دو صحافیوں کا قتل دسمبر 2020 میں

دو صحافیوں کا قتل دسمبر 2020 میں

خیبر پختونخوا میں ایک مسیحی صحافی اور بہاولپور میں ایک ضلعی نمائندے کو قتل کیا گیا۔ یہ واقعات ان 17 دیگر آف لائن ہراساں کرنے، حراست میں لیے جانے،حملے، زبانی دھمکیوں، قانونی مقدمات اور چوری کے واقعات کے علاوہ ہیں جو دسمبر 2020 میں پاکستان بھر میں پاکستان سیفٹی ہبز نیٹ ورک پروگرام، جو ایک ایوارڈ یافتہ پروگرام ہے فریڈم نیٹ ورک کا جو وہ 2016 سے چلا رہی ہے۔  

اسلام آباد سے منسلک فریڈم نیٹ ورک صحافیوں کو چار مختلف شعبوں میں کراچی، لاہور، کوئٹہ، اسلام آباد، پشاور، لنڈی کوتل اور خضدار میں فروری 2016 سے مدد فراہم کر رہا ہے۔

قتل: 8 دسمبر 2020 کو خیبر پختونخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے 37 سالہ مسیحی صحافی قیس جاوید کو ان کے گھر کے باہر ہی قتل کر دیا گیا۔ صحافی کےگھر والوں نے نامعلوم حملہ آوروں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کروائی۔ اس رپورٹ کے شائع ہو جانے تک پولیس کی طرف سے کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی تھی۔ قیس کا قتل 2020 میں چھٹے صحافی کا قتل تھا۔ اس صحافی نے اس سے قبل 10 سال تک جیو نیوز کے لیے ایک کیمرا مین کی حیثیت سے کام کیا تھا جس کے بعد اس نے ویب پر اپنا ’عہد نامہ‘ کے نام سے چینل شروع کر دیا تھا۔ قیس کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ اس کا کسی کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں تھا اور نہ ہی کسی کے ساتھ ذاتی دشمنی تھی۔ اس سے قبل بھی ڈیرہ اسماعیل خان نے طالبان کے دور میں اس طرح کا فرقہ ورانہ تشدد کا سامنا کیا تھا۔ یہ شہر آزاد سوچ رکھنے والے صحافیوں کے لیے نہیں ہے۔

بہاولپور میں محمد زبیر، روزنامہ اوصاف کے نامہ نگار ملک نظام تانی، 4 دسمبر 2020 کو زخمی ہوئے جب مسلح محمد ماویہ اور ان کے ساتھیوں نے ان کے سر پر کلہاڑیوں سے وار کئے۔ صحافی کے سر سے خون بہانا شروع ہوا۔ حملہ آوروں کا کہنا تھا کہ وہ ’صحافی کو جان سے مار دیں گے۔‘ صحافی کو علاج کے لیے دیہی صحت کے مرکز لیجایا گیا۔ لیکن ان کے والدین نے فریڈم نیٹ ورک کو بتایا کے وہ راستے میں ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔ ہلاکت کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔ فریڈم نیٹ ورک تاہم شواہد اکٹھے کر رہا ہے تاکہ کسی نتیجہ تک پہنچے سکے۔

مرحوم ملک نظام تانی

حراست: 25 دسمبر 2020 کو صحافت کرنے اور راولپنڈی کی تحصیل گجر خان میں پولیس چیک پوسٹ کی میڈیا کوریج کرنے کے نتیجے میں پولیس نے نیو نیوز سے تعلق رکھنے والے صحافی علی رضا شیخ اور روز نیوز سے تعلق رکھنے والے انیل اصغر کو حراست میں لے لیا۔ مقامی لوگوں نے صحافیوں کو خبر دی تھی کہ پولیس کی وردیاں پہن کر چیک پوسٹ پر کھڑے ہو کر یہ لوگ مسافروں سے رشوت وصول کر رہے تھے۔ ان دونوں صحافیوں نے چیک پوسٹ پر پہنچ کر ان مسافروں کا انٹرویو بھی لیا جن سے ان افراد نے رشوت مانگی تھی۔ جیسے ہی گجر خان کے ایس ایچ اوا و صحافیوں کی آمد کی خبر ملی تو انہوں نے ان کو حراست میں لینے کا حکم جاری کر دیا جس کے بعد ان کے آلات بھی ان سے چھین لیے گئے اور ان پر موجود تمام ویڈیو بھی صاف کر دی گئیں۔ اس کے بعد ایس ایچ او نے صحافیوں سے معافی مانگی اور ان پر درج ہوئے کیس کو بھی واپس لے لیا۔

ضلع راولپنڈی کے چونترا پولیس سٹیشن میں پولیس کے سامنے بلو ورلڈ سٹی کے افسروں کی آمد کی ویڈیو ریکارڈ کرنے پر بلو ورلڈ سٹی کی انتظامیہ نے 4 دسمبر 2020 کو ویب سے منسلک رسالے ’ٹوڈے‘ کے صحافی اظہار خان نیازی اور اس کے دو ویڈیو صحافیوں کو حراست میں لے لیا۔ پولیس اس تمام واقعے پر خاموش رہی جب بلو ورلڈ کی انتظامیہ نے پولیس والوں پر تشدد کیا۔ اپنے آپ کو بچانے کے لیے صحافیوں نے بھی جوابی حملہ کیا۔ اس پر پولیس نے تینوں صحافیوں کو حراست میں لے لیے جنہیں اگلے دن رہا کیا گیا۔

کشمیر جرنلسٹ فورم کے صدر اور پاکستان میں ایسوسی ایٹڈ پریس کے صحافی زاہد عباسی کو پولیس نے 9 دسمبر 2020 کو کشمیر کے ضلع باغ سے حراست میں لے لیا۔ صحافی کا کہنا ہے کہ اسے اس وقت حراست میں لیا گیا جب اس نے پولیس والوں سے مارکیٹ اور بازاروں میں جانچ پڑتال کرنے کی وجہ پوچھ لی۔ پولیس والے سڑک پر ٹھیلے والوں سے جرابیں اٹھا رہے تھے جس پر ٹھیلے والے ان پر چیخ رہے تھے۔ اس پر صحافی نے جا کر اپنا تعارف کروانے کے بعد پولیس والوں سے اس واقعے پر سوال کیے۔ اس کے نتیجے پر پولیس نے صحافی کو حراست میں لے لیا۔ اس کے بعد پولیس نے معافی مانگی اور معاملہ حل ہو گیا۔

تشدد: اے آر وائے کے میزبان اقرار الحسن کو جو اپنے پروگرام میں عوامی جگہوں پر چھاپے مارتے ہیں 12 دسمبر 2020 کو لاہور میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ایک گواہ کا کہنا تھا کہ ’وہ زخمی ہو گئے اور ان کا چہرہ خون سے لال تھا۔‘ اپنے ساتھی سے گفتگو کرتے ہوئے بعد میں اقرار کا کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے مجھ پر حملہ کیوں کیا؟‘ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے چار افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

زخمی: ضلع سکھر میں اب تک نیوز چینل کے بیورو چیف امداد پھلپھتو اور ساتھی صحافی الطاف کلوار پر بیورو میں 18 دسمبر 2020 حملہ ہوا۔ ایک درجن سے زائد حملہ آوروں نے حملہ کیا اور ڈنڈوں کے ساتھ دونوں صحافیوں کو زخمی کیا۔ بیورو چیف کو سر پر چوٹیں آئیں جبکہ کلوار کا ہاتھ فریکچر ہو گیا۔ پولیس نے تین افراد کو حراست میں لے لیا جن کے خلاف ایف آئی آر بھی درج  کی گئی ہے تاہم انہیں رہا کر دیا گیا ہے۔

4 دسمبر 2020 کو پنجاب کے علاقے بہاولپور میں روزنامہ اوصاف کے صحافی محمد زبیر پر حملہ ہوا جس کے نتیجے میں انہیں چوٹیں آئیں۔ حملہ آوروں میں محمد معاویہ شامل تھا جس نے صحافی کو دھمکی دی کہ یا تو وہ صحافت چھوڑ دے یا پھر اپنی حرکتوں کا خمیازہ بھگتے۔

زبانی دھمکیاں: ترکی سے اداکار کو پاکستان بلانے والے کاشف ضمیر نے لاہور رنگ ٹی وی چینل کے صحافی حماد اسلم کے کرپشن اور فراڈ میں ملوث ہونے والے سوالات پر دھمکیاں دیں۔ کاشف نے دھمکیاں سوشل میڈیا پر پوسٹ ہونے والی ویڈیو میں دیں۔ لاہور پولیس نے کاشف کو اس ویڈیو کے بعد حراست میں لے لیا۔

کراچی میں سندھ کے وزیر داخلہ مراد علی شاہ کے سیکرٹیری سلیم بجاری نے 1 دسمبر 2020 کو کے 21 کے صحافی فیض محمد بلیدی کو دھمکیاں دیں جب صحافی نے سیکرٹیری کی مبینہ کرپشن سے متعلق رپورٹ شائع کیں۔ سیکرٹیری پولیس کے پاس بھی گیا جہاں اس نے پولیس کو صحافی کے خلاف جھوٹے کیس رجسٹر کرنے کو کہا۔ اس پر پولیس نے منع کر دیا اور فوری طور پر صحافی کو خبر کر دی۔ صحافی نے فوری طور پر سندھ پولیس چیف اور ہوم سیکرٹیری کو خط لکھا جس میں اس واقعے کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ صحافی نے فریڈم نیٹ ورک اور کراچی پریس کلب کو بھی اس بارے میں اطلاع کر دی۔

قانونی کیس: کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن میں واقعہ رونما ہونے پر پولیس نے جی این این نیوز کے صحافی راشد صدیقی کے خلاف کیس درج کر دیا۔ صحافی نے ایک کورونا کے مریض کی دفتر آمد کی ویڈیو بنا لی۔ رپورٹ شائع ہونے پر کے ایم سی نے پولیس میں صحافی کے خلاف رپورٹ درج کر دی کہ صحافی ایک کورونا مریض کے ہمراہ ان کے دفتر آیا تھا۔ صحافی نے اس کے برعکس کے ایم سی کے خلاف رپورٹ درج کی کہ مریض کو کے ایم سی کے دفتر آنے کی اجازت مل گئی تھی۔

11 دسمبر 2020 کو اسلام آباد میں پولیس نے بلاگر احمد وقاس گوریا کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی جب انہوں نے مبینہ طور پر فوج کی انتظامیہ کو پاکستانی افواج کے خلاف اکسانے کی کوشش کی۔ بلاگر کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے والا محمد یوسف خان تھا جو ایک فوجی جنرل کا بیٹا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ بلاگر کا یہ کہنا کہ فوجی افسروں کو پاکستانی افواج کے خلاف بغاوت کرنی چاہیے سے ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے اسے کافی چوٹ پہنچی۔

چوری: 5 دسمبر 2020 کو کراچی سے تعلق رکھنے والے صحافی غلام مصطفی نے رپورٹ درج کی کہ چند نامعلوم افراد نے ان کی گلشن اقبال 13 سی کی رہائش میں گھس کر ان کی رہائش کا ایک شیشہ توڑنے کے ساتھ اس کا لیپ ٹاپ، پرس، پانچ ہزار روپے، ایک ماؤس، شناختی کارڈ، کریڈٹ کارڈ، یو ایس بی اور پاؤر بینک لے گئے۔ اس واقعے کے بعد وہ فرار ہو گئے۔ عزیز بھٹی پولیس سٹیشن نے ان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی۔ تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی ہے۔

پیمرا ایکشن میں:

پیمرا نے بول ٹی وی کا لائیسنس مسترد کر دیا اور ان پر جرمانہ عائد کیا جب انہوں نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیاں کیں۔

میڈیا کے خلاف دھمکیاں، ہراساں اور ان پر حملے:

دسمبر 2020 میں 14 صحافی جن میں سے چار پرنٹ میڈیا اور ایک بلاگر کو مختلف دھمکیاں ملیں ہیں۔

میڈیا کے نمائندوں اور صحافیوں کے خلاف دھمکیاں:

19 میں سے 8 صحافیوں کو ریاستی اہلکاروں کی طرف سے دھمکیاں موصول ہوئیں۔ ان میں سے سات کیس میں پولیس جبکہ باقی میں واردات کرنے والے نامعلوم افراد تھے۔       

تصویر: قیس جاوید

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -