بلوچستان کے بڑھتے ہوئے سوشل میڈیا چینلز

بلوچستان کے بڑھتے ہوئے سوشل میڈیا چینلز

عدنان عامر

2005 میں انتہا پسندی کے آغاز کے بعد سے بلوچستان میں معلومات کی قلت ہے۔ یہاں پر صحافیوں کو خبریں رپورٹ کرنے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چند صحافیوں نے اس گھٹن میں کام کرنے پر اختلاف کیا جس کی وجہ سے ان کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔

باقی کے صحافی جو اس قانون کی پیروی کرتے ہیں وہ صحیح طریقے سے بلوچستان کے مسائل پر رپورٹنگ نہیں کر سکتے۔ اس ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے بلوچستان کی میڈیا تنظیموں نے اپنے یوٹیوب اور فیس بک پر چینل بنا لیے ہیں تاکہ وہ دنیا کے سامنے یہاں کی خبریں منظر عام پر لا سکیں۔

یہ بات تو واضح ہے کہ ٹی وی دیکھنے والے سامعین کی تعداد زوال پزیر ہے جبکہ لوگ اب انٹرنیٹ پر خبریں پڑھنے کی طرف زیادہ متوجہ ہو گئے ہیں۔ تاہم انٹرنیٹ پر اکثر خبریں تحریری شکل میں ہوتی ہیں جو ایک عام پڑھنے والے کے لیے تھکاوٹ کا باعث بنتی ہیں۔ وہ سامعین پھر چھوٹی ویڈیو کلپ دیکھتے ہیں۔ ہر بار جب ایک دلچسپ نیوز کلپ سوشل میڈیا پر نشر ہوتی ہے تو وہ تہلکہ مچا دیتی ہے۔ ٹی وی سے زیادہ لوگ سوشل میڈیا پر وہ کلپ دیکھتے ہیں۔ اس چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے کافی صحافیوں نے خبروں کے مواد کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ اسی طرح بلوچستان کے صحافیوں نے بھی کام کرنا شروع کر دیا ہے۔

صوبے میں اردو کا اخبار ’آزادی‘ وہ پہلا اخبار تھا جس نے صحافت کا رخ اس طرف منتقل کیا۔ انہوں نے آزادی ڈیجیٹل نیوز کے نام سے ویڈیو چینل کا آغاز کیا۔ یہ چینل سیاستدانوں اور حکومتی عہدیداروں کے انٹرویو نشر کرنے کی لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس چینل پر ٹاک شوز بھی نشر ہوتے ہیں۔ چند روز قبل انہوں نے بلوچستان میں جعلی ڈومیسائل کے بارے میں پروگرام نشر کیا تھا۔ اس ویڈیو کو دس ہزار سے زائد لوگوں نے دیکھا تھا۔ ایک روایتی نیوز چینل پر اس موضوع کو کبھی بھی اتنی کوریج نہیں ملتی۔

آزادی کے بعد، روزنامہ ’انتخاب‘ نے بھی اپنا یوٹیوب نیوز چینل لانچ کر دیا۔ یہ چینل بھی آزادی نیوز چینل کی طرح ہی چلتا ہے۔ اس چینل پر نشر کیے جانے والا مواد اس اخبار کے نام کی وجہ سے زیادہ مقبولیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ فیس بک پر بڑی تعداد میں صفحات نے کوئٹہ میں احتجاج کو براہ راست نشر کیا۔ ’سوجاگ نیوز‘ نے بھی ایک ٹاک شو پروگرام کا آغاز کیا ہے جہاں پر وہ ہر جمعہ کی شب بلوچستان کے مسائل پر گفتگو کرتے ہیں۔

8 اگست سے میں بھی انٹرنٹ پر براہ راست نشریات کا آغاز کروں گا۔ ’عدنان عامر کے ساتھ براہ راست‘ فیس بک اور یوٹیوب پر ایک ہی وقت میں براہ راست نشر ہو گا اور بلوچستان میں سیاست، سوسائٹی اور معیشت پر بات کرے گا۔

ان کامیابی کی کہانیوں کے پیچھے مسائل بھی ہیں۔ ان اداروں کے فیس بک اور یوٹیوب چینلوں کو اکثر دھمکیاں دی جاتی ہیں کہ وہ حساس معاملات پر گفتگو نہ کیا کریں۔

برکھان میں 23 جولائی کو ایک صحافی کو قتل کر دیا گیا تھا اس بات کے باوجود کہ وہ کوئی براہ راست خبریں نشر نہیں کر رہا تھا لیکن اپنی فیس بک پر اہم خبریں نمایاں کر رہا تھا۔ تاہم سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو ایک ہی طرح کی دھمکیاں موصول ہوتی ہیں۔

اسی طرح اگر براہ راست پروگرام کرنے والے ایف آئی اے کے قوانین پر پورا نہیں اترتے تو ان کو سائبر جرائم کے کیس

سے دھمکایا جاتا ہے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ جب تک حکومت بلوچستان صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام نہیں کرے گی، سوشل میڈیا چینل بھی اس صوبے کے نظر انداز مسائل کو سرفہرست لانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔   

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -