”چھوٹے شہروں کے صحافی زیادہ خطرات سے دوچار”

”چھوٹے شہروں کے صحافی زیادہ خطرات سے دوچار”

محمد فضل الرحمان

صوبہ پنجاب کے ضلع بھکر کی تحصیل منکیرہ میں نوجوان صحافی بلال سحر کو نامعلوم مسلح افراد نے قتل کردیا۔ اس قتل سے علاقہ بھر کے صحافیوں میں نہ صرف خوف پیدا ہوا بلکہ ان کی حفاظت کے بارے میں تحفظات  بھی سامنے آنا شروع ہوگئے۔ اس حوالے سے محفوظ صحافی نے منکیرہ پریس کلب کے صدر محمد طارق باجوہ کا انٹرویو کیا

محفوظ صحافی: بلال سحر کے قتل میں ملزمان کے سامنے آنے کے معاملے کے علاوہ ہم میڈیا مالکان، صحافتی تنظیموں یا صحافی کی اپنی ذات میں سے کس کو اس قتل کا ذمہ دار ٹھرا سکتے ہیں؟

محمد طارق باجوہ: کسی بھی صحافی کے ساتھ کوئی بھی واقعہ رونما ہو جائے تو اس میں متعدد عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ یہاں معاملہ قتل تک پہنچ گیا تو لامحالہ اس واقعہ میں میری ذاتی رائے میں پچاس فیصد تک ذمہ دار تو صحافی خود بھی ہے۔ اس کی رپورٹنگ میں ضروری طور پر کوئی نہ کوئی غیر ذمہ داری ضرور سرزد ہوئی ہوگی۔ تاہم اس معاملہ میں ادارے پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس بات کا جائزہ لے کہ اس کا رپورٹر کس نوعیت کی صحافت کر رہا ہے۔ واقعے کے بعد میڈیا مالکان اور صحافتی تنظیموں کا رویہ افسوسناک رہا ہے جنہوں نے ایک صحافی کے قتل ہونے پر وہ احتجاج نہیں کیا یا اس طرح سے آواز بلند نہیں کی جو کرنی چاہیے تھی۔ ایسا نہ کرنے سے صحافیوں کے خلاف سرگرم عناصر کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

محفوظ صحافی: کیا چھوٹے دیہی علاقوں کے صحافی شہری صحافیوں کے مقابلے میں سے جان ومال کے خطرے سے زیادہ دوچار ہیں یا کم؟

طارق باجوہ: دیہی علاقوں میں صحافی زیادہ مشکلات اور خطرات سے دوچار ہیں۔ بڑے شہروں میں صحافیوں کی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے سربراہان تک براہ راست رسائی ہوتی ہے جہاں وہ معمولی واقعے پر اعلیٰ حکام کو آگاہ کرنے کی سہولت رکھتے ہیں۔ مگر دیہی علاقوں میں ایسا ممکن نہیں ہوتا۔ بڑے شہروں میں این جی اوز اور صحافتی تنظیموں کا نیٹ ورک بھی فعال ہوتا ہے جبکہ دیہات میں ایسا نہیں۔ دیہی علاقوں اور چھوٹے شہروں میں صحافیوں کے باہمی اختلافات اور وڈیرہ شاہی وغیرہ کی وجہ سے ان کی آواز دب کر رہ جاتی ہے۔ بڑے شہروں میں صحافیوں کو معاوضہ ملتا ہے جس کی وجہ سے وہ آمدن کے دیگر زرائع کی جانب اس شدت سے توجہ مبذول نہیں کرتے جو اس کی جان کو خطرے میں ڈال دے جبکہ چھوٹے شہروں میں صحافیوں کو تنخواہیں ادا نہیں کی جاتیں اور انہیں مالی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ اسی لالچ میں ان سے ایسے کام ہوجاتے ہیں جو ان کی جان کے لیے مشکلات پیدا کر دیتے ہیں۔

محفوظ صحافی: کیا بلال سحر کے قتل کی خبر نے میڈیا میں وہ جگہ حاصل کی جو بڑے شہروں کے صحافیوں کے قتل کی صورت میں ملتی ہے؟

طارق باجوہ: افسوس کہ بلال سحر کے قتل پر ہمیں میڈیا کے ردعمل سے مایوسی ہوئی۔ بڑے شہر میں کسی صحافی یا میڈیا کے ادارے کے ساتھ معمولی واقعہ ہو جائے تو سارا دن وہی معاملہ میڈیا کی زینت بنا رہتا ہے لیکن جب بلال سحر کو قتل کیا گیا تو افسوس کہ وہ جس ادارہ کے ساتھ منسلک تھا اس کے مالکان نے بھی مایوس کیا اور اپنے نمائندے کے قتل پر وہ کردار ادا نہیں کیا جس کی اخلاقی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی تھی۔

محفوظ صحافی: اس کی وجوہات کیا ہوسکتی ہیں؟

طارق باجوہ: میری ذاتی رائے میص ایک تو بلال سحر کو عملی صحافت کے میدان میں صرف دو ماہ ہوئے تھے جس کی وجہ سے اس کا اتنا تعارف نہیں تھا کہ کس طرح معاملہ اچھالا جاتا ہے۔ بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ چھوٹے علاقے کا صحافی تھا جس سے میڈیا کی تنظیموں ا ور میڈیا ہاوسز کے مالکان کے کسی قسم کی مفادات منسلک نہ تھے۔ اس وجہ سے اس کے قتل کے واقعے کو میڈیا نے کسی قسم کی اہمیت ہی نہیں دی۔ صحافتی تنظیمیں بھی خاموش ہیں حالانکہ حق تو یہ ہے کہ چھوٹے شہروں کے صحافیوں کے حق میں زیادہ آواز اٹھائی جانی چاہیے کیو نکہ وہ بلامعاوضہ اور بڑے شہروں کے صحافیوں سے زیادہ کام کرتے ہیں۔ مگر یہاں معاملہ برعکس ہے۔ یہ صرف فریڈم نیٹ ورک یا سیفٹی ہب ڈیرہ پریس کلب ہے جو اس معاملہ میں ہمارے ساتھ رابطے میں ہے ورنہ ہم سے اس حوالے سے کسی نے پوچھا تک نہیں کہ آپ کا ساتھی قتل ہوا ہے اس کے اہل خانہ کے کیا حالات ہیں؟ ان کے مسائل و مشکلات کیا ہیں؟

محفوظ صحافی: مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچنے اور میڈیا کی مناسب توجہ کے لیے آپ کیا تجاویز دیں گے؟

طارق باجوہ: ایسی افسوسناک صورتحال سے بچنے کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا کے ادارے اپنے کارکن صحافیوں کا خیال رکھیں، انہیں تنخواہ تو نہیں دیتے کم از کم انہیں پہنچنے والے نقصان کی صورت میں آواز تو بلند کریں۔ دوسری ذمہ داری میڈیا کی نمائندہ تنظیموں پر عائد ہوتی ہے جو اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ اسلام آباد، لاہور، کراچی اور پشاور میں کوئی واقعہ ہوجائے تو میڈیا کی تنظیمیں میدان میں نکل آتی ہیں اور چھوٹے شہروں کے صحافی بھی ان کے ساتھ میدان میں نکل آتے ہیں اور احتجاج کے ذریعے ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن جب کسی چھوٹے شہر کے صحافی کے ساتھ کچھ ہو جاتا ہے تو کسی کو علم نہیں ہوتا لہذا صحافتی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ پریس کلب کی سطح تک اپنے رابطے کا ایک مربوط نظام بنائیں۔ تمام بڑے اور چھوٹے شہروں کے صحافیوں کے درمیان ایک رابطہ ہونا چاہیے تاکہ ان کے ساتھ ہونے والے ظلم پر بھی اسی شدت سے آواز اٹھائی جانی چاہیے جو بڑے شہروں کے صحافی اپنی ذات کو پہنچنے والے نقصان پر اٹھاتے ہیں۔

محفوظ صحافی: منکیرہ، بھکر اور منسلکہ علاقوں میں جسمانی تحفظ کے بارے میں صحافیوں میں آگہی کتنی ہے؟

طارق باجوہ: منکیرہ، بھکر اور دیگر ملحقہ علاقوں میں کبھی بھی صحافیوں کی تربیت کے حوالے سے کسی قسم کی کوشش نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے وہ اس معاملہ میں انتہائی نابلد ہیں۔ صحافی خطرہ کا احساس ہی نہیں کرتے نہ ہی اس بات کا نوٹس لیتے ہیں کہ ان کو کس نوعیت کے خطرات درپیش ہیں جس کی وجہ سے خطرہ مسلسل بڑھتا جاتا ہے اور نوبت بڑے سانحے تک جا پہنچتی ہے۔ یہ انتہائی سنگین صورت حال ہے جس کی جانب توجہ مبذول کرنا انتہائی ضروری ہے۔ صحافتی تنظیموں کے پاس مالی وسائل ہوتے ہیں جو وہ کارکن صحافیوں کو تربیت  فراہم کرنے کی بجائے اپنے ذاتی مفادات کے حصول اور تفریحی دوروں کی نظر کرتے ہیں جو افسوسناک روش ہے۔ اس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ یہی وسائل دیہی علاقوں میں صحافیوں کو تربیت کی فراہمی پر خرچ کرنے کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ دیہی علاقوں میں صحافی بلا معاوضہ کام کرتے ہیں اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے دکان یا چھوٹے روزگار سے وابستہ ہوتے ہیں۔ ان کے لیے ایسا ممکن نہیں کہ وہ اپنی دیہاڑی چھوڑ کر تربیت کے عمل میں حصہ لیں۔ انٹر نیوز نے ماضی میں صحافیوں کو روزانہ کی بنیاد پر مشاہرہ دینے کے ساتھ ساتھ تربیتی سیشن کے انعقاد کی روش شروع کی تھی جو اگرچہ چھوٹے شہروں کے صحافیوں تک نہ پہنچ سکی مگر بڑے شہروں کے صحافی اس سے بہت مستفید ہوئے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اسی طرح کی تربیتی ورکشاپس چھوٹے شہروں میں بھی شروع کی جائیں۔

محفوظ صحافی: کیا عملی صحافت میں اخلاقی اقدار کا لحاظ نہ رکھنا بھی صحافیوں کے لیے مشکلات کے اسباب میں سے ایک سبب ہو سکتا ہے؟

طارق باجوہ: اخلاقی اقدار کا لحاظ نہ رکھنا صحافیوں کے لیے مشکلات کا سب سے بڑا سبب ہے۔ یہاں المیہ یہ ہے کہ صحافی کا کارڈ جاری کرنے سے پہلے اس کی ڈگری یا قابلیت کا پوچھا تک نہیں جاتا۔ اکثر ادارے رقم لے کر نمائندگی دیتے ہیں۔ کسی بھی شخص کو رپورٹر رکھنے سے قبل اس کی اخلاقیات یا تعلیمی قابلیت یا صحافتی تجربہ یا لکھنے کی صلاحیت کا جائزہ تک نہیں لیا جاتا۔ میڈیا مالکان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ کسی کو نمائندہ بنانے سے قبل اس کی اخلاقی تربیت کریں۔ اگر یہ ممکن نہیں تو کم از کم ایک تحریر شدہ ضابطہ اخلاق ضرور اپنے نمائندے کے حوالے کریں تاکہ وہ اسی کے مطابق صحافت کرے۔

محفوظ صحافی: ضلع بھکر، منسلکہ علاقوں کے صحافیوں کے تحفظ کے لیے آپ میڈیا مالکان، حکومتی اداروں اور صحافتی تنظیموں کے لیے کیا سفارشات دیں گے؟

طارق باجوہ: حکومتی اداروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ضابطہ اخلاق کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے میڈیا مالکان کو مجبور کریں تاکہ کوئی ایسی خبر شائع ہی نہ ہو جس کی وجہ سے کسی صحافی کے لیے مسئلہ بنے۔ دوسری بات یہ کہ ہر ضلع میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایات جاری دی جائیں کہ وہ صحافیوں کو ملنے والی معمولی دھمکیوں کو بھی سنجیدگی سے لیں۔ ایک کال پر صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کا نظام قائم کیا جائے اور پریس کلب میں صحافیوں کی حفاظت کے لیے پولیس تعینات کی جائے۔ میڈیا مالکان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بلامعاوضہ کسی کارکن کو اپنے پاس نہ رکھیں کیونکہ مالی معاوضہ نہ ملنے کی صورت میں صحافی اپنے وسائل کے لیے لالچ میں آجاتے ہیں اور اپنی جان کے لیے مشکلات پیدا کرلیتے ہیں۔ کسی بھی شخص کو رپورٹر تعینات کرنے سے قبل اس کی دس روزہ، پانچ روزہ یا تین روزہ تربیتی نشست کا انعقاد کیا جائے۔ تحریری ضابطہ اخلاق ہر ادارہ اپنے نمائندے کو بھیجے۔

صحافی تنظیموں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اجتماعی مفادات کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ چھوٹے شہروں میں صحافیوں کے ساتھ باقائدہ رابطہ رکھنے کا نظام وضع کیا جائے، تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی صورت میں چھوٹے شہر کے صحافی کے لیے وفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں میں بھی آواز بلند ہو اور نیز صحافتی تنظیمیں پریس کلب کی سطح پر چھوٹے شہروں کے صحافیوں کے لیے تربیتی ورکشاپش کا بھی اہتمام کریں۔

محمد فضل الرحمان سیفٹی ہب منیجر، ڈیرہ اسما عیل خان

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

One Comment

  1. فریڈم نیٹ ورک کے کام کو دیکھ کر دلی خوشی ہوئی کہ کوئی تنظیم تو صحافیوں کے حقوق کے لئے ذمہ دارانہ رویہ اپنا کر اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔جو نہ صرف بڑے شہروں میں صحافیوں کے تحفظ کے لئے کوشاں ہے بلکہ دیہی علاقوں میں بھی صحافیوں کے تحفظ کے لئے بھرپور کردار ادا کر رہی ہے ۔۔۔ مجھے نہایت خوشی ہوگی اگر میں بھی فریڈم نیٹ ورک کے کارواں کے ساتھ مل کر صحافیوں کے تحفظ کےلئے اپنی خدمات سر انجام دے پاؤں، طارق اقبال باجوہ. صدر منکیرہ پریس کلب (رجسٹرڈ) ضلع بھکر

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -