“پرخطر مقامات پر جا کر رپورٹنگ کرنی ہے خود کشی نہیں”

“پرخطر مقامات پر جا کر رپورٹنگ کرنی ہے خود کشی نہیں”

گوہر فہیم بٹ

عارف نظامی پاکستان کے سینر ترین صحافیوں میں سے ایک ہیں۔ وہ انگریزی روزنامہ پاکستان ٹوڈے کے مدیر بھی ہیں۔ فریڈم نیٹ ورک نے ان سے صحافیوں کی سکیورٹی کے امور پر گفتگو کی۔

سوال: صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے پنجاب میں صورتحال ہے اس کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ کیا آپ کے خیال میں یہ ماحول سازگار ہے؟

جواب: اس میں دو تین پہلو ہیں ایک تو یہ کہ صحافی کی سکیورٹی اور ان کے دفاتر کی سکیورٹی دونوں میں بہتری کی بہت گنجائش ہے۔ اس میں ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے میڈیا مالکان زیادہ تر حکومت کی طرف دیکھتے ہیں۔ خود سکیورٹی کے انتظامات کرنے کی طرف کم آتے ہیں۔ ماسوائے دو تین  بڑے گروپس کے محدود چند ہیں جو ایسا کرتے ہیں۔ دوسرا یہ ہے کہ صحافیوں کو درست تربیت بھی نہیں دی جاتی ہے۔ تیسرا، بلٹ پروف جیکٹس وغیرہ بھی فراہم کریں، شاید چند میڈیا ہاوسز کرتے ہیں لیکن عمومی طور پر جو چینلز ہیں وہ ایسا نہیں کرتے بلکہ بعض اوقات، ایک تو آپ کو یہاں پر صحافی کی تعریف بھی کر دینی چاہیے۔ اس میں کیمرہ مین بھی شامل ہیں۔ مدیروں کے تحفظ کے لیے ایک سیفٹی تنظیم بھی بنی ہوئی ہے، وہ بھی واٹس ایپ پر پیغامات دینے کے لیے، اس تنظیم کو بنانے میں، میں خود بھی شامل تھا۔ جب سورش فاونڈیشن کے تحت ترکی میں ایک اجلاس ہوا تھا، ادھر ایک تنظیم بنائی تھی اس میں بھی عملی طور پر نظر نہیں آتا کہ معاملات بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔

سوال: صحافیوں کو معاشرے میں کن کرداروں سے زیادہ خطرات لاحق ہوتے ہیں، سیاسی ، مذہبی یا ریاستی اداروں سے؟

جواب: ایک تو دہشت گرد ہے جو کہ چھپا ہوا ہوتا ہے، اس سے تو خطرہ ہے ہی، ایک تو ان کے دانستہ یا نادانستہ سہولت کار ہیں، مثال کے طور پر میں نے یہ نوٹ کیا ہے کہ ہمارے جو زیادہ تر مذہبی عناصر یا جماعتیں ہیں وہ دو ٹوک انداز سے دہشت گردی کی مذمت بھی نہیں کرتے۔ وہ دہشت گردی کو تو برا کہتے ہیں لیکن دہشت گردوں کے بارے میں جب بات کریں تو ان کے منہ میں انگلیاں پڑ جاتی ہیں۔ آپ کے سوال کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہاں پر، خاص طور پر لاپتہ افراد کے حوالے سے جو صحافی ریڈ لائن کراس کرتے ہیں ان کو خفیہ ادارے ہیں، ( جو سمجھا جاتا ہے ، کم از کم ) وہ معاف نہیں کرتے ابھی کچھ بہتر ہے صورتحال لیکن ماضی قریب میں اسلام آباد میں سلیم شہزاد نامی ایک صحافی اور پھر ولی بابر تھا، بلکہ سوات میں  میں نیشن کا ایک رپورٹر بھی اسی طرح مارا گیا تھا۔ صحافی کو کئی اطراف سے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔


سوال: آپ کے خیال میں
 حکومت کو صحافیوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کرنے چاہیں۔ کیا کوئی خصوصی قانون بنایا جائے؟

جواب: یہ قانون کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ مائند سیٹ کا مسئلہ ہے۔ مائنڈ سیٹ اخباری مالکان کا بھی ہونا چاہیے جب وہ سرکاری اشتہار اور مراعات اپنا حق سمجھتے ہیں تو پھر ان کا فرض یہ ہے کہ وہ صحافیوں کے ٹریننگ اور سکیورٹی کے معاملے میں کام کریں۔ یقیناً حکومت جو ہے اس کے اہلکاروں کی حفاظت کے لیے اربوں روپے خرچ کر رہی ہے۔ میں صرف وی آئی پیز کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ مثلاً آپ لاہور میں دیکھیں کہ جو لوگ قوم کی حفاظت کرنے کے لیے معمور ہیں انہوں نے اپنے آپ کو محفوظ کرنے کے لیے جی او آر ون کے ارد گرد دیوار کھڑی کر لی ہے اور عام آدمی وہاں سے گزر بھی نہیں سکتا۔ یہ مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ابھی حال ہی میں ٹارگٹ آپریشن میں جو پولیس والے مارے گئے، اب ان کی فیملی کو یہ کہہ دینا کہ ان کو اتنے لاکھ دیدیں گے، اور دیگر مراعات دی دیں گے لیکن بندہ تو چلا گیا۔


سوال: آپ ایک میڈیا ہاوس کے مرکزی عہدے پر بیٹھے ہیں
 ہیں، ابھی آپ نے کہا کہ میڈیا مالکان ہیں وہ بھی صحافیوں کی سیفٹی کے لیے اقدامات

نہیں کرتے۔ آپ کا جو ادارہ ہے جس میں آپ پروگرام کرتے ہیں، وہاں پر کوئی ایسے اقدامات کئے گئےہیں؟
جواب:
جی ہاں انہوں نے گیٹس لگائے ہیں انہوں نے خاردار تار لگائی ہوئی ہے۔ وہ تھوڑا بہت کرتے ہیں لیکن اگر آپ میری رائے پوچھیں تو بہت کم ہے۔ اس سے زیادہ ہونا چاہیے۔ میں ایک بات ضرور کہوں گا، حفاظت تو ہونی چاہیے، لیکن شائد آپ کو میری یہ بات عجیب لگے کہ یہ کام ہی پر خطر ہے۔ اداروں کو چاہیے کہ ان کی انشورنس کروائیں۔ آپ دیکھتے ہوں گے کہ مغربی دنیا جہاں پر پریس آزاد ہے۔ ان کے صحافی جان جوکھوں میں ڈال کر افغانستان، عراق، افریقہ یا پھر یہاں (پاکستان)  میں پھر رہے ہیں لیکن ان کو کم از کم معاشی تحفظ دیا جاتا ہے اور تربیت دی جاتی ہے۔ لیکن ان کے کام کے ایتھکس ہیں کہ آپ کو پرخطر مقامات پر جا کر رپورٹنگ کرنی ہے لیکن خود کشی نہیں کرنی۔ لیکن آپ جانتے ہیں ان میں سے بہت سے لوگ ہیں وہ دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں۔ پاکستان میں ڈینیل پرل بھی نشانہ بنا۔ یہ ہمارے پیشے کا ایک حصہ ہے جس کے ساتھ خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے جس کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔

 

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -