صحافیوں کو خود اپنا تحفظ کرنا چاہیے: ذوالفقار علی شاہ

صحافیوں کو خود اپنا تحفظ کرنا چاہیے: ذوالفقار علی شاہ

گوہر علی

ذوالفقار علی شاہ کا شمار پشاور کے سینئر صحافیوں میں ہوتا ہے ۔وہ گزشتہ بائیس سال سے صحافت کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ 1993میں پشاور یونیورسٹی سے صحافت میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد پشاور کے مقامی اخبار روزنامہ مشرق سے بطور سب ایڈیٹر عملی صحافت کا آغاز کیا۔ بعدمیں روزنامہ خبریں، پشاور سے بطور سینئر رپورٹر وابستہ ہوگئے جبکہ 2004 میں روزنامہ الاخبارسے میں ریذیڈنٹ ایڈیٹر کاچارج سنبھالا اور ابھی تک اسی عہدے پر فائز ہیں۔ پاکستان میں باالعموم اور خیبر پختونخوا اور فاٹا میں بالخصوص کارکن صحافیوں کے خلاف جاری تشدد اور ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی وجہ سے انہیں درپیش خطرات کے حوالے سے سیفٹی حب پشاور نے ان سے خصوصی بات چیت کی ہے۔

سوال: آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں باالعموم اور خیبر پختونخوا اور فاٹا میں بالخصوص کارکن صحافیوں کے لیے ماحول کس حد تک محفوظ اور سازگار ہے؟

جواب: میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ حالات میں خیبر پختونخوا اور فاٹا کے صحافی بالکل بھی محفوظ نہیں ہیں۔ پاکستان کے دوسرے علاقوں سے  ہمارے صوبے اور فاٹا کے حالات بالکل مختلف ہیں۔ یہاں گذشتہ کئی سالوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے جس کی وجہ سے ہمارے کارکن صحافی بھی غیرمحفوظ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس جنگ کے دوران اب تک ہمارے کتنے ہی ساتھی شہید ہوئے ہیں جو ریکارڈ کا حصہ ہے مگر ابھی تک کسی کو بھی گرفتار کیا گیا اور نہ ہی کسی کو سزا دی گئی۔

سوال: خطرے کے عناصر کون ہیں اوران کے طریقہ کار میں کیا فرق ہے؟

جواب: صحافیوں کو انتہا پسندوں اور طالبان کے علاوہ ریاستی ایجنسیوں سے بھی خطرہ درپیش ہے۔ اس کے علاوہ بعض اوقات سیاسی عناصر بھی صحافیوں کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں کیونکہ ہر طبقہ صحافیوں کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے اور جب وہ اس سے انکار کرتے ہیں تو وہ ان کے خلاف ہو جاتے ہیں۔

سوال : کیا میڈیا سینئر صحافیوں کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور اگر کر رہا ہے تو کیا یہ کافی ہے؟

جواب: میرے خیال میں اس وقت میڈیا ہاوسز صحافیوں کے تحفظ کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کر رہے بلکہ میڈیا ۔۔۔ نے صحافیوں کے تحفظ کا معاملہ حکومت پر چھوڑ دیا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان میں بھی صحافیوں کی تحفظ کی بات کی گئی ہے مگر حکومتی سطح پر بھی کارکن صحافیوں کے تحفظ کے لیے کوئی موثر اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔

سوال: صحافیوں کے تحفظ کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کرنا چاہیے؟ آپ کے خیال میں اس سلسلے میں مختصر المعیاد اور طویل المعیاد مدت کے لیے کیا منصوبہ بندی ہونی چاہیے؟

جواب: میرے خیال میں مالکان اور حکومت مل کر صحافیوں خصوصاً فیلڈ میں کام کرنے والے کارکن صحافیوں کے تحفظ کے لیے اقدامات اٹھانے چاہیے جن میں قانون سازی بھی شامل ہے۔ یہ قانون سازی مرکز کے ساتھ ساتھ صوبوں کی سطح پر بھی ہونی چاہیے۔

سوال: کیا آپ کے ادارے میں سکیورٹی پالیسی موجود ہے؟

جواب: نہیں ہمارے ادارے نے ابھی تک ایسی کوئی پالیسی تیار نہیں کی ہے تاہم ہم نے اپنے طور پر صحافیوں کے تحفظ کے لیے بعض اقدامات اٹھائے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں صحافیوں کو خود بھی اپنے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے چاہیے۔

 گوہر علی پشاور پریس کلب سیفٹی ہب کے منیجر  

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -