پاکستان میں میڈیا کو خطرات و حملوں کا جائزہ: نومبر 2016 رپورٹ از فریڈم نیٹ ورک

پاکستان میں میڈیا کو خطرات و حملوں کا جائزہ: نومبر 2016 رپورٹ از فریڈم نیٹ ورک

ماہ نومبر 2016 میں ایک صحافی کی ہلاکت اور حملوں، حراست، دھمکیوں اور گھر میں گھسنے کے آٹھ واقعات پاکستان پریس کلب سیفٹی ہبس اور میڈیا نے ریکارڈ کیے۔

اس ماہ کا سب سے زیادہ سنگین واقع صحافی خالد محمود بٹ کو ان کے برخوردار پنجاب کے ضلع ساہیوال میں انیس نومبر، 2016 کے دن گولیاں مار کر ہلاکت کا تھا۔ اس کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ انہیں ان کی صحافت کی وجہ سے قتل کیا گیا۔ ان کے خاندان کو شک ہے کہ انہیں فرقہ ورانہ تعلقات کی وجہ سے ہلاک کیا گیا ہے۔

ایک صحافی کو غیرقانونی طور پر حراست میں رکھنے کا بھی ایک واقع پیش آیا۔ انور شاہ اورکزئی کو، جو روزنامہ نئی بات اور نیو ٹی وی سے منسلک تھے اور صدہ پریس کلب، کرم ایجنسی کے رکن تھے، اکیس نومبر 2016 کے روز اپنے گھر سے گرفتار کرکے کرم کی پولیٹکل انتظامیہ نے غیرقانونی طور پر حراست میں رکھا۔ یہ عمل اس نے ایسی چند خبروں کے بعد کیا جو انہیں پسند نہیں آئی تھیں۔ انہیں اگلے روز ایک تنبہ کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔

عدنان خان، جاگ نیوز ٹی وی کے رپورٹر، کو بیس نومبر 2016 کے روز لاہور کی پولیس نے گرفتار کیا جب اس کی موٹر سائیکل ایک پولیس وین کے ساتھ اقبال ٹاؤن میں ٹکرا گئی۔ ان پر مشتعل پولیس اہلکاروں نے حملہ کیا اور تمام رات پولیس لاک اپ میں رکھا۔ انہیں ان کے خلاف ایک سیکشن 186 کے تحت مقدمہ درج کرنے اور جاگ کی جانب سے خبر چلائے جانے کے بعد رہائی ملی۔

تیرہ نومبر 2016 کو رات دس بجے، نیم فوجی ملیشیا رینجرز کے اہلکاروں نے حب پریس کلب کے صدر میر الیاس کمبوہ کے حب، بلوچستان میں گھر پر چھاپہ مارا۔ بغیر کسی وارنٹ کے انہوں نے مکان کی آدھ گھنٹے تک تلاشی لی اور بغیر کسی وضاحت کے روانہ ہوگئے۔

تئیس نومبر 2016 کو صحافی یاسین ہاشمی کو جو راولپنڈی، پنجاب میں اخبار بزنس ریکارڈر کے ساتھ منسلک ہیں پنڈی پولیس کے سینئر سپرانٹینڈنٹ شاہد یعقوب نے سنگین نتائج کی دھمکی دی۔ انہوں نے یہ دھمکی پولیس کی کارکردگی سے متعلق رپورٹ چلنے پر دی جو بقول ان کے منفی تھی۔ پولیس افسر نے صحافی کا دفتر میں داخلہ چند روز کے لیے بند کر دیا۔

مجموعی طور پر تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب ماہ نومبر 2016 میں واقعات کے اعتبار سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ رہا جہاں سات میں سے تین خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں جبکہ ایک ایک واقعات بلوچستان، خیبر پختونخوا، اسلام آباد اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات سے تھا۔ سندھ، گلگت بلتستان یا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیفٹی ہبس نے کوئی نیا واقعہ ریکارڈ نہیں کیا۔

میڈیا اداروں کے خلاف حملے، ہراساں اور دھمکیاں

ماہ نومبر 2016 میں میں پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک نے کسی بھی میڈیا ہاوس پر کسی حملے کو ریکارڈ نہیں کیا ہے۔ اس ماہ کسی بھی میڈیا ہاوس کے خلاف تحریری یا زبانی دھمکی، باقاعدہ پابندی یا جبری سینسرشپ کا واقع ریکارڈ پر نہیں آیا ہے۔ کسی میڈیا ہاوس کو سرکاری یا نجی سطح پر کوئی قانونی نوٹس موصول نہیں ہوا ہے۔

میڈیا کی مختلف اقسام کے خلاف حملے، ہراساں اور دھمکیاں

پاکستان میں ماہ نومبر 2016 میں مجموعی طور پر صحافیوں اور میڈیا مینجرز کے خلاف حملوں، حراست اور دھمکیوں کے پانچ واقعات پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک اور میڈیا نے ریکارڈ کیے۔ ان میں سے تین ٹی وی کے خلاف اور دو پرنٹ میڈیا کے خلاف ریکارڈ کئے گئے۔ ریڈیو، آن لائن یا دیگر میڈیا کے خلاف کوئی واقع ریکارڈ نہیں کیا گیا ہے۔

ٹی وی کے خلاف تین واقعات میں ایک میں گھر میں زبردستی گھسنا، ایک میں انہیں زبانی دھمکی دینے اور پولیس مقدمے درج کرنے کا تھا۔ باقی دو واقعات میں پرنٹ میڈیا کے خلاف اس ماہ صحافیوں کی غیرقانونی حراست اور ایک کا قتل شامل ہیں۔

صحافیوں اور میڈیا پر حملوں میں ملوث افراد

نومبر 2016 میں میڈیا کو دھمکی دینے یا حملہ کرنے والوں میں نیم فوجی ملیشیا رینجرز، جس نے ایک صحافی کے گھر پر بغیر کسی وارنٹ کے چھاپہ مارا، کرم ایجنسی میں انتظامیہ نے ایک صحافی کو غیرقانونی حراست میں رکھا اور لاہور میں پولیس نے ایک صحافی کے خلاف مقدمہ درج کیا اور پھر رہا کر دیا۔

یہاں اکٹھی کی گئی معلومات یا تو متاثرہ شخص یا ان کے خاندان کی جانب سے رپورٹ کی گئی معلومات کی بنیاد پر ہیں اور ضروری نہیں کہ تصدیق شدہ ہوں ماسوائے جہاں ایسا کہا گیا ہو۔ ان معلومات کا واحد مقصد رجحانات کا جائزہ لینا ہے تاکہ میڈیا اور صحافیوں کو ملنے والی دھمکیوں کو روکنے کی حکمت عملی تیاری میں مدد کی جاسکے۔

پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک کی جانب سے صحافیوں کے تحفظ کی کوششیں

پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک کے لیے ماہ نومبر کافی مصروف ثابت ہوا۔ صحافیوں کے تحفظ سے متعلق چند اہم سرگرمیوں کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

نیشنل پریس کلب، اسلام آباد، سیفٹی ہب

نیشنل پریس کلب سیفٹی ہب کے مینیجر نے رپورٹر یاسین ہاشمی اور ایس ایس پی راولپنڈی شاہد یعقوب کے درمیان ثالثی میں مدد کی جب ایس ایس پی نے صحافی کو پولیس کی کارکردگی سے متعلق رپورٹنگ کرنے پر خطرناک نتائج کی دھمکی دی۔ مصالحتی کوششوں سے دونوں کے درمیان جنگ بندی ہوئی اور رپورٹر پر سے پولیس دفتر داخلہ پر پابندی واپس لے لی گئی۔

ڈیرہ اسماعیل خان سیفٹی ہب

ڈیرہ اسماعیل خان سیفٹی ہب کے مینجر نے قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی سے نومبر میں ملاقات کی اور خیبر پختونخوا میں سیفٹی بل متعارف کروانے کی ضرورت پر بات کی۔ پیپلز پارٹی کے سینیر رہنما نے اس کوشش کی ناصرف کے پی بلکہ سندھ اور قومی اسمبلی میں بھی حمایت کا وعدہ کیا۔

۔ ڈیرہ اسماعیل خان سیفٹی ہب کے مینجر نے وزیر مملکت برائے تعلیم بلیغ الرحمان سے ملاقات کی اور صحافیوں کے تحفظ پر بات کی۔ وزیر نے صحافیوں کے تحفظ کی کوشش کی حمایت کا اعلان کیا۔

کراچی پریس کلب سیفٹی ہب

کراچی پریس کلب سیفٹی ہب کے مینجر نے پریس کلب میں صحافیوں کی تحفظ اور سلامتی سے متعلق کئی تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کروایا۔ ان سے کونسل آف نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) نے اپنے اراکین کی ایسی ہی تربیت کی درخواست کی ہے۔

کوئٹہ پریس کلب سیفٹی ہب

کوئٹہ پریس کلب سیفٹی ہب کے مینجر نے تین ٹی وی چینلز کے پریس کلب کے سامنے احتجاج میں حصہ لیا جن کے لائسنس پمرا نے معطل کر دئے تھے۔

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

2 Comments

  1. میں مچ پریس کلب کا صدر ہو ں جیو نیوز اور روزنامہ جنگ میں گزشتہ 7 سالوں سے کام کر رہا ہوں میری آپ سے گزارش ہے کہ صحافیوں کو ان کی سیکورٹی کے حوالے سے تربیت دیں ضروری نہیں آپ انہیں اسلام آباد یا کراچی کوئٹہ میں تربیت دیں انہیں ان کے شہر میں بھی تربیت دی جا سکتی ہے
    شکریہ سرور تالپور 03003985115

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -