مارچ 2020 میں صحافیوں کو دھمکیاں

مارچ 2020 میں صحافیوں کو دھمکیاں

ایف این کی ان دھمکیوں کا تجزیہ مارچ 2020

ملک کے سب سے بڑے میڈیا گروپ کے ایڈیٹر ان چیف کو ناجائز طریقے سے زمین حاصل کرنے کے مقدمے میں گرفتار کرنا، ایک صحافی کےگارڈ کا قتل، ایک ٹی وی چینل کے ممبر کو ہراساں کیا جانا سمیت دیگر کیس مارچ 2020 میں فریڈم نیٹ ورک کی نگرانی میں چلنے والے پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک نے ریکارڈ کیے۔

اسلام آباد سے منسلک فریڈم نیٹ ورک صحافیوں کو چار مختلف شعبوں میں کراچی، لاہور، کوئٹہ، اسلام آباد، پشاور، لنڈی کوتل اور خضدار میں فروری 2016 سے مدد فراہم کر رہا ہے۔

قتل: 11 مارچ 2020 کو صحافی شیرین زادا کو صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے شہر مینگورہ میں اپنی رہائش پر چھوڑنے کے بعد ان کے پولیس محافظ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ فون پر فریڈم نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے صحافی کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں قاتلوں کا اصل ٹارگٹ وہ تھے۔

ضلع سوات میں ٹارگٹ کلنگ دوبارہ سے عروج پر جب ہم نیوز ٹی وی چینل کے لیے کام کرنے والے صحافی شیرین زادہ کے گارڈ کو مشتبہ لوگوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

گرفتاری: 12 مارچ کو جنگ نیوز گروپ کے ایڈیٹر ان چیف اور سربراہ میر شکیل الرحمان کو نیب عدالت نے گرفتار کر لیا جب وہ عدالت میں ایک دھائی قبل کیس کی پیشی کے لیے پہنچے تھے۔ ان کے گروپ کا ماننا ہے کہ یہ کیس انتقام کے طور پر بنائے گئے ہیں کیونکہ ان کا چینل حکومت پر تحقیقاتی و تنقیدی پروگرام نشر کر رہا ہے۔

زمین کے یہ کیس 1986 کے ہیں اور ان ہی کے سلسلے میں رحمان صاحب نیب کے لاہور والے دفتر میں پیش ہوئے تھے جب انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف جنگ میڈیا گروپ نے تنقید والی پالیسی اختیار کر رکھی ہے کیونکہ عمران خان نے شکیل الرحمان اور ان کے میڈیا گروپ کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کا حامی قرار دیا ہوا ہے۔

30 مارچ 2020 کو اندرون پشاور کے علاقے بانا ماڑی کے پولیس سٹیشن میں آپ نیوز چینل کے رپورٹر کاشف عزیز اور کیمرا مین معاذ کو پولیس نے گرفتار کر کے تھانے میں رکھا۔

دونوں صحافی اور کیمرا مین کورونا وائرس کے حوالے سے بانا ماڑی میں رپورٹنگ کے سلسلے میں آئے ہوئے تھے۔

انہوں نے فریڈم نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ویڈیو بنانے میں مصروف تھے جب پولیس والے پہنچے اور وہ ہم سے ناخوش تھے۔ انہوں نے ہم سے ہمارا کیمرا بھی چھین لیا اور ہمیں کوریج کرنے سے بھی روک دیا۔ اس کے بعد وہ ہمیں بانا ماڑی پولیس سٹیشن لے گئے جہاں انہوں نے ہمیں بغیر کسی وجہ کے رکھا۔‘

تحریری دھمکیاں: فریڈم نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے جیو نیوز کے صحافی اور راولپنڈی اسلام آباد کے جنرل سیکرٹیری آصف علی بھٹی نے کہا کہ انہیں مذہبی جماعتوں سے ان کے تبصروں پر دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ دھمکیاں ای میل پر بھی یکم مارچ 2020 کو آصف کو ملی ہیں۔ اس سے قبل دھمکیاں انہیں 25 فروری 2020 کو بھی ملیں تھیں۔ ’میں مسلسل دھمکیوں کی لپیٹ میں زندگی بسر کر رہا ہوں تاہم اس کے باوجود میں نے حفاظت کی تمام اقدامات لے رہا ہوں۔‘

’میں نے اپنی رہائش گاہ سمیت اپنی گاڑی اور اپنے بچوں کا سکول بھی تبدیل کر دیا ہے۔ مجھے ای میلوں میں کہا گیا ہے کہ میرے تبصروں کی بنیاد پر میں قتل ہونے کے لائق ہوں۔‘

ہراساں: 22 مارچ 2020 کو پولیس نے بیزاد کھروتی ارف چھوٹی چڑیا کی رہائش پر چھاپا مار کر اسے گرفتار کر لیا۔ سکیورٹی عملے نے ان کے بھائی پر اس وقت حملہ کیا جب وہ اس چھاپے کی ویڈیو بنا رہے تھے جس کی وجہ سے اس کی دونوں ٹانگیں فریکچر ہو گئیں۔ صحافی چھاپے کے وقت اپنی رہائش پر موجود نہیں تھا۔ صحافی نے فریڈم نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’چند دن قبل میں نے ایک مضمون لکھا تھا جو ان کو پسند نہیں آیا ہو گا جس کی وجہ سے انہوں نے یہ حملہ کیا۔‘

ایک اور کیس میں 31 مارچ 2020 کو ضلع رحیم یار خان کے شہر خان پور میں روہی ٹی وی کے صحافی ذیشان ڈوگر سے ایک دوکاندار نے اس کا مائک اس وقت چھینا جب وہ بازار میں کورونا وائرس کے متعلق لوگوں سے انٹرویو لے رہا تھا۔  اس پر متعصب رپورٹنگ کرنے کا الزام لگایا گیا۔

پیمرا ایکشن میں:

’عائشہ احتشام کے ساتھ‘ پروگرام نشر کرتے ہوئے غیر مناسب مواد نشر کرنے پر پیمرا نے نیو نیوز کو نوٹس جاری کر دیا۔ اس کے علاوہ پیمرا نے جیو نیوز کو بھی اس پروگرام نشر کرنے پر نوٹس جاری کر دیا۔ اس کے علاوہ پیمرا نے باقی چینلز کو بھی اپنے مواد کو دیکھ کر نشر کرنے کی ہدایت دی۔

میڈیا کے کارکنان کو ملنے والی دھمکیاں، حملے اور ہراساں:

دھمکیوں میں دو پرنٹ اور چار ایلکٹرانک میڈیا کی طرف سے تھیں

میڈیا کارکنان پر حملہ اور دھمکیاں دینے والے ایکٹر:

دو کیس میں پولیس اور ایک میں نیب ملوث تھی۔ اس کے علاوہ ایک میں تاجر برادری اور باقی دو میں نامعلوم افراد تھے۔

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -