پاکستان میں میڈیا کی آزادی اور فیکٹ چیکنگ۔

پاکستان میں میڈیا کی آزادی اور فیکٹ چیکنگ۔


تحریر: ملک رمضان اسراء 
میڈیا کی مکمل آزادی تو پاکستان میں اب ایک خواب ہی بن کر رہ گیا، نہ کوئی کھل کر بول سکتا ہے اور نہ ہی کوئی واضع کچھ لکھ سکتا ہے؟ لیکن اتنا ضرور ہے کہ پھر بھی پاکستانی میڈیا میں ایسے بہت سارے حامد میر جیسے باہمت صحافی موجود ہیں جو سچ کہتے اور لکھتے دکھائی دیتے ہیں مگر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مگر اشاروں کناروں میں سچ عوام تک پہچانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ کھل کر سچ بتانا ممکن نہیں رہا۔ اور جنہوں نے واضح سچ لکھنے یا بولنے کی ہمت کی انہیں دھمکیاں، اغوا یا پھر قتل کردیا گیا۔  یونیسکو کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اب تک کل 78 صحافیوں کو قتل کیا جاچکا ہے۔ واضح رہے کہ یہ ریکارڈ پر آنے والے اعداد و شمار ہیں جن میں سب سے پہلے شمس الدین حیدر کو 9 جون 1997 کو ساوتھ پنجاب بہاول پور میں واقع انکے گھر میں دو لوگوں نے قتل کیا تھا۔

 اسکے بعد امریکن صحافی ڈینیل پرل کو یکم فروری 2002 کو کراچی میں قتل کیا گیا۔ یہ صحافی امریکہ کے مشہور اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے جنوبی ایشیاء میں بیورو چیف کے طور پر کام کررہے تھے۔ اور انہیں تب اغوا کیا گیا جب یہ پاکستان میں مذہبی انتہاء پسندی بارے ایک خبر پر تحقیق کر رہے تھے۔ تاہم مغوی کو بعد ازاں قتل کردیا گیا۔ پاکستان میں میڈیا کے تحفظ اور آزادی کا اندازہ اس کیس سے لگالیں کہ اٹھارہ سال گزرنے کے باوجود بھی تاحال ہمارا نظام ایک معروف امریکن صحافی کے قتل میں نامزد ملزمان کو رہا کرتا ہے، تو کبھی پھانسی کی سزا سناتا ہے اور پھر اسی سزا کو سات سال قید میں بدل دیتا ہے وغیرہ وغیرہ۔


30 اپریل 2019 کو تحصیل پروآ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان، خیبر پختونخواہ میں میرے ایک دوست صحافی ملک امان اللہ کو نامعلوم موٹر سائیکل سوار دو افراد نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا۔ اور اس وقت عینی شاہدین نے بتایا تھا کہ جب وہ لوگ ملک امان پر فائر کررہے تھے تو انہیں کہہ رہے تھے کہ آپ کو بڑا شوق تھا خبریں دینے کا اب اوپر جاکر خدا کے پاس ہماری خبر لگانا۔ انہوں نے میرے ساتھ کام کیا تھا اور ہماری تحصیل پروآ میں سیاسی اثرورسوخ کے تحت وڈیروں کی بدماشی عروج پر تھی اور میری ایک خبر جو اس وقت روزنامہ ٹائمز (انگریزی) میں شائع ہوئی تھی جس میں “مقامی وڈیروں نے عنایت نامی نوجوان کو جوتوں کے ہار پہنا کر انکی ماں اور بیوی کو ننگے سر اور پاوں وڈیرہ کی بیٹھک پر لے جاکر معافی منگوائی تھی” کے بعد مجھ پر حملہ کروا دیا تو سب سے پہلے مجھے اس بہادر صحافی نے فون کرکے کہا تھا کہ آپ نے حملوں کے خوف سے گھبرانا نہیں ہے کیونکہ ہماری جنگ ظلم و جبر کے خلاف ہے۔ میں نے ہنس کر کہا ملک صاحب ڈرتا نہیں ہوں مگر کبھی کبھی خاندان کی وجہ سے گھبرا جاتا ہوں۔ تو انہوں نے مجھے حوصلہ دیتے ہوئے کہا تھا بیٹا دیکھنا ایک دن یا تو ہم ظلم کے خلاف علامت بن جائیں گے یا پھر شہید صحافت کہلائینگے۔ اس وقت تو مجھے یہ بات ایک مذاق لگی لیکن اب جب یاد آتی ہے تو سوچتا ہوں کہ وہ ٹھیک کہتے تھے۔ ملک امان اللہ کے قتل کو ایک سال سے زائد عرصہ ہوگیا ہے مگر ابھی تک ان کے قاتلوں کا کوئی پتہ نہیں چل سکا؟

ہمارے آئین میں آرٹیکل 19 میں درج ہے کہ ہر شہری کو بولنے اور لکھنے کی آزادی حاصل ہے مطلب صحافتی آزادی کا ذکر ہے کہ کسی بھی میڈیا پر پابندی نہیں لگائی جائے گی یعنی آپ ایک صحافی کو مجبور نہیں کرسکتے کہ آپ یہ لکھیں گے اور یہ نہیں لکھیں گے۔ البتہ ہاں اسلام یا ملک کےخلاف کوئی ایسی چیز ہو جو جھوٹ پر مبنی ہو اس پر پابندی لگائی جاسکتی ہے۔ یعنی اگر میں اسے اپنے عام الفاظ میں بیان کروں تو یہ کہا گیا کہ ہر صحافی آزاد ہے سچ لکھنے اور بولنے کیلئے مگر وہ جو بات لکھ یا بول رہا ہے اس میں ایک چیز ضروری ہے کہ صداقت اور ٹھوس ثبوت کا ہونا بے حد اہم ہے۔

لیکن موجودہ حالات پر نظر دوڑائیں تو جمہوریت کی شکل میں درحقیقت آمریت نافذ ہے، لیکن فرق یہ کہ پہلے صحافیوں کو جانی طور پر نقصان پہنچایا جاتا تھا اب معاشی، اور زہنی طور پر قتل کیا جاتا ہے اداروں سے نکلوا کر وغیرہ وغیرہ۔  آئین میں درج آرٹیکل 19 محض صرف ایک کاغذ کے ٹکڑے کی حد تک ہے کیونکہ اگر واقعی صحافیوں کو آئین کے مطابق آزادی حاصل ہوتی تو آج پاکستانی میڈیا یوں پابند سلاسل نہ ہوتا؟ مثلا بہت سے ایسے پاکستانی جیسے پی ٹی ایم یا بلوچ مسنگ پرسنز سمیت وہاں کے مسائل ہوگئے کا معاملہ ہوگیا کو پاکستانی میڈیا پر نہیں دکھایا جاتا ناہی ان کا موقف چلایا جاتا ہے جسکا جواز ریاستی پابندی ہے حالانکہ وہ اپنے آئینی حقوق کی بات کرتے ہیں یہ تو ہے دیوار کے اس طرف کا حال کہ بظاہر ہمارا میڈیا کن کن مشکلات کا شکار ہے۔

لیکن دیوار کے اس پار ایک کہانی اور بھی ہے اور وہ یہ کہ جس طرح ہمارا میڈیا آزاد نہیں اسی طرح ذمہ دار بھی نہیں ہے۔ جسکی مثال یہ کہ جب آئینی حقوق مانگنے والوں کے خلاف کوئی بات ہوتی ہے تو وہ نشر کردی جاتی ہے اب سوچنے اور سمجھنے کی بات ہے کوئی بھی ذمہ دار ادارہ الزامات نشر نہیں کرتا بلکہ اسکے ساتھ جس پر الزام لگایا جارہا ہو اس کا موقف بھی شامل کرتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے میڈیا میں یہ چیز دیکھنے اور پڑھنے کو نہیں ملتی۔

 اکثر اوقات ہمارے پرنٹ میڈیا میں بعض کالم نگار ایسا کچھ لکھ دیتے ہیں جسے پڑھ کر ہنسی بھی آتی ہے اور دکھ بھی ہوتا ہے جیسے مظہر برلاس نے روزنامہ جنگ کے اپنے کالم میں صحافی احمد نورانی کو غدار تک ثابت کردیا اور پھر باشعور لوگوں کے ردعمل پر روزنامہ جنگ نے اپنے اس کالم پر معذرت نامہ بھی شائع کیا لیکن سوال یہ ہے کہ روزنامہ جنگ جیسے پاکستان کے معتبر ترین سمجھنے جانے والے اخبار میں بھی فیکٹ چیکنگ کا نظام نہیں تو پھر باقیوں سے کیا گلا کیا جائے؟ اسی طرح کئی سال قبل کالم نگار نصرت مرزا نے 23 مارچ 2011 کو جاپانی زلزلہ اور سونامی قدرتی یا مصنوعی؟ کے عنوان سے روزنامہ جنگ میں ایک کالم لکھا تھا جس میں انہوں اپنا خیال ظاہر کیا کہ پاکستان میں 2010 کا سیلاب اور 2005 کا زلزلہ دونوں مصنوعی تھے۔ 11 مارچ 2011 کو جاپان میں جو زلزلہ اور سونامی آئی وہ بھی مصنوعی تھے۔ ان سب کی ذمہ داری امریکہ پر ہے۔ اب کیا ایک ذمہ دار ادارے کو نہیں چاہئے تھا کہ نصرت مرزا یا پھر مظہر برلاس سے یہ تک پتا کرلیتے کہ بھائی جو کچھ آپ نے لکھا اس کے حقائق کیا ہیں؟ دوسری چیز آپ پاکستانی میڈیا کے تمام بڑے اداروں کی ویب سائٹ چیک کرلیں ماسوائے چند ایک کے کسی نے بھی اپنی ویب سائٹ پر فیڈبیک یا کمنٹ آپشن رکھا ہو؟ اور میرا خیال ہے کہ یہ اسی لئے کیا گیا تاکہ انکی اس طرح کی لکھی ہوئی چیزوں پر قاری براہ راست تنقید نہ کرسکے کیونکہ پھر نئے پڑھنے والے قارئین کو اس چیز کا ادراک ہوجائے گا جس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔

پاکستان میں میڈیا تب آزاد ہو پائے گا جب اپنی ذمہ داری پوری طرح سے نبھائے گا اور فیکٹ پر چیزیں دیکھائے یا شائع کرے گا اور صحافت کو محض بزنس نہیں بلکہ صحافتی اصولوں کے مطابق لے کر چلے ناکہ کوئی کاروباری شخصیت چینل کھول کر اپنے مفادات نکالتا رہے اور ورکز حق حلال کی تنخواہ جو انکی دن رات کی محنت ہے کیلئے آئے روز نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاج کرکے نہ ملنے کی دہائی دیتے پھریں۔ اگر پاکستانی میڈیا کو آزادی چاہئے تو سب سے پہلے اپنے اندر کی خامیوں سے آزاد ہوکر ذمہ دارانہ صحافت کا اصول قائم کرنا ہوگا۔



  

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -