صحافتی چیلنج اور بلوچستان

صحافتی چیلنج اور بلوچستان

ایوب ترین

بلوچستان گزشتہ ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے سے شورش کی زد میں ہے۔ اس نے زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح صحافت اور صحافیوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ کوئٹہ اور صوبے کے دیگر علاقوں میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران چالیس سے زیادہ صحافی نشانہ بنا کر یا بم دھماکوں میں شہید ہو چکے ہیں۔ سال دو ہزار بارہ میں خضدار پریس کلب دو ماہ سے زیادہ عرصے تک بند رہا۔ کیونکہ نامعلوم مسلح افراد نے پریس کلب کے جنرل سیکرٹری عبدالحق بلوچ کو نشانہ بنا کر قتل کیا اور دیگر صحافیوں کو بھی جان سے مارنے کی دھمکی دے رکھی تھی۔ دو ماہ بعد خضدار پریس کلب سخت سکیورٹی میں کھل گیا مگر ریاض مینگل جیسے صحافیوں کے لیے آج بھی بند ہے۔ وہ کئی سالوں سے صوبے سے باہر ایک نامعلوم مقام پراپنے بچوں اور خاندان کے ہمراہ صوبہ بدری کی زندگی گزارنے پرمجبور ہیں۔

افغان سرحد کے قریب بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں بھی حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ دو ہزار سولہ میں پولیس نے ایکسپریس نیوز اور وائس آف امریکہ کے نمائندے نعمت سرحدی پر رات کی تاریکی میں اس وقت مبینہ طرو پر تشدد کیا جب وہ گھر سے دفتر جا رہے تھے۔ اس واقعے کے خلاف چمن کے صحافیوں نے احتجاج کیا اور حکومت سے متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ تاہم بعد میں اس وقت کے ضلعی پولیس افسر اسد ناصر نے صحافیوں کو یقین دہانی کرائی تھی کہ متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس پر مقامی صحافیوں نے مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ موخر کر دیا۔ لیکن تاحال مذکورہ پولیس اہلکاروں کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی عمل میں نہیں آئی ہے۔ بلکہ جولائی میں پولیس نے ایک اور صحافی کو خوف وہراس میں مبتلا کرنا شروع کر دیا جب چمن کے ایک مقامی صحافی مطیع اللہ اچکزئی کے بھائی کی دکان میں ڈکیتی ہوئی۔ اس واقعے کی ایف آئی آر متعلقہ تھانے میں درج کر دی گئی۔ مطیع اللہ کے مطابق کارروائی کی بجائے دو پولیس افسران نے انہیں مبینہ طور پر ڈرانا دھمکانا شروع کردیا۔ فریڈم نیٹ ورک کودی گئی ایک درخواست میں مطیع اللہ نے بتایا کہ سات مئی کو تاج روڈ پران کے بھائی کی دکان میں ڈکیتی ہوئی تھی۔ ان کا الزام ہے کہ پولیس نے تفتیش میں لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔ تنگ آکر میں نے کیس کرائمز برانچ منتقل کر دیا۔ کیس منتقلی کے بعد بعض پولیس اہلکاروں کی جانب سے انہیں زبانی دھمکیاں ملنے لگیں۔ ان دھمکیوں کے بارے میں مطیع اللہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے آئی جی پولیس بلوچستان، ڈی آئی جی اور دیگر اعلی حکام کو درخواستیں دیں لیکن کوئی خاطرخواہ کارروائی نہیں ہوئی۔

فریڈم نیٹ ورک نے فوری کاروائی کرتے ہوے فروری میں صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی، صوبائی سیکرٹری داخلہ اور آئی جی پولیس کوخط لکھا ہے۔ خط میں حکومت سے مطالبہ کیاگیاہے کہ مطیع اللہ اچکزئی سمیت تمام صحافیوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کئے جائیں۔

 

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -