا ہے لیکن کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا گیا ہے۔”

مقامی صحافی حمزہ محسود کہتے ہیں کہ قبائلیوں کا ان سے یہ مطالبہ ہوتا ہے کہ علاقے کے مسائل کو وہ اجاگر کریں جس کے جواب میں وہ ان کو صرف تسلیاں ہی دے پاتے ہیں۔ انتظامیہ مقامی صحافیوں کو نظرانداز کر کے غیرمقامی صحافیوں کو لاکھوں روپے خرچ کرکے علاقے میں لاتی ہے اور ان کے ناچاہتے ہوئے بھی ان کو وہی نظر آتا اور دیکھایا جاتا ہے جو انتظامیہ کی مرضی ہو۔

جنوبی وزیرستان آپریشن راہ نجات سے متاثرہ تمام چھ تحصیلوں میں سکیورٹی فورسز کی چند پی سی اوز ہیں جو کبھی بند اور کبھی کھلے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ مواصلات کا کوئی دوسرا نظام نہیں ہے۔

شاکر محسود کہتے ہیں کہ ان کے صحافی جن کے علاقے کھول دیئے گئے ہیں وہ اب بھی شہری علاقوں میں رہنے پر مجبور ہیں جس کی بنیادی وجہ علاقے میں صحافتی سرگرمیوں کے لیے اجازت  کا درکار ہونا ہے۔ دوسری اہم وجہ مواصلات کے نظام کا نہ ہونا بھی ہے۔ یعنی انٹرنیٹ، پی ٹی سی ایل اور موبائل فون سروس کی غیرموجودگی میں یہ علاقے بالکل بلیک آوٹ ہے۔ اور ایسے اندھیرے میں صحافت کرنا مشکل ہے۔

مبصرین کاکہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان کے متاثرین کی واپسی مکمل ہو بھی جائے لیکن عوام کو جب تک سہولیات کی فراہمی یقینی نہیں بنائی جائے گی، زندگی معمول پر نہیں آسکتی ہے۔ مسائل کے حل تک وزیرستان کو آباد کرنا مشکل نہیں ناممکن ہے۔ وزیرستان میں میڈیا کی عوام تک رسائی کا نہ ہو نا لمحہ فکریہ ہے۔ ارباب اختیار سے اس مسئلے کے جلد حل کے لیے اپیل کی جاتی ہے۔

ابھرتے قبایلی صحافی ہیں  فاروق محسود

 

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -