مشکل سوالات کرنے پر وزیر اعظم کے مشیر ڈاکٹر گل کا صحافی کے خلاف غلط زبان کا استعمال

مشکل سوالات کرنے پر وزیر اعظم کے مشیر ڈاکٹر گل کا صحافی کے خلاف غلط زبان کا استعمال

ایف این دھمکیوں کا تجزیہ – جون 2020

ایوارڈ یافتہ فریڈم نیٹ ورک کی طرف سے 2016 سے چلائے جانے والے پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک پروگرام نے جون 2020 میں صحافیوں پر ہونے والی خلاف ورزیوں کے 12 کیس درج کیے۔

اسلام آباد سے منسلک فریڈم نیٹ ورک صحافیوں کو چار مختلف شعبوں میں کراچی، لاہور، کوئٹہ، اسلام آباد، پشاور، لنڈی کوتل اور خضدار میں فروری 2016 سے مدد فراہم کر رہا ہے۔

پچھلے ماہ میں سندھ میں چھ کیس رپورٹ ہوئے جبکہ خیبر پختونخوا میں تین جبکہ بلوچستان میں ایک اور آزاد جموں کشمیر میں ایک کیس سامنے آیا۔

قتل کرنے کی کوشش: سندھ کے ضلع شکار پور میں روزنامہ کوشش کے لیے کام کرنے والے صحافی جمیل مہر پر 2 جون 2020 کو نامعلوم افراد نے اس کی لکھی غلام شاہ میں رہائش پر حملہ کیا۔ اس نے فریڈم نیٹ ورک کو بتایا کہ موٹر سائیکل پر سوار افراد نے اس پر گولیاں فائر کیں جن کی وجہ سے وہ زخمی ہو گیا اور اسے فورا علاج کے لیے سکھر کے سول ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ نامعلوم افراد کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 324/114 اور 34 کے مطابق 3 جون 2020 کو چک پولیس سٹیشن نے 10/2020 کی ایف آئی آر درج کر دی۔

 ڈپٹی آئی جی پولیس عرفان بلوچ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے چار ممبر پر مبنی جے آئی ٹی تشکیل دے دی۔ تاہم ابھی تک یہ ٹیم کسی نتیجے پر نہیں پہنچی ہے۔ پولیس کے مطابق نامعلوم افراد ابھی تک فرار ہیں۔ جمیل شکار پور یونین آف جرنلسٹس کا سینیئر نائب صدر ہیں۔

گرفتاری: 20 جون 2020 کو عوامی قانون کے 3 ایم پی او کے تحت خیبر نیوز ٹی وی کے صحافی عبدالمتین اچکزئی اور سما نیوز کے سعید علی اچکزئی کو ضلعی انتظامیہ نے گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس کے بعد دونوں کو بلوچستان کے مچھ جیل منتقل کر دیا گیا۔ دونوں کو 23 جون کو رہا کیا گیا تاہم دونوں کے جسم پر تشدد کے نشان واضح تھے۔ دونوں صحافیوں نے چمن میں موجود ایک قرنطینہ سینٹر میں اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ 

متین اچکزئی نے فریڈم نیٹ ورک کو بتایا  کہ ’میری غلطی یہ تھی کہ میں نے چمن میں قرنطینہ کے حالات پر رپورٹنگ کی تھی۔‘ فریڈم نیٹ ورک، رپورٹرز بغیر بارڈر اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کی طرف سے رد عمل سامنے آنے کے بعد بلوچستان کے قبائلی وزیر میر ضیا لانگو اور ایم پی اے اصغر خان اچکزئی  نے احتجاج کرنے والے صحافیوں کو یقین دہانی دلائی کہ اس واقعے میں ملوث افسر ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

لانگو کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی جام کمال خان جمالی نے واقعے کا نوٹس کے لیا ہے اور صحافیوں کی گرفتاری اور ان پر ہونے والے تشدد پر انکوائری کا حکم دیا ہے۔

حراست: 26 جون 2020 کو سچ نیوز کے رپورٹر واجد شہزاد اور کیمرامین ارسلان خان کو پشاور کے علاقے تہکال میں ٹریفک پولیس نے حراست میں لے لیا۔ افغان شہری عامر پر ہونے والے پولیس کے تشدد کے واقعے کر رپورٹنگ کرنے کے لیے یہ صحافی اور کیمرامین اس علاقے میں موجود تھے۔ اس کوریج کے دوران پولیس کے عملے نے صحافی پر تشدد کیا اور اسے اور کے کیمرا مین کو حراست میں لے کر پولیس سٹیشن لے گئے۔ پشاور پریس کلب کی طرف سے مداخلت کے بعد صحافی اور کیمرا مین کو رہا کر دیا گیا۔ سینیئر پولیس کے عملے نے اس واقعے کی انکوائری کا حکم دیا ہے۔

آف لائن ہراساں: ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں کرونا کے حالات میں 24 جون 2020 کو ایک عوامی جلسہ منعقد کرنے کے سلسلے میں ایک وفاقی وزیر پر رپورٹ شائع کرنے کے نتیجے میں صحافی ساجد بلوچ نے ہراساں کیے جانے کی رپورٹ درج کروائی۔ صحافی نے فریڈم نیٹ ورک کو بتایا کہ وزیر علی امین گنڈا پور نے مقامی پولیس پر زور ڈالا کہ وہ اسے ہراساں کرے اور اس کے گھر پر ریڈ کرے جبکہ ضلع کے پولیس افسر نے  ڈیرہ اسماعیل خان  کے ڈپٹی کمشنر کو خط لکھا جس میں اجازت مانگی گئی کہ صحافی کو پبلک آڈر کے قانون کے 16 مینٹینس کی شک کے تحت ہری پور جیل منتقل کر دیا جائے۔ فریڈم نیٹ ورک کے معاملے میں مداخلت کے بعد ضلعی انتظامیہ کو خبردار کیا گیا کہ صحافیوں کو اپنے کام کرنے کی مکمل آزادی فراہم کی جائے۔

25 جون 2020 کو کراچی پولیس نے دنیا نیوز کے سینیئر صحافی مسعود رضا کو حراست میں لے کر پولیس سٹیشن منتقل کر دیا۔ صحافی نے پولیس کے سینیئر افسران سے بات کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ پولیس کے اس ہراساں والے روئیے سے اپنی جان بچا سکیں۔ سندھ کے وزیر معلومات ناصر حسین شاہ نے صحافی کو خود فون کیا اور معذرت کی کہ اسے پولیس سٹیشن میں اتنا وقت گزارنا پڑا۔ سندھ کے پولیس چیف نے ایکشن لینے ہوئے اس تھانے کے سینیئر افسر کو معطل کر دیا اور صحافی سے بدتمیزی سے گفتگو کرنے کے لیے اسے شو کاز نوٹس بھی جاری کر دیا۔ صحافی نے پولیس سٹیشن میں پانچ گھنٹے گزارے جس کے بعد اسے جانے کا حکم دے دیا گیا۔  

اسلام آباد میں واقع پریس اور معلومات کے دفتر میں وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے سیاسی مواصلات ڈاکٹر شہباز گل نے 5 جون 2020 کو نیوز ون کے صحافی کاشف رفیق کو اس وقت ہراساں کرنے کی کوشش کی جب صحافی نے اس سے دو سوال پوچھ لیے۔ صحافی نے پہلے مشیر سے اس کی دوہری شہریت کے بارے میں پوچھا اور اس کے بعد صحافی نے مشیر پر لگائے گئے قائد اعظم یونیورسٹی کی طلبہ کی جانب سے جنسی ہراساں کے الزام کے بارے میں پوچھا۔ اس پر مشیر غصے میں آگیا اور کہا کہ ’یا تم نے مجھے رشتہ دینا ہے؟۔‘ مشیر نے صحافی کو ایک ’لفافی صحافی‘ قرار دیا۔

اس پریس کانفرنس میں موجود باقی صحافیوں نے مشیر کے اس بیان پر احتجاج کیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے ایم این اے اور میڈیا کوآرڈینیٹر علی نواز عوان نے معاملے کو اٹھایا اور مشیر کی طرف سے معافی آنے کے بعد معاملہ حل ہو گیا۔

قانونی کیس: سوشل میڈیا کے کیس میں دی پاکستان اردو کے لیے کام کرنے والے صحافی مدثر غفور کو ایف آئی اے کے تحقیقاتی انسپکٹر محمد سلیم رند نے 17 جون 2020 کو کیس نمبر 140/20202 کے سلسلے میں ایف آئی اے کے کراچی دفتر طلب کر لیا۔ مدثر غفور نے فریڈم نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اس کیس کے لیے قانونی مدد مانگ لی ہے۔ صحافی کے خلاف شکایت کراچی کے میئر وسیم اختر نے دائر کی کیونکہ صحافی نے اپنی اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو ڈالی تھی۔

کراچی کے آئل ٹرمنل پر ایک تحقیقاتی خبر کے پیچھے صحافی لگا ہوا تھا – جس میں ایم کیو ایم کے حیدر عباس رضوی کا بھائی اور وسیم اختر شامل ہیں۔ تاہم وسیم اختر نے ایف  آئی اے کو صحافی کے پیچھے لگا دیا۔ صحافی نے پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 174  کے تحت اپنا بیان اس تحقیقاتی افسر کو ریکارڈ کروایا۔

سوشل میڈیا پر قتل ہو جانے والے صحافی عزیز میمن کے قتل پر برا تبصرہ کرنے کے نتیجے میں سینیئر سندھی صحافی اخلاق جوکھیو کو 3 جون 2020 کو حراست میں لے لیا۔ پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 500/501 اور 506/2 کے تحت ایک جج نے صحافی پر ایف آئی آر نمبر 100/2020 درج دی۔ ایف آئی آر 2 جون 2020 کو درج ہوئی۔ صحافی کو مہراب پور پولیس اسٹیشن میں قید کر کے رکھا گیا۔ صحافی نے نو شہرو فیروز کے کورٹ میں اس کیس کے خلاف اپیل دائر کی اور یہ موخر اپنایا کہ پولیس کے پاس اس پر ایف آئی آر درج کرنے کا اقتدار نہیں ہے۔ کورٹ نے صحافی کو 5 جون 2020 کو ضمانت دے دی۔

ایک کینیڈا میں مقیم پاکستانی نے جیو نیوز کے اینکر شاہ زیب خان زادہ اور جی این این کی اینکر عائشہ بخش کے خلاف 24 جون 2020 کو سپریم کورٹ میں کیس دائر کر دیا۔ احمد علی سید جو کہ ’میں دنیا بھر میں ایک پاکستانی تحریک ہوں‘ چلاتا ہے کا موقف ہے کہ دونوں اینکر نے اپنے پروگرام ’آج شاہ زیب خان زادہ کے ساتھ‘ اور ’فیس ٹو فیس عائشہ بخش کے ساتھ‘ میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار پر ڈیم فنڈ کے حوالے سے بے بنیاد الزامات لگائے ہیں۔ احمد نے ان کے میڈیا تنظیموں کے خلاف ریفرینس بھی درج کروائے ہیں۔

17 جون 2020 کو ڈان نیوز کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صحافی طارق نقاش کی ٹویٹ پر چند وکلا نے 30 جون کو اس کے خلاف توہین عدالت کا کیس دائر کر دیا۔ صحافی نے  لکھا تھا کہ ’جب ججوں کو برادری اور علاقائی بنیادوں پر مقرر کیا جائے گا تو ان کے فیصلے تو یقیناً متوازن نہیں ہوں گے۔‘

اس پر کشمیر کی عدالت نے صحافی سے جواب طلب کر لیا جو صحافی نے جمع کروا دیا ہے۔

مئی 2020 کے دھمکیوں کے ڈیٹا کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کریں:

میڈیا کو دھمکی دینے والے اداکار

12 کیسوں میں سے آٹھ ٹیلی ویژن، تین پرنٹ اور ایک ڈیجیٹل صحافی کا ہے۔

میڈیا پر حملہ کرنے والے اور ہراساں کرنے والے اداکار

ان میں سکیورٹی ایجنسی، پولیس، وزیر اعظم کے مشیر اور ایک سیاسی جماعت شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مبینہ قتل کے کیس کے ادا کار کا ابھی تک پتہ نہیں لگ سکا ہے۔   

ڈاکٹر شہباز گل وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -