صحافی اور سائبر کرئم بل

صحافی اور سائبر کرئم بل

سعید احمد

سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاناما کیس کی سماعت ہو رہی تھی۔ کیس کی سماعت کے بعد جب معمول کی بریس بریفنگ دینے کے لئے حکومتی وزراء اور ممبر قومی اسمبلی عدالت کے باہر جمع تھے۔ اس اثنا میں ٹی وی چینل 7 کے رپورٹر اعظم گل نے میڈیا کلپ کے لئے اپنا موبائل فون جیب سے نکالا۔ ویاں موجود وزیر مملکت انوشہ رحمان اپنے ساتھی وفاقی وزیر سے گفتگو کررہی تھی۔ انوشہ رحمان کو لگا کہ شائد مزکورہ صحافی چھپ کرانکی وڈیو بنا رہا ہے۔ وزیر مملکت انوشہ رحمان رپورٹر اعظم گل کی طرف لپکی اور رپورٹر سے موبائل فون چھین لیا اور مبینہ طور پر اسکا گریبان پکڑتے ہوئے کہا” میں تمھیں نہی چھوڑوں گی، تم کون سے ادارے میں کام کرتے ہو، اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے تمھیں ایف آئی اے کے ذریعے 14 سال کے لئے جیل بھیجوا دوں گی پھر باہر نکل کر دکھانا”۔ اس کے بعد انوشہ رحمان نے اعظم گل کےموبائل سے تمام تر ڈیاٹا ضائع کردیا۔ اعظم گل اور اس کے ساتھ کھڑے آن لائن نیوز ایجنسی کے رپورٹر نے انوشہ رحمان کے اس عمل پر شدید احتجاج کیا۔ اور وہاں پہ موجود تمام رپورٹرز نے مسلم لیگ ن کے وزراء کی پریس کانفرنس کا باءیکاٹ کر دیا۔ اس پر وفاقی وزیر سعد رفیق نے صحافیوں کہ منانے کی کوشش کی۔ صحافیوں کا اصرار تھا کہ جب تک وزیر مملکت اپنی دھمکی واپس نہیں لیتیں اور اپنے نا مناسب رویے پہ معذرت نہی کرتیں تب تک صحافی پریس کانفرنس کی میڈیا کورج نہی کریں گے۔ اس کے بعد وہاں پر موجود وزیرمملکت نشرواشاعت مریم اورنگ زیب نے سنئیر صحافیوں سے کہا کہ آپ میرے دفتر آئیں اور وہاں بیٹھ کے اس مسئلے کو حل کرت ہیں جس پر اعظم گل اور بابر عباسی نے کہا کہ اپ سے اس مسئلے پر ہماری متخب قیادت ہی آپ سے بات کرے گی۔ جب صحافیوں کا احتجاج شدت اختیار کرنے لگا تو حکومت نے پی آئی ڈی کے پی آئی او راو تحسین کو کہا کہ صحافی نمائندوں سے بات کر کے اس مسئلے کو حل کرایں۔ پی آئی او راو تحسین اس غرض سے نیشنل پریس کلب پہنچے اور صدر نیشنل پریس کلب سے بات کی۔ صدر نیشنل پریس شکیل انجم نے پی آئی او راو تحسین کے تحکمانہ رویے پر اس کا پریس کلب میں داخلے پر پابندی عائد کر دی۔ دوسری طرف اعطم گل صدر راولپنڈی/اسلام یونین آف جرنلسٹ افضل بٹ کے ہمراہ  سیکریٹریٹ تھانہ پہنچے اور وزیرمملکت انوشہ رحمان کے خلاف درخواست دے دی۔ حکومتی عمائدین نے افضل بٹ سے رابطہ کیا اوس اس مسئلے کو حل کرانے کے لئے کہا۔ اور پی ٹی وی آنے کی دعوت دی۔ آر آئی یو جے کا ایک وفد پی ٹی وی پہنچا اور مزاکرات میں شرکت کی۔ افضل بٹ نے کہا کہ کیا حکومت سائبر کرائم بل کو صحافیوں کو چپ کرانے لے لئے استعمال کرنا چاہتی ہے؟ حکومتی نمائندوں وزیر مملکت نشرواشاعت مریم اورنگ زیب نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت صحافیوں کے خلاف ایسا کوئی اقدام نہی کر سکتی۔ وہاں موجود وزیر مملکت آئی ٹی انوشہ رحمان نے کہا کہ صحافیوں کو بھی پہشہ وارانہ اخلاقیات کا پاس کرنا چاہیئے اور اگر صحافی برادری کو میرے کیس عمل سے تکلیف پہنچی تو میں معذرت چاہتی ہوں۔ رات کو تقریبآ تمام ٹی چینل نے حکومتی وزراء کے اس طرز عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ صحافیوں کا یہ خیال ہے کہ کیا حکومت سائبر کرائم بل کو صحافیوں کے خلاف استعمال کرنا چاہتی ہے؟ میرے خیال میں میڈیا میں ٹیکنالوجی کی جدت آنے کے بعد اس کے استعمال اور پیشہ وارانہ تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹی وی چینلز کو چاہیئے کہ وہ اپنے رپورٹرز کے لئے تربیتی ورکشاپ کا اہتما کرے۔ اور اس پر بھی بحث ہونی چاہیئے کہ کیا سائبر کرائمز بل اس طرح بھی صحافیوں کے خلاف استومال ہو سکتا ہے؟

سعید احمد نیشنل پریس کلب سیفٹی ہب کے منیجر ہیں

تصویر بشکریہ گوگل

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -