پنجاب اور صحافیوں پر حملے

پنجاب اور صحافیوں پر حملے

(فہيم گوہر بٹ) دنیا بھر میں صحافیوں کی سکیورٹی ایک اہم ترین مسئلہ بنتا جا رہا ہے لیکن تیسری دنیا کے ممالک میں یہ ایشو بہت زیادہ پایا جاتا ہے خاص طور پر وہ ممالک جہاں جمہوریت نہیں ہے یا پھر ابھی جمہوریت مضبوط نہیں وہئی ، جیسا کہ پاکستان کا شمار بھی ایسے ہی ممالک میں کیا جاتا ہے کہ جہاں ابھی جمہوریت مضبوط نہیں ہوئی ۔ جس کی وجہ سے پاکستانی معاشرے میں عدم برداشت بہت زیادہ ہے اور لوگ اپنی سوچ اور نظریے سے مختلف سوچ کو برداشت نہیں کرتے ، چاہے وہ سوچ حقائق پر مبنی ہی کیوں نا ہو ۔اسی طرح ایسے واقعات جو اگرچہ حقائق پر مبنی ہوں لیکن کسی با اثر شخصیت کے مفادات کو نقصان پہنچاتے ہوں ، کی رپورٹنگ اکثر اوقات متعلقہ صحافی کے لیے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں ، کچھ ایسا ہی واقعہ پنجاب کے ضلع خوشاب میں رونما ہوا جہاں ایک مقامی صحافی کی ٹانگیں اس لیے توڑ دی گئیں کہ اس نے ایک ایسی خبر شائع کردی تھی جو صوبائی وزیر جنگلات آصف بھا کے مفادات کے خلاف تھی۔ واقعات کے مطابق سینئر صحافی طالب حسین بھٹی نے اپنے اخبار روزنامہ ایکشن میں مقامی سطح پر دیئے جانے والے ٹینڈروں سے متعلق خبر شائع کی تو صوبائی وزیر جنگلات کو غصہ آگیا اور مبینہ طور پر چند افراد نے طالب حسین کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کی دونوں ٹانگیں توڑ دیں ، واقعہ کی اطلاع ملنے پر شہر بھر کے صحافیوں نے اس کے خلاف جلوس نکالا اور احتجاج کیا ، جبکہ قومی اسمبلی میں بھی پارلیمانی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں نے کوریج کا بائیکاٹ کیا ۔ صحافیوں کے مسلسل احتجاج کے بعد ہی معاملہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے نوٹس میں آیا اور مقدمہ درج ہوا جس میں صوبائی وزیر کا نام بھی شامل تھا لیکن پھرپولیس نے اپنی ابتدائی تحقیق میں ہی صوبائی وزیر آصف بھا کو مقدمہ سے بری کردیا جبکہ تین دیگر افراد کو ملزم قرار دے کر جیل بھیج دیا ، ابھی یہ کیس عدالت میں زیر سماعت ہے ، اس کیس کاا ایک اور اہم اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جب طالب حسین کو زخمی حالت میں ڈی ایچ کیو ہسپتال ، خوشاب میں داخل کروایا گیاتو وہاں پر مووجود ڈاکٹرز نے اس کا علاج کرنے میں لیت ولعل سے کام لیا ، زخمی صحافی طالب بھٹی کے صاحبزادے وقار بھٹی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز علاج کرنے کی بجائے مختلف بہانے بناتے رہے تاہم جب صحافیوں نے احتجاج کیا تو پھر دو روز بعد طالب بھٹی کا علاج شروع ہوا ، وقار بھٹی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ڈاکٹرز کا ایسا رویہ صوبائی وزیر جنگلات آصف بھاکی وجہ سے تھا ۔ اس سارے واقعہ پر سیفی نیٹ ورک نے اپنا کام شروع کردیا ہے ، اس ضمن میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو خط لکھا گیا اور اب طالب بھٹی کی قانونی یا مالی مدد کے لیے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ طالب بھٹی کے بیٹے وقار نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس کے خاندان کو تاحال جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں اور وہ خطرے میں زندہ رہ رہے ہیں ۔اس ایک واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دوسرے صوبوں کی نسبت پر امن دکھائی دینے والے صوبے پنجاب میں کے اصل حالات در حقیقت کتنے خراب ہیں ۔ اگرچہ حکومت آزادی اظہار کی حمایت میں روزانہ بلند و بانگ دعوے کرتی رہتی ہے لیکن حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے اور جہاں ان کی اپنی بات آئے تو پھر آزادی صحافت کہاں اور قانون کی عملداری کہاں؟ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ صحافیوں کو دھمکانے ، تشدد اور خوف کی فضا پر ہر وقت نظر رکھی جائے اور بروقت ردعمل دیا جائے تاکہ ان کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کیا جاسکے ۔

فہيم گوہر بٹ لاہورپريس کلب سيفٹی ہب کے منيجریيں                                                                                                

یہ پوسٹ شئیر کریںShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Share on LinkedIn

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -