فروری 2017: قتل، حراست اور دھمکیاں

فروری 2017: قتل، حراست اور دھمکیاں

پاکستانی میڈیا کو ملنے والی دھمکیوں اور حملوں پر تجزیہ:

فری ڈم نیٹ ورک کی طرف سے رپورٹ: فروری 2017

صحافیوں کو دھمکیاں، ان پر حملے اور ان کے قتل:

فروری 2017 میں پاکستان پریس کلب سیفٹی حب نیٹ ورک نے میڈیا اور ان کے نمائندگان کے ساتھ پیش آنے والے 17 سنگین خلاف ورزیوں پر ایک رپورٹ تیار کی۔ اس رپورٹ میں ایک میڈیا کے نمائندگان کے قتل، ایک کی حراست، چھ پر تشدد، چھ کو دھمکیاں اور ایک کے خلاف تین کیس درج کیے جانے کی تمام معلومات موجود ہیں۔

ان کیس میں سے آٹھ کیس پنجاب، چار کیس دارالحکومت اسلام آباد، تین کیس سندھ اور دو کیس بلوچستان میں رونما ہوئے۔

قتل: اس ماہ کا سب سے تشویش ناک کیس 13 فروری کو کراچی میں پیش آیا جب سماء نیوز کے کیمرامین، تیمور خان کو گردن میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ تیمور اپنی دفتر کی گاڑی میں نار تھ ناظم آباد کی طرف پولیس پر تشدد کے واقع کی کوریج کے لیے روانہ تھا جب اسے کافی قریب سے ٹارگٹ کلرز نے اپنا نشانہ بنایا۔ فل ہال پولیس نہ تو قاتلوں کی شناخت کر سکی ہے اور نہ ہی اس قتل کے محرکات کے بارے میں کچھ پتہ لگا سکی ہے۔

گرفتاری: حکام نے سجاد علی، آج تک کے کیمرا مین، کو 23 فروری کو اس بنیاد پر گرفتار کر لیا کہ اس نے مبینہ طور پر ایک ٹی وی پروگرام کی ویڈیو سرعام پھیلا دی تھی۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر جلد ہی گردش کرنے لگی اور کافی متنازعہ بنی جس میں یہ دکھایا جا رہا کہ پروگرام کے پروڈیوسر خود ایک ہوٹل مینجر کے خلاف جعلی ثبوت جمع کر رہے ہیں۔ یہ حراست فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی کے سائبر ونگ نے کی جس کو چینل مینجمینٹ کی طرف سے شکایت موصول ہوئی تھی۔ سجاد کو کچھ گھنٹوں کی تفشیش کے بعد رہا کر دیا تھا۔ اس کے باوجود اس چینل نے اس کیمرا مین کے خلاف ایک دوسرا کیس بدنامی سے منسلک کالا کوٹ پولیس اسٹیشن  میں درج کیا اور اس کے بعد ایک تیسرا کیس چوری کے نام کا کورنگی پولیس اسٹیشن میں درج کیا۔

حملے اور زخمی ہونے والے واقعات: اس ماہ چھ صحافی اور میڈیا کارکن تشدد کا نشانہ بنے اور زخمی ہوئے۔

پہلے کیس میں 14 فروری کو لاہور کے مال روڈ پر ہونے والے دہشت گردی کے واقعے میں چار میڈیا کے کارکن زخمی ہوئے جب وہ مظاہرین کی کوریج کر رہے تھے۔ چودہ لوگ ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ زخمی ہونے والوں میں آج نیوز کے رپورٹر قمر جبار، ڈی ایس این جی انجنیئر آون علی، ڈی ایس این جی کے ڈرائیور محمد شفیق اور 7 نیوز کا کیمرامین احسن رضا شامل تھے۔

دوسرے کیس میں 22 فروری کو سماء نیوز کے رپورٹر زین الد ین کو دو گروپوں کے درمیان تشدد کی ویڈیو بنانے پر کوئٹہ پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ اپنے آپ کو ایک رپورٹر بتانے کے باوجود پولیس والوں کا تشدد برقرار رہا اور بعد میں پولیس والوں نے کیس درج کرنے سے بھی منع کر دیا۔

تیسرے کیس میں گوجرانوالہ میں چینل 24 کے رپورٹر، شفقت عمران کو محکمہ گندگی مینجمینٹ کے اہلکاروں نے تشدد کا نشانہ اس لیے بنایا کیونکہ شفقت اپنی رپورٹ کے لیے ان کی سرکاری گاڑیوں سے پیٹرول چوری کرنے کی ویڈیو بنا رہا تھا۔ عمران کو سر پر کافی چوٹیں آئیں۔

دھمکیاں: اس ماہ چھ صحافیوں کو دھمکیاں موصول ہوئیں۔

پہلے کیس میں 9 فروری کو جنگ اور جیو نیوز کے لاہور کے دفاتر کے باہر سنی اتحاد کونسل کے 30 ممبر نے دھرنا دیا اور دھرنے میں جنگ اور جیو کے مالک میر شکیل الرحمان کے خلاف مظاہرے کیے جن میں میر شکیل کو غدار کہا گیا اور اسے پھانسی دینے کا کہا گیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے رحمان اور جنگ کو دھمکیاں بھی دیں۔

دوسرے کیس میں کوہ نور ٹی وی کے رپورٹر احمد نواز کو 13 فروری کو کوہلو کی انتظامیہ کے وائس چیر مین  کی طرف سے دھمکیاں موصول ہوئیں کیونکہ احمد نے وائس چیر مین ے خلاف رپورٹ درج کی تھی۔ اس رپورٹر نے اگلے دن ہی علاقائی پولیس میں کیس درج کر دیا۔

تیسرے کیس میں 15 فروری کو اسلام آباد کے اخبار ”خبریں” کے رپورٹر فرخ نواز بھٹی کو ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیڈرل منسٹر طارق فظل چودھری نے دھمکی دی۔ اگلے دن فرخ کا ایک گاڑی اور دو مرٹر سائیکلوں نے پیچھا کیا جنہوں نے اس کی گاڈی کا دروازہ کھولنے کی بھی کوشش کی لیکن ناکام رہے اور اس رپورٹر نے فرار ہو کر فورا  پولیس اسٹیشن میں رپورٹ درج کر دی۔

چوتھے کیس میں اے آر واے کے ٹاک شو کے میزبان ارشد شریف کو 17 فروری کو ایک دھمکی آمیز کال موصول ہوئی جس میں انہیں بتایا گیا کہ ان کے تبصروں سے انٹیلی جینس کے کچھ افسر ان ناخوش ہیں۔

پانچویں کیس میں چینل 7 کے رپورٹر عاظم گل کو 22 فروری کو فیڈرل منسٹر انوشہ رحمان نے دھمکیاں دیں جب وہ رپورٹر، منسٹر کی کال سپریم کورٹ کے باہر چھپ کر ریکارڈ کر رہا تھا۔ منسٹر نے اس رپورٹر کا موبائل چھین لیا لیکن چند گھنٹوں کے بعد کچھ لین دین کے بعد واپس کر دیا۔

قانونی مقدمہ: 22 سے 24 فروری 2017 کے درمیان کراچی اور سندھ میں ”اب تک” کے ایک کیمرامین سجاد علی کے خلاف تین کیس درج ہوئے کیونکہ اس نے ایک ٹی وی پروگرام جو جرائم کی تفتیش کرتا ہے اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر لیک کر دی جس میں یہ صاف نظر آ رہا ہے کہ پروگرام کے پروڈدسر خود ایک ہوٹل مینجر کے خلاف جعلی ثبوت تیار کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں پہلا کیس فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی کے سائبر ونگ میں درج کروایا گیا جبکہ دوسرا اور تیسرا کالا کوٹ اور کورنگی پولیس تھانوں میں درج کروائے گئے۔

 میڈیا کے اداروں کو ملنے والی دھمکیاں، ان پر ہونے والے حملے اور ان کا ہراساں:

فروری 2017 میں فریڈم کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک نے میڈیا کے کسی کارکن پر جسمانی تشدد کی کوئی خبر رپورٹ نہیں کی۔ تاہم زبانی دھمکیوں کی ایک مثال موجود ہے جب جنگ میڈیا گروپ کے لاہور کے دفتر کو سنی اتحاد کونسل کے کچھ کارکنان نے 9 فروری کو ہراساں کر لیا۔ انہوں نے یہ دعوا کیا کہ جنگ گروپ اور ان کا مالک میر خلیل الرحمان ایک غدار ہے۔ انہوں نے رحمان اور جنگ میڈیا گروپ کو دھمکیاں بھی دیں۔

اس ماہ کسی میڈیا گروپ پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگائی گئی اور کسی میڈیا گروپ کو کسی قسم کا نوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا۔

مختلف قسم کے میڈیا اداروں کو ملنے والی دھمکیاں، ان پر ہونے والے حملے اور ان کا ہراساں:

فروری 2017 میں فریڈم کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک اور میڈیا نے 16 میڈیا کے اداروں کے خلاف 5 حملے اور دھمکیوں کے واقعات ریکارڈ کیے۔

ان 16 میں کچھ کیس ٹیلی ویزن میڈیا کی خلاف ورزیاں ہیں، ایک پرنٹ میڈیا اور ایک میڈیا گروپ کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔ اس ماہ ریڈیو میڈیا اور فری لانس صحافیوں کا کیا کیس بھی درج نہیں ہوا۔

ان 16 ٹیلی ویزن میڈیا کی خلاف ورزیوں والے کیسوں میں سے ایک کا تعلق قتل، ایک کا حراست، تین کا پولیس، چھ کا جسمانی زیادتی اور پانچ کا تعلق زبانی دھمکیوں سے ہے۔

صحافیوں اور میڈیا کو دھمکی دینے اور ہراساں کرنے والے افراد:

فروری 2017 میں دھمکیاں اور ہراساں کرنے والے افراد میں فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی شامل تھی جس نے ایک صحافی، دو منسٹر جنہوں نے دو صحافیوں کو دھمکیاں دیں تھیں، ضلعی حکومتی افسر ان شامل تھے جنہوں نے صحافیوں اور فرقہ وارا نہ گروپوں کو قتل کرنے کی دھمکیاں دیں تھیں اور میڈیا گروپوں کو دھمکیاں دیں تھیں۔

 یہاں پر بتائی گئی معلومات مظلوم کے خاندان والوں سے بات چیت کے بعد سرا عام پر لائی جاتی ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ معلومات توثیق شدہ ہیں۔ یہاں پر معلومات کو بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ایسی حکمت عملی تجویز دی جائے تاکہ میڈیا کے خلاف دھمکیوں میں کمی لائی جا سکے۔

 صحافیوں کی حفاظت کے لیے فریڈم کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک کی طرف سے وکالت:

فروری 2017 فریڈم کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک کے لیے کافی مصروف مہینہ ثابت ہوا۔ صحافیوں کی حفاظت کے متعلق کچھ اقدامات جو اٹھائے گئے ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:

 نیشنل پریس کلب، اسلام آباد سیفٹی ہب:

  • سیفٹی ہب مینجر نے پریس کلب آف پاکستان کے چیرمین ڈاکٹر صلاح الدین مینگل کو دعوت پر نیشنل پریس کلب، اسلام آباد بلایا اور نیشنل پریس کلب سیفٹی ہب کی کارکردگی کے بارے میں آگاہ کیا۔
  • سیفٹی ہب مینجر نے کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جر نلسٹ کے کوآر ڈینیٹر سٹیون بٹلر کو دعوت پر نیشنل پریس کلب، اسلام آباد بلایا اور نیشنل پریس کلب سیفٹی ہب کی کارکردگی کے بارے میں آگاہ کیا۔
  • سیفٹی ہب مینجر نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں نشانہ بننے والے سما کے کیمرامین تیمور خان کے لیے نیشنل پریس کونسل اور اسلام آباد راول پنڈی کے یونین آف جرنلسٹ سے مشترکہ طور پر اس کے قتل کے سلسلے میں احتجاج کرنے کی تجویز دی۔

 پریس کلب سیفٹی ہب، ڈیرہ اسماعیل خان :

  • سیفٹی ہب مینجر نے ڈیرہ اسماعیل خان پریس کلب میں ایک ملاقات منعقد کی جس میں نا صرف صحافیوں کے تحفظ کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی گئی بلکہ پریس کلب کے ممبر کے تحفظ کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک جسمانی اور ڈیجیٹل ٹریننگ منعقد کروانے کا فیصلہ کیا گیا۔
  • سیفٹی ہب مینجر نے خیبر پختونخواہ کے حزب اختلاف مولانا لطف الرحمان سے ملاقات کی جس میں انہوں نے صوبے میں صحافیوں کو پیش آنے والی مشکلات اور دھمکیوں کی صورت حال کے بارے میں آگاہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ میڈیا کے تحفظ کے لیے صوبے میں ایک قانون موجود ہونا چاہیے۔ لطف الرحمان نے اس بات کو تسلیم کیا اور کہا کہ صوبائی اسمبلی میں جلد ہی یہ قانون پاس کیا جائے گا۔
  • سیفٹی ہب مینجر اور ڈیرہ اسماعیل خان کے پریس کلب سیکٹری محمد بلال نے اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ کمشنر سے ملاقات کی اور انہیں علاقائی صحافیوں کو پیش آنے والی مشکلات اور دھمکیوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ کمشنر نے ڈیرہ اسماعیل خان کے پریس کلب سیکٹری کو وعدہ کیا کہ صحافیوں کی تحفظ کو بہتر بنایا جائے گا۔

پریس کلب سیفٹی ہب، کراچی:

  • سیفٹی ہب مینجر نے یونیورسٹی آف کراچی میں تعینات ڈپارٹمنٹ آف میس کمیونیکیشن کے پروفیسر اسامہ شفیق سے ملاقات کی اور ان سے خواتین طلبہ کو تحفظی ٹریننگ فراہم کرنے کے بارے میں بات چیت کی جس پر پروفیسر صاحب نے اس بات کو خوش آئین قرار دیا۔
  • سیفٹی ہب مینجر، کراچی پریس کلب کے ممبر نمات خان اور کراچی یونین آف جرنلسٹ کے سیکرٹیری شعیب احمد نے سندھ کے چیف سیکرٹیری رضوان میمن سے سندھ سیکرٹیریٹ میں ملاقات کی جہاں پر انہوں نے صحافیوں کے تحفظ کے لیے صوبے میں ایک بل کی منظوری کے بارے میں بات چیت کی۔ چیف سیکرٹیری نے اس بات کی حمایت کی۔

 پریس کلب سیفٹی ہب، کوئٹہ:

  • سیفٹی ہب مینجر نے بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی سے ملاقات کی اور انہیں صحافیوں کو چمن میں پیش آنے والی دھمکیوں کے بارے میں آگاہ کیا جس پر وزیر داخلہ نے ان کی حمایت کی اور اس سلسلے میں تفشیش کروانے کو کہا۔
  • سیفٹی ہب مینجر نے کراچی میں قتل ہونے والے سما کے کیمرامین تیمور خان کے حق میں اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔

پریس کلب سیفٹی ہب، پشاور:

  • پشاور میں فروری 2017 میں کوئی کام ریکارڈ نہیں ہوا۔

پریس کلب سیفٹی ہب، لاہور:

  • سیفٹی ہب مینجر، پنجاب یونین آف جرنلسٹ کا صدر منتخب ہوا۔
  • سیفٹی ہب مینجر نے کراچی میں قتل ہونے والے سما کے کیمرامین تیمور خان کے حق میں اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔
  • سیفٹی ہب مینجر نے لاہور میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے میں زخمی ہونے والے صحافیوں کو پنجاب حکومت کی طرف سے معاوضے کی رقم ادا کرنے کو کہا جس کے نتیجے میں پنجاب حکومت نے ہر زخمی ہونے والے صحافی کو تین لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا۔

 

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -