“صحافیوں پر ‘ڈو مور’ کا بوجھ نہ ڈالیں”

“صحافیوں پر ‘ڈو مور’ کا بوجھ نہ ڈالیں”

نمائقہ مہک

بارہ فروری 2017 اتوار کا دن کراچی کے صحافیوں کے لیے ایک اور برا دن ثابت ہوا۔ اس دن فیلڈ میں کام کرنے والا ایک اور صحافی تیمور خان ہم سے جدا ہوگیا۔ بائیس سالہ تیمور اپنے والدین کا واحد کفیل — دو بہنوں کا اکلوتا بھائی تیمور دادی کے دل کی راحت اور سب ہی کا لاڈلہ تھا۔ اس نے تو ابھی  نشریاتی میڈیا میں قدم ہی رکھا تھا۔ ابھی تو اسے اپنے بوڑھے والدین کا سہارا بننا تھا۔ اس کی کیمرہ مین کی حیثیت سے آمد کو ابھی صرف ڈیڑھ سال ہی ہوا تھا۔ اس نے شاید اس شعبے میں آگے بڑھنے کے نہ جانے کتنے سپنے دیکھے ہوں گے۔ یہ سب خواب، خواب ہی رہ گئے۔

اس کے اپنے ادارے میں اس کی حیثیت بس اتنی سی تھی کہ ڈیڑھ دن اپنا لوگو سیاہ رکھا۔ تیمور جو اب بریکنگ نیوز نہیں رہا  تھا اسے لیے شاید اسے بھلا دیا گیا۔ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟ یہاں مارے گئے صحافیوں کے لیے انصاف کا حصول مشکل ترین ہے۔ اس حوالے سے حکومت، میڈیا ہاؤسز، میڈیا مینجرز، چینل مالکان اور خود صحافیوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

پاکستان میں سال 2000 سے 2010 تک 104 صحافیوں کو قتل کیا گیا۔ ان میں چودہ صحافی خودکش حملوں میں جبکہ چار صحافی کراس فائرنگ کے نتیجے میں اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ آج صحافیوں کے لیے ملک کا کوئی کونا محفوظ نہیں۔ حملہ آوروں نے چاروں صوبوں، وفاقی دارالحکومت، فاٹا اور قبائلی علاقوں سمیت ملک کے چپے چپے میں صحافیوں کو قتل کیا ہے۔ اسی بنا پر پاکستان گزشتہ کئی سالوں سے صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک دس ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔

صحافت دن بہ دن خطرناک پیشہ بنتا جا رہا ہے۔ صحافیوں کو خطرات صرف جرائم پیشہ افراد سے ہی لاحق نہیں بلکہ سیاسی و مذہبی جماعتوں اور ریاستی قوتوں سے بھی ہیں۔ ایسےمیں امن و امان کی خراب صورتحال، بم دھماکے، ٹارگٹ کلنگ سونے پر سہاگا ہیں۔ جو قوتیں حقوق انسانی اور اظہار خیال کی آذادی کو دبانا چاہتی ہیں ان کا نشانہ صحافی ہیں۔

حکومت کی ذمہ داری ہے کہ امن وامان کی صورت حال کو بہتر بنائے اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی جائے۔ میڈیا ہاؤسز اور مالکان صحافیوں پر “ڈو مور” کا بوجھ نہ ڈالیں۔ صحافی بھی اپنی جان کی حفاظت کو اولین ترجیح دیں۔ خبر اہم ہے لیکن ان کی زندگی اہم تر۔ کوئی خبر کسی صحافی کی جان سے بڑھ کر نہیں۔ ہمارے معاشرے میں تفتیشی صحافت کو جرائم پیشہ افراد کا شدید سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حفاظتی تدابیر کے بغیر خبروں کے حصول کے لیے کسی بھی صحافی کو اپنی زندگی خطرے میں نہیں ڈالنی چائیے۔ تحفظ کوئی حادثاتی عمل نہیں۔ صحافیوں کو اپنے تحفظ کے لئے جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

 نمائقہ مہک ایک صحافی ہیں

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -