علم اور تربیت سے ناآشناء صحافیوں کی اکثریت مسائل کی وجہ: سیلاب محسود

علم اور تربیت سے ناآشناء صحافیوں کی اکثریت مسائل کی وجہ: سیلاب محسود

محمد فضل الرحمان

قبائلی علاقہ جات کی صحافت کا جب بھی تذکرہ آتا ہے سیلاب محسود کے بغیر ادھورا  تصور کیا جاتا ہے۔ سیلاب محسود کو سینئر ترین قبائلی صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس کے بانی اراکین میں سے ایک ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ فریڈم نیٹ ورک کی ”محفوظ صحافی” کے لیے ان سے ہونے والی گفتگو۔

محفوظ صحافی: ماضی اور حال کی قبائلی صحافت میں آپ کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟

سیلاب محسود: آج سے پینتیس چالیس سال قبل اور آج کی صحافت میں کافی تبدیلیاں آئی ہیں۔ میری پہلی خبر بانگِ حرم اخبار میں اس وقت شائع ہوئی جب میں میٹرک کا طالب علم تھا۔ میں جنڈولہ، جنوبی وزیرستان میں امتحان دے رہا تھا کہ مجھے علم ہوا کہ وہاں مویشیوں کو بیماری لاحق ہے۔ میں نے یہ خبر ”بانگ حرم” کو بھیجی۔ یہ خبر چار یا پانچ سطور میں شائع ہوئی۔ چند روز بعد پولیٹیکل محرر نے مجھے بتایا کہ آپ تحصیل  بلڈنگ جنڈولہ آجائیں وہاں آپ کو مہمان ملنے آ رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ میں تحصیل بلڈنگ نہیں آتا میرے خاندانی تعلق دار بھٹنی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے ان کی دکان مین جنڈولہ بازار میں ہے آپ مہمانوں کو وہاں بھیج دیں۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ جنڈولہ اور ٹانک میں اگر کوئی پتلون پہن کر آتا تو اس کو عجیب مخلوق تصور کیا جاتا تھا۔ تھوڑی دیر بعد چار پانچ آدمی پتلون پہنے وہاں میرے پاس آگئے۔ چائے پینے کے بعد انہوں نے اپنا تعارف کرایا تو معلوم ہوا کہ ایک اس وقت کے صوبہ سرحد کے ڈائریکٹر لائیو سٹاک اور دو ڈپٹی دائریکٹرز تھے۔ انہوں نے مجھے سے کہا کہ آپ اپنی خبر کی تردید کریں۔ میں نے انہیں بتایا کہ میری خبر درست ہے میرے پاس ثبوت ہیں میں تردید نہیں کروں گا۔ بات کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پینتیس چالیس سال قبل ”بانگ حرم” میں چار یا پانچ سطور کی خبر پر پورا محکمہ حرکت میں آ جاتا تھا اور آج یہ نوبت ہے کہ تمام اخبارات، ٹی وی چینلز بھی کسی معاملہ پر شور مچاتے رہیں کوئی ایکشن ہی نہیں لیتا۔ اگر کوئی حرکت نظر بھی آتی ہے تو اس میں بھی نمود ونمائش کی خواہش زیادہ ہوتی ہے نہ کہ عوامی مسئلہ کا حل۔

محفوظ صحافی: ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس کا قیام کیسے عمل میں لایا گیا؟

سیلاب محسود: جب ہم نے عملی صحافت کاآغاز کیا تو قبائلی علاقہ جات میں صحافی نہ ہونے کے برابر تھے۔ ان دنوں مہینوں بعد اخبارات قبائلی علاقہ جات سے شائع ہوتے تھے۔ باجوڑ میں ایک پشتون صحافی نے پناہ لی ہوئی تھی وہ کبھی اخبار نکالتا تھا یا فقیر ایپی اخبار نکالتے تھے۔ اخبارات بھی سائیکلو سٹائل مشین سے شائع ہوتے تھے۔ زیادہ تر ان کا محور سیاسی ہوتا تھا۔ 1987 میں جب میں نے ٹرائیبل یو نین آف جرنلسٹس کے قیام کے بارے میں غور کرنا شروع کیا تو میں نے قبائلی علاقہ جات میں صحافیوں کی تلاش شروع کر دی۔ ان دنوں مشرق اور روزنامہ جنگ میں باجوڑ، پاڑا چنار، صدہ سے خبریں لگتی تھیں۔ میں نے وہاں کے نمائندوں علی، اقبال حسین، علی افضل وغیر کے ساتھ رابطے کیے اور ہم نے مل کر ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس کی بنیاد رکھی۔ منور آفریدی، حاجی حبیب اللہ، حاجی پذیر خان یہ وہ دوست تھے جو ہمارے قافلے کے پہلے ساتھی تھے۔ پھر یہ تنظیم قبائلی علاقہ جات میں اتنی فعال ہوئی کہ چار سال قبل جب تنظیم کے آخری بار الیکشن ہوئے تو رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد تین سو ستتر تھی اور اب تو تعداد چار سو سے بھی بڑھ گئی ہو گی۔ تاہم اگر آپ قبائلی علاقہ جات میں حقیقی صحافیوں کو تلاش کرنا چاہیں تو ان کی تعداد میرے محتاط اندازے کے مطابق تیس یا پینتیس سے زیادہ نہیں ہوگی۔ صحافت کی ڈگری رکھنے والے اب بھی تقریبا پندرہ کے قریب ایسے کارکن صحافی موجود ہیں جن کو ٹرائیبل یونین کی رکنیت تاحال نہیں دی گئی ہے۔ زیادہ صحافی ایسے ہیں جو صرف اور صرف پولیٹیکل انتظامیہ کی خوشنودی کے لیے ہی کام کرتے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ماضی میں جس شخص کو قبائل میں کاروبار کے قابل نہیں سمجھا جاتا تھا اور اسے کہیں بھی ملازمت ملنے کی امید نہیں ہوتی تھی تو وہ خاصہ دار بھرتی ہو جاتا تھا۔ اب بھی خاصہ دار کے معیار پر پورا اترنے والے صحافی بن جاتے ہیں جبکہ کوالیفائیڈ کو یونین کی رکنیت تک نہیں دی جاتی ہے۔ صحافت ایک انتہائی مقدس پیشہ ہے۔ یہ علم اور اخلاقی اقدار کا حامل پیشہ ہے جہاں علم اور تربیت سے ناآشناء لوگوں کی اکثریت کی وجہ سے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ اب تو بندوبستی اضلاع اور قبائلی علاقہ جات میں یہ روش ہے کہ ایک شخص خبر لکھتا ہے اور سب کو ای میل ہوجاتی ہے۔ چار سال قبل ٹرایبل یو نین آف جرنلسٹس کے انتخابات ہوئے تو تنظیم دھڑے بندی کا شکار ہوگئی۔ اب نہ تو انتخابات ہو رہے ہیں اور نہ صحافیوں کے مسائل میں کمی آ رہی ہے۔

محفوظ صحافی: جب آپ نے صحافت کا آغاز کیا تو کس قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا؟

سیلاب محسود: مشکلات صحافت جب سے شروع ہوئی صحافیوں کو درپیش تھیں اور یہ مستقبل میں بھی درپیش رہیں گی۔ وقت گذرنے کے ساتھ ان کی نوعیت تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ ماضی میں قبائلی علاقہ جات میں صحافیوں کو پولیٹیکل نظام، پولیٹیکل ازم، قبائلی ملکان، علماء اور دیگر پریشر گروپوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا جو کسی نہ کسی حد تک آج بھی موجود ہے۔ میری صحافت کی وجہ سے میرے قبیلہ کی مراعات بند کی جاتی تھیں۔ سابق صوبائی وزیر امان اللہ خان عرف منو خان کیس کی خبر کے معاملہ میں 1993میں مجھے سولہ سال قید کی سزاء سنائی گئی۔ میں اس وقت بی بی سی کا سورس تھا۔ صحافتی زندگی میں خبروں کی پاداش میں جنوبی وزیرستان پولیٹیکل حوالات، سروکئی، ٹانک پولیٹکل حوالات، سب جیل ٹانک، پولیٹکل حوالات میران شاہ، پولیٹکل حوالات کرم ایجنسی، سب جیل پاڑا چنار، بنوں جیل اور ڈیرہ اسماعیل خان جیل میں اسیری گزار چکا ہوں۔ آج کے صحافی اگر اس وقت کی دباو اور مشکلات کا سامنا کرتے تو اکثریت صحافت چھوڑ دیتی۔ جب ہم نے ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس کی بنیاد ڈالی تو صحافی متحد ہوئے اور پریشر میں کچھ کمی آئی۔ موجودہ دور میں عالمی سطح کے اداروں مشال ریڈیو، الجیزیرہ، بی بی بی سی اور دیگر عالمی نشریاتی اداروں کی وجہ سے قبائلی صحافی کے ساتھ تھوڑا سا بھی مسئلہ ہوجائے تو پوری دنیا میں وہ بات پھیل جاتی ہے۔ قبائلی صحافی پوری دنیا کے میڈیا تک رسائی حاصل کر چکے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ قبائلی علاقہ جات میں اب لشکر، ملا، پولیٹکل ازم کا اثر بھی بہت حد تک کم ہو گیا ہے۔

جہاں تک بات ہے صحافیوں کو ان کی خدمات کے صلہ کی تو یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ نہ ہی ماضی میں صحافیوں کو ان کی خدمات کا صلہ ملا اور نہ ہی آج دیا جاتا ہے۔ ماضی میں تو صورت حال مختلف تھی تاہم آج یہ ایک بہتری ہوئی ہے کہ عالمی سطح پر بدلنے والے حالات کے نتیجہ میں غیرملکی نشریاتی اداروں اور این جی اووز کے ریڈیو میں ہمارے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ملازمتیں مل گئی ہیں۔ اب تک قبائلی علاقہ جات سے بارہ صحافی شہید ہو چکے ہیں۔ شہید ہونے والے قبائلی صحافی جس بھی ادارہ سے وابسطہ تھے انہوں نے اس کی شہادت کے معاملہ کو اپنے ادارہ کا فخر قرار دیا لیکن لواحقین کے لیے کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ اگر کسی ادارے نے امداد دی بھی تو وہ آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ گیارہ ستمبر 2001 کے بعد حالات تبدیل ہوئے تو قبائلی علاقہ کے تجربہ کار اور تعلیم یافتہ صحافیوں کو عالمی نشریاتی اداروں اے پی، اے ایف پی، رائیٹرز وغیرہ نے ان صحافیوں کی خدمات حاصل کیں۔ اس سے ان اداروں سے وابسطہ صحافیوں کی مالی پوزیشن میں بہتری آئی۔

محفوظ صحافی: گذشتہ سولہ سالوں میں قبائلی صحافیوں کے جانی نقصانات میں اضافہ کی بڑی وجہ آپ کیا سمجھتے ہیں؟

سیلاب محسود: یہ بات تو کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ ہمارے ہاں مجموعی طور پر صحافیوں کی تربیت کا فقدان ہے۔ قبائلی صحافی تو اس سے بھی بری صورتحال سے دوچار ہیں۔ ہم نے ٹرائیبل یو نین آف جرنلسٹس کے پلیٹ فارم سے صحافیوں کے لیے تربیتی نشستوں کا اہتمام کیا تھا مگر شعور کی کمی اور تربیت کا فقدان ہی قبائلی صحافیوں کے لیے بدلتے حالات میں مشکلات میں اضافے کا سبب بن گیا۔ تعلیم یافتہ صحافی نہیں تھے جو تھے بھی انہوں نے پیشہ کے تقاضوں پر عمل درآمد میں سُستی اختیار کی۔ ان کو اندازہ نہیں تھا کہ خبر میں میانہ روی کیسی اختیار کی جاتی ہے، کسی ایک کی بات پر آنکھیں بند کر کے یقین کرنے اور اسی کو سچ سمجھنا ہی ان کی غلطی تھی۔ دوسرے فریق کا موقف تک نہ لینا صحافت اور صحافی کی اپنے ساتھ زیادتی ہوتی ہے۔ قبائلی صحافیوں نے اس جانب توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے وہ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بعض صحافیوں کو تو نشانہ بنا کر مارا گیا جبکہ بعض صحافی صرف اس لیے قتل ہوئے کہ وہ جہاں بیٹھے تھے وہ جگہ نشانے پر تھی۔ مثال کے طور پر محبوب آفریدی شہید کا معاملہ دیکھ لیں، وہ کسی کام کے سلسلہ میں کہیں جا رہے تھے کہ سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر بیٹھ گئے اور عملہ کے ساتھ باتوں میں مشغول ہوگئے۔ دہشت گردوں کا نشانہ یہی چیک پوسٹ تھی۔ تربیت کا فقدان ہی قبائلی صحافیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا اور دوسری بات جو میں نے پہلے کی کہ غیر جابندارانہ رپورٹنگ کا فقدان، مقامی ادارے بھی صحافی سے یہ نہیں کہتے تھے کہ آپ نے خبر میں دوسرے فریق کا موقف دیا ہے یا نہیں جبکہ بین الاقوامی ادارے اپنے کارکنوں کے تحفظ کے لیے اپنے نمائندوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ توازن کے لیے فریقین کے موقف لے کر خبر بھیجیں۔ میرا اپنا ادارہ مشال ریڈیو کوئی رپورٹ اس وقت تک چلاتا ہی نہیں جب تک اس میں فریقین کا موقف شامل نہ ہو۔ اس کے ساتھ ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس میں اختلافات بھی صحافیوں کی کمزوری بنے، یونین صحافیوں کے لیے ایک مورچہ تھا، اس خطہ میں امریکہ، القائدہ وغیرہ کے آنے کے بعد پوری دنیا کی توجہ قبائل کی جانب مبذول ہوئی۔ بڑی حساس خبریں اس علاقہ میں موجود ہیں مگر ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس میں خود غرض اور مفاد پرست صحافیوں کی وجہ سے قبائلی صحافیوں کا یہ مورچہ انتہائی کمزور ہوگیا ہے۔

محفوظ صحافی: محفوظ اور بہتر صحافت کو کیسے یقینی بنایا جا سکتا ہے؟

سیلاب محسود: خیبرپختونخوا اور قبائل میں سینئر صحافیوں کو چاہیئے کہ وہ نئے صحافیوں کو آگے بڑھنے میں ان کی مدد اور سرپرستی کریں۔ ایک دوسرے کی کاٹ، حسد کی روش کو اب ختم کرنا دیا جانا چاہیئے۔ تعیلم یافتہ صحافیوں کو آگے لانے کے مواقع فراہم کریں۔ صحافیوں کو چاہیئے کہ وہ صحافت سے قبل باقائدہ صحافت کی ڈگری حاصل کریں، اخلاقی اقدار کو اپنا شعار بنائیں، صحافت کے اصول و ضوابط سے آگہی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر عمل بھی کریں۔ صحافی کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ صرف اور صرف منفی انداز سے ہی سوچے۔ معاشرے کی بہتری اور ترقی کے لیے علماء، فوج ، حکمرانوں سے زیادہ بہتر اور موثر کردار صحافی ادا کرسکتے ہیں۔ غیر جانبدار رہنا چاہیئے۔ امت مسلمہ، پاکستان خطہ کے قریبی ممالک، افغانستان کے حالات پر صحافی نظر رکھیں اور امن لانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں، اپنی صفوں میں صحافی اتحاد پیدا کریں، امن محبت کے قیام کے لیئے کوشاں رہیں تو اس سے صحافت بھی بہتر ہوگی، صحافت کا حق بھی ادا ہوگا اور صحافی بھی محفوظ رہیں گے۔ اگر کوئی نوجوان صحافی صحافت کی ڈگری نہیں بھی رکھتا تو اس کو چاہیئے کہ زیادہ سے زیادہ مطالعہ کی عادت اپنائے، قومی بین الاقوامی نشریاتی اداروں کی رپورٹس پر گہرہی نظر رکھے اور انہی کی روشنی میں اپنی اصلاح کرے۔

سیلاب خان محسود کا شمار ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹ کےبانیوں میں سے ہوتا ہے۔

فضل الرحمان ڈیرہ پریس کلب سیفٹی ہب کے مینجر ہیں

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

3 Comments

  1. سیلاب محسود صاحب کا شمار ان چند درد دل رکھنے والے مشر صحافیوں میں ہوتا ہے جو اپنے جونیئرز کی اصلاح اور فلاح و بہبود کے لیے کوشاں رہتے ہیں ۔ اللہ انہیں ا ستھکامت عطاء فرمائے اور ہم تفل مکتب کو ان کے علم اور تجربے سے فیض یابی عطاء فرمائے۔

  2. سیلاب محسود صاحب جیسے سینئر صحافی ہمارے لیے مشعل راہ ہیں انکے تجربات اور علم سے ٹانک ڈیرہ اسمعیل خان اورجنوبی وزیرستان کے صحافیوں کو فائدہ اٹھانا چاہیے فریڈم نیٹ ورک کو چاہیے کہ سیلاب محسود کیساتھ مقامی صحافیوں کی نشست کا اہتمام کرنے کا بندوبست کرائے تاکہ صحافی اس پاس کےخطرات سے بچ سکیں

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -