دو صحافی اپنی جانوں پر حملوں کے واقعات میں محفوظ رہے

دو صحافی اپنی جانوں پر حملوں کے واقعات میں محفوظ رہے

 ایف این دھمکیوں کے ڈیٹا کا تجزیہ – اپریل 2020

ایوارڈ یافتہ فریڈم نیٹ ورک کی طرف سے چلائے جانے والے پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک پروگرام نے اپریل 2020 میں صحافیوں کے خلاف ہونے والی خلاف ورزیوں کے 15 کیس ریکارڈ کیے۔ ان میں سے ایک واقعہ دو صحافیوں کا تھا جو اپنی جان بچانے میں کامیاب رہے۔

اسلام آباد میں قائم فریڈم نیٹ ورک صحافیوں کو چار مختلف شعبوں میں کراچی، لاہور، کوئٹہ، اسلام آباد، پشاور، لنڈی کوتل اور خضدار میں فروری 2016 سے مدد فراہم کر رہا ہے۔

ان 15 کیسوں میں سے پانچ خیبر پختونخوا سے رپورٹ ہوئے جبکہ اسلام آباد، پنجاب اور بلوچستان سے چار، دو اور دو کیس رپورٹ ہوئے۔ سندھ اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ایک کیس سامنے آیا۔

قتل کی کوشش: صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں واقع پٹیل روڈ پر 22 اپریل 2020 کو روزنامہ آواز کے ایڈیٹر داد شاہ کو ایک پیٹرول بم دھماکے میں نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی گروہ نے قبول نہیں کی ہے۔ ایڈیٹر کی گاڑی کو بھی حملے میں نقصان پہنچا۔

کئی ماہ کے بعد بلوچستان میں ایک صحافی پر حملے کا واقعہ سامنا آیا ہے۔ ایڈیٹر نے بھی اس واقعے کے بارے میں زیادہ نہیں بتایا۔

22 اپریل 2020 کو کام سے واپس گھر لوٹتے ہوئے روز نیوز کے کیمرامین ملک نقاش پر نامعلوم افراد نے خنجر اور پستول کے ساتھ حملہ کیا۔ ملک کو سر، منہ اور کمر پر چوٹیں آئیں۔

کیمرامین  نے اس حملے کی پولیس کو درخواست درج کروائی تاہم ابھی تک پولیس نے اس واقعے سے متعلق کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی ہے۔

گرفتاری: 4 اپریل 2020 کو ڈیرہ اسماعیل خان میں کورونا سے بچاؤ کے قرنطینہ سینٹر کے حوالے سے غلط خبریں پھیلانے کے سلسلے میں مقامی پولیس نے 24 نیوز چینل کے صحافی توقیر زیدی اور کیمرامین وجاہت زیدی کو گرفتار کر لیا۔ گرفتاری کے بعد پولیس نے دونوں سے ان کے موبائل فون بھی چھین لیے۔ ابھی تک یہ موبائل فون واپس نہیں کیے گئے کیونکہ پولیس والوں کا کہنا ہے کہ وہ موبائل انہوں نے ایف آئی اے کے حوالے کر دیئے ہیں۔ فریڈم نیٹ ورک کی طرف سے دباؤ اور وہاں کے مقامی وفاقی وزیر کی مداخلت کے بعد پولیس نے ان صحافیوں کو رہا کیا۔

اس کے بعد دونوں صحافی اپنے موبائل فون واپس لینے کے سلسلے میں فریڈم نیٹ ورک کے پاس آئے۔ 22 اپریل 2020 کو فریڈم نیٹ ورک نے ڈیرہ پولیس کے افسر حافظ واحد محمود سے فون کے ذریعے رابطہ کیا اور ان سے ان صحافیوں کے موبائل کے بارے میں پوچھا۔ حافظ کا جواب تھا کہ موبائل اسلام آباد میں ایف آئی اے کے پاس ہیں۔

ضلع چار سدہ میں کورونا میں مبتلا مریضوں کی صورت حال جاننے پر صوبے کے وزیر اعلی کی پروٹوکول کے بارے میں رپورٹنگ کرنے پر ایک مقامی صحافی عابد جان کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔

چارسدہ پریس کلب کے صدر سبز علی ترین کا کہنا تھا کہ صحافی کو گرفتار کرنے کی وجہ ایک ساتھی صحافی فیض محمد کی عابد جان کے خلاف شکایت درج کرنا تھی۔ تاہم اس سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اس نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی محمود خان کے وی آئی پی کلچر کے بارے میں رپورٹ کیا تھا۔ تاہم کافی سینیئر صحافیوں کا اس معاملے میں پڑنے کے بعد عابد جان اور فیض محمد کے درمیان معاہدہ طے پا گیا اور صحافی کو رہا کر دیا گیا۔

حراست: 3 اپریل 2020 کو مقامی چینل پشتو نیوز کے لیے کام کرنے والے صحافی امین مشال کو خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں مقامی پولیس نے حراست میں لے کر مارا۔ مقامی صحافیوں نے پولیس کو اس صحافی کو مارنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ تاہم فریڈم نیٹ ورک اور مقامی صحافیوں کا اس معاملے میں پڑنے کے بعد پولیس نے صحافی کو رہا کر دیا۔ پولیس نے ابھی تک اپنی اس کارروائی کے دفاع میں ایک بھی دلیل پیش نہیں کی ہے۔

8 اپریل 2020 کو ضلع سرگودھا میں اب تک نیوز چینل کے بیورو چیف انیس اکرم کو پولیس نے کورونا کے خلاف لاک ڈاؤن کے دوران کھلی ہوئی دکانوں پر رپورٹنگ کرنے پر گرفتار کر لیا۔ اس سے قبل انیس نے سرگودھا کی پولیس کے خلاف پتنگ بازی پر بھی رپورٹنگ کی ہوئی ہے۔ پولیس اہلکار نے صحافی کو ڈی پی او عمارہ اطہر کے سامنے پیش کیا جہاں اس نے صحافی کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔ اس نے صحافی سے اس کا موبائل چھین کر اس میں موجود تمام ویڈیو ڈیلیٹ کر دیں۔ یہاں تک کہ صحافی کی موٹر سائیکل بھی چھین لی گئی۔ بعد میں صحافی کو اس کی موٹر سائیکل لوٹا دی گئی۔

صوبہ پنجاب کے ضلع راجن پور کے مزاری گاؤں میں پولیس کی گرفتاروں پر ویڈیو بنانے پر 24 اپریل 2020 کو روزنامہ خبریں کے رپورٹر ناصر مزاری کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ رپورٹر نے پولیس سے سوال کیا کہ کس عمل کے سلسلے میں ان لوگوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے جس پر پولیس افسر غصہ ہوگئے اور صحافی کو بھی گرفتار کر لیا۔ ’تم کون ہوتے ہو ہم سے یہ سوال پوچھنے والے؟‘ یہ کہ کر پولیس نے ناصر کو بھی گاڑی میں ڈال کر بنگلہ ایچا پولیس سٹیشن لے گئے۔ پولیس سٹیشن میں ایک رات گزارنے اور ایک سیاسی کارکن کے آنے کے بعد صحافی کو رہا کر دیا گیا۔

10 اپریل 2020 کو کراچی کے علاقے کورنگی میں فیکٹری کے کارکنان کے دھرنے پر رپورٹنگ کرتے ہوئے سچ نیوز کے رپورٹر اشرف سولنگی اور اس کے کیمرامین کو حراست میں لے لیا گیا۔

فیکٹری کے کارکنان نے اس وقت تک صحافی اور کیمرامین کو حراست میں رکھا جب تک وہاں کی مقامی پولیس اس جگہ پر نہیں پہنچی۔ فیکٹری کی انتظامیہ اس بات سے ناخوش تھی کہ ان کے دھرنے کی رپورٹنگ کی جا رہی تھی۔ مقامی پولیس نے اس واقعے پر انتظامیہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

آف لائن ہراساں: 17 اپریل 2020 کو سی ڈی اے کے اسلام آباد دفتر پہنچ کر اپنی رپورٹنگ کرنے پر وہاں کی انتظامیہ نے صحافی نوشین رحیم اور ساتھی رپورٹر ولید کو اندر آنے کی اجازت نہیں دی۔  

صحافیوں نے پوچھا کہ انہیں اندر نا آنے کی سی ڈی اے کی کوئی نوٹیفیکیشن دکھائی جائے۔ اس پر انتظامیہ نے ان کے ساتھ بدتمیزی کی اور انہیں گالیاں بھی دیں۔ اس واقعے پر صحافیوں نے سی ڈی اے کے چیرمین کو خط لکھا جس کے نتیجے میں چیرمین نے اس واقعے پر تحقیقات کرنے کا حکم دے دیا۔

حملہ: 13 اپریل 2020 کو بلوچستان کے ضلع سبی میں کے ٹو نیوز کے لیے کام کرنے والے صحافی ظہور مگسی پر پولیس والوں نے حملہ کر دیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مگسی ایک ہسپتال میں کورونا کے حوالے سے انتظامات پر رپورٹ بنا رہا تھا۔ اس واقعے پر ایک سینیئر پولیس افسر نے کمیٹی قائم کر دی اور کمیٹی کی رپورٹ نا آنے تک ان پولیس افسر ان کو معطل کر دیا۔

قانونی کیس: 24 اپریل کو آزاد کشمیر کے ہسپتال میں ایک کورونا مریض پر روزنامہ کشمیر ایکسپریس کے صحافی خورشید بیگ نے رپورٹ دی۔ صحافی نے رپورٹ کیا کہ باوجود اس بات کہ مریض ہسپتال میں زیر علاج ہے اس کی حالت میں بہتری نظر نہیں آ رہی ہے۔ دو دن بعد اس کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ اس پر ڈاکٹروں نے ہسپتال کے تمام عملے کو قرنطینہ میں ڈالنے کا حکم دی دیا جبکہ ڈاکٹر خود فرار ہو گئے۔ اس رپورٹ پر ہسپتال کی انتظامیہ نے صحافی پر جھوٹی رپورٹ اور ایف آئی آر درج کرنے کا الزام لگایا۔

زبانی دھمکیاں: خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کے علاقے خار میں روزنامہ خبریں کے لیے کام کرنے والے صحافی نور محمد بنوری نے اپریل میں اپنے علاقے میں ایک تعمیراتی پراجیکٹ میں پائی جانے والی خامیوں پر ایک رپورٹ شائع کی۔ رپورٹ شائع ہونے پر کام کرنے والے ٹھیکہداروں نے صحافی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس رپورٹ کو ہٹا دے۔ اس سلسلے میں انہوں نے صحافی کو 8 اپریل کو دھمکی آمیز کالز بھی کیں۔ صحافی نے اس بات کو مقامی پریس کلب کے سامنے رکھا اور پھر فریقین نے مل کر ایک درمیانی راستہ نکال لیا۔

اسلام آباد کے روزنامہ مراکز کے لیے کام کرنے والے صحافی سیف اللہ سیف پر 2 اپریل کو مافیا کے گروہ نے دھمکیاں دیں۔ فروری 2020 میں صحافی نے اس گروہ کے خلاف ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں ان پر ایک مکان پر ناجائز قبضہ کرنے کا الزام لگایا تھا۔ مافیا نے اس رپورٹ پر صحافی کو دھمکیاں دی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی اس مافیا نے صحافی کے گھر پر بھی فائرنگ کی تھی۔ اس واقعے کے بعد صحافی نے ائرپورٹ پولیس سٹیشن میں ایک ایف آئی آر بھی درج کروائی تھی اور ایف آئی اے کو بھی اس گروہ کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ پولیس نے اس وقت تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی تھی۔ مارچ 2020 میں اس مافیا نے ایک مرتبہ پھر اس صحافی کے گھر پر فائرنگ کی۔ اس مرتبہ صحافی نے سی سی ٹی وی فوٹیج پولیس والوں کے حوالے کی جس میں مافیا کا ایک ممبر صحافی کو گالیاں دے رہا ہے۔ پولیس نے اس ممبر کو 6 اپریل 2020 کو حراست میں لے کر اس کے خلاف عوامی عدالت میں چالان جمع کروا دیا۔

پیمرا ایکشن میں: پیمرا نے ڈان نیوز کو برطانیہ کے وزیر اعظم بارس جان سن کے ہلاک ہو جانے کی جھوٹی خبر چلانے پر نوٹس جاری کر دیا۔ اس کے علاوہ رمضان کے حوالے سے بھی پیمرا نے تمام چینلز کو ہدایت نامہ جاری کر دیے۔ اس کے ساتھ پیمرا نے نیو نیوز کو کہا کہ وہ نیوز اور موجودہ حالات کے پروگرام خود پیش کرے بجائے اس کے کہ وہ کہیں اور سے انہیں نشر کرے۔

میڈیا کے خلاف دھمکیاں، ان پر حملے اور انہیں ہراساں جانا

اپریل کے 15 کیسوں میں سے نو ٹی وی جبکہ چھ پرنٹ میڈیا کے صحافیوں کے خلاف تھے۔

میڈیا اور صحافیوں پر حملہ کرنے والے اور انہیں ہراساں کرنے والے عناصر

اپریل کے ان 15 کیسوں میں سے نو کیسوں میں ریاستی عناصر جبکہ چار کیسوں میں ’کوئی اور‘ اور دو کیسوں میں نامعلوم افراد ملوث تھے۔ 

کیپشن: صحافی عابد جان سلاخوں کے پیچہے

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -