موبائل انٹرنیٹ کا معطل ہونا: خیبر پختونخوا کے صحافی دشواریوں کا شکار

موبائل انٹرنیٹ کا معطل ہونا: خیبر پختونخوا کے صحافی دشواریوں کا شکار

ابراہیم شنواری

خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں پچھلے چار سالوں سے انٹرنیٹ سروس بند ہونے کی وجہ سے وہاں مقیم صحافیوں کی کارکردگی پر منفی اثر پڑا ہے۔

جون 2016 میں طورخم  بارڈر پر پاکستانی اور افغان افواج کے درمیان پیش آنے والے واقعے کے بعد سکیورٹی ایجنسیوں کی سفارش پر وفاقی حکومت نے فاٹا میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی تھی۔ اس واقعے میں پاکستانی فوج کا ایک میجر شہید ہوا تھا۔ اس وقت سے عوام، صحافیوں اور سول سوسائٹی کی طرف سے متعدد درخواستوں کے باوجود موبائل سروس بحال نہیں کی جا سکی ہے۔

9 مارچ 2020 کو وزیر اعظم عمران خان نے اپنے مہمند ایجنسی میں خطاب کے دوران وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید کی ذمہ داری لگائی کہ اس علاقے میں 3جی اور 4جی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے جو یہاں کے مقیم لوگوں کا ایک مطالبہ بن گیا تھا۔

لنڈی کوتل سے تعلق رکھنے والے ایک نجی چینل کے صحافی علی شنواری کا ماننا ہے کہ ’انٹرنیٹ کی سہولت ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔‘ اور اس کے ساتھ اس کا کہنا تھا کہ ہر صحافی کے لیے انٹرنیٹ ایک بنیادی ضرورت ہے جسے یقینی بنایا جائے۔

اس کے علاوہ اس کا کہنا ہے کہ بدلتے حالات، فوری خبروں کی نشریات اور لمحہ با لمحہ باخبر رہنے کے لیے ایک قابل اعتماد انٹرنیٹ سروس کی ضرورت ہوتی ہے۔

فریڈم نیٹ ورک سے بات  کرتے ہوئے علی شنواری کا کہنا تھا کہ ’جب بھی ہم وقت پر کسی خبر کو رپورٹ نہیں کرتے تو اس کے نتیجے میں ہمیں اپنے ایڈیٹر سے سخت الفاظ سننے کو ملتے ہیں۔‘ اس کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کی معطلی نے صحافیوں کی ناصرف ذاتی ساکھ بلکہ ان کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو بھی داؤ پر لگا دیا تھا۔

مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والے صحافی شمس مہمند نے کہا کہ 3جی اور 4جی کی فراہمی تو اب ملک کے ہر حصے میں یقینی ہو چکی ہے اور ہر صحافی تک اس کی رسائی کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔

اس کا مزید کہنا تھا کہ چار سالوں سے انٹرنیٹ تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے قبائلی علاقوں کے صحافی ملک کے باقی صحافیوں سے کوریج میں پیچھے رہ گئے ہیں۔

مہمند کا کہنا تھا کہ قبائلی صحافی ابھی بھی پرنٹ میڈیا کی دنیا میں پھنسے ہوئے ہیں اور بڑے شہروں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں سے خبر کے نشر ہونے میں مقابلہ نہیں کر سکتے کیونکہ شہروں میں صحافی 3جی اور 4جی کا بخوبی طور سے استعمال کرتے ہیں۔

’انٹرنیٹ کی رسائی نے ہم پر زیادہ بوجھ ڈال دیا ہے کیونکہ اب عوام ہم سے لمحہ با لمحہ خبر تک رسائی مانگتی ہے – خاص طور پر کسی خاص تقریب کے دوران‘ اس سے قبل انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے ہر صحافی صرف اپنے ضلع تک ہی محدود رہ چکا تھا۔

پاکستان کے جنوبی اور شمالی وزیر ستان سے بین الاقوامی نیوز کے اداروں تک خبریں براہ راست نشر کرنے والے قبائلی صحافی عدنان بیٹنی کا کہنا ہے کہ ابھی بھی قبائلی علاقوں کے کچھ علاقوں میں علاقائی صحافیوں کو لینڈ لائن انٹرنیٹ کی سروس فراہم کی جاتی ہے اور اس سروس کو انٹیلی جنس ایجنسیوں کی نگرانی میں استعمال کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔       

بیٹنی کا کہنا ہے کہ اسے اپنی خبر ریکارڈ کروانے کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان یا ٹانک جانا پڑتا تھا۔ ’یہ کافی لمبا اور دشوار کام ہوتا تھا کیونکہ اس میں آپ کو کافی دیر تک سفر میں ہونا پڑتا ہے اور ایک اچھے انٹرنیٹ کی تلاش ہوتی ہے۔‘

انٹرنیٹ کی سہولت تک رسائی کے لیے اورکزئی کے صحافیوں کو ہنگو جانا پڑتا ہے۔ اورکزئی پریس کلب کے صدر صلاح الدین اورکزئی نے فریڈم نیٹ ورک سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کے انٹرنیٹ کی سروس نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے صحافیوں کا کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

موبائل کی سروس نہ ہونے اور انٹرنیٹ کی سہولت کی معطلی کی وجہ سے یہاں کہ صحافی ہاٹ سپاٹ بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے تمام صحافی ہنگو جاتے ہیں اور وہاں سے اپنی خبریں ریکارڈ کرواتے ہیں۔‘

تصویر بشکریہ گوگل

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -