بلوچستان میں سوشل میڈیا پر متحرک شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا

بلوچستان میں سوشل میڈیا پر متحرک شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا

ایف این کی دھمکیوں کا تجزیہ – جولائی 2020

پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک پروگرام کی طرف سے چلائے جانے والے سول ایوارڈ یافتہ ادارے فریڈم نیٹ ورک نے جولائی 2020 میں صحافیوں اور میڈیا کے کارکنان پر ہونے والے خلاف ورزیوں کے 23 کیس درج کیے۔

ان واقعات میں صحافی مطیع اللہ جان کے اسلام آباد میں 12 گھنٹوں کے لیے اغوا ہونا اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے فیس بک اور ٹویٹر پر متحرک شخص کا گولی مار کر قتل ہونا شامل ہے۔  

اسلام آباد میں قائم فریڈم نیٹ ورک صحافیوں کو چار مختلف شعبوں میں کراچی، لاہور، کوئٹہ، اسلام آباد، پشاور، لنڈی کوتل اور خضدار میں فروری 2016 سے مدد فراہم کر رہا ہے۔

یہ حیران کن بات نہیں ہے کہ اسلام آباد میں 23 میں سے 10 کیس ریکارڈ ہوئے ہیں جبکہ پنجاب میں پانچ، سندھ میں چار اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دو دو کیس ریکارڈ ہوئے۔

 قتل: 23 جولائی 2020 کو شام ساڑھے پانچ بجے بلوچستان کے ضلع بارکھان کے علاقے نہرکوٹ میں نامعلوم افراد نے سوشل میڈیا کے کارکن انور جان کھتران کو مبینہ طور پر فیس بک اور ٹویٹر پر سخت سوالات پوچھنے کی وجہ سے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

ڈی سی برخان نے اس قتل کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ لاش کو قریبی ہسپتال منتقل کر کے تفشیش کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ انور جان زیادہ تر برکھان کے ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن کے حوالے سے اور صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھتران کے خلاف لکھتے تھے۔ ایف آئی آر میں مرحوم کے بھائی نے بلوچستان کے وزیر عبد الرحمان کھتران اور اس کے گارڈز کو نامزد کیا۔ وزیر نے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔ 31 جولائی 2020 تک، پولیس نے ملزمان کو گرفتار نہیں کیا تھا۔

اغوا کاری: 21 جولائی 2020 کو سینیئر صحافی اور سوشل میڈیا کارکن مطیع اللہ جان کو اسلام آباد کے ایک مقامی سکول کے باہر سے اغوا کیا گیا۔ اس کی بیوی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صحافی کو سپریم کورٹ کی طرف سے ٹویٹر پر اپنی رائے کا اظہار کرنے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا گیا تھا۔  وہ 12 گھنٹے کے بعد گھر واپس لوٹ آئے۔

صحافی کے اغوا ہونے کے بعد، ان کے بیٹے نے اپنے والد کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے ٹویٹ کیا کہ ’میرے والد مطیع اللہ کو اسلام آباد میں اغوا کیا گیا ہے۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ انہیں بازیاب کرایا جائے اور اس واقعے میں ملوث ایجنسیوں کے خلاف فوری طور پر ایکشن لیا جائے۔ خدا انہیں محفوظ رکھے۔‘ اپنے یوٹیوب چینل پر صحافی نے تفصیلی طور پر بیان کیا کہ اغوا ہونے والے 12 گھنٹوں میں ان کے ساتھ کیا سلوک ہوا۔

صحافی کا ماننا ہے کہ اس کا اغوا اس کے سپریم کورٹ سے ازخود نوٹس ملنے سے جڑا ہوا ہے۔ سکول کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس کی وردی میں ملبوس اغوا کاروں نے ایک پولیس جیسی گاڑی میں صحافی کو بٹھا کر فرار ہوگئے۔

سپریم کورٹ میں ایک جج کے خلاف سوشل میڈیا پر بیان دینے کے سلسلے میں 15 جولائی کو سپریم کورٹ نے مطیع اللہ جان کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔

زخمی: 13 جولائی 2020 کو صبح 10 بجے روزنامہ ایگل فلائٹ کے صحافی اشرف لکھانی پر مبینہ طور پر محمد ناصر سمیت دیگر نامعلوم افراد نے پنجاب کے علاقے ڈیرہ غازی خان میں حملہ کیا۔ صحافی کو سر پر چوٹیں آئیں۔ مقامی پولیس نے ناصر کو حراست میں لے لیا جبکہ صحافی کو نزدیک ہسپتال منتقل کر دیا۔

مقامی لوگوں کو اپنے جال میں پھنسانے کے حوالے سے صحافی نے ناصر اور اس کے بااثر والد کے خلاف رپورٹنگ کر رہا تھا۔ نامعلوم افراد نے صحافی کے گھر پر حملہ کیا اور اس کی والدہ پر حملہ کیا جس کی وجہ سے ان کو سر پر چوٹیں آئیں۔ نامعلوم افراد نے اشرف لکھانی کی بیٹی کو اغوا کرنے کی بھی کوشش کی۔ لکھانی کے مطابق لطیف اور اسحاق نے اسے توہین رسالت کے کیس میں بھی ملوث کرنے کی کوشش کی ہے۔ صحافی کا کہنا ہے کہ اس کی غلطی صرف یہ تھی کہ اس نے اس کے خاندان کی غلطیاں سب کے سامنے لائیں۔

حراست: صوبہ سندھ کے ضلع خیر پور میں دھرتی ٹی وی کے بیورو چیف اور صحافی شیراز شاہ جیلانی کو 28 جولائی 2020 کو پولیس نے حراست میں لے لیا اور اس کے خلاف کیس بھی درج کر لیا۔ مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ جب شیراز اپنی گاڑی میں واپس گھر لوٹ رہا تھا تو پولیس نے اس کی گاڑی کو روکا۔ اس کی گاڑی سے شراب کی بوتلیں برآمد ہوئیں۔ صحافیوں کا ماننا ہے کہ پولیس خود ہی اپنے ساتھ وہ بوتلیں لے کر آئی تھی۔ 1979 کے حدود آرڈینینس کے سیکشن 4/3 کے تحت پولیس نے کیس درج کر لیا اور صحافی کو خیرپور کے سول جج کے سامنے پیش کر دیا۔ جج نے صحافی کو خیر پور جیل منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔

صحافیوں کا کہنا ہے کہ ’شیراز شاہ ہر وقت سوشل میڈیا اور اپنے چینل پر پولیس کے خلاف خبریں نشر کرتا تھا جس کی وجہ سے پولیس نے اس کے خلاف بدلے کے طور پر یہ کیس شیراز پر بنا دیا۔‘

مندرجہ ذیل لنک پر کلک کر کے جون 2020 کی دھمکیوں کا تجزیہ لیجیے:

حملہ: 24 نومبر 2019 کو دی نیوز کے صحافی امداد سومرو نے اخبار دی نیوز میں ’میڈیا پر حملے‘ کے نام کی رپورٹ شائع کی تھی۔ اس نے یہ رپورٹ سوشل میڈیا پر بھی شائع کی تھی۔ یکم جولائی 2020 کو صحافی نے ایف آئی اے سائبر کرائم میں عبداللہ چھاچھڑ نام کے شخص کے خلاف شکایت درج کروائی کیونکہ وہ اس کو سوشل میڈیا پر گالیاں دے رہا تھا۔

اس کے کیس کو ایف آئی اے کے سکھر دفتر منتقل کر دیا گیا۔ امداد اور اس کا قانونی مشیر سائبر کرائم کے سکھر دفتر گئے جہاں پر عبداللہ نے صحافی پر حملہ کرنے کی کوشش کی اور صحافی کا گاڑی میں پیچھا بھی کیا۔ امداد ایس ایس پی سکھر کے پاس کیس کی رپورٹ درج کروانے آیا۔ پولیس نے اس کو تحفظ فراہم کیا تاہم ایف آئی اے عبداللہ کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ملزم ایک حکومتی ملازم ہے جو ضلع سکھر میں ایک کلرک کی ڈیوٹی کرتا ہے۔

23 جولائی 2020 کو بدین پریس کلب کے جنرل سیکرٹیری اور سینیئر صحافی شوکت میمن اور اس کے جی این این کے کیمرا مین باغ علی جنیجو کو ایک ہجوم نے مارا۔ ضلع ملاح سے چند لوگ قاضی واہ کے بینک قرض لینے کے لیے تشریف لے آئے جب بینک والوں کے ساتھ ان کا جھگڑا ہو گیا۔ شوکت میمن اور اس کے کیمرا مین اس واقعے کی رپورٹنگ کرنے کے لیے وہاں پہنچ گئے تاہم اس ہجوم نے ان کو بھی نہیں بخشا۔ انہوں نے دونوں سے ان کے موبائل چھین لیے۔ اس کے بعد پولیس نے ریڈ کر کے ملزمان کو حراست میں لے لیا۔ یہ بات دیکھتے ہوئے اس برادری کے سربراہ ساگر ملاح پریس کلب پہنچ گئے تاکہ معاملہ کورٹ کے باہر ہی حل ہو جائے۔

گھر پر حملہ: 7 جولائی 2020 کو خیبر پختونخوا کے ضلع کرم کے علاقے صدہ سے تعلق رکھنے والے صحافی انور شاہ کےگھر پر بارود سے حملہ کیا گیا۔ تاہم گھر والوں کے بقول اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اپنے کام کی وجہ سے ملنے والی دھمکیوں کی وجہ سے انور شاہ پہلے ہی پاکستان سے باہر جا چکا ہے۔

اس سے قبل اسے ریاستی اور غیرریاستی ایکٹر سے دھمکیاں موصول ہو چکی ہیں۔ علیزئی پولیس تھانے میں نامعلوم افراد کے خلاف ایک ایف آئی آر بھی درج کروائی گئی ہے۔ اس کیس کی ابھی تک تفتیش چل رہی ہے تاہم ابھی تک کوئی بھی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی ہے۔

9 جولائی 2020 کو چند نامعلوم افراد نے روزنامہ ایف آئی آر کے ایڈیٹر چوہدری محمد اسلم کی رہائش پر فائرنگ کی۔ صحافی کا کہنا تھا کہ اس نے اپنے اخبار میں اسلام آباد کے علاقے بارہ کہو میں زمین مافیا پر رپورٹ شائع کی تھیں۔ یہ واقعہ اسلام آباد کے علاقے بارہ کہو کے انگوری روڈ پر عمل میں آیا۔ پولیس نے کیس کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی ہے تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔

پریس کلب پر حملہ: 27 جولائی 2020 کو سندھ رینجرز کے اہلکاروں نے کراچی پریس کلب میں گھس کر کمروں کی چھان بین کی اور تصاویر بنائیں۔ کراچی پریس کلب کے کونسل نے اس عمل کو پریس کلب کے تقدس کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ کلب میں امن و امان اپنی اہمیت ضرور رکھتے ہیں تاہم اس طرح پریس کلب میں گھسے آنا ’ایک تشویشناک عمل‘ تھا۔ کراچی پریس کلب نے سندھ رینجرز پر زور ڈالا کہ اس واقعے میں ملوث عملے کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔

کراچی پریس کلب کے سیکرٹری ارمان صابر کا فریڈم نیٹ ورک سے کہنا تھا کہ رینجرز کا عملہ بغیر اجازت کے پریس کلب کے اندر آگیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پریس کلب کی کچھ روایات ہیں جن کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے اس واقعے کا فورا نوٹس لیتے ہوئے یہ بیانیہ جاری کیا ’اس طرح کے واقعات نے پریس کلب کی روایات کی خلاف ورزی کی ہے اور انہیں مزید برداشت نہیں کیے جائے گا۔‘

9 جولائی کو بلیو ورلڈ سٹی کے لواحقین راولپنڈی میں پریس کانفرنس کر رہے تھے جب ڈنڈے تھامے پکڑے 30 سے 35 افراد پریس کلب میں بغیر اجازت کے داخل ہوگئے۔ انہوں نے کانفرنس ہال میں میڈیا کے نمائندوں کے مائیک چھین لیے اور متاثرہ لوگوں پر حملہ شروع کر دیا۔ حملہ آوروں نے صحافیوں اور متاثرین پر اینٹوں کی بارش کر دی۔ حملہ آوروں نے دو ڈی ایس این جی وین کے شیشے بھی توڑ دیئے۔ پولیس میں ان حملہ آوروں کے خلاف کیس درج کروایا گیا۔ پولیس نے ان حملہ آوروں کو حراست میں لے  کر کورٹ میں پیش کیا جہاں انہیں ضمانت ہو گئی۔

لکھی ہوئی دھمکیاں: کوہاٹ پریس کلب کے پتے پر 18 جولائی 2020 کو طالبان کی طرف سے دی نیوز کے صحافی سید یاسر شاہ کو پاکستان پوسٹ کی طرف سے ایک دھمکی آمیز خط موصول ہوا۔ اس خط میں تحریک طالبان کے نمائندے محمد خراسانی نے صحافی کو ان کے خلاف لکھنے کا الزام لگایا۔ صحافی کو اپنے گھر والوں کے ساتھ علاقہ چھوڑ دینے کا حکم دے دیا گیا ورنہ اسے مارنے کی دھمکی بھی دی گئی۔ صحافی نے کیس پولیس کو رپورٹ کر دیا جو تحقیقات کر رہے ہیں۔

زبانی دھمکیاں: 23 جولائی 2020 کو بلوچستان کے ضلع سبی سے تعلق رکھنے والے نیو نیوز ٹی وی کے صحافی رمیش کمار کو ایک ٹھیکیدار نے ایک سڑک کے منصوبے میں کرپشن کے الزام لگانے پر دھمکی دی۔ سبی پریس کلب کے چند نمائندوں نے ایس ایچ او سبی سے اس واقعے پر ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست پیش کی۔ سبی پریس کلب نے ایف آئی آر درج نہ ہونے پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہو سکی ہے۔

پنجاب کے ضلع بہاولپور کے علاقے خیر پور کے ایس ایچ او نے 92 نیوز کے صحافی محمد اعجاز بھٹہ کو اپنے خلاف رپورٹ شائع کرنے پر دھمکی دی۔ ڈاکوؤں اور شراب فروخت کرنے والے قیدیوں کو مبینہ طور پر رہا کرنے کی رپورٹ شائع کرنے پر ایس ایچ او نے اپنے پاس بلا کر زبانی دھمکی دی۔ اپنے خلاف خبر شائع ہونے پر پولیس افسر کو غصہ آیا اور اس نے صحافی کو دھمکی دے دی۔

9 جولائی 2020 کو کوہ نور کے اینکر اور صحافی احسن ضیا کو نامعلوم لوگوں کے نام پر موبائل سم سے فون پر دھمکی آمیز میسج اور کالز موصول ہوئیں۔ ایک میسج میں اگلے سال اس کی موت کی برسی کے بارے میں لکھا گیا تھا جبکہ ایک دوسرے پیغام میں صحافی کی نقل و حرکت کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ نامعلوم افراد تین دن سے اس کا پیچھا کر رہے ہیں۔

صحافی کا کہنا ہے کہ وہ کافی مرتبہ اس کے قریب سے گزرے تاہم ابھی بھی وہ کسی بھی وقت کسی چیز کی توقع نہیں رکھ رہا۔ تاہم صحافی نے کسی گروہ یا کسی فرد کا نام نہیں لیا۔ صحافی کا ماننا ہے کہ ریاستی اداروں اور ملک کے طاقتوروں کے حوالے میں لکھنے کی وجہ سے اسے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ صحافی دی نیوز آن سنڈے کے لیے بھی کام کرتے ہیں۔ 9 جولائی 2020 کو پولیس نے قلعہ گجر سنگھ پولیس سٹیشن لاہور میں ٹیلی گراف ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کروائی۔

راولپنڈی پریس کلب کے حملے والے کیس میں رپورٹ درج کروانے والے صحافیوں نے یہ درخواست کی کہ حملہ آوروں نے صحافی کو دھمکیاں دیں جن میں این این آئی کے فوٹو گرافر ساجد خان، سما نیوز کے کیمرامین وسیم چوہدری، آن لائن نیوز ایجنسی کے ملک اقبال، روزنامہ پبلک آئی کے صحافی محمد عسکری اور ڈان نیوز کے کیمرامین راحیل قریشی شامل ہیں۔ یہ وہ صحافی ہیں جن کو ہجوم نے دھمکیاں رسید دی تھیں اور بلیو ورلڈ سٹی کی نیوز کوریج بھی کی تھی۔

 13 جولائی 2020 کو روز ٹی وی کے اینکر پرسن ثاقب قریشی نے سی ڈی اے سے تعلق رکھنے والے افسر رانا فرحان اور اسٹیٹ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار جونیجو سے منسلک کرپشن کے کیس پر ایک رپورٹ نشر کی۔ اس رپورٹ پر سی ڈی اے کے چیرمین نے ایکشن لیا اور ایف آئی اے نے ایک انکوائری شروع کر دی۔ اس خبر کو نشر کرنے کے بعد اینکر پرسن کو دھمکیاں موصول ہونا شروع ہو گئیں۔ اس کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس کے دفتر والوں نے اس پر دباؤ ڈالا کہ وہ یہ خبر نشر نہ کرے۔ 
سنسرشپ: جیو نیوز چینل کے اینکر پرسن حامد میر نے ٹویٹر پر بتایا کہ مطیع اللہ جان کے سپریم کورٹ آف پاکستان میں بیان ریکارڈ کرنے کے بعد ان کے پروگرام کا وہ حصہ جو صحافی کے اغوا کے متعلق تھا، اسے ریاستی ادارے کی ہدایت پر سنسر کر دیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کے مطیع اللہ جان کے اغوا کے پیچھے قانون نافذ کرنے والی سویلین ایجنسیوں کے علاوہ دیگر انٹیلیجنس ایجنسیاں شامل ہیں۔ جیو نیوز کی انتظامیہ نے کیپیٹل ٹاک شو  کا وہ حصہ  جو اغوا کے متعلق تھا سنسر کر دیا۔

 قانونی کیس: عدلیہ کے خلاف بیانات دینے کے سلسلے میں سپریم کورٹ نے 15 جولائی 2020 کو صحافی مطیع اللہ جان کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا۔ کیس چیف جسٹس گلزار احمد سمیت جسٹس اعجاز الحسن اور جسٹس مظہر عالم خان کے تین ممبر بینچ نے سنا۔ عدالت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کو بھی نوٹس جاری کر دئیے۔ کورٹ نے اپنے بیان میں یہ بات ریکارڈ کروائی کہ 10 جولائی کو ایک ٹویٹ میں صحافی نے عدلیہ کے خلاف ’سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔‘ صحافی کو عدالت میں پیش ہونے سے ایک دن قبل اغوا کر لیا گیا تھا۔ 23 جولائی کو سپریم کورٹ نے صحافی سے تفصیلی بیان طلب کر لیا ہے۔

16 جولائی 2020 کو ڈی ایس پی کرور امتیاز چنگوانی اور ایس ایچ او دانش علی کے درمیان موجود 92 نیوز کے صحافی محمد عمران نے صوبہ پنجاب کے علاقے فتح پور اور لیہ میں زمین مافیا کے خلاف ایکشن کی کوریج کے لیے موجود تھا۔ ایک دن بعد، جس شخص پر زمین قبضہ کرنے کا الزام تھا نے صحافی کو دھمکیاں دیں اور فتح پور پولیس سٹیشن میں اس کے خلاف درخواست ریکارڈ کروائی جس میں انکشاف کیا کہ صحافی کے ہمراہ چند چوروں نے اس کی رہائش میں زبردستی گھس کر لاکھوں کی چوری کی ہے۔ صحافی کا ماننا ہے کہ یہ درخواست بدلے کے طور پر درج کروائی گئی ہے۔

پیمرا ایکشن میں:

پیمرا نے 24 نیوز چینل کو معطل کر دیا

میڈیا کو دھمکی دینے والے اداکار

جولائی 2020 میں ٹی وی کے گیارہ، پرنٹ میڈیا کے نو جبکہ ڈیجیٹل میڈیا کے تین کیس درج ہوئے

 میڈیا پر حملہ کرنے والے اور ہراساں کرنے والے عناصر

گیارہ خلاف ورزیوں میں زمین مافیا سات کیس میں ملوث جبکہ ریاستی عناصر چار کیس میں مبینہ طور پر ملوث ہیں۔ بقایا چار کیس میں ملوث عناصر کا پتہ نہیں لگایا جا سکا ہے۔

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -