شمالی وزیرستان: صحافت کی مشکلات

شمالی وزیرستان: صحافت کی مشکلات

محمد فضل الرحمان

ٹھیک ایک سال قبل فروری دو ہزار سولہ میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کی رپورٹ میں دنیا کے جن ممالک کو صحافیوں اور صحافت کے لیے خطرناک قرار دیا گیا تھا ان میں پاکستان بھی شامل تھا۔ رپورٹ کے ایک سال بعد بھی آج جب پاکستان میں صحافیوں کو درپیش مسائل اور خطرات کا جائزہ لیا جاتا ہے تو صورت حال میں کوئی خاص بہتری نظر نہیں آتی۔

اگر ہم صوبہ خیبر پختونخوا اور پھر بالخصوص قبائلی علاقہ جات میں صحافیوں کو درپیش مسائل کا جائزہ لیں تو حالات کی سنگینی مزید ابھر کر سامنے آجاتی ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں اور شدت پسند گروپوں کے قبائلی علاقہ جات میں موجودگی کے بعد وہاں ہونے والے فوجی آپریشنز سے قبل بھی قبائلی علاقہ جات میں صحافت کو مشکل قرار دیا جاتا تھا۔ گیارہ ستمبر دوہزار ایک سے قبل قبائلی علاقہ جات میں پولیٹیکل انتظامیہ اور صحافیوں کے درمیان مسائل، جھگڑوں، تنازعات کے معاملات دیکھنے، سننے اور پڑھنے کو ملتے رہتے تھے مگر گیارہ نومبر کے بعد دنیا بھر میں ہونے والی تبدیلیوں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بعد معاملات اور رپورٹنگ کے حوالے سے درپیش چیلنجز کی نوعیت نہ صرف تبدیل ہوئی بلکہ اس میں سنگینی بھی آگئی۔

اس حوالے سے  معروف قبائلی صحافی سیلاب خان محسود کہتے ہیں کہ قبائلی علاقہ جات میں عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور اس حوالے سے پولیٹیکل انتظامیہ کی زیادتیوں کو رپورٹ کرنا انتہائی مشکل کام تھا۔ ”پولیٹیکل انتظامیہ کی ناراضگی مول لینا ایک صحافی کے لیے خود کو اور اپنے اہل خانہ، خاندان اور پوری قوم کو مشکلات میں ڈالنے کا پیش خیمہ قرار دیا جاتا تھا۔ ”ہماری ہمیشہ پولیٹیکل انتظامیہ سے قبائلی صحافیوں کو اظہار رائے کی آزادی کے حق کی خاطر لڑائی ہوتی تھی مگر موجودہ حالات میں صورت حال بدل گئی ہے۔”

اب وہاں کے صحافی کو متعدد دیگر سنگین مشکلات کا سامنا ہے جن میں جان سے جانا بھی پڑ جاتا ہے اور متعدد صحافی اپنی جان گنوا بھی چکے ہیں۔ شمالی وزیر ستان ایجنسی میں بھی دیگر قبائلی علاقہ جات کی طرح صحافیوں کو ایک ہی نوعیت کی مشکلات کا ماضی میں بھی سامنا تھا اور آج بھی ہے۔ شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف فوج آپریشن کے نتیجہ میں قبائل کی بڑی تعداد ضلع بنوں اور صوبہ خیبرپختونخوا کے دیگر شہروں کی جانب نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ ان میں وہاں کے صحافی بھی شامل تھے۔ اس حوالے سے بنوں پریس کلب کے صدر عمران ناشاد بتاتے ہیں کہ ماضی میں شمالی وزیرستان میں کسی صحافی کو پولیٹیکل انتظامیہ سے مسئلہ پیدا ہوتا تھا تو وہ بندوبستی علاقے منتقل ہو جاتا تھا۔ بندوبستی علاقوں کے صحافی کمشنر سے ملاقات کرتے اور مسئلہ کو حل کرنے میں مدد ملتی تھی مگر اب قبائل میں صحافیوں کو ایسے دشمن کا سامنا ہے جس نے خود کو خفیہ رکھا ہوا ہے لہذا ایسی صورت حال میں قبائلی صحافی کے لیے کسی بھی دھمکی کے بعد زندگی گذارنا انتہائی مشکل ہوجاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شمالی وزیرستان کے چھ صحافی بنوں میں اپنے صحافتی فرائض سرانجام دے رہے ہیں جبکہ چند پشاور اور اسلام آباد میں موجود ہیں۔

قبائلی صحافیوں کی جانوں کو خطرات کی وجوہات کے بارے میں ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس کے بانی صدر سیلاب محسود کہتے ہیں کہ قبائلی صحافیوں میں تربیت کی صورتحال کافی خراب ہے۔ ”ہم نے ٹرائیبل یو نین کے پلیٹ فارم سے صحافیوں کے لیے تربیتی نشستوں کا اہتمام کیا تھا مگر شعور کی کمی اور تربیت کا فقدان ہی قبائلی صحافیوں کے لیے بدلتے حالات میں مشکلات میں اضافے کا سبب بن گیا ہے۔”

اسلام آباد سے شائع ہونے والے روزنامہ اوصاف کے شمالی وزیرستان سے منسلک رپورٹر قدیر داوڑ کا موقف دیگر مسائل کی طرف نشاندہی کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیٹیکل انتظامیہ کبھی بھی صحافیوں کی آزادی کی مخالف نہیں رہی ہے۔ ”جہاں ہم زیادتی کرتے ہیں یا کسی کو بلیک میل کرتے ہیں وہیں سے مسائل شروع ہو جاتے ہیں۔” قدیر کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان آپریشن کی تکمیل کے بعد علاقے میں امن ہے اور دیگر قبائل کی طرح قبائلی صحافیوں کے خاندان بھی علاقہ کی جانب واپس چلے گئے ہیں۔ ”وہاں چونکہ کسی کو اسلِحہ لے کر جانے کی اجازت نہیں ہے تو جان کے خطرہ والی بات اب وہاں ممکن نہیں، تاہم سہولتوں کے فقدان کے باعث ایک صحافی کے لیے شمالی وزیرستان سے رپورٹنگ کرنا ممکن نہیں ہے۔ وہاں پولیٹیکل انتظامیہ، قبائلی جرگہ کی رٹ بحال ہے مگر مواصلات کی صورت حال درست نہیں، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات کے مسائل ہیں۔ موبائل، انٹر نیٹ کام نہیں کرتا جس کی وجہ سے ہم شمالی وزیرستان سے بروقت رپورٹنگ نہیں کرسکتے اور بندوبستی علاقوں میں ہی مقیم ہیں۔”

قبائلی صحافیوں کو اگر جدید مواصلات کی سہولیات فراہم کردی جائیں تو شمالی وزیرستان سے رپورٹنگ کرنے میں اب کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

محمد فضل الرحمان ڈیرہ پریس کلب سیفٹی ہب منیجر ت

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -