ایسے قانون سے بچاؤ جو صحافیوں کو خاموش کرنا چاہتا ہے

ایسے قانون سے بچاؤ جو صحافیوں کو خاموش کرنا چاہتا ہے

شاہ زیب جیلانی

دباؤ بڑھتا جا رہا تھا۔ خاندان والوں تک ان کو رسائی حاصل ہو چکی تھی۔ مجھے میرے قریبی دوستوں اور خاندان والوں نے منع کر دیا تھا کہ میں چوکنا ہو جاؤں۔ کہیں پر کوئی میرے تجزیوں کے خلاف تھا۔ جب میں بی بی سی کے لیے پاکستان میں کام کرتا تھا تو اس وقت یہ بات قابل برداشت تھی۔ لیکن اب جب میں ایک پاکستانی نیوز چینل دنیا نیوز کے لیے کام کر رہا ہوں تو معاملات تبدیل ہو چکے ہیں۔

یہ سب کچھ ایک سیاسی گھما گہمی میں ہو رہا تھا۔ 2018 میں پاکستان ایک ایسے موڑ پر کھڑا تھا جہاں بالائی قوتیں چاہتی تھیں کہ وہ میڈیا جیسے ادارے کو اپنے قبضے میں لے آئیں۔ آزادانہ سوچ رکھنے والے صحافی کم سے کم تر ہوتے جا رہے تھے۔ نیوز چینلز اپنے بنائے ہوئے سنسرشپ کی جانب جا رہے تھے۔ وہ لوگ جو میڈیا کو اپنے قابو میں لانا چاہتے تھے وہ کامیاب ہو رہے تھے۔

جعلی خبروں کے دور میں یہ پاکستانی نیوز میڈیا کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔ جو بھروسہ باقی رہ گیا تھا وہ بھی ساتھ ہی میں بہہ گیا۔ کافی نیوز چینلز کو حکومت والی زبان بولنے پر مجبور کر دیا گیا اور جو نہیں کرتے انہیں بند کروا دیا گیا۔

2018 کے اختتام تک مجھ پر بھی دباؤ بڑھ چکا تھا۔ ٹوئٹر پر میرا مزاق اڑانے والے بھی بڑھ چکے تھے۔ ہر کوئی یہ بتا سکتا تھا کہ یہ ایک پروپیگینڈا ہے کیونکہ ان اکاؤنٹس کے 25 سے کم فالورز ہوتے تھے اور ان کی اکاؤنٹ پر پاکستان کے پرچم کی تصویر بنی ہوتی تھی۔

میں نے اس سب کی فکر نہ کی اور اپنی صحافت میں مصروف رہا۔ تاہم مارچ 2019 میں یہ دھمکیاں کافی زیادہ ہو گئیں تھیں۔ میں اس بات سے بخوبی طور پر واقف تھا کہ اگر ریاست میرے پیچھے آتی ہے تو میرا نیوز چینل بھی مجھے نہیں بچا سکے گا۔ اس لیے میں نے اپریل 2019 میں اپنے باس سے کمپنی چھوڑنے کی بات کر دی۔

لیکن اس وقت تک ایف آئی اے کے کچھ لوگوں نے میرے پیچھے آنے کا مکمل منصوبہ تیار کر لیا تھا۔ ایف آئی اے کو حکم دیا گیا کہ میرے خلاف سائبر دہشت گردی کا کیس بنایا جائے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ مجھے ہتھکڑیاں پہنا کر میڈیا کے سامنے لائیں گے۔ تاہم میری خوش نصیبی تھی کہ میں اس وقت کراچی میں نہیں بلکہ سندھ میں تھر کے صحرا میں رپورٹنگ کے سلسلے میں گیا ہوا تھا۔

کراچی آ کر مجھے قبل از گرفتاری ضمانت چاہیے تھی۔ میں نے انتظار کیا کہ میرا چینل میری مدد کرے گا۔ لیکن مجھے احساس ہو گیا کہ میرے چینل والوں نے مجھے تنہا چھوڑ دیا تھا۔ مجھے مدد ان لوگوں کی طرف سے ملی جن کی طرف سے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ جن لوگوں سے میں آج تک ملا بھی نہیں تھا انہوں نے آ کر میری مدد کی۔ ان میں وکلا شامل تھے جنہوں نے بغیر کسی فیس کے میرا کیس لڑنے کی مجھے پیشکش کی۔ اس کے علاوہ میرے ساتھی صحافی جنہوں نے ہراساں کیے جانے والے ایک اور صحافی کا کیس تلاش کر لیا تھا۔

اس کے بعد کورٹ کی پیشیاں شروع ہوئیں۔ اگلے دو سے تین ہفتوں میں میں نے کورٹ کے بےشمار چکر لگائے۔ اکثر اوقات تو استغاثہ نے پیشی پر آنے کی بھی زحمت نہیں کی۔ مجھے پتہ چل گیا کہ یہ کیس کئی ماہ تک چل سکتا ہے۔ ان تمام سماعتوں میں میں نے کراچی کے اس وکیل کو نہیں دیکھا جو طاقتور قوتوں کے کیس لڑتا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ وہ پہلی پیشی میں حاضر ہوا تھا۔

کیس کے آگے بڑھنے کے ساتھ ہی دنیا بھر سے قانون کی ناقص کارکردگی پر سخت مذمت کی گئی۔ رپورٹرز ود آؤٹ باڈرز، انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان، کراچی یونین آف جرنلسٹ، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ اور دیگر انسانی حقوق اداروں نے اس واقعے کی شدید مذمت کی۔ انگریزی اخبار ڈان نے اس پر کیی اداریے لکھے جبکہ بی بی سی، وائس آف امریکہ اور ڈاچ ویلا نے بھی اس خبر کو کوریج دی۔

اس دوران دنیا نیوز نے مجھے نوکری سے بھی فارغ کر دیا۔ فارغ کرنے والے خط میں چینل کے مالی حالات کا لکھا گیا جبکہ حقیقت یہ تھی کہ اوپر سے دباؤ اتنا تھا کہ جو برداشت سے باہر ہو گیا تھا۔ اس کے باوجود چینل نے میری تنخواہ مجھے دے دی – جو کہ پاکستان میں نہیں دی جاتی۔ اس تمام واقعے میں مجھے دور دور سے لوگوں کی حمایت ملی۔ یہاں تک کہ فریڈم نیٹ ورک اور بولو بھی سے میرے ساتھیوں نے میری حمایت کی۔

مجھے حیرت ہوئی جب لندن سے میری حمایت میں میرے پرانے بی بی سی کے ساتھی تھے۔ ان کو میری حمایت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی کیونکہ میں نے 2016 میں ہی وہ کمپنی چھوڑ دی تھی۔ اس کے علاوہ برطانیہ کے دفتر خارجہ اور آر ڈی ایف جیسی تنظیموں نے بھی میری کافی حوصلہ افزائی کی۔

پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے حقوق انسانی نے ایک اجلاس بلایا۔ اس میں پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے الیکٹرانک جرائم سے بچاؤ والے قانون پر دوبارہ نظرثانی کی تجویز دی۔

آخر میں میرے خلاف کیس کو کورٹ نے خارج کر دیا۔ میں اپنے آپ کو ایک خوش نصیب سمجھتا ہوں جو میں نے اس معاملے سے اپنے آپ نکل آیا۔ میرے علاوہ باقی اور صحافی بھی ہیں جو اس طرح کے معاملات میں پھنس چکے ہیں لیکن ابھی تک اپنے آپ کو بچا نہیں سکے ہیں۔ کچھ کو زخم اور چوٹیں بھی آئیں ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ ایسے ہیں جن کو فوج کی مداخلت کی وجہ سے دوبارہ کہیں نوکری بھی نہیں ملی۔

پاکستانی میڈیا، سیاست اور عدلیہ میں کافی دو نمبر اداکار موجود ہیں لیکن اسی کے ساتھ ہمارے پاس کافی مقبول اور دلیر لوگ بھی موجود ہیں۔ یہ لوگ کسی بھی قسم کی دھمکیوں سے نہیں گھبراتے۔ یہ لوگ ہر دن میڈیا کے پرواپیگینڈا کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہوتے ہیں تاکہ عوام کے حقوق پر کوئی ڈاکا نہیں ڈال سکے۔ ہماری تمام امیدیں ان جیسے لوگوں کے ساتھ وابستہ ہیں جو اپنی جان کو روزانہ مشکل میں ڈال رہے ہوتے ہیں۔

مصنف ایک آن لائن صحافی ہے۔

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -