میدان میں اپنی اور سامان کی حفاظت

میدان میں اپنی اور سامان کی حفاظت

بیتھ وان گارنر

جب صحافی کسی خبر کے پیچھے میدان میں اترتے ہیں، تو اکثر اوقات وہ اپنے ساتھ مہنگے آلات لاتے ہیں۔ ٹی وی کے لیے جدید ویڈیو کیمروں سے لے کر لیپ ٹاپ اور اسمارٹ فون وہ سب چیزیں ہیں جو صحافیوں کے ساتھ ساتھ چوروں کے لیے بھی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔

گزشتہ گرمیوں میں جب سین فرینسسکو بے میں نیوز ٹیمز کے ساتھ چوری کے چھ مختلف واقعات رونما ہوئے تو میں نے ان میں سے چند نیوز ٹیمز سے ان واقعات کے بارے میں بات کرنے کی کوشش کی کہ آخر ہوا کیا۔ جن صحافیوں سے میں نے گفتگو کی انھوں نے مجھے مشورہ دیا کہ رپورٹنگ کرتے وقت میں کس طرح اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکتی ہوں، اور مجھے کیا کرنا چاہیے جب میرا کوئی سامان چوری ہو جائے اور چوری ہو جانے کی صورت میں میں کس طرح اپنی معلومات کو محفوظ رکھ سکتی ہوں۔

جانے سے پہلے کی تیاری:

 پچھلے مہینے، آکلینڈ ٹربیون میں کام کرنے والی لیڈ فوٹوگرافر لارا اوڈا اپنے اخبار کے لیے دیواروں کے تصاویر بنا کر اپنے کیمروں کو واپس گاڑی میں رکھ رہیں تھیں کہ اچانک سے دو افراد نے انہیں گھیر لیا اور ان میں سے ایک نے پستول نکال کر لارا پر تان دی اور کہا، ”اپنا سارا سامان ہمارے حوالے کر دو”۔ چار کیمروں، تین لینز، ایک لیپ ٹاپ، ایک ڈرائیو سمیت لارا کے اٹھارہ سالوں کے آر کائیوز وہ لے کر فرار ہوگئے۔ البتہ اسے رہزنوں نے کچھ نہیں کہا لیکن اس کے باوجود وہ کافی غصے میں اور سہمی ہوئی تھیں۔  کچھ عرصے کے بعد اوڈا نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس نے اپنا ڈیٹا محفوظ رکھنے کے لیے کوئی انتظامات نہیں کیے تھے۔ اس نے باقی صحافیوں کو تنبیہ دی کہ وہ اپنے اپیل کے لیپ ٹاپ میں ٹریکنگ فیچر آن کر لیں۔ ایک ای میل انٹرویو میں انھوں نے کہا: ” میں فورا اپنے لیپ ٹاپ کو ٹریک کر کے اس بات کی اطلاع پولیس کو دے سکتی تھی۔” اگر پولیس وہ لیپ ٹاپ ڈھونڈ سکتے ہیں تو وہ چوروں کا بھی پتہ لگا سکتے ہیں۔ اپنے ساتھ لے جانے والی تمام چیزوں کے سیریل نمبر اپنے پاس محفوظ رکھ لیں تاکہ پولیس آپ کو اگر آپ کا سامان ڈھونڈ پائیں تو آپ کا سامان لوٹا سکیں۔   اوڈا نے ایک اور تجویز یہ دی کہ آپ اپنی تمام قیمتی فائل کا بیک اپ رکھیں جسے آپ اپنے کمپیوٹر میں رکھنے کے بجائے اپنے گھر یا دفتر جیسی محفوظ جگہ میں رکھیں۔  صحافیوں کے تحفظ کے لیے بنائی گئی کمیٹی نے بھی تجویز کیا ہے کہ صحافی رپورٹنگ کرتے وقت اپنے ساتھ ایک الگ کمپیوٹر رکھیں، جس میں کم سے کم ڈیٹا موجود ہو تاکہ اگر چوری ہو تو آپ کا کم سے کم نقصان ہو۔  جب آپ رپورٹنگ کر رہے ہوں تو چوکنا اور ساتھ رہیں: جون میں کے ٹی وی یو ٹی وی کے رپورٹر آکلینڈ کی پہاڑیوں میں ایک سائیکل اور موٹر سائیکل کے درمیان تصادم کی رپورٹ بنا کر واپس لوٹنے ہی والے تھے کہ تین افراد ان کی وین کے پاس پہنچے جن میں سے دو نے کیمرا چھینا جبکہ تیسرے نے ان کا لیپ ٹاپ چھین لیا۔ ایک فون انٹرویو میں کے ٹی وی یو ٹی وی کے نیوز ڈائریکٹر نے کہا کہ ”ہم نے یہ سمجھا کہ ان کے پاس ہتھیار موجود تھے البتہ انہوں نے ہتھیار دکھائے نہیں تھے۔”   کے ٹی وی یو ٹی وی اپنے رپورٹرز کے تحفظ کے لیے متعدد اقدامات کرتا ہے۔ ہر سال اپنے تمام ملازمین کے لیے سیفٹی ٹریننگ منعقد کیے جاتے ہیں۔ پچھلے چند سالوں میں کے ٹی وی یو ٹی وی نے اپنے ملازمین کو بچانے کے لیے اپنے ہیڈ کوارٹرز کے گرد خار دار تاریں لگا دیں ہیں اور اپنے رپورٹرز کے ساتھ سکیورٹی کے اہلکار بھی بھجوانے شروع کر دیئے ہیں۔ انھوں نے رپورٹنگ کے علاقوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے وین کی بجائے ٹرکوں کا استعمال شروع کر دیا ہے کیونکہ وین آسانی سے پہچانی جاتی ہیں۔ تاہم سب سے  اہم چیز یہ ہے کہ آپ چوکنے رہیں۔ چاپوس کا کہنا ہے کہ ”آپ کو خطرے کی پابندیوں کا پتہ ہونا چاہیے اور وہاں سے دس قدم پیچھے لے لینے چاہیں۔”  کے ٹی وی یو ٹی وی کی نیوز ڈائریکٹر ٹریسی واٹ کاوسکی کی رائے ہے کہ اکٹھے رہنا بھی کافی اہمیت کا حامل ہے۔ مئی میں سین فرینسسکو میں لگنے والی آگ میں ٹریسی کے رپورٹرز پولیس افسران اور آگ بجھانے والے عملے کی موجودگی  کے باوجود لوٹ لیے گئے۔ ایک فون انٹرویو میں کاوسکی نے کہا: ”جب آپ ایک فوٹوگرافر کے ساتھ کام کر رہے ہیں تو آپ کو چاہیے کہ آپ اس کے ساتھ رہیں۔” تاکہ دونوں محفوظ رہ سکیں۔ بڑی نیوز کی خبروں کے وقت تمام رپورٹرز اور وین کا عملہ ایک ساتھ رہتا ہے۔ چاپوس کا کہنا ہے کہ ”تحفظ کے معاملے میں ہم متوازن نہیں ہیں۔” اگر آپ لوٹ لیے گئے ہیں تو اپنے تحفظ کو ترجیح دیں اور اس واقعے کی رپورٹ جلد از جلد درج کروائیں:  اگر آپ سے کوئی آپ کا سامان چوری کرتا ہے تو آپ فورا کسی محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں اور اپنے مینجر یا پولیس کر اطلاع دیں۔ اگر آپ نے اپنے سامان کا سیریل نمبر کہیں لکھا ہوا ہے یا آپ نے ٹریکنگ سافٹ ویر آن کیا ہے تو پولیس کو اس بات سے باخبر کریں۔ پولیس کو چوروں کی جتنی ہو سکے تصویر کشی کر کے دیں۔  اپنے ساتھی رپورٹروں کو اس بات سے بخوبی طور پر باخبر کر دیں۔ جب چاپوس کی ٹیم نے اسے اطلاع دی کہ ان کا سامان چوری ہو گیا ہے ، چاپوس نے فورا اس علاقے میں موجود باقی نیوز ڈائریکٹروں کو اس بات کی اطلاع دے دی تاکہ وہ اس خطرے سے محفوظ رہ سکیں۔ کسی بھی خطرناک حالات میں رپورٹرز کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ان کا اپنا تحفظ ان کے کام یا ان کے آلات سے زیادہ قیمتی ہے۔ واٹ کاسکی کا کہنا ہے کہ ”کسی آلے کا چوری ہو جانا کافی خطرناک بات ہے لیکن سب سے زیادہ اہمیت لوگوں کی جان بچانے کو دی جاتی ہے۔”  ہر بار جب چاپوس اپنے ملازمین کے ساتھ تحفظ کے ٹریننگ سیشن منعقد کرتا ہے تو وہ تحفظ اور سکیورٹی کو ترجیع دیتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ”ہر کام میں ہم اپنے بندوں کی دیکھ بھال کا خاص خیال رکھتے ہیں جب وہ کام پر ہوں۔ کوئی بھی لائیو خبر، زخمی ہونے پر ترجیع نہیں رکھتی۔”

 

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -