چھ صحافیوں پر حملے

چھ صحافیوں پر حملے

ایف این ڈیٹا کا تجزیہ – اکتوبر 2020

پاکستان میں صحافیوں اور میڈیا تنظیموں کے خلاف حملوں، دھمکیوں اور ہراسانی کے کئی واقعات اکتوبر 2020 میں رپورٹ ہویے۔ چھ صحافی قاتلانہ حملوں میں محفوظ رہے جبکہ تین کو اغوا کیا گیا۔ سات دیگر کو گرفتاری، ہراسانی، حملے اور قانونی مقدمات کا خطرہ رہا۔ پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک پروگرام اور ایوارڈ یافتہ فریڈم نیٹ ورک ان واقعات کو ریکارڈ کر رہی ہے۔ 

اسلام آباد میں قائم فریڈم نیٹ ورک صحافیوں کو چار مختلف شعبوں میں کراچی، لاہور، کوئٹہ، اسلام آباد، پشاور، لنڈی کوتل اور خضدار میں فروری 2016 سے مدد فراہم کر رہا ہے۔

قتل کرنے کی کوشش: 4 اکتوبر 2020 کو سندھ کے ضلع صادق آباد کے پریس کلب کے صدر قاسم قمبرانی (جو آواز ٹی وی کے رپورٹر ہیں)، ان کے ساتھی صحافی ریاض کریو (جنرل سیکرٹیری پریس کلب اور دھرتی ٹی وی کے رپورٹر)، عبدالجبار سولنگی (سندھ اخبار کے نیوز رپورٹر) اور صباحت سہیل (روزنامہ مہران کے رپورٹر) پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا۔ پولیس سٹیشن میں درج ایف آئی آر کے مطابق یہ صحافی رات کو پریس کلب سے واپس گھر جا رہے تھے جب ان پر ان نامعلوم افراد نے حملہ کیا اور لاٹھیوں کے ساتھ انہیں مارا اور ان پر گولیاں چلائیں۔ شدید زخمی حالت میں قاسم قمبرانی کو سول ہسپتال حیدر آباد منتقل کر دیا گیا۔ صحافیوں کے مطابق ’12 نامعلوم افراد نے ہم پر حملہ کیا۔‘ پولیس نے ایف آئی آر درج کر دی ہے۔ اس واقعے پر کراچی یونین آف جرنلسٹ اور دیگر تنظیموں نے حکومت سے حملہ آوروں کے خلاف جلداز جلد کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈیرہ غازی خان کے ضلع مانا احمدانی کے قریب 19 اکتوبر کو نامعلوم افراد نے ڈاکٹر عثمان (ویب چینل کھاری گال کے بانی) اور ان کے بیٹے پر گولیاں چلائیں۔ ڈاکٹر عثمان اور ان کے بیٹے کو بازوں اور گردن میں گولیاں لگیں۔ واقعے کے بعد دونوں باپ بیٹے کو علاج کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ایف آئی آر میں صحافیوں نے کہا کہ نامعلوم افراد انہیں قتل کرنا چاہتے تھے۔

24 اکتوبر کو لاہور میں آن لائن صحافتی پلیٹ فارم ’لاہور رنگ‘ سے تعلق رکھنے والے صحافی شاہد رضوی پر نامعلوم افراد نے ستلج بلاک علامہ اقبال کے قریب حملہ کر کے انہیں موٹر سائیکل سے گرانے کی کوشش کی۔ اس واقعے کے نتیجے میں ان کا ہاتھ فریکچر ہو گیا جس کے لیے انہیں ہسپتال میں آپریشن کروانا پڑا۔ صحافی کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے انہیں مزید تشدد کا نشانہ بنانا تھا لیکن واقع والی جگہ پر لوگ اکٹھا ہونا شروع ہوگئے۔ ٹی پی 506ب کے تحت نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج ہو گئی ہے تاہم حملے کی وجہ کا ابھی تک پتہ نہیں لگایا جا سکا ہے۔

اغوا: 9 اکتوبر کو کراچی کے گلشن اقبال کے علاقے سے بول میڈیا گروپ کے سنینئر رکن اور ٹیکنیکی سربراہ نبیل فاروق کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا۔ والد کی طرف سے ایف آئی آر میں لکھا گیا کہ آدھی رات کو نبیل اور ان کے ساتھی سبیح الحسن واپس اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے جب یہ واقعہ رونما ہوا۔ شروع میں نبیل اپنے گھر والوں کے ساتھ حسن سکوائر تک رابطے میں تھا۔ اس کے بعد رابطہ منقطع ہو گیا۔

ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ انہیں گلشن اقبال کے علاقے سے اغوا کیا گیا۔ پولیس نے ان کے موبائل فون کے ذریعے ان کی جگہ معلوم کرنے کی کوشش کی جس کی بدولت پتہ لگا کہ وہ سکیم 33 میں موجود ہیں۔ نبیل کی گاڑی اگلے روز سہراب گوٹھ سے ملی جہاں اس کی ساری چیزیں ویسے ہی موجود تھیں۔ سندھ کے وزیر داخلہ مراد علی شاہ نے سندھ آئی جی سے اس واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ پولیس نے اس کیس میں تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ذرائع کا ماننا ہے کہ دونوں صحافیوں کو انٹیلی جنس اداروں نے اغوا کیا ہے۔

23 اکتوبر کو جیو نیوز کے سینیئر رپورٹر علی عمران سید کراچی میں کیپٹن صفدر کی حراست میں آنے والی ویڈیو نشر کرنے کے بعد غائب ہوگئے۔ اگلے روز کراچی یونین آف جرنلسٹ نے صحافی کے اغوا ہونے پر احتجاج ریکارڈ کروایا۔ وہ 22 گھنٹوں کے بعد واپس گھر لوٹ آئے۔ انہوں نے اپنے اغوا کے بارے میں کسی کو نہیں بتایا اور نہ ہی اس کی تنظیم نے کوئی وضاحت دی ہے۔

گرفتار: ضلع ڈیرہ غازی خان میں بول نیوز کے رپورٹر شیر افغان اور ساتھی صحافی بخت کھوسہ اور غلام مصطفی کو ڈی پو او ڈیرہ غازی خان کی الوداعی تقریب میں گرفتار کر لیا گیا۔ ان کو یہ تقریب ان کی میڈیا کی تنظیموں نے کوریج کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ بیٹھنے کے لیے کرسیاں نہ موجود ہونے پر صحافیوں نے احتجاج کرنا شروع کر دیا جس پر ڈی پی او نے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ رپورٹ کیا گیا ہے کہ گرفتار کرتے وقت صحافیوں کے ساتھ بدمزگی سے فورسز پیش آئیں۔ ایک دن پولیس کی جیل میں گزارنے کے بعد صحافیوں کو ضمانت مل گئی۔

ذرائع کے مطابق ڈی پی او کی شیر افغان کے ساتھ رنجش تھی کیونکہ افغان نے بول نیٹ ورک کے لیے لدی گینگ کا انٹرویو کیا تھا جس کو بعد میں نشر ہونے سے منع کر دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود شیر افغان نے وہ انٹرویو سوشل میڈیا پر نشر کر دیا جس کے نتیجے میں ڈی پی او کے کو غم و غصے کے ریمارکس بھیجے گئے۔ اس واقعے کے بعد شیر افغان کو دھمکیاں بھی موصول ہوئیں جس پر اس نے پولیس کا پریس کلب ڈیرہ غازی خان میں داخلہ ممنوع کر دیا حالانکہ وہ پریس کلب کے صدر ہیں۔ اس کے علاوہ صحافی نے پولیس کے خلاف بھی کافی خبریں شائع کی ہوئی ہیں۔ بعد میں یہ معاملہ پرامن حالات میں حل ہو گیا۔

آف لائن ہراساں: راولپنڈی میں ڈان نیوز کے رپورٹر حسیب منظور بھٹی کو 13 اکتوبر کو کینٹ کے نمائندوں نے مارا۔ کینٹ کے نمائندوں نے حسیب کی رہائش کے قریب ایک گھر پر ریڈ کیا۔ انہوں نے ایک نوجوان کو اغوا کرنے کی کوشش کی جس کے سلسلے میں حسیب نے واقعے کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی۔ اس پر صحافی کو دھمکیاں موصول ہوئیں۔ رپورٹر کے مطابق اس کافی پیغام موصول ہو چکے ہیں جو ایک ذریعہ ہے کہ وہ ہار مان لیں۔

18 اکتوبر کو اسلام آباد میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کے احتجاج کو ریکارڈ کرنے کے دروان 24 نیوز چینل کی صحافی صبا کو پولیس نے ہراساں کیا۔ صبا نے اسلام آباد پولیس چیف کو اس واقعے کے بارے میں بتایا جس پر انہوں نے واقعے کی انکوائری کا فوری حکم دیا۔ تاہم ملزم ابھی بھی آزادی سے گھوم پھر رہے ہیں کیونکہ ان کی پہچان چھپا دی گئی ہے۔

صبا نے فریڈم نیٹ ورک کو بتایا کہ بول نیوز کی رپورٹر آمنہ علی کو میڈیا کوریج کرنے سے پولیس والوں نے منع کر دیا تھا لیکن دوسرے میڈیا کی تنظیموں کی طرف سے مداخلت کے بعد صحافی کو کوریج کی اجازت دے دی گئی۔

حملہ: 18 اکتوبر کو پاکستان جمہوری تحریک کے کراچی کے مزار قائد کے جلسے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان نے سما نیوز کے صحافی سنجے سدھوانی کو مارا۔ صحافی عورتوں والے سیکشن سے کوریج کر رہے تھے جب انہوں نے اس دیکھا کہ کچھ عورتوں کو باہر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اس پر پیپلز پارٹی کے کارکنان نے اس پر حملہ کر دیا۔ صحافی نیشنل کونسل آف انوائرمینٹل جرنلسٹ کا ممبر بھی ہے۔

پی ڈی ایم کے جلسے میں جی این این نیوز کے کیمرا مین کامران خان پر پیپلز پارٹی کے کارکنان قادر پٹیل اور جاوید نگوری نے مبینہ طور پر حملہ کر کے اس سے اس کا کیمرا چھین لیا۔ کیمرا مین پر باہر والے گیٹ پر کارکنان نے حملہ کیا۔ جی این این نیوز کی انتظامیہ نے پارٹی کے قائدین کو اس معاملے کے بارے میں بتایا جس پر انہوں نے کیمرا واپس کر دیا تاہم اس کا میمری کارڈ اور بیٹری اپنے قبضے میں رکھ لیں۔

قانونی کیس: 12 اکتوبر کو بول نیوز کے ڈپٹی بیورو چیف میاں داود کو ایف آئی اے نے نوٹس جاری کر دیا۔ نوٹس ان کے گاؤں بھجوا دیا جہاں کوئی نہیں رہتا۔ داود کا کہنا ہے کہ نوٹس جاری کرنے کی وجہ ابھی تک نہیں بتائی گئی۔ ’ایف آئی اے کا سائبر کرائم یونٹ آپ کے خلاف انکوائری عمل میں لا رہا ہے۔ آپ اس شکایت کے بارے میں بخوبی طور پر واقف ہوں گے۔ آپ سے درخواست کی جاتی ہے کہ مندرجہ ذیل جگہ پر 12 اکتوبر کو صبح 11 بجے پیش ہو جائیں۔ پیش نہ ہونے کی صورت میں آپ کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 174 کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔‘ داود کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ نوٹس غلط پتے پر بھجوایا ہے جس کی وجہ سے وقت گزر چکا ہے۔ صحافی کا مزید کہنا تھا کہ ایف آئی اے اسی طرح صحافیوں پر دباؤ ڈالتی ہے تاکہ وہ آزادی رائے کا اظہار نہ کر سکیں۔

پیمرا ایکشن میں: 20 اکتوبر کو پیمرا نے 24 نیوز چینل کی نشریات بند کر دیں۔ پیمرا کا کہنا تھا کہ چینل ایک انٹرٹینمینٹ کا لائسنس رکھتا تھا۔

میڈیا کو ملنے والی دھمکیاں، حملے اور ہراساں کے کیس:

 اکتوبر 2020 میں چھ پرنٹ، آٹھ ٹی وی اور ایک آن لائن صحافی کے خلاف کیس ریکارڈ ہوئے۔

میڈیا اور صحافیوں پر حملے، دھمکیاں اور ہراساں کرنے والے ادا کار:

آٹھ میں سے چھ کیس میں ریاستی ادارے ملوث تھے جبکہ دو کیس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان اور چھ میں نامعلوم ادا کار ملوث تھے۔                   

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -