مارچ 2017 تجزیہ: قتل، حراساں اور دھمکیاں

مارچ 2017 تجزیہ: قتل، حراساں  اور دھمکیاں

پاکستانی میڈیا کو ملنے والی دھمکیوں اور حملوں پر تجزیہ

فریڈم نیٹ ورک کی مارچ 2017 رپورٹ

مارچ 2017 میں پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک نے میڈیا اور ان کے نمائندگان کے ساتھ پیش آنے والے گیارہ سنگین خلاف ورزیاں ریکارڈ کی ہیں۔ اس میں ایک صحافی کا قتل، دو کی گرفتاری، چار صحافیوں اور ایک میڈیا ورکر پر تشدد کر کے زخمی کرنا، تین کے خلاف قانونی مقدمات درج کیا جانا شامل ہیں۔ ان گیارہ میں سے پانچ کیس پنجاب، تین وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، دو سندھ اور ایک گلگت بلتستان میں پیش آئے۔

قتل: اس ماہ کا سب سے تشویشناک واقع تین مارچ، 2017 کو صوبہ پنجاب کے بھکر ضلع کے منکیرہ قصبے میں پیش آیا جب فری لانس صحافی بلال سحر کو نامعلوم افراد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس قتل کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے۔ پولیس مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

گرفتاری: مہران ٹی وی کے رپورٹر محمد بچل کو بائیس مارچ کو نوابشاہ، سندھ سے گرفتار کر لیا۔ گرفتاری کی وجہ سولہ مارچ کو اس کے خلاف پولیس کی جانب سے انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت زبردستی رقم لینے کے الزام میں درج مقدمہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقدمہ کی وجہ ان کی ایک رپورٹ تھی جس میں انہوں نے ایک مقامی اہلکار کو سرکاری سکول کو شادی کی ذاتی تقریب کے لیے استعمال بظاہر عیاں کی گئی تھی۔ ایک مقامی عدالت نے انہیں بعد میں رہا کر دیا تھا۔

حملے اور زخمی ہونے والے واقعات:

اس ماہ چار صحافی اور ایک میڈیا کارکن تشدد کا نشانہ بنے اور زخمی ہوئے۔

پہلے کیس میں ڈان نیوز کے رحیم یار خان میں ضلعی نامہ نگار عرفان الحق ملک پر مقامی مونسپل کمیٹی کے عملے نے یکم مارچ کو حملہ کیا اور ان کی املاک کو نقصان پہنچایا۔ ملک کا کہنا ہے کہ اس حملے کی وجہ فروری دو ہزار سترہ میں مقامی بازار میں میونسپل حکام کی مدد سے زمین پر مبینہ غیرقانونی قبضے کی ایک رپورٹ کا نشر ہونا تھا۔ یہ اراضی فیصل مارکیٹ میں چند دکانداروں کی ڈرانے دپمکانے کے بعد ہتھیائی گئی تھی۔

دوسرے کیس میں نیوز ون کے رپورٹر بلال آفریدی کو وکلاء کے ایک گروہ نے اسلام آباد ضلعی عدالت سے چوبیس مارچ کو رپورٹنگ کے دوران زدوکوب کیا۔ یہ واقع اس وقت پیش آیا جب وکلاء کے دو گروہ آپس میں تلخ کلامی میں مصروف تھے اور بلال نے اس کی ریکارڈنگ شروع کر دی۔ رپورٹر نے پولیس کے پاس رپورٹ درج کروائی لیکن بعد میں مذاکرات کے ذریعے حملہ آوروں نے معافی مانگ لی اور معملہ رفع دفع ہوگیا۔

تیسرے واقعے میں کیپٹل ٹی وی کے رپورٹر عدنان شیخ پر پیپلز پارٹی کے ایک کارکن نے رہنما آصف علی زرداری کی موجودگی میں چھبیس مارچ کو لاہور میں مارا پیٹا۔ ارشاد بھٹی نامی اس کارکن نے شیخ پر اس وقت تشدد کیا جب انہوں نے اسے زرداری کی اخباری کانفرنس ریکارّ کرنے والے کیمرے کے آگے سے نہ گزرنے کے لیے کہا۔ شیخ نے اس ورکر کے خلاف مقدمہ درج کروا لیا ہے۔

چوتھے واقعے میں اب تک ٹی وی کے رپورٹر صحافی اویس خان اور چینل سیون کے کیمرہ مین محمد حمزہ پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور کے کارکنوں نے فیصل آباد میں انتیس مارچ کو کیا۔ یہ حملہ میڈیا کی جانب سے اپنے کیمرے پریس کانفرنس کے لیے نصب کرنے کے دوران ہوا جس کے بعد مقامی میڈیا نے اس پریس کانفرنس سے انکار کر دیا۔

پانچواں واقع چینل 24 کے رپورٹر اویس کیانی کے خلاف تحریک انصاف کے رہنما علیم خان نے ناصرف جمسانی حملہ کیا بلکہ گندی زبان بھی استعمال کی جب ان سے لاہور میں زمین پر قبضے کے بارے میں الزامات سے متعلق ایک سوال کیا گیا۔ اسلام آباد کے صحافیوں کی جانب سے احتجاج کے بعد علیم خان نے کیانی سے معذرت کر لی۔

قانونی مقدمات:

 مارچ دو ہزار سترہ میں تین صحافیوں کے خلاف قانونی کیس درج کئے گئے۔

پہلے واقعے میں مقامی میونسپل حکام نے ڈان نیوز کے رحیم یار خان میں ضلعی نامہ نگار عرفان الحق ملک کے خلاف شہری بائےلاز کی مبینہ خلاف ورزی پر مقدمہ درج کیا۔ ان پر میونسپل ورکرز نے حملہ کیا گیا اور ان کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ ملک کا کہنا ہے کہ اس حملے کی وجہ فروری دو ہزار سترہ میں مقامی بازار میں میونسپل حکام کی مدد سے زمین پر مبینہ غیرقانونی قبضے کی ایک رپورٹ کا نشر ہونا تھا۔ یہ اراضی فیصل مارکیٹ میں چند دکانداروں کی ڈرانے دہمکانے کے بعد ہتھیائی گئی تھی۔

دوسرے کیس میں نوابشاہ میں پولیس نے سولہ مارچ کو زبردستی رقم ہتھیانے کے الزام میں مہران ٹی وی کے محمد بچل کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ انہیں ہفتے بعد گرفتار بھی کیا گیا لیکن ایک عدالت نے انہیں رہا کر دیا۔

تیسرے واقعے میں گلگت بلتستان کی پولیس نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت اٹھائیس مارچ کو صحافی شبیر سہام کے خلاف بلیک میلنگ کا مقدمہ درج کیا۔ اسلام آباد میں مقیم ؟یلی ٹائمز کے رپورٹر نے بظاہر گلگت بلتستان پولیس کے ایک وزیر کو ان کے بارے میں ایک رپورم بیس مارچ کو شائع کرنے پر ناراض کیا۔ پولیس نے سہام کے مکان پر چھاپا مارا لیکب وہ اس سے قبل روپوش ہوچکے تھے۔ بعد میں وفاقی حکومت نے یہ مقدمہ ختم کرنے کا وعدہ کیا۔

میڈیا کے اداروں کو ملنے والی دھمکیاں، ان پر ہونے والے حملے اور ان کو ہراساں کرنے کے واقعات:

مارچ 2017 میں پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک نے میڈیا کے کسی دفتر پر حملے کی کوئی خبر ریکارڈ نہیں کی۔ اس ماہ کسی میڈیا گروپ پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگائی گئی اور کسی میڈیا گروپ کو سرکاری یا غیرسرکاری اداروں سے کسی قسم کا کوئی نوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا۔

مختلف قسم کے میڈیا اداروں کو ملنے والی دھمکیاں، ان پر ہونے والے حملے اور ان کو ہراساں کرنے کے واقعات:

مارچ 2017 میں پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک اور میڈیا نے میڈیا کے لیے کام کرنے والوں کے خلاف گیارہ حملے اور دھمکیوں کے واقعات ریکارڈ کیے۔

ان واقعات میں سے ٹیلی ویژن میڈیا کی خلاف سات خلاف ورزیاں ہیں، پرنٹ میڈیا کے خلاف پانچ شامل ہیں۔ اس ماہ ایک فری لانس صحافی کے خلاف ایک واقعے قتل کا ریکارڈ کیا گیا۔

ٹیلی ویژن میڈیا کی خلاف سات خلاف ورزیوں میں سے ایک کا تعلق گرفتاری، پانچ کا حملے اور زخمی کرنے اور ایک کا قانونی مقدمے کا ہے۔ پرنٹ کے خلاف پانچ واقعات میں ایک گرفتاری کا، ایک حملے اور زخمی کرنے اور دو ایک صحافی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا تھا۔

صحافیوں اور میڈیا کو دھمکی دینے اور ہراساں کرنے والے افراد:

مارچ 2017 میں دھمکیاں اور ہراساں کرنے والے مختلف عناصر میں پولیس شامل تھی جس نے دو صحافیوں کو گرفتار کیا اور ایک دوسرے کے مکان پر چھاپا مارا، سیاستدان اور سیاسی کارکن جنہوں نے حملہ کر کے چار صحافیوں کو زخمی کیا، میونسپل حکام جنہوں نے ایک صحافی پر حملہ اور مقدمہ درج کیا اور حکومت گلگت بلتستان جس نے ایک صحافی کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا۔

 یہاں پر بتائی گئی معلومات متاثرہ شخص یا اس کے خاندان سے بات چیت کی بنیاد پر اکٹھی کی گئی ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ معلومات توثیق شدہ ہیں مگر جہاش اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہاں پر معلومات کو بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ایسی حکمت عملی تجویز کی جائے تاکہ میڈیا اور صحافیوں کے خلاف خطرات میں کمی لائی جا سکے۔

 صحافیوں کی حفاظت کے لیے فریڈم کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک کی طرف سے وکالت:

مارچ 2017 پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک کے لیے کافی مصروف ماہ ثابت ہوا۔ صحافیوں کی حفاظت کے متعلق کچھ اقدامات جو اٹھائے گئے ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:

نیشنل پریس کلب، اسلام آباد سیفٹی ہب:

۔ نیشنل پریس کلب سیفٹی ہب مینجر نے فریڈم نیٹ ورک کی جانب سے اسلام آباد میں ایک تربیت میں شرکت کی۔ تربیت کا مقصد سیفٹی ہب مینجرز کو صحافیوں کے تحفظ کے طریقہ کار کو دیگر پریس کلبس تک بڑھانا تھا۔

۔ خواتین صحافیوں کے لیے ڈیجٹل سیفٹی، صحافیوں کے قانونی حقوق اور دفاتر میں ہراسیت پر اسلام آباد، کراچی، حیدر آباد سکھر اور ملتان میں تربیت اور سیمنارز منعقد کیے۔

۔ سیفٹی ہب مینجر نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے مندوبین کے کوئٹہ میں اجلاس میں شرکت کی۔ کوئٹہ، اسلام آباد اور لاہور کے ہب مینجرز نے اجلاس میں وفاقی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کا بل جلد از جلد حتمی شکل دینے ایک ایک قرار داد پیش کی۔ قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ دو اضافی ترامیم تجویز کی گئی جنہیں منظور بھی کر لیا گیا۔ ان میں سے ایک ”پی ایف یو جے سیفٹی نیٹ ورک” اور دوسری ”پی ایف یو جے تربیتی اور تحقیقی یونٹ” کے قیام سے متعلق تھیں۔ یہ یونٹ وفاقی اور صوبائی سھح پر صحافیوں کے لیے سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے تعاون سے قانون سازی کے لیے کام کریں گے۔

۔ سیفٹی ہب مینجر نے قومی پریس کلب میں ایک اجلاس منعقد کیا جس میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے صحافی شبیر سہام کو گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے ہراساں کیے جانے اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقامہ درج کرنے کے معملے پر بات ہوئی۔ اجلاس میں احتجاج کا فیصلہ ہوا اور اسلام آباد/ راولپنڈی کے صحافیوں نے تیس مارچ کو احتجاج کیا۔ اس کے نتیجے میں حکومت نے مقدمہ واپس لینے کا فیصلہ کیا۔

   پریس کلب سیفٹی ہب، ڈیرہ اسماعیل خان:

ڈیرہ پریس کلب سیفٹی ہب مینجر فریڈم نیٹ ورک کی جانب سے اسلام آباد میں ایک تربیت میں شرکت کی۔ تربیت کا مقصد سیفٹی ہب مینجرز کو صحافیوں کے تحفظ کے طریقہ کار کو دیگر پریس کلبس تک بڑھانا تھا۔

۔ سیفٹی ہب مینجر نے گومل یونیورسٹی کے صحافت اور ماس کمیونیکیشن کے شعبے کی صحافیوں کے تحفظ سے متعلق ایک تربیت میں بطور ماہر کے شرکت کی۔

۔ سیفٹی ہب مینجر نے ڈیجٹل اور جسمانی تحفظ سے متعلق منکیرہ پریس کلب، بھکر میں ایک روزہ تربیت کا انقعاد کیا۔

پریس کلب سیفٹی ہب، کراچی:

۔ سیفٹی ہب مینجر نے فریڈم نیٹ ورک کی جانب سے اسلام آباد میں ایک تربیت میں شرکت کی۔ تربیت کا مقصد سیفٹی ہب مینجرز کو صحافیوں کے تحفظ کے طریقہ کار کو دیگر پریس کلبس تک بڑھانا تھا۔

۔ سیفٹی ہب مینجر نے پریس کلب کی خواتین اراکین کے لیے فریڈم نیٹ ورک کی جانب سے ڈیجٹل سیفٹی تربیت میں بطور ریسورس پرسن شرکت کی۔

۔ سیفٹی ہب مینجر فریڈم نیٹ ورک کی جانب سے کراچی اور وفاقی اردو یونیورسٹی میں خواتین صحافی طلبہ کے لیے ڈیجٹل سیکورٹی تربیت میں بطور ریسورس پرسن شرکت کی۔

۔ سیفٹی ہب مینجر نے حیدر آباد پریس کلب میں جسمانی اور ڈیجٹل سیکورٹی پر ایک روزہ تربیت منعقد کی۔

پریس کلب سیفٹی ہب، کوئٹہ:

۔ سیفٹی ہب مینجر نے فریڈم نیٹ ورک کی جانب سے اسلام آباد میں ایک تربیت میں شرکت کی۔ تربیت کا مقصد سیفٹی ہب مینجرز کو صحافیوں کے تحفظ کے طریقہ کار کو دیگر پریس کلبس تک بڑھانا تھا۔

۔سیفٹی ہب مینجر نے سراوان پریس کلب، مستونگ، بلوچستان میں جسمانی اور ڈیجٹل سیکورٹی پر ایک روزہ تربیت منعقد کی۔

 ۔ سیفٹی ہب مینجر نے بطور سیکرٹری جنرل بلوچستان یونین آف جرنلسٹس پی ایف یو جے ایک ایک وفد کی قیادت کی وزیر اعلی بلوچستان ثنا اللہ زہری سے کوئٹہ میں ایک ملاقات میں اور ان سے صحافی علی رضا رند کو سرکاری دہشت گردی کی فہرست سے نکالنے کا مطالبہ کیا۔ وزیر اعلی نے درخواست پر غور کا وعدہ کیا۔

 ۔ سیفٹی ہب مینجر نے ایک مشترکہ قرار داد پیس کی اسلام آباد، لاہور اور کوئٹہ سے ساتھ پی ایف یو جے کے اجلاس میں تاکہ پی ایف یو جے ایک اندر صحافیوں کا سیفٹی نیٹ ورک قائم کیا جائے۔

 ۔ سیفٹی ہب مینجر نے پی ایف یو جے کی قیادت سے بطور بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے سیکرٹری جنرل ملاقات کی تاکہ ان سے صحافیوں کے سیفٹی بل پر حمایت حاصل کی جاسکے۔ پی ایف یو جے کی قیادت نے بل کی حمایت کر دی۔

پریس کلب سیفٹی ہب، پشاور:

۔ سیفٹی ہب مینجر نے فریڈم نیٹ ورک کی جانب سے اسلام آباد میں ایک تربیت میں شرکت کی۔ تربیت کا مقصد سیفٹی ہب مینجرز کو صحافیوں کے تحفظ کے طریقہ کار کو دیگر پریس کلبس تک بڑھانا تھا۔

پشاور سیفٹی ہب مینجر نے عوامی نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی اور ڈپٹی پارلیمانی رہنما جعفر شاہ سے ملاقات کی تاکہ انہیں صوبے اور قبائلی علاقوں کے صحافیوں کو درپیش خطرات سے متعلق آگاہ کیا جاسکے۔ انہوں نے صحافیوں کے تحفظ کے صوبائی بل کی حمایت کا وعدہ کیا۔

پریس کلب سیفٹی ہب، لاہور:

۔ سیفٹی ہب مینجر نے فریڈم نیٹ ورک کی جانب سے اسلام آباد میں ایک تربیت میں شرکت کی۔ تربیت کا مقصد سیفٹی ہب مینجرز کو صحافیوں کے تحفظ کے طریقہ کار کو دیگر پریس کلبس تک بڑھانا تھا۔

۔ ۔سیفٹی ہب مینجر نے فیصل آباد اور چنیوٹ پریس کلب، پنجاب میں جسمانی اور ڈیجٹل سیکورٹی پر ایک روزہ تربیت منعقد کی۔

۔ سیفٹی ہب مینجر نے ایک مشترکہ قرار داد پیس کی اسلام آباد، لاہور اور کوئٹہ سے ساتھ پی ایف یو جے کے اجلاس میں تاکہ پی ایف یو جے ایک اندر صحافیوں کا سیفٹی نیٹ ورک قائم کیا جائے۔

 

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -