27 سالہ خاتون صحافی کو لاہور میں قتل کردیا گیا

27 سالہ خاتون صحافی کو لاہور میں قتل کردیا گیا

ایف این ڈیٹا کا تجزیہ اکتوبر- نومبر 2019

ستائیس سالہ صحافی کے قتل کے علاوہ، فریڈم نیٹ ورک کی طرف سے انتظام کیا ہوا پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک نے پچھلے ماہ دھمکیوں کے 22 کیس درج کیے جن میں صحافی کا اغوا ہونا، انہیں دھمکیاں موصول ہونا اور انہیں آن لائن ہراساں جانا شامل ہیں۔

اسلام آباد سے منسلک فریڈم نیٹ ورک صحافیوں کو چار مختلف شعبوں میں کراچی، لاہور، کوئٹہ، اسلام آباد، پشاور، لنڈی کوتل اور خضدار میں فروری 2016 سے مدد فراہم کر رہا ہے۔

صحافیوں کے خلاف پچھلے ماہ آنے والی دھمکیاں مندرجہ ذیل ہیں:

فریڈم نیٹ ورک کی طرف سے چلائے جانے والے  پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک کو پچھلے ماہ اغوا کاری، آف لائن ہراساں اور زبانی دھمکیوں کے 11 کیس رپورٹ ہوئے۔

اکتوبر 2019

اغوا کاری: ایک سوشل میڈیا کارکن کو اسلام آباد ایکسپریس وے پر بحریہ ٹاؤن کے پاس سے اغوا کر لیا گیا جب اس کے گھر والوں کو ان کی گاڑی ہائی وے پر ملی۔ اس کے گھر والوں کے مطابق 4 اکتوبر 2019 کو سلیمان فاروق چوہدری کو دو گاڑیوں میں موجود نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا۔ بین الاقوامی ایمنسٹی کی جنوبی ایشیا کی رپورٹر رابعہ محمود نے اس کارکن کے اغوا ہونے کی رپورٹ سب سے پہلے شائع کی۔ کہا گیا ہے کہ اغوا ہونے والا کارکن حکمران جماعت کے خلاف باتیں لکھتا تھا۔ تاہم فیس بک پر اس کی پوسٹ سکیورٹی اسٹیبلیشمینٹ کے خلاف نہیں تھیں۔ گھر والوں کا کہنا ہے کہ سلیمان کی کسی سیاسی پارٹی کے ساتھ وابستگی نہیں تھی۔ اکتوبر 2019 کو اس انجنیئر کے والد صاحب کی رپورٹ درج ہونے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے لاپتہ افراد کی کمیٹی سے جواب طلب کر لیا۔

زبانی دھمکیاں: اپنے آپ کو ’اسپیشل برانچ‘  کا ظاہر کر کے 3 اکتوبر 2019 کو کراچی کے پاکستان سیکرٹریٹ کے سامنے چند افراد صحافی مجاہد شاہ کو تفتیش کے لیے اپنے ساتھ لے گئے۔ صحافی نے فریڈم نیٹ ورک کو بتایا کہ انہیں سوشل میڈیا پر دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں۔ صحافی کا کہنا تھا کے ’یہ دوسری دفعہ ہوا ہے کہ مجھے اس طرح دھمکیاں ملیں ہیں اور میرے ساتھ جسمانی تشدد کرنے کی بھی دھمکی دی گئی ہے۔‘

14 اکتوبر کو دالبندین پریس کلب کے صدر علی رضا رند کو بلوچستان کے ضلع چاغی میں ڈسٹرکٹ پولیس افسر نے زبانی دھمکی اس وقت دی جب صحافی نے چاغی پولیس پر اس کے گھر والوں پر تشدد کرنے کا کیس درج کیا۔ ڈی پی او نے اس پر صحافی کو چوتھے پولیس ریکارڈ کے دائرے میں رکھ دیا۔ اس دائرے میں نام آ جانے کے بعد پولیس آپ کی 24 گھنٹے نگرانی کر سکتی ہے۔ اس سے قبل بھی پولیس صحافیوں کے ساتھ یہ کام کر چکی ہے۔ تاہم فریڈم نیٹ ورک کے کیس اٹھانے کے بعد پولیس نے صحافی کا نام نکال دیا۔

4 اکتوبر 2019 کو صوبہ پنجاب کے ضلع راجن پور کے گاؤں محمد پور میں ایک اینٹوں کے بھٹے کے مالک نے اے آر وائے کے رپورٹر اللہ دتہ گوشل کو اس کے بھٹے کی فوٹج بنانے پر قتل کر دینے کی دھمکی دی۔ بندوق کی نوک پر مالک نے کیمرا چھین لیا جس کے بعد رپورٹر نے پولیس کو بلا لیا۔ پولیس کے آنے سے پہلے ہی ملک وہ جگہ چھوڑ کر فرار ہو گیا۔ مالک کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی گئی ہے۔

حملہ: 21 اکتوبر 2019 کو صوبہ سندھ کے شہر سکھر میں پولیس کے سپر نٹینڈینٹ کو دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ 24 نیوز چینل کے رپورٹر بخش علی پھل پوٹو کو مار رہے ہیں۔ یہ واقعہ اس دن رونما ہوا جب نیب کی عدالت میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ کی کورٹ میں پیشی تھی۔ اس حملے کی فوٹج بنائی گئی جس کے بعد اسے فریڈم نیٹ ورک کے فیس بک اور ٹیوٹر کے صفحات پر اپ لوڈ کر دیا گیا۔ پولیس افسر کے خلاف کیس درج کرنے کے بجائے پولیس نے صحافی پر کیس درج کروا دیا۔ تاہم سوشل میڈیا پر سخت مذمت کے بعد صحافی کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کروائی گئی۔ معاملہ اس وقت حل ہوا جب سپرنٹینڈینٹ صحافی کے لیے سکھر پریس کلب میں مٹھائیوں کے ساتھ معافی مانگنے آئے۔

18 اکتوبر 2019 کو لکی سیمنٹ کے عملے نے اے آر وائے کے رپورٹر صالاح الدین، کیمرامین حنیف اور وین آپریٹر فیضان پر حملہ کیا۔ ان کے موبائل فون چھین لیے گئے۔ تاہم بات چیت کے بعد موبائل فون واپس دے دئیے گئے۔

30 اکتوبر کو جمیت علمائے اسلام (فضل الرحمان) کے کارکنان نے خبریاں کے رپورٹر حسنین اخلاق کو دھمکیاں دیں اور اس پر حملہ اس وقت کیا جب وہ ان کے دھرنے کی کوریج کر رہے تھے۔ فریڈم نیٹ ورک کو بتایا گیا کہ صحافی کوریج کرتے ہی وہ جگہ چھوڑ کر چلا گیا۔

آف لائن ہراساں: 7 اکتوبر کو قتل کا کیس درج کرنے کے سلسلے میں خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں 92 نیوز کے رپورٹر پر ہراساں کا کیس درج کر دیا گیا۔ جیسے ہی رپورٹ آن لائن گئی، چار سدہ  کے پولیس افسر نے صحافی کو بلا کر ناخوشی کا اظہار کیا۔ 10 اکتوبر کو فیس بک پر لکھے ہوئے خط میں باسط خان کا کہنا ہے کہ ’میری زندگی کو اس پولیس اہلکار نے مشکل میں ڈال دیا ہے کیونکہ وہ مجھے بار بار بلا کر ذہنی طور پر تنگ کرتا ہے۔‘  خیبر یونین آف جرنلسٹ نے اس کے بعد ایک عملہ صحافی کے پاس بھیجا اور اسے یقین دلایا کہ اس بات کو کورٹ لے جایا جائے۔

اپنے فیس بک پیج پر دکان داروں کے ساتھ لڑنے کی ویڈیو دیکھ کر 13 اکتوبر کو لنڈی کوتل کے پریس کلب میں ایک قبائلی پولیس افسر تشریف لے آیا جو کہ پاکستان ٹیلی ویژن کے صحافی حضرت بلال کو تلاش کر رہا تھا۔ پریس کلب کی سیئینر مینجمینٹ نے یہ بات اس افسر کے سینیئر کو بتائی جس پر اس افسر کو معطل کر دیا گیا۔ اس کے باوجود وہ افسر اس صحافی کو دھمکیاں دے رہا ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع لنڈی کوتل میں موجود قبائلی صحافی خلیل جبران پر ہراساں کرنے کا دعوی کیا جا رہا ہے۔ اسے فرنٹیئر کور کے عملے نے کافی دن اپنے پاس نظر بند رکھا جہاں اس پر تشدد کیا جاتا تھا۔ تاہم فریڈم نیٹ ورک تک بات پہنچنے کے بعد اسے رہا کر دیا گیا۔ لنڈی کوتل پریس کلب انتظامیہ سے بات کرتے ہوئے اس کا کہنا تھا کہ ’سکیورٹی کا عملہ ہر جگہ میرا پیچھا کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مجھے نامعلوم افراد کی طرف سے کال بھی موصول ہو رہی ہیں۔ ان کالز کی وجہ سے میں اپنے کام پر توجہ نہیں دے سکتا ہوں۔‘

پیمرا ایکشن میں

پیمرا نے ایکس پریس نیوز اور 92 نیوز کو پاکستان کی افواج اور عدلیہ کے معاملات پر تبصرے کرنے کے نتیجے میں شو کاز نوٹس جاری کر دیے۔ پیمرا نے پہلے ہی تمام نیوز چینلز کو عدلیہ کے معاملات پر گفتگو کرنے سے منع کیا ہوا ہے۔

مختلف میڈیا کے اقسام سے دھمکیاں، حملے اور ہراساں کیے جانا

11 صحافیوں میں سے دو کا تعلق پرنٹ، دو آن لائن اور سات ٹی وی میڈیا سے تھا۔

میڈیا اور صحافیوں پر حملہ اور ہراساں کرنے والے دھمکی والے ادا کار

سٹیٹ ادا کار اور جمیت علمائے اسلام

نومبر 2019

  نومبر 2019 میں جمیت علمائے اسلام (فضل الرحمان) کے جلسے کی کوریج کے سلسلے میں ایک خواتین صحافی ہلاک جبکہ ایک زخمی اور تین کو دھمکیاں موصول ہوئیں۔

ہلاکت: نوجوان خاتون صحافی عروج اقبال کو لاہور میں 24 نومبر 2019 کو ان کے سابق شوہر نے جو اخبار کے مالک بھی تھے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

ستائس سالہ عروج کے بھائی یاسر اقبال نے فریڈم نیٹ نیٹ ورک کو بتایا کہ 30 ستمبر 2019 کو ان کی بہن کی طلاق ہوگئی تھی۔ ان کی دلاور علی سے 6 اپریل 2019 کو شادی ہوئی تھی۔ اس حملے کے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’جب وہ گھر میں داخل ہو رہی تھیں اس وقت دلاور نے اس پر گولیاں چلا دیں۔ انہیں سر میں گولیاں لگیں اور موقع پر جان دے دی۔‘

بھائی کے مطابق ’سابق شوہر ان کو اپنا اخبار شروع کرنے سے روک رہے تھے۔‘ وہ ’فرانچائز‘ کے نام سے اپنا اخبار شروع کرنا چاہتی تھیں۔

دلاور علی اپنا اخبار ’اینٹی کرائم‘ چلاتے ہیں جہاں عروج کو پہلے ملازمت بلی اور بعد میں دونوں نے شادی کر لی۔

یاسر نے قلعہ گوجر خان پولیس سٹیشن میں 25 نومبر 2019 کو ایف آئی آر لکھوائی جس میں انہوں نے دلاور پر بہن کے قتل کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے ایف آئی آر میں الزام عائد کیا کہ دلاور اپنی بیوی کے خلاف تشدد کا استعمال کرتے تھے اور خاندان کے لوگوں نے صلح بھی کروایی تھی۔ لیکن دلاور انہیں ’سنگین نتائج‘ کی دھمکیاں دیتا رہا۔

ملزم مے مقامی عدالت سے عارضی ضمانت لے رکھی ہے اور اس کی توثیق کی کوشش کر رہے ہیں۔ 

زخمی: نواب شاہ پریس کلب کے صدر اور سندھ ٹی وی کے لیے کام کرنے والے صحافی زوالفقار علی خاشخیلی پر 25 نومبر کو گھر جاتے ہوئے حملہ کیا گیا۔ اس حملہ کے نتیجے میں صحافی کو ہسپتال لے جایا گیا۔ صحافی کی اب حالت کافی بہتر ہے۔ پولیس نے چند لوگوں کے خلاف کیس درج کر دیا ہے۔

لکھی ہوئی دھمکیاں: نومبر 2019 میں جمیت علمائے اسلام (فضل الرحمان) کے آزادی مارچ پر کوریج کرنے کے سلسلے میں اسلام آباد اور راولپنڈی یونین آف جرنلسٹ کے سیکرٹیری جنرل آصف بھٹی کو لکھی ہوئی دھمکیاں موصول ہوئیں۔ آصف جیو ٹی وی کے لیے بھی کام کرتا ہے اور اس نے فریڈم نیٹ ورک کو اس بارے میں فوری خبر دی۔

’مجھے افغانستان کے نمبروں سے کال آنا شروع ہو گئیں جن میں مجھے اور میرے خاندان والوں کو دھمکیاں ملیں کہ اگر میں نے اخبار میں کچھ بھی لکھا تو مجھے یا میرے گھر والوں کو چوٹ پہنچ سکتی ہے۔‘ آصف نے ان فون پر ایف آئی آر بھی درج کروائی کیونکہ ایک کام میں دھمکی دینے والے نے انکشاف کیا کہ وہ جانتا ہے کہ آصف کی رہائش کہاں ہے۔

’اگر تم نے ہماری پارٹی کے خلاف لکھنا بند نہیں کیا تو اس کے کافی برے نتائج سامنے آئیں گے۔‘ یہ چند ایک میسج ہیں جو آصف نے فریڈم نیٹ ورک کو دکھائے۔

پولیس میں کرپشن کے بارے میں لکھنے پر لنڈی کوتل میں اے پی اور ہم نیوز سے تعلق رکھنے والے صحافی عبدالعظیم شنواری کو اپنے موبائل پر دھمکی آمیز میسج موصول ہونے شروع ہوگئے۔

اس معاملے کو سینیئر پولیس افسر ان کے سامنے لایا گیا جس پر انہوں نے پولیس افسران کے خلاف ایکشن لینے کا کہا۔ ملوث پولیس افسر وہی تھا جو لنڈی کوتل پولیس سٹیشن پر حملے میں بھی ملوث تھا۔

سینسرشپ: وفاقی حکومت کے خلاف آزادی مارچ کا جلسہ اسلام آباد میں منعقد کرنے پر جمیت علمائے اسلام (فضل الرحمان)  نے کوریج کے لیے خواتین صحافیوں کا داخلہ ممنوع کر دیا۔ ان خواتین صحافیوں میں آنی، شفا یوسفزئی، ہانی شیرازی، ہم نیوز کی قرۃالعین ، سما نیوز کی امبر شمسی، جی این این نیوز کی شازیہ نیر اور غریدہ فاروقی شامل تھیں۔

صحافیوں کا کہنا تھا کہ ’ایک آدمی ہمارے پاس آیا اور اس نے کہا کہ خواتین کا جلسے میں آنا ممنوع ہے۔ ایک منٹ میں مردوں کا ایک ہجوم اکٹھا ہو گیا اور ہمارے خلاف نعرے لگانے شروع ہو گیا۔ تاہم جب یہ بات انتظامیہ کے پاس پہنچی تو انہوں نے عورتوں کو اندر آنے کی اجازت دے دی۔‘

پیمرا ایکشن میں:

پیمرا نے ایکس پریس نیوز کو تنبیہ دی کہ کو ’ٹو دی پوائنٹ‘ پروگرام میں تہذیب کا دامن ہاتھ سے نا چھوڑا جائے اور نازیبہ زبان کے استعمال سے گریز کیا جائے۔ اس کے علاوہ اس نے تمام نیوز چینلز کو لاہور میں مال روڈ پر ہونے والے جلسے کی کوریج کرنے سے منع کیا۔

میڈیا کے خلاف حملے، دھمکیاں اور ہراساں کے کیس

10 صحافیوں میں سے 9 کا تعلق ٹی وی جبکہ ایک کا تعلق پرنٹ میڈیا سے تھا۔

صحافیوں اور میڈیا کے خلاف دھمکی کے ادا کار

ان میں جمیت علمائے اسلام (فضل الرحمان)، سندھ پولیس اور دو نامعلوم افراد شامل ہیں۔  

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -