اپریل 2017 تجزیہ: صحافیوں کو دھمکیاں، ان پر حملے

اپریل 2017 تجزیہ:  صحافیوں کو دھمکیاں، ان پر حملے

پاکستان میں میڈیا پر حملوں پر نظر اور تجزیہ

اپریل دو ہزار سترہ رپورٹ 

مارچ دو ہزار سترہ میں پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک نے مجموعی طور پر میڈیا اور اس سے جڑے پریکٹیشنرز کے خلاف خلاف ورزیوں کے آٹھ واقعات ریکارڈ کیے تھے۔ ان میں پانچ صحافیوں کو مارنا پیٹنا اور زخمی کرنا، ایک صحافی کو حراست میں لیا جانا اور ایک صحافی کو زبانی دھمکیاں دیا جانا جیسے واقعات شامل تھے۔ ان میں سے پانچ خلاف ورزیاں سندھ اور ایک ایک خیبر پختونخوا اور پنجاب میں رونما ہوئیں۔

حملے اور زخم: اپریل 2017 میں چھ صحافیوں پر حملے ہوئے اور انہیں زخمی کیا گیا۔

سترہ اپریل 2017 کو سکھر پریس کلب، سندھ میں اچانک آٹھ افراد پر مشتمل ایک احتجاجی گروہ اندر داخل ہوا اور اس نے صحافیوں پر حملے کیے اور املاک کو نقصان پہنچایا۔ اس افراتفری میں پانچ صحافی – تین کیمرہ مین اور دو رپورٹروں – کو زخم آئے اور انہیں طبی امداد کی ضرورت پڑی۔ ان میں جیو ٹی وی کے کیمرہ مین ناصر جعفری، امن اخبار کے کیمرہ مین فیصل ارائین، دب نیوز ٹی وی کے کیمرہ مین شاہ ولی، عوامی آواز نامی اخبار کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر جاوید میمن اور اب تک ٹی وی کے جہانزیب سیار شامل تھے۔ پولیس نے بعد میں دو مشتبہ حملہ آوروں کو گرفتار کیا جنہیں بعد میں حکمراں جماعت کے ایک سینٹر کے کہنے پر چھوڑ دیا گیا۔ چھ مشتبہ افراد اب تک آذاد ہیں۔ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تئیس اپریل 2017 کو ایک الگ واقعے میں لاہور میں سی 42 کے رپورٹر سید احسان پر سکیورٹی اہلکاروں نے حملہ کیا اور انہیں زخمی کر دیا۔ انہوں نے ایسا بظاہر شہر کے ہوائی اڈے کی باوجود باضابطہ اجازت کی موجودگی میں فوٹیج بنانے کیا۔

حراست: تئیس اپریل 2017 کو لاہور میں سی 42 چینل کے رپورٹر سید احسان پر لاہور کے ہوائی اڈے پر حملہ کیا گیا، مارا پیٹا گیا اور حراست میں رکھا گیا۔ احسان اپنی ڈیوٹی کے دوران اپنے موبائل پر فوٹیج بنا رہا تھا کہ ایک عورت نے اعتراض کیا اور اس سے ان کی تصاویر ضائع کرنے کے لیے کہا۔ احسان کے انکار پر اس عورت نے کسی کو فون کےیا اور بعد میں چند سفید کپڑوں میں افراد آئے اور اسے ساتھ لے گئے، اسے مارا اور بند کر دیا۔ اسے چوبیس گھنٹوں بعد رہا کیا گیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ عورت کسی سابق فوجی افسر کی بیٹی تھی۔ ہوائی اڈے کی انتظامیہ نے باضابطہ طور پر لاہور کے دو ٹی وی چینلز کو صحافت کے مقصد کے لیے مسافروں کی تصاویر بنانے کی اجازت دی تھی۔

دھمکی: پندرہ اپریل 2017 کو جنوبی وزیرستان میں روزنامہ امت کے رپورٹر شاہ زمان محسود کو افغانستان کے ٹیلیفون نمبر سے ایک دھمکی موصول ہوئی۔ نامعلوم کال کرنے والے نے انہیں رپورٹنگ سے باز رہنے یا پھر اس کے نتائج بھگتنے کی دھمکی دی۔

میڈیا کے اداروں کو ملنے والی دھمکیاں، ان پر ہونے والے حملے اور ان کو ہراساں کرنے کے واقعات: 

اپریل 2017 میں پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک نے کسی میڈیا تنصیب پر – سکھر پریس کلب – پر حملے کا ایک واقعہ ریکارڈ کیا۔ سترہ اپریل 2017 کو سکھر پریس کلب، سندھ میں اچانک آٹھ افراد پر مشتمل ایک احتجاجی گروہ اندر داخل ہوا اور اس نے صحافیوں پر حملے کیے اور املاک کو نقصان پہنچایا۔ اس افراتفری میں پانچ صحافی – تین کیمرہ مین اور دو رپورٹروں – کو زخم آئے اور انہیں طبی امداد کی ضرورت پڑی۔ اس ماہ کسی میڈیا گروپ پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگائی گئی اور کسی میڈیا گروپ کو سرکاری یا غیرسرکاری اداروں سے کسی قسم کا کوئی نوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا۔

مختلف قسم کے میڈیا اداروں کو ملنے والی دھمکیاں، ان پر ہونے والے حملے اور ان کو ہراساں کرنے کے واقعات:

اپریل 2017 کے دوران مختلف میڈیا سے وابستہ سات کارکنوں کے خلاف تین قسم کے حملے اور دھمکیاں پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک نے ریکارڈ کیں۔ ان میں سے چار ٹی وی اور تین پرنٹ میڈیا کے خلاف تھیں۔

ٹی وی کے کارکنوں کے خلاف چار واقعات میں سے چار حملے اور زخمی کرنے اور ایک غیرقانونی حراست کا واقع تھا۔ پرنٹ میڈیا کے خلاف تین واقعات میں سے دو حملے اور زخمی کرنے اور ایک زبانی دھمکی تھی۔

صحافیوں اور میڈیا کو دھمکی دینے اور ہراساں کرنے والے عناصر:

اپریل 2017 میں میڈیا کارکنان کے خلاف عناصر جو حملے، دھمکی دینے اور نقصان پہنچانے والوں میں نامعلوم افراد جن کی مشتبہ طور پر سیاسی وابستگی تھی، سکیورٹی اہلکار اور شدت پسند شامل تھے۔

یہاں پر بتائی گئی معلومات متاثرہ شخص یا اس کے خاندان سے بات چیت کی بنیاد پر اکٹھی کی گئی ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ معلومات توثیق شدہ ہیں مگر جہاش اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہاں پر معلومات کو بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ایسی حکمت عملی تجویز کی جائے تاکہ میڈیا اور صحافیوں کے خلاف خطرات میں کمی لائی جا سکے۔

صحافیوں کی حفاظت کے لیے فریڈم کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک کی طرف سے وکالت:

اپریل 2017 پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک کے لیے کافی مصروف ماہ ثابت ہوا۔ صحافیوں کی حفاظت کے متعلق کچھ اقدامات جو اٹھائے گئے ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:

نیشنل پریس کلب، اسلام آباد سیفٹی ہب:

۔ سیفٹی ہب مینجر نے مظفرآباد اور میرپور پریس کلبس میں صحافیوں کی جسمانی اور ڈیجٹل سکیورٹی تربیت منعقد کی۔ دونوں میں چالیس صحافیوں نے شرکت کی۔

۔ نیشنل پریس کلب کے تعاون سے شہید صحافیوں کی یاد میں تقریب منعقد کی۔ سینیر صحافی حامد میر، سینٹ چیرمین رضا ربانی اور وزیر مملکت برائے معلومات مریم اورنگزیب نے اس میں شرکت کی۔

۔ صحافیوں کے تحفظ اور فلاح کے مجوزہ بل پر مشاورت میں سہولت دی۔ نیشنل پریس کلب میں منعقد اس سیمنار میں طے کیا گیا کہ پی ایف یو جے اپنی تجاویز تیس اپریل تک حکومت کو دے گی۔

۔ جنگ کے رپورٹر مظہر برلاس سے مشاورت کی جن کا کہنا تھا کہ پولیس نے ان کی گاڑی کوٹکر ماری۔ سیفٹی ہب نے مصالحت کروائی جس کے نتیجے میں پولیس نے معذرت کر لی۔

   پریس کلب سیفٹی ہب، ڈیرہ اسماعیل خان:

۔ سیفٹی ہب مینجر نے تین میڈیا مینجرز _ اے ٹی وی کے رپورٹر ظفر اعوان، جہان پاکستان کے بیورو چیف اور وقت ٹی وی کے رپورٹر عثمان اعوان اور پی ٹی وی نیوز بیرو رابطہ کار یاسین قریشی سے ملاقات کی اور انہیں اقوام متحدہ کا پلان آف ایکشن اور میڈیا ہاوس سیفٹی پروٹوکول دستاویزات دیں تاکہ انہیں اپنے دفاتر میں آویزاں کرسکیں۔

۔ گومل یونیورسٹی کے ڈپارٹنمٹ کے سربراہ وسیم شیخ سے ملاقات کی تاکہ تین مئی عالمی پریس کی آذادی کے دن کی تقریب اور شرکاء پر مشاورت کی۔ 

پریس کلب سیفٹی ہب، کراچی:

۔ سیفٹی ہب مینجر نے تھٹہ پریس کلب میں جسمانی اور ڈیجیٹل سکیورٹی کی تربیت گیارہ اپریل کو منعقد کی جس میں پندرہ صحافیوں نے سرکت کی۔

۔ صوبائی میڈیا سیفٹی بل پر کراچی میں فریڈم نیٹ ورک اور ارادہ کی تعاون سے مشاورت منعقد کی۔ اراکین پارلیمان، وکلاء، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے ارکین نے شرکت کی۔ اراکین اسمبلی نے بل کی اسمبلی میں حمایت کرنے کا وعدہ کیا۔

۔ کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز کے رکن اور روزنامہ عوامی آواز کے مدیر ڈاکٹر جبار خٹک کا مدیر کے صحافیوں کے تحفظ پر انٹرویو کیا۔

پریس کلب سیفٹی ہب، کوئٹہ:

۔ سیفٹی ہب مینجر نے قلعہ سیف اللہ پریس کلب میں جسمانی اور ڈیجٹل سکیورٹی سے متعلق تربیت منعقد کی جس میں آٹھ صحافیوں نے شرکت کی۔

۔ انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان رزاق چیمہ سے کوئٹہ پریس کلب اور بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے ایک وفد کے ہمراہ کوئٹہ میں ملاقات کی جس میں چمن کے صحافی متی اللہ اچکزئی کے معاملے پر بات کی۔ صحافی کے خاندان کو دھمکانے والے کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا گیا۔

۔ صوبائی میڈیا سیفٹی بل پر فریڈم نیٹ ورک اور ارادہ کے اشتراک سے مشاورت کا کوئٹہ میں اہتمام کیا۔ اراکین پارلیمان، وکلاء، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے ارکین نے شرکت کی۔ اراکین اسمبلی نے بل کی اسمبلی میں حمایت کرنے کا وعدہ کیا۔

پریس کلب سیفٹی ہب، پشاور:

۔ سیفٹی ہب مینجر نے دی نیشن کے پشاور میں بیورو چیف سید عالم خان اور دنیا نیوز کے بیورو چیف سیف اللہ گل سے ملاقات کی اور صحافیوں کے تحفظ اور سکیورٹی پروٹوکول کے نفاذ پر بات کی۔

۔ صوبائی میڈیا سیفٹی بل پر فریڈم نیٹ ورک اور ارادہ کے اشتراک سے مشاورت کا کوئٹہ میں اہتمام کیا۔ اراکین پارلیمان، وکلاء، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے ارکین نے شرکت کی۔ اراکین اسمبلی نے بل کی اسمبلی میں حمایت کرنے کا وعدہ کیا۔

پریس کلب سیفٹی ہب، لاہور:

۔ سیفٹی ہب مینجر نے لاہور میں جیو ٹی وی کے بیورو چیف رئیس انصاری اور ٹائمز میڈیا گروپ کے منیجنگ ڈایریکٹر کاظم خان سے ملاقات کی اور اقوام متحدہ کے پلان آف ایکشن اور سیفٹی پروٹوکول سے متعلق دستاویزات حوالے کیے۔

۔ صوبائی میڈیا سیفٹی بل پر فریڈم نیٹ ورک اور ارادہ کے اشتراک سے مشاورت کا کوئٹہ میں اہتمام کیا۔ اراکین پارلیمان، وکلاء، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے ارکین نے شرکت کی۔ اراکین اسمبلی نے بل کی اسمبلی میں حمایت کرنے کا وعدہ کیا۔

 

 

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -