عورت صحافی اغوا ہونے کی کوشش میں بچ نکلنے میں کامیاب

عورت صحافی اغوا ہونے کی کوشش میں بچ نکلنے میں کامیاب

ایف این ڈیٹا کا تجزیہ – اگست 2020

قتل ہونے کی کوشش میں دو صحافی جن میں سے ایک کا تعلق پشاور سے تھا بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں صحافیوں پر ہونے والے حملوں، انہیں دیں جانے والی دھمکیوں اور ان کے خلاف قانونی کیس درج ہونے کے 12 کیس فریڈم نیٹ ورک کی زیر نگرانی چلائے جانے والے پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک پروگرام کے منظر عام پر آئے۔

اسلام آباد سے منسلک فریڈم نیٹ ورک صحافیوں کو چار مختلف شعبوں میں کراچی، لاہور، کوئٹہ، اسلام آباد، پشاور، لنڈی کوتل اور خضدار میں فروری 2016 سے مدد فراہم کر رہا ہے۔

 قتل کرنے کی کوشش: 8 اگست 2020 کو رائل نیوز کے لیے کام کرنے والے جرائم صحافی ناصر خان پر اسلام آباد کے سیکٹر جی 9/2 میں نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر اسے ہلاک کرنے کی کوشش کی۔ اپنی پولیس کو ریکارڈ کروانے والی رپورٹ میں صحافی کا کہنا تھا کہ وہ ایف 6 میں واقع اپنے دفتر سے گھر واپس لوٹ رہا تھا جب موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم افراد نے اس پر گولیاں چلائیں۔ ”میں نے دیکھا کہ گولیاں مارنے کے ساتھ ہی وہ موٹر سائیکل پر اپنا توازن کھو بیٹھے جس کی وجہ سے گولیاں مجھے نہیں لگیں اور میں بچ نکلا۔” ابھی تک کسی کو حراست میں نہیں لیا گیا۔

اغوا کرنے کی کوشش: روزنامہ ایف آئی آر کے لیے کام کرنے والی صحافی صوبیہ مشرف کو چند نامعلوم افراد نے 2 اگست 2020 کو صوبہ پنجاب کے ٹاؤن دینہ میں حملہ کرنے کی کوشش کی۔ فریڈم نیم ورک سے بات کرتے ہوئے صحافی کا کہنا تھا کہ ایک سفید گاڑی اس کا پیچھا کر رہی تھی اور سوہا وہ ٹول پلازا پر اس نے 15 کال کر کے مدد مانگی۔ فریڈم نیٹ ورک سے گفتگو کرتے ہوئے صحافی کا کہنا تھا کہ، ”جیسے ہی  میں ٹول پلازا پر ٹول ادا کر رہی تھی ان نامعلوم افراد نے میری گاڑی کی سکرین اور چھت پر حملہ کیا۔ اس کے  نتیجے میں میں نے گاڑی بھگا کر سوہا وہ پولیس سٹیشن لے آئی۔ وہ لوگ مجھے اغوا کرنا چاہتے تھے۔”

زخمی: 14 اگست 2020 کی رات کو 10 نامعلوم افراد نے روزنامہ آس کے دفتر پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں اخبار کے ایڈیٹر آفتاب خٹک زخمی ہوگئے۔ حملہ آور واپس جانے وقت اپنے ساتھ دفتر سے وہاں پڑے کمپیوٹر بھی ساتھ لے گئے۔ زخمی ایڈیٹر کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کا طبعی علاج ہوا۔ فریڈم نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے آفتاب کا کہنا تھا کہ اسے حملے سے قبل کوئی دھمکی آمیز کال یا خط موصول نہیں ہوئے تھے اور اسے حملہ آوروں کے مقصد کا بھی نہیں پتہ تھا۔ پولیس نے واقعے کا نوٹس کے لیا ہے تاہم ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔

قانونی کیس: ”احتسال کشمیر” منانے کے سلسلے میں اپنے اخبار میں اشتہار چھپنے پر جس میں کشمیر کو بھارت کا حصہ دکھانے کے سلسلے میں ایک سیئنر پریس معلوماتی ادارے کے افسر عاصم کچی نے چار افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی۔ صدا چنار کے ایڈیٹر اعجاز عباسی کا کہنا تھا کہ وہ ان افسروں سے ملنے گیا تھا جنہوں نے یہ اشتہار چھاپا تھا تاہم انہوں نے اس پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ افسر کا کہنا تھا کہ ایڈیٹر کے ساتھ چھ مزید لوگ ہتھیار لیے کھڑے تھے جنہوں نے اس کے سے پر بندوق رکھ کر اس سے یہ اشتہار چھپ وایا۔ اس معاملے کو پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے اٹھایا جس پر وفاقی وزیر برائے معلومات شبلی فراز نے مداخلت کی اور افسر اور صحافیوں کے بیچ میں ایک درمیانی راستہ نکالا۔ افسر نے پھر اپنی ایف آئی آر واپس لے لی۔

12 اگست 2020 کو روزنامہ ایف آئی آر کے چیف ایڈیٹر چودھری محمد اسلم کو ایک سول سوسائٹی کے ادارے خوبیب فاؤنڈیشن نے قانونی نوٹس بھجوا دیا۔ ادارے کے خلاف اخبار نے  پیسوں کی ہیر پھیر پر ایک ایڈیٹوریل شائع کیا تھا۔ اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ جج نے 17 ستمبر 2020 کو اخبار کے ایڈیٹر کو کورٹ میں طلب کر لیا۔

فیس بک پر اس کے خلاف ایک جھوٹا پروپیگندا چلانے کے سلسلے میں نیشنل پریس کلب کے سابق صدر شکیل قرار نے ایف آئی اے میں جا کر اپنے ساتھی صحافیوں روزنامہ مصوت کے ایڈیٹر عامر بٹ اور روزنامہ ایک آواز کے رپورٹر سید ضیا گیلانی کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی۔ ان دو صحافیوں نے معاہدے کی وہ کاپی سب کے حوالے کر دی جو شکیل قرار کے خود کے دستخط تھے جب وہ صدر تھے۔

صوبہ سندھ کے ضلع نو شہرو فیروز میں پولیس نے 5 اگست 2020 کو صحافی عجیب لاکھو کو شراب رکھنے کے جرم میں حراست میں لے لیا۔ یہ صحافی کے خلاف اٹھارہواں کیس درج ہوا ہے۔ تیل کی سمگلنگ کے حوالے سے اپنی تحقیقاتی رپورٹ شائع کرنے کے بعد سے صحافی مشکلات میں پھنسا رہا ہے۔ پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 324، 147، 148، 149، 427 اور 337 کے تحت پولیس نے اس کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کروائی ہے۔ جیل میں 20 دن گزارنے کے بعد 26 اگست کو صحافی کو بیل مل گئی۔

اخبار کا اعلامیہ: دونوں فریقوں کا سننے کے بعد 12 اگست 2020 کو اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے روزنامہ ایف آئی آر کو دوبارہ کام کرنے کی اجازت دے دی۔ وزارت معلومات اور نشریات کی طرف سے آنے والے اعتراضات تھے جن میں اخلاقی خلاف ورزیاں اور معاشرے کو اکسانا شامل ہیں۔ اس کے بعد ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے اس حکم کو خارج قرار دے دیا۔ چیف ایڈیٹر چودھری محمد اسلم کورٹ میں اس کیس کی اپنی اپیل جیت گئے۔

مندرجہ ذیل لنک پر کلک کر کے جولائی 2020 کے دھمکی آمیز تجزیوں کا خلاصہ دیکھیں:

پیمرا ایکشن میں:

نفرت آمیز تقاریر کرنے کی بنیاد پر پیمرا نے 24 نیوز چینل کا لائیسنس معطل کر دیا جبکہ اب تک نیوز چینل کو غلط خبر نشر کرنے پر شو کاز نوٹس جاری کر دیا۔

میڈیا پر ہونے والے حملے، دھمکیاں اور ہراساں کے کیس:

12 صحافیوں میں سے 11 کا تعلق پرنٹ جبکہ ایک کا تعلق الکٹرانک میڈیا سے تھا۔

میڈیا اور صحافیوں پر حملے کرنے والے ایکٹر

حکومتی افسر، پولیس، سول سوسائٹی اور چند نامعلوم افراد ان دھمکیوں کے پیچھے ہیں۔

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -