اس سال سندھ میں دوسرے صحافی قتل

اس سال سندھ میں دوسرے صحافی قتل

ایف این ڈیٹا کا تجزیہ – مئی 2020

ایوارڈ یافتہ فریڈم نیٹ ورک کی طرف سے چلائے جانے والے پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک پروگرام نے مئی  2020 میں صحافیوں پر ہونے والی خلاف ورزیوں کے آٹھ کیس ریکارڈ کیے جن میں صوبہ سندھ میں اس سال قتل کیے جانے والا دوسرے صحافی کا واقع بھی شامل ہے۔

اسلام آباد میں قائم فریڈم نیٹ ورک صحافیوں کو چار مختلف شعبوں میں کراچی، لاہور، کوئٹہ، اسلام آباد، پشاور، لنڈی کوتل اور خضدار میں فروری 2016 سے مدد فراہم کر رہا ہے۔

پچھلے ماہ پنجاب میں تین جبکہ خیبر پختونخوا اور سندھ میں دو کیس سامنے آئے جبکہ مہینے کا آٹھواں واقعہ جموں کشمیر سے رپورٹ کیا گیا۔

قتل: صوبہ سندھ کے ضلع جیکب آباد کے علاقے گڑھی خیرو میں 26 مئی کو نامعلوم افراد نے سندھی زبان کے روزنامہ ’کوشش‘ کے لیے کام کرنے والے صحافی ذوالفقار علی مندھرانی کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ مندھرانی ضلع لاڑکانہ میں ایک مکان میں شدید زخمی حالت میں پایا گیا۔ وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ضلع لاڑکانہ کے ایک ہسپتال میں دم توڑ گئے۔ مقامی صحافیوں کے مطابق مندھرانی کو دودھ پور میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ مندھرانی کا پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد ڈاکٹر یوسف بھٹو کا کہنا تھا کہ صحافی کو سر میں دو گولیاں ماری گئیں جبکہ اس کے جسم پر بھی زخموں کے نشان تھے۔

پولیس نے دو مشکوک افراد کو مندھرانی کے قتل کے سلسلے میں حراست میں لے لیا اور ان کا ماننا ہے کہ صحافی کا قتل ذاتی اختلافات کی وجہ سے ہوا ہے۔ تاہم مقامی صحافیوں کے احتجاج کے نتیجے میں پولیس نے پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 302، 392، 114، 33، 148 اور 149 کے تحت 27 مئی 2020 کو ضلع جیکب آباد کے علاقے دودھ پور کے مقامی پولیس سٹیشن میں ایف آئی آر درج کر دی۔

مقامی صحافیوں کا ماننا ہے کہ مندھرانی کو منشیات کے گروہ سے دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں۔ صحافی کے والد، جام مندھرانی کا کہنا تھا کہ ’میرے بیٹے کو قتل کیے جانے سے کافی دن قبل ہی دھمکیاں موصول ہونا شروع ہو گئیں تھیں۔ وہ گھر واپس لوٹ رہا تھا جب اسے اغوا کر کے قتل کر دیا۔‘

صحافی کی ایک بیوی، چھ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔

مندرجہ ذیل لنک پر کلک کر کے اپریل 2020 کے ڈیٹا کا معائنہ کریں:

زخمی: 22 مئی کو گھر واپس لوٹتے ہوئے ایسوسی ایٹڈ پریس کے سپورٹس کے سینیئر صحافی اعجاز خان پور نامعلوم افراد نے پشاور میں حملہ کر دیا۔ اعجاز کے مطابق تین مسلح افراد نے اس چارسدہ روڈ پر روکا جب وہ واپس اپنے گھر کر طرف لوٹ رہا تھا۔

حملے میں اسے سر پر زخم بھی آئے جس کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ ’مجھے حملے کے پیچھے مقصد کا کچھ علم نہیں ہے تاہم یہ حملہ مجھ اور میرے بیٹے پر ہوا ہے۔‘ اس کا کہنا تھا کہ چند دن قبل بھی اس پر اسی جگہ پر حملہ ہوا تھا جس میں وہ محفوظ رہ گیا تھا۔

گھر پر حملہ: 5 مئی 2020 کو رسالہ ڈان کے صحافی اللہ بخش اریسر کے عمر کوٹ میں گھر پر حملہ ہوا۔ صحافی کے مطابق زمین مافیا اور دیگر مجرم اس حملے میں شریک تھے۔ پولیس کے ڈی آئی جی مشتاق مہر نے پولیس افسران کو فورا ان مجرموں کو گھر سے نکالنے کو کہا۔ اس وقت تک پولیس ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے سے گریز کر رہی ہے۔

صحافی نے فریڈم نیٹ ورک کو کہا کہ اس نے علاقے کے ایس پی سے بھی اس حوالے سے بات کی ہے لیکن وہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ ’مجھے ابھی بھی سوشل میڈیا پر دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔‘ صحافی کا کہنا ہے کہ ان مجرموں سے اسے تحفظ اور سکیورٹی فراہم کی جائے۔

زبانی دھمکیاں: 10 مئی 2020 کو کھر کے اسسٹنٹ کمشنر کی طرف سے باجوڑ سے تعلق رکھنے والے صحافی اور ڈان نیوز کے نمائندہ انورزادہ گلیار کو کوورنا وائرس میں لاک ڈاؤن کے متعلق  دکانداروں کی گرفتاری کی رپورٹ بنانے پر زبانی دھمکیاں دی گئیں۔

ڈرائیور نے اس کا موبائل کیمرا چھین لیا اور اسے پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے کی دھمکی بھی دی۔ اس معاملے کو سوشل میڈیا پر مقامی صحافیوں نے اٹھایا لیکن اس کی کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ انور گلیار کا کہنا ہے کہ اسے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے پکڑے جانے کا نوٹس بھی آیا مگر اس کے باوجود وہ انتظامیہ کے پاس نہیں گیا۔

ضلع رحیم یار خان میں ایکسپریس نیوز  کے صحافی نور محمد سومرو کو فون پر سمگلروں نے دھمکیاں دیں۔ جرائم پر رپورٹنگ کرنے والا صحافی اس گروہ کے خلاف پہلے بھی کافی رپورٹیں شائع کر چکا ہے۔ صحافی کا کہنا تھا کہ ’وہ غصے ہو گئے اور انہوں نے مجھے سبق سکھانے کا سوچ لیا۔‘

فون کرنے والے شخص نے کہا کہ وہ اسے جان سے مار دے گا۔ صحافی نے پتہ لگایا تو اسے معلوم ہوا کہ پاکستان تحریک انصاف کا ایک سینیئر کارکن اسے خاموش کرنے میں لگا ہوا ہے۔

پنجاب کے شہر راولپنڈی میں صادق آباد پولیس سٹیشن میں 2 مئی 2020 کو 24 نیوز چینل کے رپورٹر عثمان جاوید ملک کو پولیس نے دھمکیاں دیں۔ ایک واقعہ میں چوری کرنے والے پولیس کی گرفت سے فرار ہوگئے جس کی رپورٹ عثمان نے جاری کر دی تھی۔  تاہم پولیس نے عثمان سے اس رپورٹ کو شائع کرنے پر معافی مانگنے کا کہا جو عثمان دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔

روزنامہ جموں کشمیر کے ایڈیٹر شہزاد راٹھور کو میرپور کے ایک پولیس افسر عرفان سلیم نے مبینہ طور پر دھمکیاں دیں ہیں۔

ایڈیٹر کا کہنا ہے کہ 18 مئی 2020 کو یہ پولیس افسر اس کے دفتر آیا اور یہ انکشاف کیا کہ اس کے خلاف فیس بک پر اس کا دوست توہین آمیز مواد اپ لوڈ کر رہا ہے جو کہ اسے شہزاد نے فراہم کیا ہے۔ ایڈیٹر نے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔ اس پر ایس ایس پی نے شہزاد کو دھمکیاں دیں اور ایک پریس نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا۔

راٹھور کا ماننا ہے کہ پولیس اس کو اس لیے نشانہ بنا رہی ہے کیونکہ وہ ناقص پولیس افسران کی رپورٹنگ کرتا ہے۔  

قانونی کیس: سابق آئی ایس آئی چیف کے سربراہ کی بیٹی اور وارن بس سروس کی مالکن عظمی گل نے یوٹیوب چینل عون شیرازی نیوز کو 500 کروڑ روپے کا نوٹس بھجوا دیا۔ یہ نوٹس وارن بس سروس پر عون شیرازی کی طرف سے بنائے گئے ایک کلپ کے بعد بھیجا گیا۔ شیرازی کا کہنا ہے کہ یہ کلپ ثبوت کی بنیاد پر نشر کیا گیا ہے۔ دوسری طرف عظمی کا کہنا ہے کہ یہ کلپ ان کو بدنام کر رہا ہے۔

پیمرا ایکشن میں: مئی 2020 میں پیمرا نے ایک بھی نوٹس نہیں جاری کیا۔

میڈیا کے خلاف حملے اور انہیں دی جانے والی دھمکیاں:

مئی 2020 میں پرنٹ کی پانچ، الکٹرانک میڈیا کی دو اور آن لائن صحافی کے خلاف ایک کیس درج ہوا۔

میڈیا پر حملے اور صحافیوں کو ہراساں کرنے والے ایکٹر

آٹھ میں سے تین کیس میں عوامی پولیس ملوث تھی، دو کیسوں میں مجرم گروہ اور دو کیسوں میں ادا کار نامعلوم افراد تھے۔       

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -