پاکستان میں خاتون سمیت دو صحافیوں کا قتل

پاکستان میں خاتون سمیت دو صحافیوں کا قتل

ایف این ڈیٹا کا تجزیہ – ستمبر 2020

ایک خاتون صحافی کے قتل کے علاوہ ایک اور کے قتل اور مزید 13 صحافیوں پر ہونے والے ستمبر 2020 میں مختلف واقعات جن میں آف لائن ہراساں کیا جانا، حملہ، قانونی کیس درج ہونا شامل ہیں ریکارڈ ہوئے۔

اسلام آباد میں قائم فریڈم نیٹ ورک صحافیوں کو چار مختلف شعبوں میں کراچی، لاہور، کوئٹہ، اسلام آباد، پشاور، لنڈی کوتل اور خضدار میں فروری 2016 سے مدد فراہم کر رہا ہے۔

قتل: پی ٹی وی بولان میں پروگرام کی میزبانی کرنے والی میزبان شاہینہ شاہین 5 ستمبر کو بلوچستان کے علاقے تربت میں نامعلوم افراد کی گولیاں لگنے سے ہلاک ہو گئیں۔ بعض رپورٹوں کا ماننا ہے کہ وہ اس کے ساتھ ہی رسالہ دزگوہار کی ایڈیٹر بھی تھیں۔ پولیس نے کیس درج کرنے کے ساتھ ہی جائے حادثہ سے گولی کے شیل اور شاہینہ کے خون کے نمونے برآمد کیے۔ صحافی کا شوہر نواب زادہ مہراب خان گچکی کا اس واقعے میں مشتبہ اشخاص میں شمار ہوتا ہے تاہم قتل کی وجہ کا ابھی تک پتہ نہیں لگایا جا سکا ہے۔

26 ستمبر 2020 کو پنجاب کے علاقے منڈی بہاوالدین میں روزنامہ جرم و سزا کے لیے کام کرنے والے صحافی عابد حسین کو اس وقت گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا جب وہ پولیس سٹیشن سے اپنا بیان ریکارڈ کروا کر واپس گھر کو لوٹ رہے تھے۔ صحافی کے خلاف پولیس میں ایک شکایت ریکارڈ کی گئی تھی۔ ایف آئی آر درج کرواتے وقت اس کے گھر والوں کا کہنا تھا کہ صحافی جیسے ہی واپس گھر کو لوٹ رہا تھا چار نامعلوم افراد نے اس پر فائرنگ کر کے اسے ہلاک کر دیا۔

ایف آئی آر میں صحافی کے بھائی کا کہنا تھا کہ چار میں سے ایک نامعلوم فرد نے اس کے بھائی کو گولیاں مارتے وقت کہتے ہوئے سنا کہ ’اور ہمارے خلاف رپورٹیں شائع کرتے رہو۔ ہم تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔‘ صحافی کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ عابد کا کسی کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں تھا۔ ان کا الزام ہے کہ اس قتل میں پولیس والے ملوث ہوں گے۔

File photo: Abid Hussain

 حملہ: 22 ستمبر 2020 کو اسلام آباد کے علاقے راول ٹاؤن اور چک شہزاد میں ناجائز زمین کے قبضے پر رپورٹنگ کرنے کے سلسلے میں موجود کوہ نور ٹی وی کے صحافی فرحان علی اور کیمرامین فرانسس ولیم کو مبینہ طور پر ایک ہجوم نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ ہجوم نے ان سے ان کے کیمرے چھین لیے اور انہیں مارا۔ دونوں کا کہنا تھا کہ ’ہم وہاں سے جان بچا کر بچ نکلے۔‘ پولیس کو اس واقعے کی جگہ پر آنا پڑا تاہم ان کا کیمرا اور میمری کارڈ واپس نہیں ملا۔

قبضہ: 23 ستمبر 2020 کو اسلام آباد پولیس نے 24 نیوز چینل کے رپورٹر احتشام کیانی کو اپوزیشن لیڈر مریم نواز کی کورٹ میں پیشی کی کوریج سے انہیں گرفتار کر کے روک لیا۔ صحافی اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف روانہ تھے جب سکیورٹی کے لوگوں نے انہیں رمنہ پولیس سٹیشن منتقل کر دیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر منل اللہ نے صحافی کی گرفتاری کا نوٹس لیتے ہوئے حکام کو انہیں فورا رہا کرنے کا حکم دیا۔ رہا ہونے کے بعد صحافی نے بتایا کہ ’انہوں نے مجھے ہراساں کیا اور پھر مجھ پر ہتھیار رکھنے کا جھوٹا الزام بھی لگایا۔‘

آف لائن ہراساں: 20 ستمبر 2020 کو بی آر ٹی کے لیے خریدی جانے والی بسوں کے حوالے سے سوالات کرنے پر ڈان نیوز کے بیورو چیف علی اکبر کو خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی کے شکایتی دفتر کے چیرمین دل روز خان نے مبینہ طور پر دھمکیاں اور گالیاں دیں۔ اس کے بعد وزیر اعلی کے سپیشل سسٹنٹ کامران بنگش نے پشاور پریس کلب کا دورہ کیا اور اس واقعے پر معافی مانگی۔

7 ستمبر 2020 کو وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان کے پی آر او نے صحافیوں کو دھمکی دی کہ ان کے ساتھ برا ہو سکتا ہے اگر وزیر کے پریس بریفنگ میں لیٹ پہنچنے کے خلاف احتجاج کرتے رہیں گے۔ اے آر وائے کے کیمرامین فیاض احمد نے احتجاج کا آغاز کیا۔ پی آر او نے کیمرامین کو دھمکیاں دیں جس پر نیشنل پریس کلب نے اس واقعے کا فوری طور پر نوٹس لیا۔

17 ستمبر 2020 کو 92 نیوز کے رپورٹر عمران وسیم نے بلاول بھٹو کے سکیورٹی گارڈ کے ہاتھوں اسلام آباد میں ہراساں کیے جانے کے بارے میں رپورٹ کیا۔ فاٹا کے معاملے پر سوال کرنے پر رپورٹر کا موبائل فون چھین لیا۔

حملہ: 4 ستمبر 2020 کو ٹائمز نیوز اور روزنامہ پنہنگی کے لیے کام کرنے والے سندھ سے صحافی معظم بھٹو پر حملہ کیا گیا۔ پولیس نے حملہ کرنے والے کو نشے کی حالت میں گرفتار کر لیا اور کہا کہ مزید تحقیقات میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد ہوں گی۔ حملہ آور صحافی سے اس کی خبر شائع نہ ہونے کی وجہ سے ناخوش تھا۔

خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں تحریک انصاف کے لیڈر دلاور خان محسود نے صحافی تنویر اللہ برکی پر حملے کا مسئلہ ایک جرگے سے حل کیا۔ 23 ستمبر 2020 کو پولیس نے ملزم، طالبان کے سابق کمانڈر کلیم اللہ محسود کو گرفتار کیا۔ 23 ستمبر کو ہی جرگہ منعقد ہوا جس میں ملزم کو عدالت نے رہا کر دیا۔ جرگہ کی شرائط کے تحت ملزم کو ایک لاکھ روپے سمیت دو بکرے صحافی کو دینے ہیں۔

زبانی دھمکیاں: اسلام آباد اور راولپنڈی کے آل پاکستان نیوز پیپر ایمپلائی کنفیڈریشن کے چیئرمین احمد نورانی کی خبر فیس بک پر شیر کرنے کے بعد سے ڈان نیوز کے فوٹوگرافر چوہدری محمد اسحاق کو دھمکی آمیز کالز اور مسیج موصول ہونے لگے۔ پیغام بھیجنے والے نے کہا کہ وہ اس کو ٹھکانے لگا دیں گے۔

قانونی کیس: فوج اور فرقہ واریت پر مبنی پوسٹ کرنے کے سلسلے میں کراچی پولیس نے ایکسپریس ٹریبیون کے نیوز ایڈیٹر بلال فاروقی کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کے الیکٹرانک جرائم ایکٹ سیکشن کے تحت مقدمہ درج کر دیا۔ اس نجی شکایت میں کہا گیا تھا کہ ایڈیٹر نے پاکستان فوج کے خلاف اور فرقہ واریت پر مبنی پوسٹ دیکھی گئیں۔ ایڈیٹر کو اس کی رہائش سے گرفتار کیا گیا تاہم بعد میں رہا کر دیا گیا۔ پولیس کے تفتیش کار کا کہنا ہے کہ پاکستان پینل کوڈ کا چارج ہٹا دیا گیا ہے تاہم پیکا قانون والا چارج ابھی بھی قائم ہے۔

عجیب لاکھو کے بھائی صحافی غلام محمد لاکھو پر سندھ پولیس نے ایک درجن سے زائد کیس درج کر دیے۔ ایف آئی آر 21 اگست 2020 کو درج ہوئی تھی تاہم فریڈم نیٹ ورک پر رپورٹ 13 ستمبر 2020 کو کی گئی۔ صحافی پر مختلف کیس درج کیے گئے ہیں جو اس وقت بھی جیل میں موجود ہے۔ ایک جیل میں موجود شخص کا کس طرح ان جرائم میں ہاتھ ہو سکتا ہے؟

پنجاب کے ضلع جہلم میں سیننئر صحافی اور پیمرا کے سابق چیرمین ابصار عالم کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا گیا۔ کیس درج کرنے والے نے انکشاف کیا کہ صحافی نے ریاستی اداروں اور وزیر اعظم عمران خان کے خلاف نازیبہ زبان استعمال کی ہے۔ اس نے درخواست کی کہ صحافی پر پاکستان پینل کوڈ اور الیکٹرانک جرائم ایکٹ کے تحت کیس درج کیا جائے۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا اور فوری طور پر تمام الزامات واپس لینے کی تجویز دی۔

12 ستمبر 2020 کو سما کے صحافی اسد علی طور کو بھی پیکا کے قانون کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا کیونکہ وہ سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہا تھا۔ اس پر ریاستی اداروں کے خلاف گندی زبان استعمال کرنے کا الزام ہے۔ صحافی اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔ 16 ستمبر 2020 کو صحافی کو لاہور ہائی کورٹ کی راولپنڈی بینچ سے ضمانت مل گئی۔

لنک پر کلک کر کے اگست 2020 کے ڈیٹا کی دھمکیوں کا جائزہ لیں:

پیمرا ایکشن میں:

92 نیوز اور بول نیوز کو پاکستان فوج اور حکومتی افسروں کے خلاف خبریں نشر کرنے پر نوٹس جاری کر دیا۔

میڈیا کے خلاف ہونے والے حملے اور دھمکیاں:

پرنٹ کی سات اور الیکٹرانک میڈیا صحافی کے قتل اور قتل کی کوشش میں کیس درج ہوئے۔

صحافیوں اور میڈیا کو ہراساں کرنے والے عناصر

 پانچ کیس میں ریاسی عناصر جبکہ پانچ اور کیس میں عناصر نامعلوم افراد تھے جبکہ ایک کیس میں ایک اپوزیشن لیڈر کا سکیورٹی گارڈ ملوث تھا۔

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -