”کون کیا سٹوری کر رہا ہے، کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے”

”کون کیا سٹوری کر رہا ہے، کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے”

لاہور پریس کلب کے صدر شہباز میاں کہتے ہیں کہ صحافیوں کو دھمکیاں ہر حلقے سے ہی ملتی ہیں۔ کون کیا سٹوری کر رہا ہے، کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے۔

صحافیوں کی سکیورٹی سے متعلق ان کا انٹرویو۔

سوال: یہ بتایئے گا کہ لاہور میں صحافیوں کے تحفظ کی صورتحال کیسی ہے؟ کیا آپ اس صورتحال سے مطمئن ہیں اور انہیں کس قسم کی دھمکیاں ملتی ہیں؟

جواب: دیکھیے لاہور ہو یا ملک کا کوئی اور حصہ میں پاکستان کے صحافیوں کو بلکل محفوظ نہیں سمجھتا۔ لاہور کی بات کی جائے تو صحافیوں کو مختلف قسم کے خطرات کا سامنا ہے۔ ان میں مختلف گروہ ہیں، مافیاز بھی ہیں، لینڈ مافیا خصوصی طور پر دھمکیاں دیتا ہے۔ لوگوں کی ذاتی دشمنیاں ہیں، بعض اوقات سیاستدانوں کی طرف سے بھی ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بیورو کریسی کی جانب سے دھمکیاں ملتی رہتی ہیں، مختلف ادارے ہیں ان کی جانب سے بھی دھمکیاں ملتی رہتی ہیں، لیکن معاملہ یہ ہے کہ کون صحافی کس سٹوری پر کام کر رہا ہے۔ اس کے بعد صحافی کو یا اس کے ادارے کو دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔

سوال: کیا آپ صحافیوں کو ملنے والی دھمکیوں کے بعد حکومت پنجاب کے ردعمل سے مطمئن ہیں؟ اور کیا ان تمام باتوں کا ریکارڈ رکھنے کی ضرورت ہے؟

جواب: ہم حکومت پنجاب کی صحافیوں کو تحفظ دینے کے حوالے سے کارکردگی سے بالکل مطمئن نہیں ہیں۔ اگر کسی صحافی کو دھمکی ملتی ہے یا وہ کسی واقعہ میں زخمی ہوتا ہے تو اس وقت پنجاب پولیس کی طرف سے رسمی کارروائی ہوتی ہے اور حکومتِ پنجاب کی طرف سے بھی اور اس کے بعد معاملہ رفع دفع کر دیا جاتا ہے۔ میں نے نہیں دیکھا کہ صحافیوں کا معاملہ ہو تو انہیں اس قسم کا انصاف ملا ہو جس طرح ملنا چاہیے۔

سوال: یہ بتایئے گا کہ میڈیا ہاوئسز اپنے ورکرز کی سکیورٹی کے حوالے سے کوئی اقدامات کر رہے ہیں اور اس حوالے سے کیا آپ دیکھ رہے ہیں کہ ان کی کیا کمزوریاں ہیں؟

جواب: کوئی میڈیا ہاوس ، میڈیا ورکر کی سکیورٹی کے حوالے سے کوئی کام نہیں کر رہا ہے۔ البتہ انہیں اپنے ادارے کی عمارت سے بہت لگاو ہوتا ہے۔ اس کا بہت خیال ہوتا، ہے، آلات ہیں، اپنی ڈی ایس این جی اور کیمرے کی تو وہ انشورنس کروا لیتے ہیں لیکن جو ایک کمیرہ مین ہے، ڈی ایس این جی سٹاف ہے یا صحافی ہے اس کی لائف انشورنس کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا ہے۔

سوال: صحافتی تنظیمیں کون کون سی ہیں اور وہ اس حوالے سے کیا اقدامات اٹھا سکتی ہیں جس سے صحافیوں کو درپیش خطرات کم ہو سکتے ہیں؟

جواب: بنیادی طور پر یہ کام اداروں کا ہے، وہاں پر کام کرنے والے کارکنوں کو تربیت دینی چاہیے۔ لیکن بدقسمتی ہے جب ادارے کام نہیں کرتے تو صحافتی تنظیمیں یا پریس کلب ہیں، وہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنے ساتھیوں کی زندگیوں کو محفوظ بنا سکیں۔ اس کے لیے غیرسرکاری تنظیموں کے ساتھ مل کر تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہ کافی ہے اور اس سے زندگیاں محفوظ ہوسکتی ہیں۔ جب تک ریاستی ادارے، ٹی وی اور اخباری مالکان کو مجبور نہیں کرتے کہ وہ ایسا نظام بنائیں جس سے کارکنوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جاسکے، تب تک یہ معاملہ درست نہیں ہوسکتا ہے۔

سوال: جیسے کے آپ جانتے ہیں کہ فریڈم نیٹ ورک صحافیوں کو درپیش خطرات کے حوالے سے کام کر رہا ہے اور ان کو تحفظ بھی فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لاہور پریس کلب کے ارکان جن کو دھمکیاں ملتی ہیں ان کا ریکارڈ رکھنے کے لیے آپ کی کیا تجویز ہے؟

جواب : فریڈم نیٹ ورک کا ملک کے مختلف پریس کلبز کے ساتھ مل کر سیفٹی ہب بنانے کا یہ اقدام نہایت قابل تحسین ہے۔ ان کے جو فوکل پرسن ہیں، تمام بڑے شہروں کے پریس کلبز میں، رابطہ کرتے ہیں، اگر کسی کو دھمکی آتی ہے تو اس کے بعد، تو اس میں مزید بہتری لائی جاسکتی ہے اور اس حوالے صحافیوں کو بھی آگہی دینے کی ضرورت ہے کہ ایک ایسا نیٹ ورک موجود ہے، جو کسی بھی صحافی یا ان کے خاندان کو اگر دھمکی ملی رہی ہے تو وہ ان سے رابطہ کر سکتے ہیں تاکہ ان کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جاسکے۔

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -