پی ڈی ایم کے احتجاج کو روکنے کے لیے پولیس کا صحافیوں کو ہراساں کرنا

پی ڈی ایم کے احتجاج کو روکنے کے لیے پولیس کا صحافیوں کو ہراساں کرنا

ایف این ڈیٹا کا تجزیہ – نومبر 2020

نومبر 2020 میں صحافیوں پر ہراساں ہونے اور ان پر حملوں کے مختلف کیس سامنے آئے۔ 2016 سے فریڈم نیٹ ورک کی طرف سے مانیٹر کیے جانے والے پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک کے ادارے نے نومبر 2020 میں صحافیوں پر ہونے والے تشدد، ان کو ہراساں کرنے اور انہیں نظر بند کرنے کے چار کیس نوٹ کئے۔

اسلام آباد سے منسلک فریڈم نیٹ ورک صحافیوں کو چار مختلف شعبوں میں کراچی، لاہور، کوئٹہ، اسلام آباد، پشاور، لنڈی کوتل اور خضدار میں فروری 2016 سے مدد فراہم کر رہا ہے۔

حراست: احتجاج میں خود ملوث ہونے کے کیس میں پولیس نے 3 نومبر 2020 کو کیپیٹل ٹی وی کے جرائم کے صحافی حسنین شاہ کو لاہور کے نیلم سینما چوک کے سامنے سے گرفتار کیا۔ احتجاج 30 اکتوبر کو منعقد ہوا تھا جس کے بعد سے رپورٹر کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی گئی تھی۔ ایف آئی آر میں ڈالفن فورس کے نمائندوں نے اس بات کا دعوی کیا کہ صحافی مظاہرین میں انتشار پھیلا رہا تھا اور انہیں پولیس والوں کے خلاف بھڑکا رہا تھا۔ بعد میں اسے ضمانت پر رہا کر دیا گیا جب پولیس پر دباؤ بڑھ گیا اور مقامی صحافیوں نے احتجاج شروع کر دئیے۔

حراست میں لے لینا: کورٹ میں ایک عورت کو ہراساں کرنے کے جرم میں 6 نومبر 2020 کو پاکستان ٹیلی ویژن کے صحافی عمران منصب خان کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا۔ عمران پر الزام لگایا گیا کہ وہ چھپ کر اس عورت کی تصاویر بنا رہا تھا اور اسے عدالت میں دھمکیاں دے رہا تھا۔ رپورٹر کو اس بات کے باوجود گرفتار کیا گیا کہ اس کہ پاس اس کا پریس کارڈ موجود تھا۔ صحافی کو جوڈیشل مجسٹریٹ وقاص حسین گوندل کے حکم پر گرفتار کیا گیا۔ صحافی کو بغیر کسی تصدیق شدہ عمل کے مار گلہ پولیس سٹیشن میں رکھا گیا۔ صحافی کو پاکستان کے چیف جسٹس کی مداخلت کے بعد رہا کیا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ رپورٹر اسوسی ایشن نے چیف جسٹس سے درخواست کی تھی کہ صحافی کی رہائی کے لیے جلد ایک انکوائری کی جائے۔

22 نومبر 2020 کو اسلام آباد کے راول چوک کے قریب ایک ہوٹل میں فرنیچر کی نمائش کی کوریج کرنے کے دوران بول نیوز کے صحافی نعیم اصغر کا موبائل فون نمائش منعقد کروانے والے کے کہنے پر چھین لیا گیا۔ رپورٹر کے مطابق وہ نمائش کے منتظم حمزہ رحمان کا انٹرویو لے رہا تھا تاہم جب صحافی نے ڈپٹی کمشنر کی ہدایات کے مطابق کرونا کے پیش نظر تقریبات کروانے کا این او سی حمزہ سے مانگا تو صحافی کو ایک کمرے میں بند کر دیا گیا اور اسے دھمکیاں دی گئیں۔ پولیس نے صحافی کے کہنے پر میزبان کو حراست میں لے لیا جس کے بعد بول نیوز کا ہوٹل کے ساتھ کانٹریکٹ بھی ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد صحافی کو ہوٹل والوں نے معافی لکھ کر دی جس کے بعد معاملہ حل ہو گیا۔

آف لائن ہراساں: 16 نومبر کو تحریک لبیک پاکستان کے جلسے  میں تصاویر بنانے پر روزنامہ دنیا کے صحافی قیصر شاہ کو احتجاج کرنے والوں نے ہراساں کیا۔ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ میں درج کروائی گئی درخواست میں لکھا گیا کہ مظاہرین نے اس کا کیمرا چھین لیا اور اسے احتجاج کی کوریج کرنے سے منع کر دیا۔ اس پر وہاں موجود دیگر صحافیوں نے قیصر کی مدد کی لیکن صحافی کو اس کا موبائل اس وقت واپس ملا جب اس نے تمام تصاویر فون سے خارج کر دیں تھیں۔ مظاہرین نے صحافی کو یہ بھی کہا کہ وہ اس دھرنے کی مزید رپورٹنگ نہیں کرے گا۔  

29 نومبر کو پاکستان جمہوری تحریک کی ملتان ریلی سے ایک دن قبل بول نیوز ٹی وی کے چینل بیورو چیف امبر جاوید کو ریلی کی کوریج کرنے سے ایس پی ملتان نے منع کر دیا۔ اس کے باوجود صحافی ریلی میں پہنچ گیا جس پر اسے ایس پی کے عملے نے مارا جس کی ویڈیو ریکارڈ کر دی گئی۔ صحافی علی موسی گیلانی کو حراست میں لیے جانے پر کوریج کر رہا تھا۔ صحافی کو زبانی دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے 29 نومبر 2020 کے ملتان شہر کے جلسے کی تیاریوں کی رپورٹنگ کرنے کے نتیجے میں جی ٹی وی نیوز کے بیورو چیف شہزاد فرید کو حراست میں لے لیا گیا۔ صحافی کو پولیس کی گاڑی میں ڈال دیا گیا جہاں پر اس سے اس کا کیمرا چھین لیا گیا اور اسے گالیاں دی گئیں۔ اسے 40 گھنٹوں تک پولیس نے  نامعلوم جگہ پر رکھا جس کے بعد پولیس پر دباؤ ڈالنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ملتان کے جلسے میں رانا ثنا اللہ کی تیاریوں کا جائزہ لینے کی رپورٹنگ کرنے کے سلسلے میں دنیا نیوز کے رپورٹر وسیم ناصر کو کوریج کرنے سے ورک دیا گیا۔ ایک ویڈیو کے مطابق رپورٹر کو چار افراد نے ہراساں کیا جس کے بعد ایس ایچ او نے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے کی دھمکی بھی دی۔ اس سے اس کا کیمرا بھی چھین لیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ صحافی نے گھنٹہ گھر میں لگی گرل توڑ دی تھی جس کے سلسلے میں اسے گرفتار کیا گیا تھا۔

پیمرا ایکشن میں: عدلیہ سے متعلق گفتگو کرنے کے سلسلے میں اے آر وائے کو شو کاز نوٹس جاری کر دیا گیا جبکہ بول نیوز چینل پر نیشنل اسمبلی میں نازیبہ الفاظ کے نشر کرنے پر جرمانہ عائد کیا گیا۔

میڈیا کے خلاف دھمکیاں، ہراساں اور ان پر حملے:

نومبر 2020 میں ٹیلی ویژن کے چھ جبکہ پرنٹ کا ایک صحافی کا کیس رپورٹ کیا گیا۔

میڈیا کے نمائندوں اور صحافیوں کے خلاف دھمکیاں:

ریاستی ادارے پانچ کیس میں ملوث تھے جبکہ ایک کیس میں تحریک طالبان پاکستان ایک ہراساں کے کیس میں ملوث تھا۔ ایک کیس میں دھمکی کے پیچھے نامعلوم عناصر تھے۔

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -