صحافیوں کے خلاف جرایم جاری

صحافیوں کے خلاف جرایم جاری

ایف این ڈیٹا کا تجزیہ اگست 2019

فریڈم نیٹ ورک کی طرف سے چلائے جانے والے پاکستان پریس کلب سیفٹی ہب نیٹ ورک نے اگست 2019 میں صوبہ پنجاب میں ایک صحافی کے قتل ہونے کی رپورٹ نوٹ کی جبکہ اس کے علاوہ بلوچستان اور سندھ میں دو صحافیوں کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے علاوہ ملک میں پانچ صحافیوں پر حملوں، انہیں اغوا کرنے اور انہیں زبانی دھمکیاں ملنے کر رپورٹیں بھی درج ہوئیں۔

کل ملا کر پچھلے ماہ آٹھ واقعات درج ہوئے جن میں سے دو واقعات خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ جبکہ بلوچستان اور اسلام آباد میں ایک واقعہ رونما ہوا۔

قتل: 31 اگست 2019 کو جہلم کے ضلع سرائے عالمگیر میں 92 نیوز کے رپورٹر مرزا وسیم بیگ کو نامعلوم افراد نے ان کی رہائش پر قتل کر دیا۔ 2019 میں پنجاب میں قتل ہونے والا یہ پہلا صحافی تھا۔

اس کے گھر والوں کا کہنا تھا کہ ’وہ ہسپتال جاتے ہوئے دم توڑ گیا‘۔ ابھی تک اس کے قتل کے سلسلے میں کوئی گرفتاریاں نہیں لائیں گئیں۔ اس قتل کے مقصد کا ابھی تک پتہ نہیں لگایا جا سکا ہے۔ اس کے ساتھی صحافیوں کا ماننا ہے کہ مرزا ایک بے خوف صحافی تھا جو مشکلات سے ڈرتا نہیں تھا۔

قتل کرنے کی کوشش: 31 اگست 2019 کو کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر روزنامہ آزادی کے ایڈیٹر جمیل احمد کو گولی مار کر زخمی کر دیا گیا۔ اس وقت جمیل ہسپتال میں چار گولیاں لگنے کے بعد زیر علاج ہیں۔ صحافی کے گھر والوں نے ایف آئی آر درج کروا دی ہے تاہم ابھی تک کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ بلوچستان یونین آف جرنلسٹ اور کوئٹہ پریس کلب نے حکومت پر زور دیا کہ وہ قصور واروں کو جلد کٹہرے میں لا کر کھڑا کریں۔

18 اگست 2019 کو سندھی زبان کے چینل دھرتی ٹی وی کے ایک پروگرام سے واپس آتے ہوئے سیئنیر صحافی حمید بھٹو پر کراچی کے علاقے کورنگی ٹاؤن میں نامعلوم افراد نے حملہ کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق ’دو موٹر سائیکل سوار نے اس پر حملہ کر دیا تاہم صحافی اور پروگرام کے ڈائریکٹر گلزار بنگوار اس واقعے میں محفوظ رہے۔‘ اس واقعے سے متعلق کورنگی پولیس سٹیشن میں ایف آئی آر درج کروا دی گئی ہے تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔

زخمی: 26 اگست کو پشاور ڈیویلپمینٹ اتھارٹی کے سکیورٹی اہلکاروں نے سما نیوز کے کیمرامین کامران خان کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ کامران بی آر ٹی کے تعمیر آتی کام کی فوٹیج بنا رہے تھے جب اس پر حملہ کیا گیا۔ انہوں نے اپنے آپ کو اہلکاروں کے سامنے ایک صحافی کے طور پر پیش کیا تھا۔

فریڈم نیٹ ورک نے اس واقعے پر سخت نوٹس لیا اور پی ڈی اے کو ان اہلکاروں کو واقعے کے دو دن بعد ہی سروس سے فارغ کر دیا۔

اغوا کاری: 10 اگست کو صحافی منیب احمد کو اس کی رہائش سے کراچی پولیس اور رینجرز کی وردی میں ملبوس نامعلوم افراد اغوا کر کے لے گئے۔ صحافی کی بیوی نے اپنے میاں کا پتہ تین دن بعد لگایا جب روزنامہ پیارا وطن کے ایڈیٹر کو پولیس نے اغوا کاری کے جرم میں حراست میں لیا۔ صحافی نے جرم کو اعتراف کرنے سے انکار کر دیا اور یہ کہا کہ اس کے پیچھے کراچی کی مافیا کا ہاتھ ہے۔

آف لائن ہراساں: 5 اگست 2019 کو اینکروچمینٹ کے خلاف مہم چلانے کے سلسلے میں ریلوے پولیس کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ علم گیر شاہ نے پشتو زبان کے خیبر ٹی وی چینل کے اہلکاروں کو کوریج کرنے سے ورک دیا۔ خیبر ٹی وی کے رپورٹر سراج عارف کو ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار اسے کوریج کرنے سے روک رہے پیں۔ اس واقعے کی خیبر یونین آف جرنلسٹ اور پشاور پریس کلب نے مذمت کی اور تجویز دی کہ ان ریلوے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

 زبانی دھمکیاں: 31 اگست کو صوبہ پنجاب کے ضلع خانیوال میں روزنامہ اوصاف کے رپورٹر ساجد محمود کو پولیس کی طرف سے اس وقت دھمکیاں ملیں جب اس نے پاکستان تحریک انصاف کے مقامی لیڈر سیف اللہ اور نصر اللہ پاہور کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر کی کاپیاں نشر کر دیں۔ دونوں پی ٹی آئی رہنماؤں نے ایف آئی آر نشر ہونے کو اپنے لیے ذلت سمجھا اور صحافی کو دھمکیاں دیں۔ صحافی نے دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے سے گریز کیا کیونکہ دونوں کافی طاقتور ہیں۔

 6 اگست کو نیشنل پریس کلب کے سیکرٹیری فائن نس اور 24 نیوز کے رپورٹر ساگر چودھری کو اسلام آباد پولیس نے متنازعہ اشتہارات کی تصاویر بنانے پر پکڑ لیا اور اسے مجبور کیا کہ وہ تصاویر اس کے فون سے خارج کروائیں۔ پولیس نے اس کا گاڑی میں پیچھا کیا اور اسے جان کی دھمکی دی کہ اگر وہ تصاویر خارج نہیں کرے گا تو اس کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ جیسے ہی ساگر کی گاڑی این پی سی کے گیٹ پر پہنچی تو اسی وقت وہاں کے گارڈ نے آ کر صحافی کی مدد کرنے کی کوشش کی جس پر پولیس والوں نے گارڈ کو بھی تشدد کا نشانہ بنا دیا۔

مندرجہ ذیل لنک پر کلک کر کے جولائی 2019 کی دھمکیوں کا جائزہ لیجیۓ:

 http://www.fnpk.org/censorship-online-offline-harassment-of-journalists/

پیمرا ایکشن میں: پیمرا نے اے آر وائے کو نوٹس جاری کیا جب اس نے ایک بھارتی صحافی کو اپنے مارنگ شو پر دعوت دی۔ اس کے علاوہ جی این این اور ہم نیوز کو بھی بھارتی سیاست دانوں کو اپنے شو پر دعوت دینے کے نتیجے میں نوٹس جاری کیے گئے۔ اس کے علاوہ نیب پر تنقید کرنے کی صورت میں جیو پر جرمانہ عائد کیا گیا۔

مختلف میڈیا پر دھمکیاں، حملے اور انہیں ہراساں جانا:

آٹھ میں سے چھ صحافی ٹی وی کے لیے کام کرتے تھے جبکہ باقی دو کا تعلق پرنٹ میڈیا سے تھا۔

صحافیوں اور میڈیا پر حملے اور ہراساں کرنے والے افراد

چار کیسوں میں ریاستی اہلکار ملوث ہونے کا خدشہ ہے جبکہ تین میں افراد کا معلوم نہیں جبکہ ایک میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ملوث ہیں۔

تصویر: مرحوم مرزا وسیم بیگ

اگر آپ اس آرٹیکل پر اپنا پیغام ہمیں پھونچانا چاہتے ہیں - تو یہاں ٹائپ کریں -