صحافیوں کے خلاف 11 مختلف واقعات ستمبر میں

صحافیوں کے خلاف 11 مختلف واقعات ستمبر میں

ایف این دھمکیوں کے ڈیٹا کا تجزیہ – ستمبر 2019

صحافیوں کے خلاف قتل، حراست میں لینا، زبانی دھمکیوں اور قانونی جواز کے 11 کیس پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک نے  پنجاب، سندھ اور اسلام آباد میں اس پچھلے ماہ ریکارڈ کیے۔

اسلام آباد سے منسلک فریڈم نیٹ ورک صحافیوں کو چار مختلف شعبوں میں کراچی، لاہور، کوئٹہ، اسلام آباد، پشاور، لنڈی کوتل اور خضدار میں فروری 2016 سے مدد فراہم کر رہا ہے۔

قتل: 6 ستمبر کو لاپتہ ہو جانے کے ایک دن بعد 7 نیوز کا پنجاب کے ضلع وہاڑی کے قصبے میلسی سے تعلق رکھنے والے رپورٹر ظفر عباس کو قتل پایا گیا۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق اسے چھ نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا تھا جن میں ایک عورت بھی شامل تھی۔ پولیس نے چند لوگوں کو حراست میں بھی لیا ہے۔ تاہم ابھی بھی عباس کے قتل اور اس کے صحافت سے متعلق کام کے درمیان کسی بھی جوڑ کا تلاش کیا جا رہا ہے۔

حراست میں لینا: 7 ستمبر کو سندھ کے علاقے پنو میں پولیس ایک صحافی کو اٹھا کر لے گئی۔ وہ پنو عاقل میں 24 نیوز کے لیے کام کرتا ہے۔ صحافی کو پھر پنجاب کے کوٹ سبزوال کے پولیس سٹیشن کے حوالے کر دیا گیا۔ اس کے ساتھیوں کا ماننا تھا کہ پولیس والوں نے اسے سبق سکھانے کے لیے اغوا کیا۔ سکھر میں موجود سینیئر صحافیوں نے اس کے بعد اس معاملے پر روشنی ڈالی اور دو دنوں میں صحافی رہا ہو گیا۔ 9 ستمبر کو صحافی کو رہا کر دیا گیا۔

تحریری دھمکیاں: وزیر اعظم عمران خان کے وزیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا پر احسان فراہم کرنے کے سلسلے میں روزنامہ اوصاف کے رپورٹر اور اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب کے سیکرٹری ندیم چودھری نے وزیر کے ساتھ ملاقات کی۔ وزیر نے رپورٹ کو جھوٹی قرار دیا اور کہا کہ ’اس طرح کے صحافیوں پر پابندی لگا دینی چاہیے۔‘

18 ستمبر کو اب تک نیوز کے پروگرام میں میزبان نور ال عارفین کو سندھ اسمبلی کے ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن لیڈر کی طرف سے دھمکیاں موصول ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے اپنے بارے میں فکر ہو رہی ہے۔‘

زبانی دھمکیاں: دوسروں کی زمینوں پر  قبضہ کرنے کے سلسلے میں روزنامہ الشرق میں رپورٹ شائع ہونے پر گورنمنٹ کالج مری کے پرنسپل نے صحافی علی عباسی کو دھمکیاں دیں۔ ’پرنسپل نے مجھے کہا کہ میں اپنی رپورٹ واپس لوں ورنہ اس کے انجام برا ہو گا۔‘

سنسرشپ: وفاقی حکومت میں ایک وزیر کو بےنقاب کرنے کے سلسلے میں 23 ستمبر کو صحافی رؤف کلاسرا اور عامر متین کے آپ نیوز پر پروگرام کو بند کر دیا گیا۔ پروگرام کے بند ہونے کے پیچھے وزیر اعظم کی ناخوشی تھی جس کی بنا پر چینل پر زور ڈالا گیا کہ پروگرام کو بند کرا دیا جائے۔

25 ستمبر کو وزیر اعظم عمران خان کا کارٹون بنا کر روزنامہ دی نیشن میں شائع کرنے پر کارٹونسٹ خالد حسین کو کام کرنے سے روک دیا گیا۔ 54 سالہ خالد کا گندہارا کی ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اخبار والوں نے آ کر اسے بتایا کہ چونکہ سینیئر حکومتی افسر اس کارٹون سے ناخوش ہیں اس لیے اس کو شائع نہیں کیا جا سکتا۔

30 ستمبر کو پیمرا نے سیاسی کالم نگار حفیظ اللہ نیازی پر پابندی لگا دی کیونکہ انہوں نے 6 جولائی کو وفاقی وزیر اعظم سواتی پر بے بنیاد الزام لگائے تھے۔

قانونی کیس: عورتوں پر تشدد کرنے کے سلسلے میں 7 نیوز کے رپورٹر ساجد مکول نے راجن پور کی پولیس انتظامیہ کے بارے میں رپورٹ بھی درج کروائی ہے۔ عورتوں کو زخم بھی آئے ہیں۔ ٹیلی ویژن پر نشر نہ ہونے کے باوجود صحافی نے سوشل میڈیا پر رپورٹ ڈال دی جس کی وجہ سے سٹیشن افسر قیصر حسین کافی ناخوش تھے۔ (رپورٹر نے اپنی گفتگو کی تصاویر بھی فریڈم نیٹ ورک کو فراہم کیں) ۔ ایس ایچ او نے ایک پارٹی پر ریڈ مارا جہاں پر جوا چل رہا تھا۔ صحافی ساجد مکول سمیت باقی لوگوں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کروائی گئی۔ رپورٹر کا ماننا ہے کہ اس وقت وہ پارٹی میں موجود نہیں تھا۔ رپورٹر کا کہنا تھا کہ پولیس والوں نے ان سے 11 لاکھ روپے بھی چھین لیے جو اس نے اپنی گاڑی بیچ کر اپنی بیمار والدہ کے علاج کے لیے اکٹھے کیے تھے۔ رپورٹر نے ایف آئی آر کے خلاف رپورٹ درج کی ہے تاہم ابھی تک نا تو پولیس اہلکار کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی ہے اور نا ہی صحافی کے خلاف کوئی ٹھوس عمل سامنے آیا ہے۔

18 ستمبر کو اغوا کاری کے سلسلے میں جی ٹی وی کے امداد پھلپھٹو کے خلاف کاچو کیتی پولیس سٹیشن نے ایف آئی آر درج کروا دی۔ پولیس نے صحافی کے علاوہ چار لوگوں کو ایک شخص کو اغوا کرنے اور اس سے 10 لاکھ روپے وصول کرنے کے سلسلے میں چارج کیا۔  28 ستمبر کو ایف آئی آر سامنے آنے سے لے کر ابھی تک پولیس نے صحافی کو حراست میں نہیں لیا۔ صحافی کا کہنا ہے کہ یہ ایف آئی آر سیاسی مقاصد کی بنیاد پر اس پر کاٹی گئی ہے۔

اسی طرح 28 ستمبر کو سندھ کے ضلع کنڈ کوٹ میں سما نیوز کے لیے کام کرنے والے صحافی ساحل جوگی کے خلاف اغوا کاری کے سلسلے میں پنو عاقل پولیس سٹیشن نے ایف آئی آر درج کر دی۔ سکھر میں موجود سینیئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ یہ ایف آئی آر سیاسی مقاصد کی بنیاد پر لگائی گئی ہے۔ یہ وہی صحافی ہے جس نے ایک اور صحافی کے خلاف کنڈ کوٹ میں ہی ایف آئی آر درج کروائی تھی۔

اگست 2019 کی رپورٹ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں:

http://www.fnpk.org/impunity-for-crimes-against-journalists-goes-unchecked-in-pakistan/

پیمرا ایکشن میں

ستمبر 2019  میں پیمرا نے 24 نیوز کو جعلی نیوز نشر کرنے کے سلسلے میں  نوٹس جاری کیا اور واہ ایسوسی ایٹ کو بھارتی مواد نشر کرنے پر جرمانہ عائد کیا۔

میڈیا کے خلاف دھمکیاں، حملے اور انہیں حراساں کیا جانا

11 میں سے آٹھ کیس ٹی وی صحافیوں کے خلاف ہوئے جبکہ باقی تین کیس پرنٹ میڈیا کے صحافیوں کے خلاف ہوئے۔

میڈیا اور صحافیوں پر حملے کرنے والے ادا کار

  پانچ کیسوں میں ریاستی ادا کار ملوث تھے جبکہ چار میں سیاسی پارٹیاں ملوث اور باقی دو میں ادا کار کا پتہ نہیں لگایا جا سکا ہے۔

 

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -