اصلاحات سے پیش آنے والی مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے قبائلی صحافیوں کو مدد کر ضرورت ہے

اصلاحات سے پیش آنے والی مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے قبائلی صحافیوں کو مدد کر ضرورت ہے

ابراہیم شنواری

حالانکہ اس بات کو سات سے زیادہ ماہ ہوگئے ہیں جب اس سال مارچ میں عدالتی نظام کو قبائلی علاقوں کے سات اضلاع  میں نافذ کیا گیا لیکن ابھی تک وہاں موجود چار سو سے زائد صحافیوں نے کورٹ رپورٹنگ کے بارے میں پتہ نہ ہونے کی وجہ سے ایک بھی رپورٹ فائل نہیں کی۔‘ یہ کہنا ہے قبائلی علاقے باجوڑ میں مقیم صحافی انوار اللہ خان کا – جو ایک انگریزی زبان کے اخبار کے لیے کام کرتے ہیں۔

پولیس کے نظام اور کورٹ کی کارروائی کے بارے میں معلومات نہ ہونے کی وجہ سے قبائلی علاقوں میں موجود صحافیوں کو رپورٹنگ کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ اس سے قبل انہیں نا تو کسی میڈیا تنظیم اور نا ہی کسی حکومتی ادارے نے اس طرح کی رپورٹنگ کرنے کی کوئی تربیت دی ہے۔

خان صاحب کا کہنا تھا کہ پچیسویں ترمیم کے عمل میں آنے سے قبل میڈیا میں موجود ان کے تمام جاننے والوں کو قبائلی تہزیبوں کے بارے میں پتہ تھا کہ وہاں کی سیاسی انتظامیہ کیسے کام کرتی ہے۔ تاہم اب وہاں کے صحافیوں کو پولیس اور کچہری کے معاملات کی رپورٹنگ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قبائلی صحافی ابھی تک اپنے پرانے کام کرنے کے نظریے کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں جس کی وجہ سے قانونی، پولیس اور معیشت کے معاملات کی رپورٹنگ کرنا ان کے لیے مشکل ثابت ہو رہا ہے۔

اس بات کو مزید وزن ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے صحافی قاضی فضل اللہ نے دیا۔ ان کا ماننا ہے کہ کافی قبائلی صحافی ابھی تک کسی بھی کیس میں ملوث ملزم کو نا پکڑنے کا ذمہ دار اس قبائلی علاقے کے ڈپٹی کمشنر کو سمجھتے ہیں۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر کی طاقت میں خاصی کمی نظر آئی ہے کیونکہ اب وہ صرف انتظامیہ سے متعلق کام دیکھتا ہے جبکہ ڈسٹرکٹ پولیس افسر کے نیچے مشتمل قبائلی پولیس ان کیسوں پر کام کرتی ہے۔

انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ زیادہ تر صحافی قوانین کے بارے میں بخوبی واقف نہیں ہیں اور نا ہی انہیں نئے قوانین سے متعلق کوئی بریفنگ دی گئی ہے۔

اورکزئی علاقے میں حال ہی میں کورٹ کی انتظامیہ نے اس بات کو تسلیم کیا ہے مارچ سے قبل تمام کیسوں کو خارج کر دیا گیا ہے۔  ’تاہم وہاں پر موجود کوئی بھی صحافی اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا۔ کیونکہ کسی کو بھی کورٹ کے قوانین کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔‘

انوار اللہ خان کا ماننا ہے کہ صحافی خود بھی کورٹ اور پولیس سٹیشن جا کر نیوز کوریج کرنے سے کتراتے ہیں کیونکہ وہ خود جا کر وہاں ایسے معاملات میں پھنس جاتے ہیں جن کے بارے میں انہیں خود معلومات نہیں ہے۔

مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والے صحافی شمس مہمند کا ماننا ہے کہ کورٹ اور پولیس سٹیشن میں استعمال کی جانے والی اصطلاحات کے بارے میں صحافیوں کو نہیں پتہ جس کی بدولت صحافی اپنا کام پورے طریقے سے نہیں نبھا سکتے۔ ’مجرمانہ کیسوں کو سمجھنے کے لیے صحافیوں کے پاس مخصوص سہولیات کا ہونا ضروری ہے۔‘

اس کے علاوہ کورٹ کے بارے میں زیادہ معلومات نہ ہونے کی وجہ سے توہین عدالت نہ لگ جائے – اس لیے بھی صحافی ان پر رپورٹنگ کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

شمس مہمند کا مزید کہنا تھا کہ صحافی ابھی بھی وہی چھوٹی خبروں کے پیچھے بھاگتے ہیں جن میں نا تو کوئی حقیقت ہوتی ہے اور وہ لوگوں کی کہی گئی باتوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ ’رپورٹ میں صحیح اصطلاحات کا استعمال کرنا اور گواہوں سے انٹرویو لینے کے بعد ہی ایک رپورٹ پڑھنے کے قابل ہوتی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ نئے قبائلی حکومتی نظام کے تشکیل میں آنے کے بعد مقامی صحافیوں کو مزید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ اس سے قبل انہوں نے کبھی بھی ایک نمائندہ سسٹم پر رپورٹنگ نہیں کی۔ ’علاقائی صحافیوں میں معلومات کا فقدان ہے۔ انہیں صرف لوکل باڈی سسٹم سے متعلق الیکشن کے بارے میں پتہ ہے تاہم انہیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ ایک علاقائی حکومت میں ان کے ممبروں کے پاس کتنی طاقت ہے۔‘

قبائلی صحافیوں نے اسی لیے اب حکومت سے ان معاملات پر ٹریننگ لینے کی درخواست کی ہے تاکہ وہ اپنے علاقوں میں اس پر صحیح طریقے سے رپورٹنگ کر سکیں۔

قاضی صاحب کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی وزارت اطلاعات کا کام ہے کہ وہ صحافیوں کے لیے تربیت منعقد کرے جس میں انہیں کورٹ اور پولیس کے کام کرنے کے طور طریقوں سے بخوبی طور پر واقف کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی مختلف این جی او بھی ان ورکشاپ میں تعاون کر سکتی ہیں۔

انوار اللہ خان کا ماننا ہے کہ تمام پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے علاقائی صحافیوں کو وہ ٹریننگ دیں جس کی بدولت نا صرف ان کی تکنیکی رپورٹنگ کی معلومات میں اضافہ ہو اور اس کے ساتھ ہی پولیس کے کام کرنے سے منسلک معلومات میں بھی مدد ملے۔

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -