خیبر پختونخوا کی خاتون صحافی فرزانہ علی کا سفر

خیبر پختونخوا کی خاتون صحافی فرزانہ علی کا سفر

گوہر علی خان

انتہا پسندی کے اس گھٹن زدہ ماحول میں پہلے پرنٹ اور پھر الیکٹرانک میڈیا میں جرات مندی اور ہمت کے ساتھ صحافت کے میدان میں نام کمانے والی پرُکشش شخصیت کی مالک فرزانہ علی کا ذکر ان چند گنی چنی خواتین صحافیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ہر قسم کی مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود اپنی ہمت اور لگن کی وجہ سے آگے بڑھ رہی  ہیں۔ وادی گومل اور جنوبی اضلاع کے مرکزی شہر ڈیرہ اسماعیل خا ن میں آنکھ کھولنے والی اس پرعزم صحافی نے کوئی بیس سال قبل گومل یونیورسٹی سے صحافت میں ایم اے کرنے کے بعد سال1997 میں پشاور کے معروف اردو اخبار روزنامہ مشرق سے خاتون رپورٹر کی حیثیت سے عملی صحافت کا آغاز کیا۔ اپنی محنت اور شوق نے انہیں اسی اخبار کی میگزین ایڈیٹر کے عہدے تک پہنچا دیا۔ پرنٹ میڈیا کی طرح الیکٹرانک میڈیا میں بھی بعد میں انہوں نے روایتی معاشرتی اور پیشہ ورانہ رکاوٹوں کی پروا کئے بغیر اپنا سفر جاری رکھا۔ کچھ عرصہ بعد ایک رپورٹر سے بیورو چیف کے عہدے تک پہنچ گیں۔ انہیں خیبر پختونخوا کی پہلی الیکٹرانک میڈیا کی خاتون بیوروچیف ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ان کی تحریروں، تجزیوں اور براہ راست تبصروں میں ہمیشہ غیر جانبداری سمیت لوگوں کو درپیش مسائل و مشکلات کے لیے قابل عمل تجاویز ان کی مثبت سوچ کی عکاسی کرتی ہے تاہم اپنے پیشہ ورانہ فرائض کے دوران انہیں مختلف مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ پہلی مشکل انہیں اس وقت پیش آئی جب ایک پشتون معاشرے میں ایک عورت ہوکر میدان میں کام کرنے کے لیے نکلی تھیں۔ دوسری مشکل انہیں مرد صحافیوں کے شانہ بشانہ ایک  خاتون صحافی ہو کر کام کرنے کی وجہ سے پیش آئی۔ مگر انہوں نے ان مشکلات کی پروا کئے بغیر ہمیشہ اپنے کام اور پیشے کو اہمیت دی۔ معمول کی رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے مرد صحافی ساتھیوں کی طرح قبائلی علاقوں اور ملاکنڈ ڈویژن میں انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف ہونے والے آپریشنز کی کوریج جیسے بڑے اور پرخطر چیلنجوں کو بھی نہ صرف قبول کیا بلکہ ان علاقوں کے اندر جاکر فیلڈ رپورٹنگ جیسا خطرناک رسک بھی لیا۔ فرزانہ علی  شاید پہلی خاتون صحافی ہیں جنہوں نے سال 2006 میں باجوڑ ایجنسی خود جاکر ڈمہ ڈولہ میزائل حملے کی ڈاکومنٹری بنائی۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ہو یا سیلاب کی کوریج، اس مقصد کے لیے انہیں ایک خاتون ہونے کے باوجود مسلسل خود فیلڈ میں رہنا پڑا بلکہ اس وجہ سے انہیں کئی بار ریاستی اور غیرریاستی عناصر کی جانب سے خطرناک دھمکیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ملاکنڈ کے ضلع سوات میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن راہ نجات کے دوران جب انہوں نے ’’گرم فرنٹیئر‘‘ کے نام سے براہ راست شو کا آغاز کیا تو ابتداء میں انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ڈرایا دھمکایا گیا مگر اس کے باوجود انہوں نے اپنا شو جاری رکھا۔ آج بھی وہ پرعظم ہیں۔

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -